Voice of Asia News

حج و عمرہ ذائرین کو سہولتیں فراہم کی جائیں:محمد قیصر چوہان

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی گواہی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃادا کرنا، رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔حجاج کرام طواف کرتے ہوئے مسلمان ہر سال اسلامی مہینے ذوالحجہ کی 8 سے 12 تاریخ کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ کی زیارت کیلئے حاضر ہو کر وہاں جو مخصوص عبادت انجام دیتے ہیں، اس مجموعہ عبادات کو اسلامی اصطلاح میں حج اور ان انجام دی جانے والی عبادات کو مناسک حج کہتے ہیں۔ دین اسلام میں حج ہر صاحب استطاعت بالغ مسلمان پر زندگی بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے،حج اسلام کے پانچ ارکان میں سب سے آخری رکن ہے۔ مناسک حج کی ابتدا ہر سال 8 ذوالحجہ سے ہوتی ہے، حاجی متعین میقات حج سے احرام باندھ کر کعبہ کی زیارت کیلئے روانہ ہوتے ہیں، وہاں پہنچ کر طواف قدوم کرتے ہیں، پھر منی روانہ ہوتے ہیں اور وہاں یوم الترویہ گزار کر عرفات آتے ہیں اور یہاں ایک دن کا وقوف ہوتا ہے، اسی دن کو یوم عرفہ، یوم سعی، عید قربانی، یوم حلق و قصر وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد حجاج رمی جمار (کنکریاں پھینکنے) کیلئے جمرہ عقبہ جاتے ہیں، بعد ازاں مکہ واپس آکر طواف افاضہ کرتے ہیں اور پھر واپس منی جاکر ایام تشریق گذارتے ہیں۔ اس کے بعد حجاج دوبارہ مکہ واپس آکر طواف وداع کرتے ہیں اور یوں حج کے جملہ مناسک مکمل ہوتے ہیں۔
ہر سال پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ مذہبی فریضہ ادا کرنے کی غرض سے سعودی رعب جاتا ہے ۔لیکن وزارت مذہبی امور کے چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث 2018 کے حج کے دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پرائیوئٹ پیکیجز کے حاجی انگنت مسائل سے دوچار رہے کیا آئندہ پاکستانی حکام ایسا کوئی انتظام کر سکیں گے حاجی پریشان نہ ہو سکیں اور فریضہ حج احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔سپریم کورٹ کی مداخلت سے سرکاری حج اسکیم کے کافی معاملات بہتر ہوچکے ہیں اگر سپریم کورٹ یا حکومت پاکستان پرائیویٹ سیکٹر کی درست مانیٹرنگ کرکے معاملات بہتر کرے تو حج کا فریضہ احسن طریقے سے انجام دیا سکتا ہے۔ وزارت مذہبی امور کے کرتا دھرتا پرائیویٹ حج آپریٹرز کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے عام پاکستانیوں کے مفادمیں فیصلے کرینگے اور ایسے حج آپریٹرز کے لائسنس منسوخ کرکے ان پر بھاری جرمانہ عائد کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پر تا حیات کاروبار کرنے پرپابندی لگائیں گے اور عازمین حج و لوٹی رقم واپس کرائیں گے۔ایک پاکستانی کس طرح زندگی میں پیسے جمع کرکے فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے ارادہ اور سفرکرتا ہے سرکاری حج اسکیم میں ناکامی کی صورت میں مزید لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی اسے وہ سہولتیں دستیاب نہیں ہوتیں جو سرکاری اسکیم کے تحت حجاج کو اب ملنے لگی ہیں اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے یہ وزارت مذہبی امور کے حکام ہی بتا سکیں گے جن کی نااہلیت یا سخت مانیٹرنگ نہ ہونے کے باعث پرائیویٹ اسکیم کے تحت جانے والے حاجیوں کو مسلسل پریشانیوں اور لوٹ مارکا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستانی تاجر رمضان میں شہریوں کو لوٹنے میں بدنام ہیں لیکن سعودی عرب کے ٹیکسی ڈرائیورز نے دوران حج حاجیوں کو لوٹنے میں انتہا کر دی 15 ریال کے سفر کے 300 سے500ریال وصولی کے ریکارڈ قائم کئے۔