کالے سونے کی سرزمین, تھر:رپورٹ: جاوید اقبال ہاشمی

صوبہ سندھ کا صحرائی ضلع تھرپارکر 22 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے جس کی آبادی اس وقت 15لاکھ سے زائد ہے۔ جس کا صدر مقام مٹھی ہے۔ پہلے مٹھی، ننگر پارکر،چھاچھرو، ڈویپلو چار تحصیلیں تھیں۔ اب اسلام کوٹ اور ڈھالی کو بھی تحصیل کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ تھر میں ہر طرف ریت کے چھوٹے بڑے ٹیلے دیکھے جا سکتے ہیں ننگر پارکر کے کچھ علاقے پہاڑی بھی ہیں میدانی علاقہ بہت کم ہے۔ اس کے ساتھ بھارت کا علاقہ راجستھان ہے جس کے شہر جیسلمیر اور باڑ میر سرحد کے ساتھ لگتے ہیں۔ تھر کو دُنیا کا تیسرا بڑا صحرا بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ پانی کی کمی کے حوالے سے مشہور تھرپارکر کبھی سمندر کا حصہ تھا مگر صدیوں پہلے سمندر اس سے روٹھ کر دور ہوتا گیا اور یہ علاقہ سوکھتا چلا گیا مٹھی اور قرب و جوار کے علاوہ دیگر علاقوں کا زیادہ انحصار اب بھی زیر زمین کنوؤں اور بارش کے پانی پر ہے۔ مٹھی، ڈیپلو، اسلام کوٹ اور ننگر پارکر سمیت اس کی نمایاں تحصیلوں میں جہاں ترقی دیکھی جا سکتی ہے سہولیات کی فراہمی زندگی کو جدید خطوط پر ڈھال رہی ہے لیکن دور دراز کے علاقے اب بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم نظر آتے ہیں جن میں چھاچھرو اور ڈاہلی نمایاں ہیں۔ ان علاقوں میں پورے تھر کی 35 فیصد آبادی رہائش پذیر ہے اس حوالے سے ان علاقوں سے صرف نظر نہیں کیا جانا چاہیے سرکار کو بھی اور غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو بھی۔ ان علاقوں میں پانی، غذا، صحت اور تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اگر اجتماعی شہریت کا شعور بھی اُجاگر کیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ تھر بھی سندھ کے دیگر ضلعوں کی طرح ترقی یافتہ ضلع کہلائے جس پر بھوک، افلاس اور پیاس کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے، بالخصوص این جی اوز نے فنڈ ریزنگ کیلئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تھر کو موت کی وادی بنا کر پیش کیا ہے، جبکہ حالات 50 فیصد بھی ایسے نہیں ہیں۔
تھر صرف صحرا ہی نہیں اس کی زمین زرخیز بھی ہے اور قدرتی خزانوں سے مالامال بھی۔ تھر کول کے سبب یہاں بین الاقوامی معیار کی سینکڑوں میل لمبی دور رویہ مین شاہراہ تعمیر کی گئی ہے یہاں گرینائٹ کا خزانہ بھی ہے اور تاریخی آثار بھی ہیں جو سیاحت کے فروغ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ تھر کی غالب اکثریت دیہی علاقوں میں مخصوص قسم کے جھونپڑے بنا کر رہتی ہے۔ ان جھونپڑوں کو ’’چونرا‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہندوستان سے ملحق ہونے کے سبب اس ضلع میں کثرت سے ہندو آباد ہیں جبکہ مسلمان اقلیت میں ہیں۔ ہندو مسلم دونوں طبقات کے چونرے بظاہر تو ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں لیکن قومیت کے تفریق کیلئے چونروں کی چھتیں ذرا مختلف بنائی جاتی ہیں۔ ہندو اپنے چونرے کی چھت کو نوکیلا بناتے ہیں۔ جبکہ مسلمان گھروں کے چونروں کی چھت بیغوی یا گنبد نما ہوتی ہے ان چونروں کی دیواریں گندم کے بھوسے کو مٹی میں گوندھ کر بنائی جاتی ہیں گنبد نما چھتیں ایک مخصوص جھاڑی کو سکھا کر تیار کی جاتی ہیں، جسے لکڑی کے فریم پر منڈھ کر آہنی تاروں یا رسیوں کی مدد سے باندھ دیا جاتا ہے۔ تھر باسیوں کے بنائیے ہوئے ان چونروں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ گرم موسم میں ٹھنڈے اور سرد موسم میں گرم رہتے ہیں۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق تھر میں شرح خواندگی 39 فیصد ہے جبکہ غیر سرکاری اعدادو شمار سے 18 سے 20 فیصد بتاتے ہیں۔ یہاں کی آبادی کی گزر بسر گھریلو صنعت، کشیدہ کاری اور مال مویشیوں پر منحصر ہے۔ تھر کے باسی مرد و عورت نہایت جفاکش ہیں مگر انہیں محنت مزدوری میسر نہیں۔تھرپارکر کی قسمت بدلنے کیلئے وہاں تعلیم کو رائج کرنا ضروری ہے اس کے بعد زراعت اور غلہ بانی کو فروغ دینا ہو گا کیونکہ تھر کی اکثریت کا انحصار زراعت اور گلہ بانی پر ہی ہے۔ کاشت کاری کیلئے پانی کی سہولت بہم پہنچائی جائے تو تھر سرسبز و شادابی کا منظر نامہ پیش کرے۔ تھر کی زمین کاشت کیلئے بہترین ہے۔ اگر یہاں کے باسیوں کو پانی کی سہولت فراہم کر دی جائے تو ریگستان کہلانے والے تھر کی کایا ہی پلٹ جائے۔ زرعی ماہرین کے مطابق تھر کے متعدد علاقوں میں زیر زمین پانی سے نہ صرف موسمی فصلیں بار آور ہو سکتی ہیں بلکہ مویشیوں کیلئے چارہ، لوسن وغیرہ کی کاشت تو سارا سال کی جاسکتی ہے۔ بعض با شعور لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت فصلوں کوسیراب کرنے کیلئے کنویں کھود رکھے ہیں جہاں بجلی کی سہولت ہے وہاں بجلی کے ذریعے اور جہاں بجلی نہیں وہاں جنریٹرز کی مدد سے پانی نکال کر فصلیں اُگائی جا رہی ہیں۔ ڈیپلو میں کئی دیہی مقامات پر حیرت انگیز بات بھی سامنے آئی کہ وہاں کی زمین بنا کسی کھاد کے صحت مند اور تندرست فصلیں کاشت کر رہی ہے۔یقین جانئے تھر ایک زرخیز زمین ہے کہیں سے بنجر نہیں ریت کو پانی ملتا ہے تو اس پر سبزہ اُگ آتا ہے جانور اسی سبزے کو کھا کر اپنا گزرارہ کرتے ہیں سوکھا چارہ بھی صبر شکر کر کے کھا لیتے ہیں اور پھر انہی جانوروں کے طفیل تھر یوں کاکاروبار چلتا ہے گویا تھر کی بنیادی ضرورت پانی ہے تھر کا بنیادی مسئلہ پانی ہے۔ حالانکہ صحت اور غذا بھی وہاں کے اہم ایشوز ہیں مگر دیکھنے میں یہی آیا کہ اہمیت واولیت پانی کو ہی حاصل ہے۔ تھر کی لگ بھگ تہائی آبائی کا انحصار بارش یا کنوؤں کے پانی پر ہے۔ بارشیں نہ ہونے سے خشک سالی بڑھتی ہے اور قحط کا سامنا ہوتا ہے۔ فصلیں نہ ہونے سے غذائی قلت بھی جنم لیتی ہے۔ بارشیں نہ ہوں تو ہریالی کا تصور یہ ختم ہو جاتا ہے۔ جانور تک چارے سے محروم ہو جاتے ہیں جس کے سبب کمزور و لاغر ہو کر مرنے لگتے ہیں۔ ایسے میں جب بارشیں نہ ہوں تو حصول آب کے ذرائع کنویں اور ہینڈپمپ ہی رہ جاتے ہیں۔
مٹھی میں اب پانی کا مسئلہ نہیں یہاں ایک بڑا سوال ہسپتال بھی ہے مگر ڈیپلو، چھاچھرو اور ننگر پارکر اب بھی بنیادی ضروریات سے عاری ہیں۔ سرکاری سطح پر لائے جانے والے آراو پلانٹ بھی اتنی تعداد میں نہیں لگائے گئے کہ وہ تمام غریب تھر باسیوں کی ضروریات پوری کر سکیں۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 5 ہزار گاؤں ہیں جہاں اب تک صرف 450 چھوٹے آرا و پلانٹ لگے ہیں ان میں سے بھی 100 کے قریب لگنے کے بعد خراب ہو چکے اور بند پڑے ہیں ان کی مینٹینینس کا مسئلہ ہے۔مصری شاہ میں ایشیا کے سب سے بڑا آرو پلانٹ لگا ہے۔ یہ پلانٹ مٹھی شہر کے باسیوں کو پینے کے صاف پانی کی سہولت فراہم کر رہا ہے جس کا افتتاح آصف علی زرداری نے کیا تھا۔ اس پلانٹ سے زیر زمین پانی کو پروسس کر کے روزانہ کی بنیاد 20 لاکھ گیلن سپلائی کرنے کا انتظام ہے مگر ٹاؤن انتظامیہ پوری سپلائی وصول کرنے سے قاصر ہے معلوم یہ ہوا کہ مٹھی کی ٹاؤن انتظامیہ زیادہ سے زیادہ 12 لاکھ گیلن ہی وصول کر رہی ہے جو پانی آراو پلانٹ سے ٹاؤن انتظامیہ لیتی ہے اسے اپنے ٹینکوں میں سٹور کر کے مٹھی کے شہریوں کو دیتی ہے۔ مٹی کے شہری اس پانی کو صرف پینے اور کھانے پکانے کے مصرف میں ہی نہیں لا رہے بلکہ نہانے، کپڑے اور برتن دھونے سمیت دیگر کاموں کیلئے بھی اسی صاف پانی (منرل واٹر)کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پلانٹ سے سپلائی کئے جانے والے شفاف پانی کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ٹاؤن انتظامیہ نے سابقہ پرانی پائپ لائنوں میں ہی اس شفاف پانی کی ترسیل شروع کر رکھی ہے۔ جبکہ انہی پائپ لائنوں میں نہری بھی رواں رہتا ہے۔ مصری شاہ آراو پلانٹ ایشیا کا سب سے بڑا پلانٹ اس لیے ہے کہ پورے ایشیا میں کہیں بھی یومیہ 20 لاکھ گیلن پانی ٹریٹمنٹ کے ذریعے پینے کے قابل نہیں بنایا جاتا۔ اب اگر تھر جیسے علاقے میں اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے تو کیا کہا جائے جبکہ مٹھی کے قرب و جوار میں عورتیں اور بچے بھی اب پانی کی تلاش میں مارے مارے پھرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ تھر کے صحرا میں غریب، لاچار، کمزور ولاغر عورتیں اور بچے اپنے گھروں سے میلوں دور لگے ہینڈ پمپس اور کنوؤں سے پانی کے گھڑے سروں، کاندھوں اور بغلوں میں دبائے محو سفر ملیں گے تھر کا ایک بنیادی مسئلہ صحت عامہ بھی ہے۔
صحت کے مراکز کی کمی کے ساتھ ساتھ لوگوں میں صحت کی ضروریات کا شعور بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب موسم کی سختی تھر پر حملہ آور ہوتی ہے تو تھر ہلاکتوں کا مسکن بن جاتا ہے۔ کم عمری کی شادیاں بھی بہت سی پیچیدگیاں سامنے لاتی ہیں۔ محنت و مشقت کے دوران ہی عورتیں بچوں کو جنم بھی دے دیتی ہیں وہ چونکہ خود غذا کی کمیابی کا شکار ہوتی ہیں لہٰذا ان سے جنم لینے والے بچے بھی اتنے نحیف و لاغر ہوتے ہیں کہ ان کے زندہ بچنے کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھر میں نومولود اموات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ تھر مجموعی طور پر ایسی سرزمین ہے جس کی خشک سالی، قحط سالی اور مفلوک الحالی میں بھی خوشحالی پنہاں ہے مگر افسوس کہ اس خوشحالی پر غریب تھریوں کے بجائے ان کا قبضہ ہے جو غربت و افلاس کو بھی کیش کرنے میں طاق ہیں۔ میری مراد ان این جی اوز سے ہے جو گدھ کی طرح سسکتے تھریوں کے گرد منڈلا رہی ہیں اور مفلوک الحال لوگوں کی بحالی کی آڑ میں اپنے اپنے دھندے چمکانے میں مصروف ہیں۔تھرپارکر کو بلاشبہ این جی اوز کی جنت کہا جا سکتا ہے خطے کی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں سینکڑوں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ سماجی تنظیمیں اپنے مضبوط نیٹ ورک قائم کر چکی ہیں لیکن سب کو بیک وقت مفاد پرست بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں بعض معتبر اور قابل اعتماد ادارے بھی ہیں جو درد دل کے ساتھ خدمت انسانیت کا جذبہ ہی نہیں رکھتے بلکہ عملی کام بھی کر رہے ہیں ایسے ہی ایک ادارے دعا فاؤنڈیشن ، الخدمت فاؤنڈیشن، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، ہینڈز، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن، مسلم ایڈ ہیلپنگ ہینڈ، ایل آر بی ٹی، گرین کریسنٹ ٹرسٹ بھی تھر کے لوگوں کی مشکلات دور کرنے میں اپنے تئیں جدوجہد میں مصروف ہیں۔
تھر کے لوگ مفلوک الحال اس لیے ہیں کہ ان کی اکثریت تعلیم سے بے بہرہ ان پڑھ ہے انہیں اچھے برے کا بھی شعور نہیں اور ان کی اسی کمزوری کا فائدہ وہ قادیانی اور مشنری ادارے اٹھا رہے ہیں جنہوں نے تھر میں فلاحی اداروں کی آڑ میں اپنے منظم نیٹ ورک قائم کر رکھے ہیں۔ مٹھی اور ننگر پارکر میں قادیانیوں نے دو ہسپتال قائم کر رکھے ہیں جو ربع صدی کا عرصہ مکمل کر چکے ہیں اسی طرح چھاچھرو میں عیسائی مشنری بھی مدتوں سے اپنے کئی ہسپتال چلا رہی ہے۔ مذکورہ دونوں اداروں کے اغراض و مقاصد بظاہر تو انسانی ہمدردی ہیں مگر درپردہ یہ اپنے مشن کی تکمیل میں پیش پیش ہیں۔ تھر کے مختلف علاقوں میں عیسائی کے لوگ لوئر کاسٹ (نچلی ذات کے ہندو جنہیں برہمن اونچی ذات کے ہندو حقیر سمجھتے ہیں) افراد میں تبلیغی کام کرتے ہیں ان کو عیسائی بناتے ہیں اور سکول اور ہسپتالوں سمیت دیگر سہولتیں فراہم کرتے ہیں تو ہی معاشرے میں نچی ذات کی جگہ بہتر مرتبہ دلانے ہیں اس لیے کئی گوٹھ عیسائی بن چکے ہیں۔ اس طرح تھرپارکر میں قادیانی بھی سرگرم ہیں وہ بھی بہروپ بدل کر یہی کام کرتے ہیں۔ غریب پسے ہوئے مقرو ض مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں کو ترغیبات اور لالچ دے کر قادیانی بناتے ہیں۔ مٹھی میں ہسپتال کی آڑ میں ان کا بڑا مرکز قائم ہے۔
تھر کو لوگ مصیبت و آلام کا علاقہ سمجھتے ہیں مگر شاید اب اس خیال کو بدلنے کا وقت آگیا ہے تھر کی سرزمین مکمل بنجر نہیں ہاں سیم تھور کا تناسب سندھ کے دیگر اضلاع سے کچھ زیادہ ہے۔ بارشوں کے بعد تھر سرسبز و شاداب نظر آتا ہے ذرا سی محنت اور پانی کے حصول کے بعد تھر کی زمین پر فصلوں کی بہترین کاشت کی جاسکتی ہے۔ بیشتر مقامات پر ایسا ہو بھی رہا ہے اور جہاں ایسا تصور نہیں وہاں شعور اُجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کالے سونے (کوئلے) کی بڑی مقدار میں دیرافت کے بعد تھر کی قدر و قیمت میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ یہاں کے رہائشیوں کی بھی کایا پلٹ ہونے کا سامان ہو رہا ہے۔ تھرکول پروجیکٹ کے ضمن میں یہاں کے لوگوں کے لیے تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار کے بہترین ذرائع ہی سامنے نہیں آرہے بلکہ مستقبل قریب میں پاکستان سے بجلی کے بحران کا خاتمہ بھی نظر آرہا ہے۔ تھر میں کوئلے کی دریافت کے بعد یہ واویلا مچا کہ اس کوئلے کی کوالٹی اچھی نہیں مگر جب اس کوئلے کو ٹیسٹ کے عمل سے گزارا گیا تو اس کی کوالٹی حیرت انگیز طور پر جرمنی، بھارت اور بعض دوسرے ممالک میں پائے جانے والے کوئلے سے کہیں بہتر نکلی ہے تھر کا کوئلہ ’’لیگانائیٹ‘‘کہلاتاہے یہ کوئلے کی نسبتاً ہلکی فارم ہے اس کا ہیٹنگ پوائنٹ بھی کم ہے اسی لیے اسے بجلی بنانے کیلئے آئیڈیل کوئلہ کہا جارہا ہے۔ باقی دنیا کے دوسرے ممالک جن میں جرمنی، بھارت یونان اور ترکی وغیرہ شامل ہیں وہاں اس سے بھی کم کوالٹی کے کوئلے سے بجلی بنائی جا رہی ہے تھر کے کوئلے کی ہیٹنگ ویلیو تین ہزار کول کلو گرام ہے اس میں نمی کا تناسب 50فیصد ہے پوائنٹ 8فیصد سلفر ہے اس لیے یہ کوئلہ بجلی بنانے کے لیے بہترین تصور کیا جا رہا ہے۔
تھر میں کوئلے کے ذخائر 1991 میں دریافت ہوئے یہ ذخائر 175 بلین ٹن ہیں جن کا شمار دنیا میں کوئلے کے بڑے ذخائر میں ہوتا ہے اس کا رقبہ تھر میں 900 کلو میٹر تک وسیع ہے جو تسلسل سے ایک ساتھ ہی کسی کیک کی صورت دفن ہے جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں مدفون کوئلہ مختلف جگہوں پر یایا گیا ہے پاکستان پر یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے اس کالے خزانے کو ایک ہی جگہ جمع کردیا ہے تھر کول کے ذخائر کو 13 مختلف بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے جو تین فیز پر مشتمل ہیں۔ بلاک 2 جس میں اینگرو کمپنی کام کر رہی ہے اس میں کل ذخیرے کا ایک فیصد کوئلہ دفن ہے جس کیلئے کھدائی کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے۔ پورے تھر سے اگر کوئلے نکلے جو 900 کلو میٹر کے رقبے پر محیط ہے تو یہ ایک صدی سے زائد برقی توانائی کا مسئلہ نہ صرف پاکستان میں حل کر سکتا ہے۔ بلکہ پاکستان اپنی ضرورت سے زائد بجلی دوسرے کئی ممالک کو فروخت کر کے اچھا زر مبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ فیز 2 میں اب تک 110میٹر سے زائد کھدائی ہو چکی ہے کوئلے تک پہنچنے کیلئے مزید 30سے 35 میٹر کھدائی ہونا باقی ہے یہاں کام کی تیز رفتاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 98 مربع کلو میٹر کے اس وسیع رقبے میں روزانہ ایک میٹر کھدائی ہو رہی ہے درجنوں شاول اور ڈمپرز کھدائی اور مٹی نکالنے کے عمل میں شریک ہیں یہاں دن اور رات کی تفریق کے بنا 24 گھنٹے کا م ہو رہا ہے۔ بلاک 2 میں دریافت ہونے والے کوئلے کے کام پر 200 ارب روپے سے زائد مالیت کا تخمینہ ہے سندھ حکومت اور نجی کمپنیوں کے اشتراک سے تھر کول بلاک 2 میں کام 2013 میں شروع ہوا معاہدے کے مطابق جون 2019 میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار کا یہ کام مکمل کیا جانا ضروری ہے بصورت دیگر اینگرو کمپنی تمام سرمایہ حکومت سندھ کو واپس کرنے کی پابند ہو گی۔ 42 مہینوں کے اس پروجیکٹ (بلاک 2 میں) 50 فیصد سے زائد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔تھرکول پر کام کی تکمیل کے بعد 2030 میں یہاں سے ایک لاکھ 30 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی جو پاکستان کی اس وقت کی ضروریات سے بھی کہیں زیادہ ہو گی جسے پاکستان دوسرے ممالک کو فروخت بھی کر سکے گا فی الوقت پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت صرف 26 ہزار میگا واٹ ہے جو موجودہ ضروریات سے کہیں کم ہے منصوبے کے مطابق جون 2019 میں فیز ون سے 660 میگا واٹ مزید پیداوار شروع ہو گی 2025 تک اس کا دائرہ کار 5 ہزار میگاواٹ سے متجاوز ہو گا جس سے بجلی کے قومی بحران کے خاتمے میں بڑی حد تک مدد ملے گی اس کے بعد مرحلہ اور یہ سلسلہ ایک لاکھ 30 ہزار میگا واٹ تک جائے گا اور اس وقت کوئلے سے حاصل ہونے والی بجلی، پانی سے بنائی جانے والی بجلی سے بھی کہیں سستی ہو گی۔ تھر کے وہ متاثرین جن کے علاقے اور گھر اس منصوبے کی زد میں آئیں گے ان کی فلاح و بہبود کیلئے جامع پلان مرتب کیا گیا ہے جن میں متاثرہ تھریوں کو ان کے چونروں سے کہیں بڑے گیارہ سو مربع گز پر مشتمل جدید سہولیات سے مزین پکے گھر بنا کر دیئے جائیں گے۔ یہ گھر، ہر شادی شدہ جوڑے کیلئے ہوں گے ایک خاندان میں جتنے بھی شادی شدہ جوڑے ہوں گے سب کے لیے علیحدہ گھر ہو گا اس کے علاوہ انہیں ایک متعین عرصے تک 10 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا۔
تھرکول منصوبے میں چائنہ کی شمولیت کے حوالے سے بتایا گیا کہ 2014 میں تھرکول بلاک 2 مائننگ اور پاور پروجیکٹ کو پاک چائنہ اقتصادی کوریڈور سے جوڑا گیا جس سے ترقیاتی کام میں تیز رفتاری آئی اس منصوبے میں چائینز کے علاوہ 50 فیصد مقامی تھریوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق ملازمتیں دی گئی ہیں۔ اس منصوبے میں 70 فیصد سے زائد پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ مقامی تھریوں کو ضرورت کے مطابق تربیت بھی دی جارہی ہے ایک تھری خاتون انجینئر اور ایک خاتون ڈمپر ڈرائیور بھی اس پروجیکٹ کا عملی حصہ ہے۔ ڈمپر ڈرائیونگ میں دلچسپی رکھنے والی مزید 15 مقامی خواتین کی ٹریننگ ہو رہی ہے جس کے بعد انہیں باقاعدہ ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔ ایک ڈرائیور کی تنخواہ 25 سے 40 ہزار روپے تک ماہانہ ہے۔ مائن سے نکلنے والے پانی کو بھی قابل استعمال بنایا گیا ہے اور اس پانی سے اس وقت تھر میں 120 ایکڑ پر کامیابی کاشتکاری کی جا رہی ہے۔ کوئلہ تو 60 سے سو سال کے دوران استعمال ہو کر ختم ہو جائے گا مگر یہاں سے نکلنے والا پانی تھر کی قسمت بدل دے گا۔ کوئلے سے بجلی جنریٹ کرنے والے پاور پلانٹ ماحول کی آلودگی سے بچانے کیلئے انوائرمنٹ کے تمام رولز فالو کئے جا رہے ہیں۔ سندھ انوائر منٹل ایکٹ پر پوری طرح عملدرآمد کیا جا رہا ہے عالمی سطح کے اقدامات ہو رہے ہیں انوائرمنٹ کو بہتر بنانے کیلئے سائیٹ کے قرب و جوار میں کثیر تعداد میں درخت لگائے جا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ مزید ایک ملین درخت لگانے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے کوشش ہے کہ کوئلے سے پاور جنریٹ کرتے ہوئے اس کی کثافت سے کم سے کم ڈیمجز ہوں اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاور پلانٹ کی چمنی اونچائی بھی 180 میٹر رکھی گئی ہے دنیا بھر میں ایسے پاور پلانٹس میں چمنیوں کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 150 میٹر ہوتی ہے مگر ہم نے اس کی بلندی کو مزید 30 میٹر زیادہ رکھا ہے اور ایسا ماحولیات کے تحفظ کے پیش نظر ہی کیا گیا ہے۔
ننگر پارکرمیں ہندوؤں کے قدیم مندروں کے آثار کے ساتھ ساتھ مساجد کے آثار بھی ملے، مگر ہر جگہ سرکاری اور سماجی بے حسی کے آثار ان پر غالب پائے۔ کسی سطح پر محسوس نہیں ہوا کہ کوئی ان عظیم الشان تاریخی آثار کی حفاظت پر بھی مامور ہے کوئی مندر چمگادڑوں کی آماجگاہ بنا ملا تو کسی میں سانپوں کے بسیرے کی علامات نمایاں تھیں۔ ننگر پارکر میں ایک تاریخی مسجد ایسی بھی ملی جو شکستہ حالی کے باوجود صاف ستھری تھی۔ شاید یہاں مقامی مسلمان نماز ادا کرتے ہوں گے۔ اس کے احاطے میں دائیں بائیں کچھ شکستہ حال مگر پکی قبریں بھی تھیں۔ مسجد کی عمارت پر ایک لاؤڈ اسپیکر بھی نصب تھا جو اس بات کی واضح علامت تھا کہ وہاں اذان دی جاتی ہے۔ گویا اس اجاڑ اور سنسان جگہ بھی توحید و رسالت کے اعلان کی گونج جاری و ساری ہے۔ کچھ ہی فاصلے پر کارو نجھر نامی پہاڑ ہیں جو گرینائٹ کا خزانہ ہیں۔ ان پہاڑوں کے دامن میں پانی ذخیرہ کرنے کا ایک بڑا مصنوعی تالاب ہے جس میں ان چکنے پہاڑوں کی بہتی شبنم اور بارشوں کا پانی ذخیرہ ہوتا ہے اور لوگوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔
کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ خاصا وسیع ہے جس سلسلے پر ہم موجو د تھے اس کے بعد بھی بلند بالا پہاڑوں کے کئی سلسلے سینہ تانے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ عموماً لوگ کارونجھر کے پہاڑی سلسلے کو ایک غیر آباد علاقہ سمجھتے ہیں لیکن وہاں کے پہاڑی سلسلوں میں جگہ جگہ ہندوؤں کے مندر تھے انہیں دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ یہاں اب بھی پوجا پاٹ ہوتی ہے۔ کچھ مقامی لوگ ان مندروں کے قری پہاڑی پودوں پر مشتمل جڑی بوٹیاں فروخت کرتے بھی دکھائی دیئے اس جگہ پہنچ کر ایک کمی کا شدت سے احساس ہوا اور وہ تھی معلومات کی عدم فراہمی، محکمہ ثقافت اگر کوشش کرے تو ان مندروں اورآثار کی مختصر تاریخ ان کے قرب و جوار میں بورڈز لگا کر یہاں پہنچنے والے سیاحوں کیلئے درج کرا سکتا ہے جس سے ان مندروں اور آثار کے بارے میں درست معلومات آگے پہنچ سکیں گی اگرچہ تھر میں بعض مقامات پر موجود کچھ آثار پر ایسی معلومات درج بھی ہیں مگر جس جگہ کا ذکر یہاں مذکورہ ہے وہاں سوائے ایک جگہ کے کہیں ایسا کوئی اہتمام ہمیں نظر نہیں آیا۔ کچھ جگہوں پر علاقائی زبان سندھی یا پھر ہندی میں ہاتھ سے لکھی تحریریں بھی ملیں جنہیں مصدقہ نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی اس سے ننگر پاکر جاتے ہوئے راستے میں ماروی کا گاؤں بھالوا میں بھی آتا ہے۔ جہاں وہ کنواں ہے جو ماروی سے موسوم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ماری اسی کنویں پر پانی بھرنے آتی تھی۔ حکمران وقت عمر سومرو اس سے شادی کا خواہشمند تھا مگر ماروی تیار نہ تھی اور جب عمر سومرو نے ماروی کو اغوا کر ایا تو اس نے راہ فرار اختیار کی۔ بعض روایات یہ بھی ہیں کہ عمر سومرو نے ماروی کی استقامت دیکھ کر اپنا ارادہ بدل لیا تھا اور ماروی کو رہائی مل گئی تھی۔ ماروی سے منسوب کنواں اب بھی پانی سے لبریز ہے اسے سرکاری سطح پر محفوظ کر کے اس کے گرد ایک بڑا اور پختہ احاطہ کھینچ دیا گیا ہے جسے ’’ماروی کلچرل کمپلیکس‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں کنویں سے ملحق ایک خوبصورت راہداری ان چند پختہ کمروں تک جاتی ہے جہاں ماروی دور کی ثقافت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ان چیزوں میں کشیدہ کاری اور برتنوں کے نمونے دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک کمرے میں ماروی کا مجسمہ بھی خوبصورتی سے ڈسپلے کیا گیا ہے جس میں وہ اپنی کسی سہیلی کے ساتھ چرخہ کاتنے میں محو دکھائی گئی ہے۔ ماروی سے منسوب کنواں اب بھی قابل استعمال حالت میں ہے۔
تھر میں لاکھوں کی تعداد میں بھیڑیں پالی جاتی ہیں۔ یہاں مور، ہرن، بارہ سینگھے اور دیگر جنگلی جانور بھی پائے جاتے ہیں۔ سانپوں کی بھی بہتات ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سنسکریت کے لفظ تھل کی بگڑی ہوئی شکل سے تھر کا لفظ بن ہے جس کے معنی ہیں خشک زمین، لفظ جل (پانی) کا متضاد تھل ہے۔ دونوں کو ملا کر جل تھل استعمال ہوتاہے۔ کسی زمانے میں سمندر کے راستے تبدیل کرنے سے یہ ریگستان وجود میں آیا ہو گا۔ اربوں ٹن کالا سونا (کوئلہ) توانائی کے قومی بحران کے خاتمے کیلئے منصوبے شروع کرنے کی باتیں ابھی گزشتہ دہائی سے شروع ہوئی ہیں لیکن سنگ مرمر، جپسم، نمک سمیت دیگر معدنیات سے بھی ننگر پارکر سمیت دیگر علاقے مالا مال ہیں۔قیمتی پودوں اور جڑی بوٹیوں کا خزانہ بھی ہر طرف پھیلا ہوا ہے جو ادویہ سازی میں کام آتے ہیں۔ یہاں 90فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے جہاں ہموار جگہ ہو وہاں جھونپڑی (چونروں) پر مشتمل گاؤں دیکھا جا سکتا ہے۔ تحصیل ہیڈکوارٹرز کے سوا چند ہی دیگر قصبات ہیں اب مٹھی سے کم از کم تحصیل ہیں کوارٹر اور دیگر کچھ قصبات تک پختہ سڑکیں موجود ہیں۔ 1970 کی دہائی تک صورتحال یہ تھی کہ عمرکوٹ سے آگے چند کلو میٹر پر واقع قلعے تک سڑک تھی اور مٹھی تک بھی باقی راستہ ریت ہی ریت تھا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے صرف پرانے بھاری فوجی ٹرک چلتے تھے۔انسان، سازوسامان اور مویشی سب اس میں جاتے تھے۔ اب شہروں تک بسیں بھی چلتی ہیں اور بڑی تعداد میں جو چھوٹے قصبے اور گاؤں ہیں وہاں کیلئے یہ فوجی ٹرک (چیچڑے) ہی ہر طرح کی ٹرانسپورٹ کا ذریعہ ہیں۔
تھر کے نام نہاد منتخب نمائندے اور وڈیرے بھیڑ بکریوں کی طرح عوام کو اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں ان کے نام پر ہر سال کروڑوں روپے کھاتے ہیں مگر معدنیات کے ذخائر سے مالا مال اس علاقے اور یہاں کے باشندوں کے مستقل بنیاد پر مسائل حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ بھیڑ بکریاں اور گائے پالنا کھیتی باڑی محنت پر لوگوں کا معاشی انحصار ہے بارش کا پانی جمع کرنے کیلئے نہ تو آبی ذخیرے بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے اور نہ ہی بھیڑ بکریوں اور مویشوں کے علاج کے لیے ہسپتال میں نہ ہی مویشیوں کی بہتر نسل اور پرورش کے لیے رہنمائی اور وسائل فراہم کرنے کا انتظام ہے۔ محدود طورپر دستکاری بھی روزگار کا ذریعہ ہے یہاں روایتی ثقافتی اشیاء بڑ ی محنت سے نہایت اعلیٰ قسم کے معیار ی تیار ہوتی ہیں جو تاجر اور سیٹھ اور بعض دھوکہ باز اونے پونے خرید لیتے ہیں جو کراچی سمیت ملک کے اندر اور باہر بہت مہنگی فروخت ہوتی ہیں اور محنت اور عرق ریزی کرنے والی خواتین سمیت دستکاروں کو ایک عام مزدور کے برابر بھی مزدوری نہیں دی جاتی۔ حکومت کے ادارے ان بیش قیمت اشیاء کی مناسب قیمت دلانے کیلئے کوئی مدد نہیں کرتے۔ اس طرح تھر جو کئی حوالوں سے سونے کی کان ہے اسے لوٹنے کا چاروں طرف سے سلسلہ جاری ہے یا ملک بھر سے حکمران طبقات کے لوگوں اعلیٰ سول فوجی افسران اور مختلف خلیجی ریاستوں کے شہزادوں کو حکومت میں شامل بااثر افراد ارکان اسمبلی وڈیرے یہاں مدعو کرتے ہیں انہیں غیر قانونی طور پر ہرنوں، موروں اور دیگر جنگلی جانوروں کا شکار کراتے ہیں۔ان کی عیاشیوں کا سامان کرتے ہیں اور اس کے عوض اپنے سیاسی مالی مفادات حاصل کرتے ہیں اس پر ان کی وڈیرہ شاہی جاگیرداری اور گدیاں چل رہی ہیں۔ معلوم نہیں تھر کے غریب عوام کی غربت افلاس عزت نفس کا سودا کرنے کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟سرحدی زیرو پوائنٹ سے موناباؤ اسٹیشن کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے بھارت نے راجستھان کے ریگستان میں اندر نہر سالوں پہلے نکالی تھے جو اب بھی علاقے کو سیراب کر رہی ہے بہت اچھی حالت میں ایک شاہراہ گزرتی ہے یہاں معاشی اور معاشرتی ماحول ہمارے مقابلے میں کئی گنا بہتر ہے۔ یہی نہیں بلکہ سرحدی محافظ آج بھی کئی علاقوں میں اونٹوں پر گشت کرتے ہیں تو اس نے بھارت کو سڑک کی سہولت حاصل ہے اور اس نے کئی فٹ بلند خاردار باڑ لگا کر طاقتور سرچ لائٹس ہماری طرف لگا رکھی ہیں اس طرح کئی لحاظ سے سکیورٹی کی صورتحال کو بھی بھارت نے بہت بہتر بنا رکھا ہے لیکن ہمارے ہاں ہر دور کے حکمرانوں کو لوٹ مار سے ہی دلچسپی رہی ہے۔ یہاں دشمن نے کس کس روپ میں اپنے جاسوسوں کا جال پھیلا رکھا ہے اور وہ کیا سازشیں کر رہے ہیں اس پر سوچنے کی کسی کو فرصت نہیں بلکہ سیاستدانوں اعلیٰ افسران گٹھ جوڑ کر غریب محنت کشوں کا جس طرح استحصال کرتے ہیں اور خون نچوڑتے ہیں اور سرحدی فورسز کے اہلکار لوگوں سے جس طرح بدسلوکی کرتے اور مشکلات کھڑی کرتے ہیں اس سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی قومی مفادات کے حوالے سے نقصان دہ ہے یہ رویہ تبدیل ہونا چاہیے۔پورا تھر سندھ کی ثقافت کی لازوال تصویر ہے۔ یہاں کی ہر چیز خوبصورت ہے خصوصاً یہاں کے لوگ سادہ بناوٹ سے دور اور سچے ہیں۔ اس لیے حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنے کلام میں سرمارئی، سرسارنگ اور دیگر سروں میں تھر کے مختلف علاقوں اس کے ریت کے ٹیلوں، راستوں پگڈنڈیوں، درختوں، گل پھولوں بارشوں کے بعد یہاں خوشگوار گل و گلزار ماحول ور خشک سالی میں یہاں کے عوام کی مشکلات کے علاوہ مسائل رسم و رواج، بولیوں سمیت ہر چیز کا ذکر ہے اور یہاں کے لوگوں کی سادگی سچے جذبے اور مٹھاس کو موضوع بنایا ہے۔

javidjinnah@gmail.com