Voice of Asia News

بجلی ‘گیس ، تیل کی قیمت بڑھانا اور آئی ایم ایف کے پاس جانا درست فیصلہ ،معاشی ماہرین

اسلام آباد( وائس آف ایشیا)معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومت کے پیش کردہ بجٹ پر نظرثانی تحریک انصاف کی حکومت کا حق تھا ‘صنعتی شعبوں کے لیے گیس کے نرخ کم کرنا اور بجلی کی قیمت بڑھانا اورحکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانا درست فیصلہ ہے. حکومت نے پانچ شعبوں کے لیے گیس کے نرخ کم کیے ہیں اور 44ارب روپے اپنے ذمے لیے ہیں، کیونکہ حکومت مہنگے نرخوں پر گیس درآمد کر رہی ہے۔نان فائلرز پر پابندی برقرار رکھنا درست فیصلہ ہے، امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے سے مقامی صنعتوں کو تحفظ ملے گا، ٹیکس فائلر بننے کا طریقہ آسان بنایا جائے، ٹیکس نیٹ میں نئے افراد شامل کرنا ہوں گے،صرف ضروری اشیا ہی درآمد کی جارہی ہیں،آئی ایم ایف کی نگرانی سے معیشت منظم ہوتی ہے،ملک میں 14 لاکھ نہیں، کروڑوں افراد ٹیکس ادا کر رہے ہیں، لیکن وہ ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرواتے،ایف بی آر میں ڈویلپمنٹ کا ادارہ قائم کیا جانا چاہیے۔ماہر معاشیات مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے انتخابات سے قبل کہا تھا کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو 8ہزار ارب تک لے جائے گی، اس کے لیے وہ اقدامات کررہی ہے مزید ابھی کرنا ہوں گے. انہوں نے کہا کہ ہر سال درا?مدات کی حوصلہ شکنی کے لیے ان پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا دی جاتی ہے، مگر اس کے باوجود ہمارا درآمدی بل اور تجارتی خسارہ بڑھتا ہی چلا رہا ہے، جس کی وجہ آبادی میں اضافہ ہے۔اس وقت صرف بنیادی ضرورت کی اشیا ہی درآمد کی جارہی ہیں، جن میں کمی نہیں کی جا سکتی‘ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے رکھے گئے ٹیکس ہدف 4400ارب کو بھی اتنے زیادہ ٹیکسز عائد کرنے کے باوجود 60ارب کم کر دیا گیا‘ لہٰذا، حکومت کو ٹیکس نیٹ میں نئے لوگ شامل کرنا ہوں گے. انہوں نے کہا کہ حکومت نے نان فائلرز پر جائیداد اور گاڑیاں خریدنے پر پابندی عاید کر دی تھی، لیکن موجودہ حکومت نے یہ فیصلہ ابتدا میں واپس لے لیا لیکن پھر پابندی برقرار رکھی ، خیال یہ تھا کہ یہ لوگ تعمیرات و گاڑیوں کی صنعت اور زراعت اس ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان سے روزگار کے ذرائع بھی پیدا ہوتے ہیں‘ اگر یہ شعبے غیر فعال ہو جائیں گے، تو ان سے جڑی صنعتیں بھی متاثر ہوں گی اور بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی شرح مزید کم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نون لیگی حکومت نے جب یہ فیصلہ کیا تھا، تو اس میں بھی بہت سی خامیاں پائی جاتی تھیں‘ ہماری حکومتیں غریبوں کے نام پر ایسی پالیسیاں بنا دیتی ہیں کہ جس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں. معاشی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ کہا جا تا ہے کہ ہم نے پر تعیش اشیا ء4 مہنگی کی ہیں، جو امیر افراد استعمال کرتے ہیں، اس فیصلے کی ڈیمانڈ پہلے بھی آتی رہی ہے، اس سے مقامی انڈسٹری کو تحفظ ملے گا، تو ایک امیر آدمی کے کچن کا بجٹ اس کی آمدنی کا 5ے10فیصد ہوتا ہے اور وہ 500روپے کی چیز 1000روپے میں بھی خرید سکتا ہے، جبکہ ایک مڈل کلاس آدمی جو یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے معیاری خوراک کھائیں ، اب وہ نہیں خرید سکتا کہ اس پر ٹیکسز لگا دیے گئے ہیں‘اس ملک تو خالص چیزیں ملتی ہی نہیں ہیں‘ اگر خالص چیزیں ملنے لگیں، تو لوگ غیر ملکی اشیا خریدنا ترک کر دیں گے۔ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر طفیل کا کہنا ہے کہ حکومت نے پانچ شعبوں کے لیے گیس کے نرخ کم کیے ہیں اور 44ارب روپے اپنے ذمے لیے ہیں، کیونکہ حکومت مہنگے نرخوں پر گیس درآمد کر رہی ہے. حکومت نے جو گیس کی قیمتیں بڑھائی ہیں، وہ پہلے ہی بڑھا دینی چاہیے تھیں‘ گھریلو گیس کے نرخ بڑھانا اچھا فیصلہ ہے. اگر اس سے زیادہ بھی اضافہ کیا جاتا ہے، تو صارفین پر زیادہ بوجھ نہ پڑتا‘ اسی طرح انڈسٹری میں مجموعی طور پر گیس کے نرخ میں 30سے 40فیصد اضافہ کیا گیا ہے.