Voice of Asia News

جمال خاشقجی کے بعد سعودی عرب نے زہریلی ، کیمیائی ماہرین قونصلیٹ میں بھیجے تھے ، انکشاف

استنبول (وائس آف ایشیا)ترکی کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب نے جمال خاشقجی کی ہلاکت کے بعد زہریلی اشیاء اور کیمییائی اشیا کے ماہرین کو استنبول میں اپنے قونصلیٹ میں بھیجا تھا تاکہ وہ وہاں موجود ثبوت مٹا دیں۔سعودی عرب نے تسلیم کیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ماہ ہلاک ہو گئے تھے تاہم اس کے بارے میں اس کا موقف بدلتا رہا ہے۔ترک تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ جمال خاشقجی کو گلا دبا کر ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے۔ ان کے دو ترکی کے اعلیٰ اہلکار کی طرف سے بیان ترکی کے اخبار صباح کی ایک رپورٹ کی عکاسی کرتا ہے جس کے مطابق سعودی عرب نے مبینہ طور پر کیمیائی ماہر احمد عبد العزیز الجنوبی اور ماہر سمّیات خالد یحییٰ الزہران کو ایک وفد کا حصہ بنا کر استنبول بھیجا تا کہ وہ شواہد مٹا سکیں۔خاشقجی کی ہلاکت کے بارے میں یہ رپورٹیں اس دن سامنے آئیں جب وہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے پینل کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر عرفان فدان نے، جو اس مقدمے کی تفیش کر رہے ہیں، گزشتہ ہفتے خیال ظاہر کیا تھا کہ جمال خاشقجی کو عمارت میں داخل ہوتے ہی ’گلا دبا کر ہلاک کر دیا گیا تھا‘ اور پھر ان لاش کے ٹکڑے کر کے ضائع کر دیا گیا۔اب تک سعودی حکام اس قتل کے سلسلے میں اٹھارہ افراد کو گرفتار کر چکے ہیں۔ ترکی چاہتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے حوالے کیا جائے جبکہ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ان پر ملک کے اندر ہی مقدمہ چلایا جائے گا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے