Voice of Asia News

ْکلاسیقی موسیقی گہرا سمندر ہے ،اسے سیکھنے کیلئے اس میں ڈوبنا پڑتا ہے ‘ استاد حامد علی خان

لاہور(وائس آف ایشیا) نامور کلاسیکل گائیک استاد حامد علی خان نے کہا ہے کہ کلاسیقی موسیقی گہرا سمندر ہے اور اسے سیکھنے کیلئے اس میں ڈوبنا پڑتا ہے ، آج کا نوجوان چاہتا ہے کہ ایک ماہ میں مایہ ناز گلوکار بن جائوں لیکن یہ پاگل پن ہے ،نوجوان نسل زمانے کے ساتھ چل رہی ہے لیکن انہیں اپنی ثقافت او رموسیقی کو پست پشت نہیں ڈالنا چاہیے ۔انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ کلاسیقی موسیقی ہمارا ورثہ ہے اور میںنے اپنی ساری زندگی اس کو دیدی ہے ۔ ہمارے گھرانے میں آٹھ سے دس سال کی عمر میں اس کی تربیت شروع کردی جاتی ہے۔ اسی طرح میںنے بھی اپنے بیٹے کی اس عمر میں تربیت کا آغاز کردیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کا بینڈ ہے لیکن جو میری خاندانی وراثت ہے وہ بھی سکھا رہا ہوں اور وہ اسے محنت سے سیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے آج کل جس طرح کا میوزک چل رہا ہے کچھ ادارے اسے زبردستی چلانے کی کوشش کر رہے ہیں میرے خیال میں ان لوگوں کو موسیقی کا کچھ علم ہی نہیں۔ اگر نئی موسیقی میں دم خم ہوتا ہوتا پرانے دور کے گائے ہوئے گانوں کو لے کر انہیں نئے انداز میں پیش کیا جاتا لیکن یہ لوگ موسیقی کو خراب کر رہے ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے