امریکا کے مڈ ٹرم انتخابات پر اثر انداز ہونیکا خدشہ فیس بک اور انسٹاگرام کے اکاؤنٹس بند

واشنگٹن( وائس آف ایشیا) امریکا کے مڈ ٹرم انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے الزام میں فیس بک کے 30 اور انسٹاگرام کے85 اکا ؤنٹس بندکردیئے گئے ہیں. فیس بک حکام کا کہنا ہے کہ دو روز قبل امریکا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے نے مشکوک آن لائن سرگرمیوں سے متعلق رابطہ کیا جس پر کارروائی کرتے ہوئے فیس بک کے 30 اور انسٹاگرام کے85 اکاؤنٹس بندکردیئے گئے ہیں۔امریکی سیکورٹی حکام کے مطابق ان اکاؤنٹس کو امریکا کے باہر سے چلایا جا رہا ہے،بند کئے گئے اکا?نٹس سے متعلق مزید تحقیقات کی جارہی ہیں. مڈٹرم انتخابات صدر ٹرمپ کے لیے ایک قسم کا ریفرنڈم ہیں، امریکا بھر میں 60 سے زائد مسلمان بھی انتخابی امیدواروں میں شامل ہیں۔آج امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں سینٹ کی35 جبکہ کانگرس کی 435نشستوں پر برسراقتدار پارٹی ری پبلیکن پارٹی اور ڈیموکریٹس کے درمیان زبردست مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ۔ایوان نمائندگان(کانگرس)میں اس وقت ری پبلیکن پارٹی 235سٹیوں کے ساتھ اکثریت میں ہے جبکہ ڈیموکریٹ پارٹی کے پاس 193 جبکہ دیگر چھوٹے گروپوں کے پاس 7نشستیں ہیں . سینٹ کی 100نشستوں میں سے ری پبلیکن پارٹی کو51نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے جبکہ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے پاس 47نشستیں ہیں سینٹ میں2آزاد اراکین بھی موجود ہیں .وسط مدتی انتخابات میں کئی ریاستوں میں گورنرزبھی تبدیل ہوجائیں گے ریاستوں کی سطح پر بھی ڈیموکریٹس ری پبلیکن پارٹی کے برعکس عوامی رابطوں اور پارٹی کے پروگرام منعقدکروانے میں سرگرم رہے ہیں ۔ڈیموکریٹس کا ہدف صدر ٹرمپ کی متنازعہ پالیسیاں‘غربت اور مہنگائی میں اضافے سمیت دیگر مسائل رہے ہیں جوکہ عام امریکی شہری کو براہ راست متاثرکررہی ہیں مبصرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے جہاں عالمی بداری نالاں ہیں وہیں ان کی پالیسیوں نے عام امریکی شہریوں کو بھی متاثرکیا ہے لہذا امریکا کے اندرونی حالات وسط مدتی انتخابات پر زیادہ اثراندازہونگے‘امریکا کے اندر بڑھتی مہنگائی‘افراط زرکی شرح میں اضافہ‘گھروں کے کرایوں میں اضافہ صدر ٹرمپ کے لیے مسائل پیدا کرئے گا.وسط مدتی انتخابات میں رپبلکن پارٹی امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی عددی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی اس اکثریت کو چھین کر اپنے نام کرنے کے لئے کوشاں ہے.مختلف پولزکے نتائج کے مطابق صدرٹرمپ کی پالیسیوں سے ڈیموکریٹ پارٹی کو فائدہ ہوگا اور امید کی جارہی ہے کہ ڈیموکریٹ کانگرس اور سینٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ ہوگا ‘امریکا کی پارلیمانی تاریخ میں یہ روایت رہی ہے کہ برسراقتدار پارٹی وسط مدتی انتخابات کے دوران کانگرس میں اکثریت کھودیتی ہے .ڈیموکریٹس پارٹی کی کانگرس میں اکثریت اور سینٹ میں ممکنہ مظبوط پوزیشن سے وائٹ ہاؤس کو اپنی پالیسیاں بدلنے پر مجبور کرسکتی ہے صدر ٹرمپ کے خلاف سینٹ میں مختلف معاملات پر جواب دہی کا سامنا ہے جن میں روس کی 2016کے انتخابات میں مبینہ مداخلت‘شہری آزادیوں اور آزادی اظہار رائے پر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں ‘ایف بی آئی کے سابق سربراہ جیمزکومی کے صدرٹرمپ پرسنگین الزامات‘مختلف خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات کے الزامات سمیت ان کی غیرملکی تارکین وطن کے خلاف پالیسیوں کی وجہ سے امریکا کی ڈاؤن ساؤتھ کی ریاستوں میں بھی ری پبلیکن پارٹی کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ماضی یہ ریاستیں ری پبلیکن پارٹی کا گڑھ رہی ہیں مگر زراعت پر انحصار کرنے والی ان ریاستوں کو لاطینی امریکا کے مزدوروں کے خلاف کریک ڈان سے ڈاون ساوتھ کی ریاستیں سب سے زیادہ متاثرہوئی ہیں کیونکہ ان کے لیے سستی لیبرحاصل کرنے کے راستے بند ہوگئے ہیں. اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک جانب تو رپبلکن صدر ہیں . رابرٹ ملر کی تحقیقات، امیگریشن اور دنیا میں امریکی پالیسیوں کے اندرون ملک اثرات بھی ان انتخابات کو متاثر کریں گے ۔خارجہ امور میں امریکا عالمی برادری میں تنہائی میں اضافہ ہورہا ہے پول ز کے مطابق صدر ٹرمپ کے حامی بھی ان کی پالیسیوں کے ناقد نظر آتے ہیں. رپبلکن پارٹی اگرچہ دونوں ایوانوں میں اپنی عددی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے مگر ڈیموکریٹس اکثریت کو چھین کر اپنے نام کرنے کے لئے کوشاں ہے اور انہوں نے 2016کے عام انتخابات کے بعد ہی وسط مدتی انتخابات کے لیے زبردست مہم شروع کردی تھی۔دوسری جانب وسط مدتی انتخابات میں امریکا بھر سے تقریباً 90 امریکی مسلمان حصہ لے رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر ڈیموکریٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑ رہے ہیں جس کے نتیجے میں ممکن ہے کہ امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹ پارٹی اکثریت حاصل کر لے. ڈاکٹر عبدل السید نوجوان ہیں جن کا تعلق امریکہ کی عرب برادری سے ہے وہ ان 13 مسلمان امیدواروں میں سے ایک ہیں جو اس بار مشی گن سے گورنر شپ کے امیدوار نامزدگی کیلئے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جہاں ان کا مذہب اور نسل ان کی طرز زندگی خاص اہمیت کی حامل ہے۔