اس کے نتیجے میں انڈسٹری کی لاگت بڑھ جائے گی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آخر حکومت کب تک سبسڈی دیتی رہے گی. اگر 15،15فیصد اضافہ کیا جاتا، تو یہ بہتر رہتا‘ منی بجٹ میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کا خیال رکھا گیا ہے، لیکن باقی صنعتوں میں گیس کی قیمتیں 40فیصد تک بڑھ گئی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی مصنوعات سازی پر آنے والی لاگت میں اضافہ ہوا ہے. اب جہاں تک بجٹ کی تیاری کی بات ہے، تو موجودہ حکومت نے انتخابی مہم میں اتنے بڑے بڑے دعوے کر دیے تھے کہ اب انہیں عملی شکل دینے میں مشکل پیش آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے 100دن میں تبدیلی لانے کے دعوے کیے اور اب انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے انہیں سو دن کی بجائے کم سے کم ایک سال کا وقت دینا چاہیے تھا . انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال کسی بھی جماعت کی حکومت ہوتی، تو اسے اسی قسم کے چیلنجز درپیش ہوتے‘ گزشتہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس ریٹ کم کر کے 15فیصد کر دیا تھا۔ایف پی سی سی آئی نے تجویز دی تھی کہ سالانہ 8لاکھ تک کی آمدنی والوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور انکم ٹیکس کم کر کے زیادہ سے زیادہ 25فیصد کر دیا جائے، جبکہ حکومت نے 15فیصد کر دیا اور ایسا پہلی بار ہوا. اب اس ٹیکس کی شرح کو بڑھا کر 29فیصد کر دیا گیا ہے، جس کی مخالفت کرتے ہوئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے کہا کہ اسے 25فیصد کر دیا جائے‘ ابھی تک تو گیس کی قیمتیں بڑھی ہیں، لیکن اصل مسئلہ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہے، جس کے اثرات نہ صرف عوام بلکہ بجلی سے چلنے والی صنعتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔زبیر طفیل نے کہا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکس ریونیو 4ہزار ارب سے بڑھا کر 8ہزار ارب تک لے جائے گی‘ اگر ایسا پانچ برس میں ہوتا ہے، تو یہ فطری عمل ہو گا، کیونکہ ہر 5برس بعد ٹیکس ریونیو دگنا ہو جاتا ہے. تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 2برس میں ایسا کر کے دکھائے گی، جو کہ بہت مشکل کام ہے، اگر ایسا ہو جاتا ہے، تو یہ قابلِ تحسین ہو گا. تاہم جب تک ٹیکس نیٹ وسیع نہیں ہو گا کام نہیں چلے گا.انہوں نے کہا کہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے صنعتوں کو چلانا بہت ضروری ہے، جس میں تعمیراتی صنعت بہت اہم ہے‘ اس صنعت سے مزید 40صنعتیں وابستہ ہیں. عارف حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب کا کہنا ہے کہ :گزشتہ حکومت کے بجٹ پر نظر ثانی موجودہ حکومت کا حق تھا کیونکہ اب اس نے ملک کی معیشت کو چلانا ہے‘ الیکشن سے پہلے پیش کیے گئے بجٹ میں تبدیلی ضروری تھی، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے‘ یعنی جو رعایتیں گزشتہ حکومت نے دی تھیں، وہ اب بھی موجود ہیں.ہم نے گزشتہ حکومت کو تجاویزدی تھیں کہ وہ ایل این جی فائرڈ پاور پلانٹ کے لیے بجٹ مختص نہ کرے، لیکن انہوں نے ایسا کیا اور بجٹ خسارہ بڑھ گیا‘اگر 2ارب ڈالرز پرائیویٹ سیکٹر کو دے دیے جاتے، تو نہ مالی ذخائر کم ہوتے اور نہ بجٹ خسارے میں اضافہ ہوتا ‘اب ترقیاتی منصوبے پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر دیے گئے ہیں‘ یہ اچھی حکمتِ عملی ہے. انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک کو برا بھلا کہتے ہیں‘ جو سرمایہ کار دبئی گئے تھے، تو وہاں سے خالی ہاتھ واپس آئے اور جب انہوں نے پاکستان میں کاروبار شروع کیا، تو مزے کر رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ مجھے وزیر اعظم صاحب کی اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ ہمیں کوئی پیسہ نہیں دے گا. ہمیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں‘ امریکا، برطانیہ، جاپان سمیت دوسرے ممالک کے قرضے ہم سے زیادہ ہیں۔ہمیں اپنے ملک کا امیج اتنا خراب نہیں کرنا چاہیے کہ غیر ملکی ہمارے ساتھ مل کر کام ہی نہ کریں‘ ہمیں اپنے مثبت پہلو سامنے لانے چاہئیں، تاکہ دنیا ہمارے پاس آئے.انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے فرٹیلائرز کو چلانے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے اس سے ملک کو فائدہ ہو گا. ملک میں بلیک مارکیٹنگ نہیں ہو گی اور نہ ہی فرٹیلائزر درآمد کرنا پڑے گا، جو مہنگا پڑتا ہے اور پھر سبسڈی دینی پڑتی تھی، لیکن اب حکومت کو سبسڈی بھی نہیں دینی پڑے گی. اسی طرح گیس کے نرخ بڑھانے کا فیصلہ بھی درست ہے، جو کافی عرصے سے نہیں بڑھائے جا رہے تھے، جس کی وجہ سے حکومت کو نقصان ہو رہا تھا.اگر حکومت گیس کے نرخ نہ بڑھاتی اور اسے لاگت سے کم قیمت پر فروخت کرتی رہتی، تو اس کا بوجھ بھی تو عوام ہی پر پڑتا‘ یعنی پہلے وہ افراد بھی پیسے ادا کر رہے تھے کہ جو گیس استعمال نہیں کر رہے تھے، لیکن اب صرف صارف ہی ادا کرے گا‘ اگرچہ یہ بھی ایک غیر مقبول فیصلہ ہے، لیکن ملکی کے مفاد میں بہتر فیصلہ ہے اور اس کی تحسین کرنی چاہیے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے