Voice of Asia News

پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید خطرات لاحق ہیں‘ماہرین

لاہور( وائس آف ایشیا)اقوامِ متحدہ سے وابستہ دنیا کے ممتاز ترین ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر 12 برسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج محدود کرنے کے لیے اقدام نہ اٹھائے تو دنیا بھر میں سیلاب، طوفان، موسمیاتی شدت، خشک سالی اور فصلوں کی تباہی کا عمل تیز ہوسکتا ہے جس کے پورے کرہ ارض پر غیرمعمولی طورسے منفی نتائج پڑیں گے۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی اور موسمی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج کی جانب سے9 اکتوبر کوجاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمارے سیارے کے اوسط درجہ حرارت میں ایک درجہ سینٹی گریڈ کاپہلے ہی اضافہ ہوچکا ہے. اب اگر اس میں 1.5 سینٹی گریڈ کامزیداضافہ ہونے سے روکنا ہے تو جنگی بنیادوں پر اقدام اٹھانے ہوں گے ورنہ خشک سالی، قحط، شدید گرمی، موسمی شدت، جنگلات کی آگ، سیلاب اور طوفان جیسی آفات میں اضافے سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد متاثر ہوں گے کیوں کہ زمین کا انتہائی نازک اور حساس نظام اس گرمی سے کئی طرح سے متاثر ہوگا۔اوسط درجہ حرارت میں اضافے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے 19 صدی کے بعد سے درجہ حرارت میں ہونے والا اوسط اضافہ‘حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے ممالک میں بہت پیچھے ہے ،لیکن جرمن واچ کے مطابق یہ دنیا کے ان7 ممالک میں شامل ہے جوموسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہوں گے. آئی پی سی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں پیرس کے معاہدے پر عمل کرنا ضروری ہے لیکن اس معاہدے کے بعد سائنس اور سیاست کی نہ رکنے والی بحث شروع ہوگئی تھی اور زمین پر گرمی بڑھانے والی گرین ہاؤس گیس، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سب سے بڑے مخرج، امریکا نے اس سے جان چھڑانے کا اعلان کردیا تھا۔اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا، پیرس کے معاہدے پر عمل کرنیکاپابند نہیں رہا‘دراصل یہ معاہدہ رکازی ایندھن (فوسل فیول) کے استعمال میں کمی کے علاوہ منصوبہ بندی، انفرا اسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، زراعت، شہری امور وغیرہ میں اہم اصلاحات کرنیپر بھی زور دیتا ہے‘ لیکن اب پوری دنیا آب و ہوا میں تبدیلی کے ہول ناک اثرات دیکھ رہی ہے۔کئی برسوں سے ہم گرمی کے ریکارڈ ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہے ہیں‘ اس سال دنیا کے بڑے سمندروں میں آنے والے ہول ناک طوفان بھی ہمارے سامنے ہیں. مذکورہ رپورٹ کے اجراء4 کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک ویب سائٹ پر اپنے مضمون میں کہاہے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے سردمہری سے سخت پریشان ہیں. انہوں نے کہا کہ یہ عالمی مسئلہ ہے جس کا عالمی حل ڈھونڈنا ہوگا‘ آلودگی پھیلانے والے بڑے ممالک کی جانب سے سست روی پرانہوں نے شدید مایوسی کا اظہار بھی کیا‘ واضح رہے کہ ناسا کے ماہرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انیسویں صدی کے بعد سے اب تک عالمی درجہ حرارت میں 0.9 فی صد اضافہ ہوچکا ہے جسے ایک درجے سمجھنا بہتر ہوگا۔ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اپنے بچوں اور ان کے بچوں کی بقا و سلامتی کے لیے ہمیں سخت اقدام اٹھنے ہوں گے. رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ عالمی حِدّت اندازوں سے کہیں زیادہ رفتار سے بڑھ رہی ہے اور تباہ کن صورت حال سے بچنے کے لییوقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے‘ اس کے اثرات پہلے سے لگائے گئے اندازوں کی نسبت کہیں زیادہ خطرناک ہیں‘لہذا معاشروں میں لوگوں کے طرز زندگی اور اقتصادیات میں اس قدر وسیع ترتبدیلیاں درکارہیں کہ ان کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا91 مصنفین کی تیار کردہ اس خصوصی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی حِدّت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی حد کے میں رکھنے کے لیے دنیا بھر کی معیشتوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ماہرین پہلے ہی خبر دار کرچکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے زمین پر مرتب ہونے والے اثرات بہت تباہ کن ہوں گیان کے نتیجے میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے مستقبل میں مسلح تنازعات، بھوک، سیلاب اور ہجرت جیسے مسائل بھی شدت اختیار کر جائیں گے. ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرین ہاؤس یا سبزمکانی گیسز کے اخراج میں کمی نہ کی گئی اور کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے ایکو سسٹم یا ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچے گا، جس کے مالیاتی اثرات کئی ٹریلین ڈالرز کے مساوی ہو سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق زمین کے درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری کا اضافہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تباہی بڑھانے کا باعث بنے گا اور اس کی وجہ سے نہ صرف املاک کو نقصان پہنچے گا بلکہ انسانی، حیوانی اور نباتاتی صحت پر بھی نہایت مضر اثرات مرتب ہوں گے. ماہرین دنیا بھر کے پالیسی سازوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ درجہ حرارت میں اضافے سے پیدا ہونے والے اثرات شدید، تباہ کن اور ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔جاپانی شہر یوکوہاما میں پانچ روز تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد آئی پی سی سی کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے چار برس قبل اب تک کی سخت ترین تنبیہ جاری کی گئی تھی‘ اس وقت جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ رواں صدی میں زمینی درجہ حرارت میں صفر اعشاریہ تین سے چار اعشاریہ آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو سکتاہے، جس سے سمندروں میں پانی کی سطح 26 تا 82 سینٹی میٹر بلند ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ اگر صنعتی انقلاب سے قبل کے مقابلے میں زمینی درجہ حرارت دو درجے سینٹی گریڈ بڑھا تو اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کی کل آمدن کا صفر اعشاریہ دو فی صد تا دوفی صد حصہ خرچ ہو گا. واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ زمینی درجہ حرارت کو صنعتی انقلاب سے قبل کے دور کے درجہ حرارت کے مقابلے میں رواں صدی میں ہونے والے اضافے کو دو درجے سینٹی گریڈ تک روکا جاسکے‘اس سلسلے میں ایک جائزہ 2007ء4 میں شائع کیا گیا تھا، جس کے بعد دنیا بھر میں اس مطالبے میں شدت آئی تھی کہ اس مسئلے کے حل کے لیے عالمی سطح پر کوئی مربوط معاہدہ ناگزیر ہے۔اسی بابت 2009ء4 میں کوپن ہیگن میں موسمیاتی تبدیلیوں کے موضوع پر ایک عالمی سربراہی کانفرنس بھی منعقد ہوئی تھی۔تاہم اس کانفرنس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی تھی. اس کانفرنس میں ترقی پذیر ممالک، بہ شمول چین نے سبز مکانی گیسز کے اخراج میں کمی کے حوالے سے عالمی مطالبات مسترد کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس مسئلے پر ترقی یافتہ ممالک قائدانہ کردار ادا کریں کیوں کہ چین اور دیگر ترقی پذیر ممالک اپنی شرح نمو اور صنعتی ترقی کو دآ پر نہیں لگا سکتے۔پاکستان میں پانی کے بحران کے حوالے سے 2025ء4 ایک علامتی سنگ میل ہے‘ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو اینڈ ی پی)، آئی ایم ایف، پاکستان کی کونسل فار ریسرچ ان واٹر اور ارسا (انڈس ریور سسٹم اتھارٹی )،سب ہی متفق دکھائی دیتے ہیں کہ 2025ء تک پاکستان میں پانی ختم ہو جائے گا‘ پاکستانی تحقیقی ادارے نے 1990ء میں تنبیہ کی تھی کہ پاکستان پانی کی کمی کے سنگین خطرے سے دوچار ہے۔اس کے بعد 2005ء میں اس ادارے نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان پانی کی قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے.یہ صورت حال وقت، مواقعے اور وسائل کے مسلسل ضیاع کا نتیجہ ہے۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں فی کس سالانہ 5200 کیوبک میٹرز پانی دستیاب تھا۔ 2018ء4 میں یہ شرح 1000 کیوبک میٹرزسے کم ہے اور خدشہ ہے کہ 2025ء تک یہ مزید کم ہو کر 500 کیوبک میٹرز تک رہ جائے گی۔سادہ لفظوں میں اس کا مطلب ہے خشک سالی اور قحط‘پانی کی قلت اور متعلقہ مسائل پر کام کرنے والے تحقیقی ادارے حصار فاو نڈیشن سے تعلق رکھنے والے ماہر، توفیق پاشا کے مطابق چند دہائی قبل تک پاکستان میں تیس فیٹ کی گہرائی تک پانی مل جاتا تھا لیکن آج پاکستان میں پانی کے لیے بہت سے مقامات پر 800فٹ تک کھدائی کرنی پڑتی ہے. ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کے زیر زمین ذخیرے کی تشکیل میں قدرت کو بعض اوقات ایک ہزار برس درکار ہوتے ہیں‘ اگر اس پانی کو ٹیوب ویلز کے ذریعے بے دریغ نکالا جائے گا تو یقیناًچند برسوں میں ختم ہو جائے گا۔پنجاب میں زیر زمین پانی کی شرح 20 ملین مکعب فٹ تھی لیکن ہم نے اس کی گویا کان کنی کی ہے. واپڈا کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تمام بڑے شہر پانی کی شدید قلت کا شکار ہو چکے ہیں‘ اسلام آباد کو 176 ملین گیلن سالانہ درکار ہے، مگر اسے 84 ملین گیلن میسر ہے، کراچی کو 1100 ملین گیلن درکار ہے اور اسے سالانہ صرف 600 ملین میسر ہے. پشاور کی سالانہ ضرورت 250 ملین گیلن ہے،لیکن اسے صرف 162 ملین گیلن مل پاتا ہے‘لاہور کی سالانہ ضرورت 692 ملین گیلن ہے،لیکن اسے 484 ملین گیلن ملتا ہے‘اسی طرح کوئٹہ کی ضرورت 45 ملین گیلن ہے،لیکن اسے 28 ملین گیلن حاصل ہوتے ہیں۔ایک جانب یہ صورت حال اور اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے اور دوسری جانب پاکستان ڈیمو گرافک اور ہیلتھ سروے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبادی کے تناسب میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے،2046 تک ملک کی آبادی دگنی ہو جائے گی اور2030 تک پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے گنجان آباد ملک بن جائے گا‘اس آبادی کے لیے 12کروڑ نوکر یا ں ، 1کروڑ90لاکھ گھر اور85ہزار پرائمری اسکولزدرکار ہوں گے۔اس ضمن میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح 2.40فی صدتک پہنچ گئی ہے اوراگر یہ شرح برقراررہی تو2046 میں آبادی دگنی ہوجائے گی اور2040 تک پاکستان میں مزیدبارہ کروڑ نوکر یا ں درکار ہوں گی. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت پانی کی کمی کے شکار دنیا کے تین ممالک میں سے ایک ہے‘رپورٹ میں کہا گیاہے کہ رہائش کے لیے ایک کروڑ 90لاکھ گھروں کی ضرورت ہوگی اور2040 تک ملک میں 85 ہزارمزیدپرائمری سکولز بنانے پڑیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے مقابلے میں زچگی کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات سب سے زیادہ پاکستان میں ہو رہی ہیں‘ہر سال بارہ ہزار مائیں زچگی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں. پاکستان میں ہر ایک ہزارولادتوں میں62 شیرخواربچے ایک سال کی عمر تک نہیں پہنچ پاتے‘سروے کے مطابق جنوبی ایشیامیں سب سے زیادہ بچوں کی پیدائش کی شرح پاکستان میں ہے اور پانچ سال سے کم عمر کے 68 فی صد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں‘ان حالات میں مستقبل کا سوچ کر دل دہلنے لگتا ہے۔ماہرین کے مطابق، ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ شرح آبادی میں اضافے سے بھی ہماری پانی کی ضرورت اور ترسیل کے نظام پر دباؤ بڑھا ہے‘تاہم اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہیں جو موجودہ بحران کا سبب بنیں. کسی با ضابطہ منصوبہ بندی کے بغیر شہروں کے پھیلاؤ کی اجازت دی گئی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل سے چشم پوشی کی گئی. صنعتوں میں اضافہ ضروری تھا، مگر ماحولیاتی آلودگی اور نکاسی آب کے ضابطے مقرر نہیں کیے گئے، لہذا ہمارے دریا آلودہ ہو گئے اور زہریلے مواد زیر زمین پانی میں شامل ہو گئے.سیمنٹ اور چمڑے کی فیکٹریز نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا‘نہروں کی دیکھ بھال نہیں کی گئی اور نہری سلسلے میں آب پاشی کے دوران تقریبا 50 فی صدپانی ضائع ہوتا رہا‘ سیم اور تھور کی روک تھام بھی نہیں کی جا سکی. کچھ عرصہ قبل پاکستان میں پانی کے بحران اور اس کے ممکنہ تباہ کن اثرات کے موضوع پر فرانس کے ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے، انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک انٹرسٹ کے ماہر برائے جنوبی ایشیا، اولیور گئیر نے بتایاتھا کہ یہ نئی یا ناگہانی صورت حال نہیں‘ میں 25 برس قبل پاکستان میں قیام پذیر تھا، اس وقت بھی سب کو علم تھا کہ پاکستان اس تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن پاکستان میں انہیں اس حوالے سے کوئی سنجیدگی یا پریشانی دکھائی نہیں دی اور نہ ہی ایسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوئی سیاسی عزم دکھائی دیا.پانی کے بحران کے حوالے سے حکومتی اور ریاستی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی پہلی واٹر پالیسی کا اعلان اپریل 2018ء میں ہوا‘ 2005ء4 میں ورلڈ بینک کی تحقیقی رپورٹ کے بعد اس کا پہلا مسودہ تیار ہواتھا. 2010ء تک اس کی نوک پلک درست ہوتی رہی‘ 2012ء4 میں اس پالیسی کا حتمی مسودہ تیار ہوا جو 2015ء تک بحث ،مباحثے اور نظرثانی کے مراحل سے گزرتا رہا.اس رپورٹ کے مطابق انڈس سسٹم کا 50 فی صد پانی کھیتوں تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہو جاتا ہے‘ پاکستان کے موجودہ ڈیم اپنی عمر پوری کر چکے ہیں اور پاکستان میں خوراک،پانی اور توانائی کے بحران باہم مربوط ہیں‘ اس رپورٹ میں دیامیر بھاشا ڈیم بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے لیکن ہم نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی. پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسوریسز نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو پانی کی قلت کا سامنا ہے اور اگر صورت حال کو بہتر کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو2025 تک قحط جیسی صورت حال یا پانی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے.ادارے کے مطابق یہ بات درست ہے کہ ملک کو پانی کی قلت کا سامنا ہے اور اگر بر وقت اقدام نہ اٹھائے گئے تو دس سال بعد ملک میں پانی کی شدید قلت ہونے کا خطرہ ہے اور بات قحط سالی تک بھی جاسکتی ہے. آبی امور کے ماہرین کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ پانی ذخیرہ کرنے کی ہماری صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے‘ ہم نے چار دہائیوں میں پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی قابل ذکر منصوبہ نہیں بنایا‘ ڈیموں اور بیراجوں کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے.اس کمی کی ایک وجہ جنگلات کے سکڑنے کا عمل بھی ہے‘ درختوں کے کٹنے سے مٹی کے جمع ہونے کا عمل تیز ہو جاتا ہے. درخت نہ ہونے کی وجہ سے کیوں کہ پانی زمین میں جذب نہیں ہو پاتا لہذا مٹی، کنکر، پتھر اور ریت آکر ڈیموں اور بیراجوں کے ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے.۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے