جنت نظیر کشمیر کو بھارت نے جہنم بنا دیا: محمد قیصر چوہان

مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی درندگی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ ہر طرح کے ظلم وستم اور خواتین کی بے حرمتی کے باوجود کشمیر کے حریت پسند اس ناجائز قبضے کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور جان ومال کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ کشمیر پر بھارتی قبضے کو 70برس سے زائدگزرچکے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی کی انتہا ہوچکی ہے۔ اقوام متحدہ کی واضح قرارداد موجود ہے کہ کشمیر متنازع علاقہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام آزادانہ حق رائے دہی سے کریں گے۔ قرارداد میں کشمیریوں کو دو اختیار دیے گئے ہیں کہ یا تو وہ بھارت سے الحاق کرلیں یا پاکستان سے۔ بھارتی حکمرانوں کو خوب معلوم ہے کہ کشمیریوں کا فیصلہ کیا ہوگا۔ اس کا اظہار بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو بھی کرچکے ہیں جو کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے کیونکہ انہیں نظر آرہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی فوج کشی سے آزاد ہوجائے گا چنانچہ وہ اقوام متحدہ میں چلے گئے۔ اس قرارداد کے بعد پنڈت نہرو کی یہ تقریر ریکارڈ پر ہے کہ مجھے معلوم ہے کشمیریوں کا فیصلہ کیا ہوگا لیکن ہم ان کے حق کا احترام کریں گے۔ مگر ہوا کیا؟پنڈت جی مخصوص برہمنی ہتھکنڈے آزماکر معاملے کو ٹالتے رہے اور پھر جب ان کی بیٹی اندرا گاندھی وزیراعظم بنیں تو انہوں نے اپنے پتاجی پر کڑی تنقید کی کہ وہ اقوام متحدہ میں کیوں گئے۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت نہایت پڑھے لکھے کشمیری بھی بھارت سے نجات کی تحریک میں شامل ہیں۔ شہیدوں کے لاشے پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنائے جاتے ہیں اور جنازوں کے جلوس میں پاکستان کیلئے نعرے لگتے ہیں۔ بھارت کا دعویٰ کہ مقبوضہ جموں وکشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے لیکن کیا کوئی ملک اپنے کسی علاقے کو اپنا انگ بنائے رکھنے کیلئے 8لاکھ فوج تعینات کرتا ہے؟اس کا تو واضح مطلب ہے کہ اتنی بڑی فوج کے بغیر بھارت کشمیر پر تسلط قائم نہیں رکھ سکتا۔ یہ عمل بجائے خود اس کے دعوے کی نفی ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیرچوں کہ متنازع ہے اس لیے پاکستان کو بھی پورا اختیار ہے کہ وہ بھی اپنی فوج مقبوضہ علاقے میں اتار دے۔ بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری آئے دن ہڑتالیں کررہے ہیں، کاروبار بند رہتا ہے جس سے خود کشمیریوں کا بھی مالی نقصان ہوتا ہے لیکن وہ بھارت سے نجات حاصل کرنے کیلئے جان کے ساتھ مال کی قربانی بھی دے رہے ہیں۔ بھارت برسوں سے پاکستان پر الزامات عائد کرتا آرہا ہے کہ وہ کشمیر میں گڑ بڑ کرارہا ہے۔ لیکن کوئی بیرونی طاقت اتنے طویل عرصے تک مداخلت نہیں کرسکتی۔ آزادی کی یہ تحریک خود کشمیریوں کی تحریک ہے چنانچہ جو شہید ہورہے ہیں وہ کشمیری ہی ہیں۔ بھارت اس الزام کی آڑ میں کنٹرول لائن پر آئے دن دہشت گردی اور بلااشتعال فائرنگ کا ارتکاب کرتا رہتا ہے جس میں آزاد کشمیر کے عام شہری اپنی جان سے جاتے ہیں اور الزام پاکستان پر۔ 27اکتوبر1947 ہی کو بھارت نے برعظیم کی تقسیم کے فارمولے کو پامال کرتے ہوئے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرلیا تھا۔