Voice of Asia News

یرقان کی تشخیص اور, یرقان کا علاج

 

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)بڑوں میں یرقان یا جسے جوائنڈس یا پیلیا بھی کہتے ہیں ، ایک ایسا مر123ض ہے جس میں جلد اور آنکھ کا سفید حصہ پیلا پڑجاتا ہے ۔ عموماً یہ مرض نوزائیدہ بچوں میں پایا جاتا ہے لیکن انسان عمر کے کسی بھی حصے میں اس کا شکار ہو سکتا ہے۔ یرقان کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ بڑوں میں یرقان جگر، خون یا پتے کے مسائل کی علامت ہوسکتا ہے ۔

بڑوں میں یرقان ہونے کی وجوہات

یرقان تب ہوتاہے جب بلی روبین کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔ بلی روبین خون میں موجود ایک زرد سے نارنجی رنگ کا مادہ ہوتا ہے جو خون کے سرخ خلیات میں پایا جاتا ہے ۔ جب یہ خلیات مر جاتے ہیں ، جگر انھیں خون میں سے چھان لیتا ہے ۔ لیکن اگر اس نظام میں کوئی عضر پیدا ہو جائے تو جگر صحیح طرح کام نہیں کرتا اور بلی روبین زیادہ تعداد میں بننا شروع ہوجاتے ہیں جس سے جلد پیلی معلوم ہوتی ہے ۔ یرقان بڑوں میں اتنا عام نہیں ہے جتنا بچوں میں لیکن اس کے ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ جن میں سے چند کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے

ہیپاٹائٹس: اکثر یہ انفیکشن ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے ۔یہ قلیل الحیات بھی ہو سکتا ہے اور دائمی بھی ۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ چھ ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے ۔ مخصوص ادویات کا استعمال اور مدافعتی نظام کی خرابی ہیپاٹائٹس کا سبب بن سکتی ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ہیپاٹائٹس پہلے جگر کو نقصا ن پہنچا کریرقان کا سبب بن سکتا ہے ۔
پت نالی میں رکاوٹ: یہ تنگ نالیاں ہوتی ہیں جن میں سیال جسے پت کہتے ہیں دوڑتا ہے ۔ یہ نالیاں پت کو جگر اور پتے سے چھوٹی آنت تک پہنچاتی ہیں ۔ کبھی کبھی یہ پتے کی پتھری ، کینسریا جگر کے مرض کی وجہ سے بلاک ہو جاتی ہیں ۔ اگر ایسا ہو تو یہ یرقان کا باعث بن سکتی ہیں ۔
لبلبے کا کینسر: یہ مردوں میں پائے جانے والا دسواں اور عورتوں میں نواں سب سے عام کینسر ہے ۔اس سے بھی پت نالی بلاک ہو سکتی ہے ، جس سے یرقان ہو سکتا ہے ۔
 بعض ادویات کا استعمال :پینسیلین، ضبط ولادت کی دوائیں اور اسٹیرائڈکے استعمال کا تعلق جگر کے امراض سے ہے ۔

یرقان کی علامات

جلد اور آنکھوں کے سفید حصے کا زرد ہو جانا۔
خارش
متلی یا الٹی
وزن گھٹنا
بخار
پشاب کا رنگ گہرا ہو جانا ۔

یرقان کی تشخیص

ڈاکٹر عموماًیرقان کی علامات ظاہر ہونے پر بلی روبین کا ٹیسٹ کراتے ہیں جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ خون میں یہ مادہ کتنی مقدار میں موجود ہے ۔ اگر مریض کو یرقان ہے تو اسکے خون میں بلی روبین کی مقدار ذیادہ ہو گی ۔ معالج علامات کے بارے میں معلوم کرنے کے بعد چیک اپ اور دیگر ٹیسٹ بھی لکھ کر دے سکتے ہیں جس سے جگر کے بارے میں پتا چل سکے ۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے سی بی سی بھی کرایا جاتا ہے جس میں خون کے خلیات کی گنتی کی جاتی ہے ۔

یرقان کا علاج

اس کے علاج کے لیے اس کی وجہ کو جاننا اور اس کا علاج کرنا ضروری ہے ۔ اگر ہیپاٹائٹس یرقان کا باعث بنا ہے تو جیسے جیسے مرض دور ہوگا اور جگر صحت مند ہونا شروع کرے گا یرقان اپنے آپ ٹھیک ہونے لگے گا ۔
پت نالی میں اگر کوئی رکاوٹ ہو اور اس کے باعث یرقان کا مرض لاحق ہوگیا ہے تو ڈاکٹر سرجری سے نالی کھولتے ہیں ۔

image_pdfimage_print