Voice of Asia News

خواتین پر نئے دور کی نئی ذمہ داریاں

  لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)تبدیلی ایک قدرتی عمل ہے جو ہر دور میں جاری رہا ہے اور مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ فرد ہو، سماج ہو، قوم ہو یا ملک ہو جو بھی خود کو اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہے گا وہ یا تو بہت پیچھے رہ جائے گا یا ماضی کے جنگلوں میں کہیں گم ہو جائے گا۔ دور بدلے ، تبدیلیاں رونما ہوئیں اور ان تبدیلیوں کا اثر جہاں سماج کے ہر طبقے پر پڑا تو سماج کا اہم حصہ خواتین اس سے کیسے مستثنہ رہ سکتی تھیں۔انہی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے کہ گھروں میں کھانا پکانے اور سلائی کڑھائی میں مصروف رہنے والی خواتین آج آسمانوں میں جہاز اڑا رہی ہیں اور سمندر کی گہرائیوں کو کھنگال رہی ہیں ۔ ترقی کے اس دور میں آج کہا جاتا ہے کہ خواتین کے پاس اب کافی وقت ہےاور خواتین کے فارغ اوقات کے بارے میں لوگوں کے درمیان دو رائے پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پہلے زمانے میں خواتین پر زیادہ ذمہ داریاں تھیں اور وہ بہت مصروف رہتی تھیں۔ جب کہ آج کے دور میں خواتین پر اتنی ذمہ داریاں نہیں ہیں۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کا گمان ہے کہ آج کے دور میں خواتین پر زیادہ ذمہ داریاں ہیں۔ آئیے اس مضمون میں ہم انھیں دوآراپر غور کرتے ہیں اور اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر ہماری بہنیں اس دور میں ذمہ داریوں سے آزاد ہیں اور ان کے پاس فارغ اوقات ہیں تو ان کو کس طرح صحیح اور مثبت کام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اگر ہم اپنے بچپن پر نظر ڈالیں اور اس زمانے کی خواتین کی مصروفیات کا اندازہ کریں تو واقعی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانے میں خواتین کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ کب دن نکلا اور کب ختم ہوا۔ صبح فجر کے بعد سے ان کا روٹین شروع ہو جاتا تھا۔ زیادہ تر گھروں میں جھاڑو پونچھا خواتین خودکرتی تھیں۔ ان کاموں کے لیے نوکرانیوں کا تصور ہی نہیں تھا۔ کھانا بنانے کے لیے سارے موٹے مصالحوں کو سل پر پیسا جاتا تھا۔ مکسر یا گرائنڈر کیا چیز ہوتی ہے جس میں صرف سوئچ دباتے ہی منٹوں میں مصالحہ پس جاتا ہے، اس کو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ ہم سبھی کی والدہ محترمہ رمضان کی آمد سے قبل اپنی آسانی کے لیے مرچیں، دھنیا گھر میں لگی ہاتھ کی چکی پر پیس کر رکھ لیتی تھیں تاکہ رمضان میں آسانی رہے۔ اسی طرح چنے کی دال پیس کر بیسن بھی گھر میں تیار کیا جاتا تھا۔ رمضان سے پہلے گھر گھر میں سوئیاں توڑی جاتی تھیں۔ اس کا میدہ تیار کر کے مشین چلا کر سوئیاں توڑی جاتی تھیں۔ ان کو رسّی پر سکھایا جاتا۔ کئی دن تک یہی کام ہوتا تھا۔ آلو کے چپس بھی گھر میں ہی بنائے جاتے تھے۔ غرض کہ رمضان کی آمد سے بیس پچیس دن پہلے سے ہی یہ تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں جب کہ آج کل یہ سب چیزیں ریڈیمیڈ موجود ہیں۔اکثر گھروں میں کپڑوں کی دھلائی بھی گھر پر ہی ہوتی تھی۔ کچھ بڑے کپڑے دھوبی کے یہاں دھلوا لیے جاتے تھے۔ گھر کا سارا کھانا چولہوں پر بنایا جاتا تھا۔ سخت گرمی میں بھی چولہے کی تپش جھیلنی ہوتی تھی اور ساتھ ہی دھواں بھی خوب رلاتا تھا۔ غرض یہ کہ اپنے خاندان کی بزرگ عورتوں کی زندگی کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ واقعی آج کے دور میں خواتین کو بہت سی سہولیات میسر ہیں جو اُس دور کی خواتین کو میسر نہیں تھیں، جن کے سبب ان کی زندگی کا بیشتر حصہ بس انھیں مصروفیات کی نذر ہو جاتا تھا۔اس کے برعکس آج کی خواتین کو الحمدللہ وہ سب چیزیں دستیاب ہیں جن کی وجہ سے گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہو جاتا ہے۔ آج کل مختلف قسم کی مشینوں نے جہاں بہت سارے کام آسان کیے ہیں وہیں اوقات میں گنجائش پیدا کر دی ہے کہ وہ گھریلو کام کاج کے علاوہ دوسرے کام بھی کر سکتی ہیں۔ان ساری سہولیات کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آج کےد ور میں بھی خواتین وقت کی کمی کا شکوہ کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشینی دور نے جہاں خواتین کو بہت سی سہولیات مہیا کی ہیں جس کی وجہ سے ان کے کچن کے کام آسان ہو گئے، کپڑوں کی دھلائی، گھر کی صفائی، ان سارے کاموں میں بھی نوکرانیوں اور مشینوں کی سہولیات میسر ہیں وہیں ان پر کچھ دوسری ذمہ داریاں آ گئی ہیں۔ بچوں کی پڑھائی، ان کا ہوم ورک کرانا، اسکول یا اسٹینڈ تک چھوڑ کر آنا، لے کر آنا، بعض گھرانوں میں مرد زیادہ مصروف ہوتے ہیں تو سبزی اور سودا لانا بھی خواتین کے ذمہ ہی ہے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ ان ساری ذمہ داریوں کے باوجود بھی آج خواتین کے پاس پہلے کے مقابلے زیادہ وقت ہے ۔ لیکن ان کا یہ وقت ٹی وی دیکھنے، فون پر لمبی گفتگو کرنے یا موبائل کے غیر ضروری استعمال میں ضائع ہوتا نظر آ رہا ہے اور ان کو وقت کی اہمیت کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

آج اگر ہماری بہنیں چاہیں تو اپنے ان اوقات کو مثبت کاموں میں استعمال کر سکتی ہیں۔ موبائل، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ سے صحیح کام لے کر اس جہان میں بھی اور آگے آنے والے جہان میں بھی اپنے لیے بہت سی چیز یں اکٹھا کر سکتی ہیں۔ موبائل میں کچھ ہم خیال گروپس بنا کر ان کے ذریعہ مختلف کام کیے جا سکتے ہیں۔ خدمت خلق کا کام کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کر کے ان کی مدد کی جا سکتی ہیں۔ بہت سی بہنیں فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعہ کامیاب بزنس چلا رہی ہیں، تو ان کے ذریعہ کپڑوں، جیولری اور دوسری چیزوں کا آن لائن بزنس کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کچھ بہنیں اپنے علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا چاہیں تو آن لائن کلاسیں بھی چلائی جا سکتی ہیں۔ جو خواتین لکھنے کا شوق رکھتی ہیں تو اپنی تحریر کے ذریعہ سوشل میڈیا سے کام لے سکتی ہیں۔ اسی طرح کے اور بھی کام ہو سکتے ہیں جن کو اپنے فارغ اوقات میں کر کے اپنے ان اوقات کو دنیا اور آخرت دونوں لحاظ سے کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے