ایل او سی کے دونوں طرف اوردنیابھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم شہدائے جموں منایا

سری نگر، مظفر آباد، اسلام آباد( وائس آف ایشیا) لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف اوردنیابھر میں مقیم کشمیریوں نے منگل کویوم شہدائے جموں منایا۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں احتجاجی جلسے جلوس اور مظاہرے ہوئے ۔یوم شہدائے جموں اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا گیا کہ حق خودارادیت کے حصول تک شہدا کے مشن کو جاری رکھاجائیگا۔جموں وکشمیر کے مختلف حصوں میں مہاراجہ ہری سنگھ کی فورسز، بھارتی فوج اور ہندوانتہاپسندوں نے1947 میں نومبر کے پہلے ہفتے کے دوران پاکستان ہجرت کرنے والے لاکھوں کشمیریوں کو شہید کردیاتھا۔۔اس دن کے منانے کا مقصد حق خود ارادیت کے لیے شہدا کی قربانیوں کو یاد کرنا ہے۔6نومبر 1947 میں مہاراجا ہری سنگھ کے حامیوں، بھارتی فوج اور ہندو انتہاپسندوں نے پاکستان ہجرت کرنے والے مسلمانوں پر حملے کرکے انہیں شہید کیا تھا۔ ریاستی اخبار کے مطابق جموں میں70سال قبل ریاستی تاریخ کے بدترین قتل عام کی چبھن ابھی بھی لوگوں کے سینوں میں محسوس ہو رہی ہے اور انتہا پسند و جنونیوں کے مسلمانان ریاست کے خون سے ہاتھ رنگنے کے منظر کئی کے اذہان میں ابھی بھی نقش ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق،بحوالہ اجلاس نمبر 534، مارچ 6، 1951 : تقسیم کے دوران بھارت میں خوفناک قتل عام کے بعد مہاراجہ نے اس طرح کی کارروائی کی۔10اکتوبر 1947کو لندن سے شائع ہونے والے ٹائمز آف لندن کے خصوصی نامہ نگار نے تحریر کیا باقی شدہ ڈوگرہ علاقے میں، 2لاکھ37ہزار مسلمانوں کو منظم طریقے سے ڈوگرہ ریاست کی تمام افواج نے قتل کیا،اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک نہ وہ پاکستان فرار ہو گئے۔ہوریس الیگزینڈر کلنگ نے جنوری1948میں سپیکٹیٹر میں تحریر کیا ہے اس قتل عام کوریاستی اتھارٹی کی خاموش رضامندی تھی اور اموت کی تعداد2لاکھ قرار دی ہے۔ 10اگست ، 1948، کوٹائمز (لندن) کی طرف سے خصوصی نامہ نگار کی طرف سے رپورٹ مرتب کی گئی جس میں، ایک سول سروس کے اہلکار،کی رپورٹ شائع کی گئی،جس میں لکھا گیا کہ2لاکھ37ہزار مسلمانوں کو منظم طریقے سے ختم کیا گیا تھا ، جب تک کہ وہ سرحد کے ساتھ پاکستان فرار ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے، مہاراجہ کی سربراہی والی ڈوگرہ ریاست کے تمام فورسز نے ہندووں اور سکھوں کی مدد سے انکا تعاقب کیا۔رپورٹ کے مطابق یہ سب کچھ اکتوبر1947میں پہلے قبائلی حملے سے5روز قبل اور مہاراجہ کی طرف سے الحاق کرنے سے9 روز پہلے ہوا۔ 1941 اور 1961 کے درمیان، جموں کے مسلمانوں کی آبادی 61 فیصد سے 38 فیصدہو کر رہ گئی۔لندن ٹائمز کے خصوصی نامہ نگار نے10اکتوبر1947کو لکھا مہاراجہ نے اپنی نگرانی میں2لاکھ37ہزار مسلمانوں کو جموں میں فوجی کارروائی کے دوران ہلاک کروایا۔ سٹیٹس مین کے ایڈیٹرایان اسٹیفن نے، اپنی کتاب چاند کے سینگ میں لکھا ہے کہ موسم خزاں میں 1947 کے آخر تک2لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔مورخین کا کہنا ہے کہ1947میں جموں میں ہوئے قتل عام کی وجہ سے مسلم اکثریتی والے اضلاع،سکھ اور ہند اکثریتی والے علاقے بن گئے،اور مسلمان اقلیت میں تبدیل ہوئے۔جموں ضلع میں1941 میں4لاکھ28ہزار719کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ58ہزار630تھی،جو مجموعی آبادی کی37فیصد شرح تھی،تاہم1961میں جموں میں مسلمانوں کی آبادی صرف51ہزار693سمٹ کر رہ گئی یاور اس دوران کل آبادی کی تعداد5لاکھ16ہزار932تک پہنچ گئی۔