اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور پاکستان :محمد قیصر چوہان

عہد حاضر میں دُنیا کا ہر چھوٹااور بڑا ملک اپنے دفاع کو زیادہ سے زیادہ مستحکم اور مضبوط بنانے میں لگا ہواہے۔جہاں دنیا میں جدید سے جدید آلات کی خریدو فروخت دفاع سے مشروط ہے وہی دنیا کی مہنگی ترین ٹیکنالوجی اسٹیلتھ کے حامل ہیلیز، طیارے،میزائل، ڈرونز، ریڈار، الات اور دیگر ساز و سامان بھی ہر ملک کی خواہش ہیں۔اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کو ہم ایل او ٹیکنالوجی یعنی لو آبزرورایبل ٹیکنالوجی بھی کہتے ہیں۔ یہ فوج کے دفاعی نظام کی ایک ایسی جزویت ہے جو ملٹری ایئر کرافٹ یعنی طیارے، جہاز، ہیلی کاپٹر، آبدوز، میزائل، سیٹلائیٹ اہل کاروں کو ایسی سہولت اور تیکنک فراہم کرتی ہے جس سے آپ دشمن کے ریڈار، انفرا ریڈ، سونر اور دیگر سراغ لگانے والے آلات پر بہت مشکل یا اکثر حالات میں بالکل نموار نہیں ہوپاتے اور دشمن کے جانے بغیر اپنا مشن اور کام بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔یہ جدید ٹیکنالوجی کا ایک ایسا ملٹری کیموفلاج ہے، جو نئے زمانے کی خصوصیات، دفاعی نظام اور ضروریات کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے، جس سے دشمن کی آنکھوں میں باآسانی دھول جھونکی جاسکتی ہے۔اس ٹیکنالوجی پر سب سے پہلے کام دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی میں ہوا، جب جرمن سائنس دانوں نے ’’ہورٹن ہو 229‘‘ نامی دنیا کا پہلا اسٹیلتھ طیارہ بنایا، تاہم اسے دوران جنگ محاذ پر نہیں بھیجا جاسکا۔ بعدازاں جرمنوں کی تحقیق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکیوں نے اسٹیلتھ طیارے تیار کرلیے، جس کا آغاز1958 میں امریکا میں شروع ہوا، تاہم سرد جنگ کے دوران امریکی جاسوس طیارے یو ٹو کی سوویت یونین کے خلاف جاسوسی میں یہ طیارے اور تیکنک بری طرح ناکام ہوئی اور امریکی جاسوسی کا پردہ چاک ہوا، جس کے بعد امریکا نے نیے سرے سے اس پروجیکٹ پر کام کا آغاز کیا،جس کے بعد تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کے طیارے کو اگر کسی مخصوص ساخت اور شکل میں بنایا جائے تو وہ ریڈار سے نکلنے والی شعاعوں کو کم سے کم اپنے اندر جذب کرکے انہیں کم سے کم ریڈار پر نمودار ہونے یا ظاہر ہونے سے بچا سکتا ہے۔ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس طیارے، جہاز، آبدوز، آلات ، ریڈار اور ہیلی کاپٹر نہ ریڈار کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کی پکڑ میں آسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی ان کی آواز سن سکتا۔اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ دشمن کے ریڈار سے خارج ہونے والے سگنل اس ٹیکنالوجی کے حامل ہیلی کاپٹر ، طیارے، میزائل، ڈرونز یا کسی دوسری چیز سے ٹکرا کر کسی اور طرف مڑ جاتے ہیں، اور واپس اس جگہ نہیں جاتے جہاں ریڈار نصب ہے۔ اس سلسلے میں ایسا میٹریل بھی استعمال ہوتا ہے جو ریڈار کے زیادہ سے زیادہ سگنل جذب کرلے۔ اسٹیلتھ طیارے میں انجن سے اٹھنے والی گرمائش چھپانے کیلئے اسے ٹھنڈا رکھنے کا نظام لگایا جاتا ہے۔ لہٰذا اس سے انفراریڈ شعاعیں بھی خارج نہیں ہوتیں۔ اس ٹیکنالوجی کے بنے طیارے کو دیکھنا بھی کٹھن مرحلہ ہے کہ وہ مکمل طور پر سیاہ ہوتا ہے۔ اسے عموماً رات کو اڑایا جاتا ہے۔آواز کی لہروں سے بھی ان خصوصی طیاروں کو شناخت کرنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کہ وہ سپرسونک نہیں ہوتے۔ پھر ان میں ’’آفٹر برنر‘‘ بھی ہوتے ہیں۔ اس تیکنک کے حامل طیارے اور ہیلی کاپٹرز عموماً زمین سے قریب تر رہ کر پرواز کرتے ہیں تاکہ ارضی رکاوٹیں مثلاً پہاڑ، بلند درخت، عمارتیں وغیرہ ان کی آڑ بن جائیں۔
اس ٹیکنالوجی کی بدولت آج امریکا دنیا کی دفاعی طاقت پر حاوی ہے، اور کوئی ملک اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل ہیلی کاپٹرز، جیٹ طیارے، آلات، ریڈار اور آبدوز امریکا کے جدید اور مضبوط دفاعی نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ دنیا کا مہنگا ترین سسٹم ہے۔ امریکا کے ففتھ جنریشن کے حامل طیارے اس ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، امریکا کا ایف۔35 لائٹنگ 5 جنریشن ملٹی رول ایئر کرافٹ ہے، اسے ہر موسم کا پرندہ بھی کہا جاتا ہے، یہ طیارہ ہر موسم میں فضا سے زمین اور فضا سے فضا میں اپنی برتری ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ عمودی لینڈنگ اور پرواز کی صلاحیت بھی اسے دوسرے طیاروں سے ممتاز کرتی ہے۔ طیارے میں 10 سے زائد ہارڈ پوائنٹس ہیں جن میں سے 5 اس کے اندر نصب ہیں۔ان تمام ہارڈ پوائنٹس پریہ روایتی ہتھیار کروز میزائل اور گائیڈڈ بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک وار فیئر جیسی خصوصیات سے بھی لیس ہے جس سے جہاں یہ راڈارز کی نظروں سے بچ کر دنیا کے بہترین دفاعی نظام میں داخل ہوسکتا ہے، وہیں اسے ناکارہ بھی بنا سکتا ہے۔یہ طیارہ جدید ترین ریڈارزسینسرز اور ایویونکس کی بدولت پائلٹ کو زمین اور فضا میں چاروں طرف کے حالات سے نہ صرف باخبر رکھتا ہے بلکہ جمع کی گئی انٹیلی جنس کو براہ راست اس سے لنک دوسرے اسٹیشنز کو بھی بھیج سکتا ہے،یہ طیارہ انفرا ریڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی نہیں پکڑا جاسکتا ہے۔مضبوط ترین دفاعی تیکنک کی بدولت دیگر ممالک بھی اس میدان میں طبع آزمائی کر رہے ہیں، کچھ ممالک اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے میں کامیاب تو بیشتر ناکام ہوچکے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال پاکستان اور چین کے مشترکہ پروجیکٹ کی ہے۔ چین کا اسٹیلتھ طیارہ ’’ایف سی 31 جرفالکن‘‘ عرف ’’جے 31‘‘ )، جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کو امریکا کے قریب تر لے آیا ہے کیونکہ اسے صحیح معنوں میں امریکی ’’جوائنٹ اسٹرائک فائٹر‘‘ (جے ایس ایف) کا مدمقابل کہا جاسکتا ہے، اب تک اس کا دوسرا پروٹوٹائپ آزمائشی پروازیں کرچکا ہے، اس منصوبے میں پاکستانی انجینئر اور سائنسدان بھی چینی ٹیم کے ساتھ شریک ہیں، جب کہ ایک اور جے 20 جو جدید ترین چینی لڑاکا طیارہ اس میں بھی پاکستانی ماہرین شریک ہوچکے ہیں، یہ طیارہ بھی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہے، یہ اسٹیلتھ طیارے ڈیٹا لنک کے ذریعے دشمن کے میزائلوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ان طیاروں کا شمار بھی ففتھ جنریشن کے طیاروں میں ہوتا ہے۔ یہ پہلا اسٹیلتھ طیارہ ہے جو امریکا سے باہر کسی دوسرے ملک میں وجود میں آیا۔اس چینی جنگی طیارے کی دل دہلا دینے والی اڑان امریکیوں کے دل و دماغ میں تشویش کی لہر دوڑا چکی ہے۔دوسری جانب پاکستان نے بھی مقامی طور پر تیار اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس حتف آٹھ اور رعد کے کامیاب تجربے کے بعد دفاعی میدان میں نیا سنگ میل عبور کرکے اپنی مسلز پاور دنیا خاص کر روایتی دشمن انڈیا کو دکھا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت بھی روس کے اشتراک سے ایک اسٹیلتھ طیارہ ’’ہل ایمکا‘‘بنانے پر کام کر رہا ہے، تاہم غیر ملکی عسکری ذرائع کہتے ہیں کہ دونوں ممالک یہ طیارہ بنانے میں فی الحال ناکام ہیں۔ اس وقت امریکا، روس، چین اور بھارت کے علاوہ ترکی، ایران اور سویڈن بھی اسٹیلتھ طیارے بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم یہ وقت ہی بتائے گا کہ پاکستان کی طرح کون اس فیلڈ میں مقامی طور پر خودکفیل ہوتا ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com