قومی جماعت کہلوانے والی پیپلزپارٹی پنجاب میں دوبارہ جگہ بناپائے گی؟رپورٹ

اسلام آباد( وائس آف ایشیا) ملک بھر میں حالیہ ضمنی الیکشن کے دوران پیپلزپارٹی پنجاب کا صفایا ہو گیا، پنجاب، خیبر پختونخواہ، بلوچستان میں کسی بھی جگہ پارٹی امیدوار کامیاب نہیں ہو سکے، صرف سندھ اسمبلی میں دو نشستوں پر کامیابی حاصل ہو سکی. پنجاب میں تو قیادت نے خود ہی پارٹی کا گلا گھونٹ دیا جب مسلم لیگ (ن )سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کر کے امیدواروں کودستبردار کر دیا گیا، لاہور میں چار حلقوں سے پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو الیکشن میں دستبردار کیا گیا ان میں قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی پنجاب کے دو حلقے شامل تھے ، پیپلزپارٹی کی دستبرداری کے بعد مسلم لیگ( ن) کو الیکشن جیتنے کا موقع مل گیا.ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں عام انتخابات کے بعد ضمنی الیکشن میں ناکامی پیپلزپارٹی کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے جس وجہ سے صوبائی عہدیداروں کی تبدیلی کا امکان ہے. پیپلزپارٹی پنجاب کے زوال کا آغاز رواں سال25 جولائی کو عام انتخابات کے دورا ن شرو ع ہو ا جب پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں صرف 6 اور پنجاب اسمبلی میں6 نشستوں پر کامیاب ہوئی ،انتخابات کے بعد خواتین کی ایک مخصو ص نشست ملا گر پیپلزپارٹی کے پنجاب اسمبلی میں ارکان کی تعداد 7 ہے.پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور جہاں 50برس پہلے پارٹی کی بنیاد رکھی گئی وہاں عام انتخابات میں پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی پانچ پانچ نشستوں سے کامیابی حاصل کی جبکہ وسطی پنجاب میں ایک ایک نشست سے کامیابی ہوئی گویا وسطی پنجاب میں پارٹی کی عزت خاک میں مل گئی بھلاہو جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود کا جن کی کاوشوں سے پنجاب میں چند نشستیں مل گئیں.پیپلزپارٹی پنجاب کی ماضی کے انتخابات میں کارکردگی قدرے بہترتھی ، 2013کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ارکان کی تعداد 8 ، 2008کے انتخابات میں 106ارکان اور2002 کے انتخابات میں ارکان پنجاب اسمبلی کی تعداد 79تھی. جولائی میں عام انتخابات اور اکتوبر میں ضمنی انتخابات دونوں میں پیپلزپارٹی کو عبرتناک شکست کی اہم وجہ پیپلزپارٹی کی مبہم پالیسی ہے ، اس کی قیادت گومگو کا شکار ہے ، کبھی حکومت کی بالواسطہ اور کبھی اپوزیشن کی براہ راست حمایت ہو تی ہے ، عام لوگ پیپلزپارٹی کے ووٹر، سپورٹر اور کارکن سے پوچھتے ہیں کہ پارٹی حکومت اور اپوزیشن کس کے ساتھ ہے ، پارٹی رہنما اور کارکن اس بارے کوئی واضح جواب دینے سے قاصرہیں.پیپلزپارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ سے مایوس ہو کر صوبائی جنرل سیکرٹری ندیم افضل چن کے مستعفی ہونے کے بعد صوبائی سیکرٹری اطلاعات مصطفی نواز کھو کھر سینیٹ کی سیٹ پر منتخب ہو کر پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے اور یہ عہدہ تاحال خالی ہے ، جنوبی پنجاب کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت بسرا، ملتان ڈویڑن کے صدر نوشیر لنگڑیال، پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر منظور وٹو اور ان کے خاندان سمیت متعدد عہدیدار اور سنیئر راہنما پارٹی چھوڑ گئے ، عام الیکشن کے دوران متعدد امیدواروں نے پارٹی ٹکٹ واپس کر دئیے اور حیلے بہانے کر کے الیکشن سے دستبردار ہو گئے ، مسلم لیگ( ن) نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ فارمولہ پر عمل نہ کیا جس سے تحریک انصاف جیت گئی، پیپلزپارٹی کے کارکن پہلے ہی تحریک انصاف کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے آئندہ اس طرف جھکاؤ مزید بڑھے گا۔