27اکتوبر کو کنڑول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں آباد کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں۔ مظفر آباد سے سری نگر تک کشمیری ہم آواز ہو کر کشمیر پر بھارت کے قبضے کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ بھارت نے دنیا کی ہر عیاری، دھوکا دہی، جعل سازی، دھونس، دھاندلی، ظلم وتعدی کا سہارا لے کر کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مگر آفرین ہے کشمیری قوم کے عزم و ہمت پر کہ جو چھیا سٹھ برس سے مسلسل ایک ہی حرف انکار بلند کیے ہوئے ہیں کہ وہ بھارتی نہیں، نہ بھارتی بن سکتے ہیں۔ کشمیری آج بھی پنڈت نہرو کے اقوال اور وعدوں کی چتا کو کاندھوں پر اْٹھائے پھر رہے ہیں مگر بھارت بطور ریاست ان اصولوں اور وعدوں سے انکاری ہوچکا ہے۔ کشمیر یوں کا بھارت کے ساتھ یہی یک نکاتی جھگڑا ہے۔ وہ بھارت سے بھارت کے پہلے وزیر اعظم اور جنگ آزادی کے بانی پنڈت نہرو کے ’’اقوالِ زریں‘‘ کی پاسداری چاہتے ہیں۔ وہ ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ نامی شہرہ آفاق خود نوشت کے مصنف کشمیر کو اپنی محبوبہ کہنے والے پنڈت نہروکی تقریروں اور وعدوں کا حوالہ دے رہے ہیں۔وقت کے گھڑیال پرکشمیریوں کے جذبات کی سوئی 1948 کے پہلے یوم سیاہ سے 2018 تک انہی وعدوں پر اٹک کر رہ گئی ہے۔ جو بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرنے کئے تھے۔
بھلا نظریات کے اس تسلسل کو اس دھارے کو فوج کے ذریعے موڑا جا سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ پنڈت نہرو کے وعدے تاریخ کا ایسا قرض ہیں اور بوجھ ہیں جنہیں چکائے بغیر، اتارے بغیر بھارت کو سکون وآرام حاصل نہیں ہوگا۔ سچ تو یہ ہے کہ آج دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت، دنیا کے سب سے بڑی جمہوریہ، مغرب کی پسندیدہ ترین ریاست، اسرائیل اور امریکا جیسے طاقتور ملکوں کی اسٹرٹیجک پارٹنر، معاشی آسودگی، سیاسی استحکام، داخلی امن وامان کی بے شمار منزلیں عبور کرنے، میزائلوں کا انبار لگانے کے باوجود پنڈت نہرو کے وعدوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کی کشیدگی کی کلید کشمیر ہے اور کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں رکھ کر دونوں ملکوں میں مثالی تعلقات قائم نہیں ہوسکتے ۔
عوام کو یہ بھی معلوم رہے کہ تقسیم برصغیر کا ایجنڈا ابھی نا مکمل ہے جس کے تحت پورے کشمیر کاپاکستان سے الحاق ہونا تھا۔ بھارت کے انتہا پسند حکمران ’’بغل میں چھری منہ میں رام رام‘‘ کی کہاوت پر عمل پیرا ہیں اور جب سے بھارت میں بی جے پی جیسی مسلم دشمن اور دہشت گرد تنظیم اقتدار میں آئی ہے ایک طرف تو مقبوضہ کشمیر میں دہشت اور وحشت کا بازار گرم ہے دوسری طرف پاکستان کو دھمکیوں کا سلسلہ بھی بڑھ گیا ہے۔ بھارتی جنرل بپن راوت حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو خود وزیراعظم نریندرمودی نے کہا ہے کہ پاکستان نے کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی بند نہ کی تو بھارت پاکستان کے خلاف موثر فوجی آپریشن کرے گا۔ شاید یہ اس نام نہاد سرجیکل آپریشن کی طرح ہو جس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔نئی نسل کو کشمیر کے ماضی اور حال سے باخبر رکھنے کیلئے اس موضوع پر سیمینار اور جلسے ہوتے رہنے چاہیں جن میں جذباتی تقریروں سے قطع نظر کشمیر کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالنی چاہیے۔
qaiserchohan81@gmail.com
qaiserchohan81@gmail.com