پاکستانی حجاج پرائیویٹ آپریٹرز کے ہاتھوں بار بار ناروا سلوک کا شکار ہوتے رہے، 3 سے7لاکھ روپے پیکیج والے حجاج ایک ہی ہوٹل میں ایک ساتھ ٹھہرا ئے گئے۔ مسور کی پتلی دال بار بار کھلائی گئی نیو منی میں عمدہ خوراک اور ٹرانسپورٹ نہ ملنے کے باعث حاجی پریشان رہے نیو منی میں مکتب119 کے خیموں میں 3 سے 7لاکھ روپے والے پیکیجز کے حاجیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس دیا گیا جبکہ ان خیموں میں گنجائش کم تھی اور ہر پیکیج کے حاجیوں کو الگ الگ خیموں میں ٹھہرایا جاناچاہیے تھا۔اس کے علاوہ سیکیورٹی گارڈز کی موجودگی میں عازمین اپنی ویل چیئرز سمیت قیمتی اشیا سے بھی محروم ہوئے جس کی شکایت بھی کی گئی لیکن نوٹس نہیں لیا گیا۔مزدلفہ میں پرائیویپٹ اسکیم کے تحت جانے والے پاکستانی حجاج ٹرانسپورٹ کی تلاش میں سرگرداں رہے جبکہ ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کی ذے داری حج آپریٹر کی تھی بعد ازاں جمرات سے کئی کلو میٹر دور اتار کر گاڑی رفو چکر ہو گئی حج آپریٹر بھی غائب ہو گیا حاجیوں کو ہوٹل تک واپسی کی بھی کوئی رہنمائی یا ٹرانسپورٹ مہیا نہیں کی گئی 29 حاجی 100 سے 500 ریال خرچ کر کے ہو ٹل تک واپس پہنچے حاجیوں کو کرائے ریفنڈ کرائے جائیں اور اس ناروا سلوک بد انتظامی کا نو ٹس لے کر حج آپریٹر کا لائسنس منسوخ اور جرمانہ کیا جائے۔کیاسعودی یا پاکستان حکومت عمرہ اور حج ایام کے دوران پرائیویٹ اسکیم کے تحت جانے والے حاجیوں کو طبی سہولت ان کے ہوٹلوں میں فراہم نہیں کر سکتی؟ یا صرف ایسے حج آپریٹرز کو کوٹا دیا جائے جو اسپتال یا ڈسپنسریوں کے قریب واقع حکومت پاکستان کے منظور شدہ ہوٹلوں میں پاکستانی حجاج کے قیام کا بندوبست کریں اور اس بات کا بھی اہتمام کریں کہ یہ ہوٹل حرم سے انتہائی قریب ہوں جہاں ٹرانسپورٹ کی سہولت چوبیس گھنٹے فراہم کی جائے۔پی ٹی آئی حکومت کیلئے یہ چیلنج سے کم نہیں کہ وہ پاکستانیوں کو عمرہ اور حج کی بہترین سہولتیں مہیا کرے ایسا مانیٹرنگ سسٹم بنائے کہ سرکاری اور پرائیویٹ اسکیم کے تحت جانے والے عازمین حج اور معتمرین کو کوئی لوٹ نہ سکے فضائی کمپنیاں حج سیزن میں کرائے بڑھا دیتی ہیں جس کا توڑ کرکے پہلے ہی دنیا بھر کی دوسری فضائی کمپنیوں کو سستی حج پروازں پر آمادہ کرلیا جائے۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی حکومت پرائیویٹ حج آپریٹرز کی لوٹ مار کا بھی نوٹس لے کہ یہ آپریٹرز64ہزار روپے میں عمرہ اور چار سیپونے 6 لاکھ روپے سے زائدمیں حج پیکیجز پیش کرتی ہیں جبکہ ویزا ٹرانسپورٹ رہائش زیارات دیگرسہولت یکساں ہوتی ہیں۔ ان آپریٹرز کے پیکیجز کا سالانہ آڈٹ کرایا جائے اور اسے پبلک کیا جائے اس کے ساتھ ان کمپنیوں کے انکم ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات بھی منظر عام پر لائی جائیں۔
حج تو سال میں ایک بار ہوتا ہے مگر اس کیلئے تیاریاں سارا سال کرنا پڑتی ہیں باقی وزارتوں میں عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کوئی پراجیکٹ شروع ہوتا ہے اس کی مدت ایک سال طے کی جاتی ہے مگر مقررہ مدت میں یہ پراجیکٹ مکمل نہیں ہوتا بلکہ کئی سال بھی مکمل نہیں ہوتا مگر حج کا پراجیکٹ ایک معینہ مدت میں مکمل کرنا ہوتا ہے جس طرح سورج کے طلوع وغروب اور چاند کے نکلنے میں کسی انسان کا کوئی اختیار نہیں اسی طرح حج کے دن میں بھی ایک دن کی بھی تاخیر یا تقدیم نہیں ہوسکتی اور اس کیلئے تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار عازمین کے چناؤ اور روانگی کیساتھ مقامات حج میں رہائش کی ضرورت اور سفری سہولیات کا انتظام کرنا ہوتا ہے‘ موجودہ وفاقی وزیر مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹر پیر نور الحق قادری ایک باعمل عالم دین اور مذہبی سکالر ہونے کیساتھ تجربہ کار پارلیمنٹرین اور سابق وفاقی وزیر ہونے کے ناطے حج کے معاملات کو نہ صرف خود سمجھتے ہیں بلکہ اس عظیم فرض کی ادائیگی کو مسلمان پاکستانیوں کیلئے آسان اور باسہولت بنانے کیلئے بھی کوشاں ہیں انہوں نے وزارت سنبھالی تو حج کیلئے لوگ گئے ہوئے تھے اب ان کے سامنے 2019ء کے حج کے انتظامات ہیں۔