دْبئی:مصری بچے کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے پاکستانی کو قید ہو گئی

دْبئی (وائس آف ایشیا) عدالت نے ایک پاکستانی نوجوان کو اپنے مالک کے کم سن بچے کو ایک سے زائد بار زیادتی کا نشانہ بنانے کے جْرم میں تین سال قید کی سزا سْنا دی۔استغاثہ کے مطابق پاکستانی کسان کو اکثر اپنے مالک کے بچے کے بال کاٹنے کے لیے گھر بْلایا جاتا تھا۔ ایک روز مالک اور اْس کے گھر والے کسی کام سے باہر گئے اور نوجوان کو کہا کہ وہ اْن کے بچے کے بال کاٹ دے۔ملزم بچے کے بیڈ رْوم میں داخل ہوااور اْسے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ اور پھر اْسے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس کے بعد بھی اْس سے کئی بار زیادتی کی۔ مصری مالک کی جانب سے اس واقعے کی رپورٹ مارچ 2018ء میں درج کروائی گئی تھی۔ مالک نے عدالت کو بتایا کہ اْس کا بیٹا بہت عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگا تھا۔وہ اکثر ڈرا ڈرا اور سہما سہما سا رہتا تھا۔ جس پر اْسے ایک نفسیاتی معالج کے پاس لے جایا گیا۔اچھے ماہ تک بچے کی تھراپی کے سیشنز ہوتے رہے۔ ایک روز نفسیاتی معالج نے مجھ سے ملاقات کی اور مجھ پر یہ انکشاف کیا کہ میرے بیٹے کو اپنے ہی گھر میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ بیٹے نے معالج کو بتایا کہ اْس کے والد ایک پاکستانی نوجوان کو اکثر گھر بْلایا کرتے تھے جو اْس کے اور اْس کے دْوسرے بھائیوں کے بال کاٹتا تھا۔ یہ سب پہلی دفعہ دسمبر 2016ء میں ہوا۔جب والدین اْسے گھر بْلا کر خود کسی کام سے باہر چلے گئے۔ نوجوان نے پہلے اْس سے تعلیم کے بارے میں کچھ سوال کیا اور پھر اْسے گلے لگا کر چْوم لیا۔ جس کے بعد تنہائی کا فائدہ اْٹھاتے ہوئے پاکستانی نوجوان نے اْس سے زبردستی کر ڈالی۔ پولیس کے مطابق ملزم کو رواں سال 22 مارچ 2016 کو اْس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایئرپورٹ سے وطن واپس فرار ہونے کی تاک میں تھا۔ بچے نے عدالت میں بتایا کہ ملزم نے اْسے سات مختلف موقعوں پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جس کے باعث وہ ذہنی اذیت اور نفسیاتی اْلجھنوں کا شکار ہو گیا۔ عدالت نے ملزم کو اس شرمناک فعل پر تین سال قید کی سزا سْنا دی۔ سزا بھْگتنے کے بعد ملزم کو ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