وفاقی وزیر نے ایک طرف وزارت کے متعلقہ شعبوں کو مختلف انتظامی امور کیلئے تجاویز جمع کرنے کا ٹاسک دیا تو دوسری طرف سعودی حکومت اور اسلام آباد میں سفارت خانے سے رابطے فعال کئے تاکہ حج کا کوٹہ بڑھانے اور دوران حج مزید رعایتیں حاصل کرنے کیلئے مذاکرات کئے جائیں ڈاکٹر نور الحق قادری کی کوششوں سے پاکستانی زائرین عمرہ کو بڑی خوشخبری یہ ملی کہ سعودی عرب کی طرف سے دوسال سے پہلے دو بارہ عمرہ کرنے والوں پر 2000 ریال فیس کا خاتمہ کروادیا ہے یہ پاکستانی روپوں میں تقریباً 70ہزار بنتے ہیں جو ایک خطیر رقم تھی اور بہت سے خواہشمند عمرہ کرنے سے محروم رہ جاتے تھے اس سے زیادہ تشویش اس پر بھی تھی کہ یہ امتیازی سلوک صرف پاکستانی زائرین کے ساتھ تھا ‘ وفاقی وزیر نے ‘جو اردو انگریزی ‘پشتو کے علاوہ عربی زبان پر بھی عبور رکھتے ہیں سعودی سفیر کو پاکستانیوں کے احساسات پہنچائے تو انہوں نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے حکومت سے بات کی اس طرح ایک ناروا مالی بوجھ ختم ہو اب سعودی عرب سے حاجیوں کا کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ کیا جائیگا سعودی عرب نے حج کے بہتر انتظامات کے لئے ہر ملک کی مسلمان آبادی کے تناسب سے کوٹہ مقرر کرکھا ہے یہ ایک اچھا عمل ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پر سعودیہ میں بھی عمل ہوتا ہے اب ایسا نہیں کہ جو سعودی یا وہاں مقیم غیر ملکی مسلمان گاڑی میں بیٹھے مکہ مکرمہ آئے اور حج کرجائے وہاں بھی کوٹے کے مطابق لوگ ہی ایک انتظامی سرکل سے گزر کرہی حج کرسکتے ہیں یہ کوٹہ ایک ہزار پر ایک حاجی ہے پاکستان کی آبادی 18 کروڑ تھی تو یہ کوٹہ ایک لاکھ اسی ہزار تھا مگر اب آبادی 22کروڑ سے زائد ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور موجود آبادی کے مطابق دو لاکھ کوٹہ مانگنے کی تیاری کررہے ہیں یہ ایک مشکل ہدف ہے۔
وفاقی وزیر کی کوشش ہے کہ ایک پانچ سالہ حج پالیسی متعارف کرائی جائے اس میں اہم نکتہ صرف پی آئی اے یا السعودیہ پر انحصار کرنے کی بجائے اوپن ائیر پالیسی اپنائی جائے تاکہ حج فلائٹس میں دیر سویر اور کرایہ کو متوازن رکھنے جیسے امور حل ہوجائیں سعودی عرب میں انتظامات کی نگرانی اور رہائشی عمارتوں کیساتھ معاہدو ں میں شفافیت بہت ضروری ہے اس لئے ایک جامع کمیٹی بناکر ان سے مذاکرات کرکے زیادہ سے زیادہ رعایت حاصل کی جاسکتی ہے اس طرح حج اخراجات میں کمی ہوسکتی ہے جو ڈالر کی قیمتوں میں اضافے سے پہلے ہی بڑھنے کا خدشہ ہے ان کو ہوائی اور رہائشی کرایوں میں کمی کے ذریعے ہی مناسب سطح پر رکھا جاسکتا ہے اس کے علاوہ پرائیویٹ حج آپریٹرز کے پیکیجزکو بھی مانیٹر کرکے محدود رکھا جانا ضروری ہے جو بعض کمپنیوں کے دس لاکھ فی حاجی سے بھی زیادہ ہوجاتے ہیں حج کے فلسفے میں آرام اور آسائش کی ترجیح تو نہیں مگر ہم لوگ اس مشقت والی عبادت میں بھی آسانی چاہتے ہیں مگر انسان دور نبوت میں حج کی مشکلات کو پیش نظر رکھے تو نہ صرف اس خاص عبادت کا لطف دوبالا ہوسکتا ہے بلکہ اس فرض کی اہمیت وفضلیت کا بھی اندازہ ہوسکتا ہے بہر حال امید ہے کہ موجودہ وفاقی وزیر کی نگرانی میں حج مزید سہولت اور آسانی کے ساتھ ممکن ہوگا۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے