Voice of Asia News

پاک فوج کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے:محمد قیصر چوہان

پاک فوج کا شمار اپنی مہارت، کارکردگی اور صلاحیت کی بنا پر دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ پاک فوج نہ صرف ملکی سرحدوں کی پاسبان ہے بلکہ اندرون ملک بھی امن و امان کو یقینی بنانے، سیلاب، زلزلہ سمیت ہر مصیبت کی گھڑی میں وہ سب سے آگے رہی ہے۔ بیرونی اور اندرونی محاذوں پر اس نے اپنے فرائض کما حقہ سرانجام دیئے ہیں۔ یہ پاک فوج کے جوان ہی ہیں جو سیاچن جیسے مشکل کٹھن محاذ پر جہاں ہر قدم پر موت منہ کھولے کھڑی ہے اپنی جانوں پر کھیل کر ملک و قوم کی حفاظت کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے جوانوں کی جگ رتوں کے باعث ہی قوم میٹھی نیند سوتی ہے۔ آج پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پر شدید مشکلات او ر خطرات کا شکار ہے۔ مشرقی سرحد پر موجود بھارت پاکستان کے خلاف کئی بار جارحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ کشمیر میں کنٹرول لائن پر اب بھی صورتحال کبھی کبھی کشیدہ ہو جاتی ہے پاکستان کو اپنی مشرقی سرحد پر بھی ہمہ وقت چاک و چوبند رہنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی مشرقی سرحد پر تو ایک روایتی خطرہ موجود ہی ہے جبکہ شمال مغربی سرحدیں ہمیشہ پر سکون رہی ہیں لیکن اب یہاں بھی صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔ سوویت یونین کے بکھرنے اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان کے شمال مغرب میں ایک اور خلفشار پیدا ہو گیا ہے اور اس کے اثرات پاکستان پر مرتب ہو رہے ہیں۔ افغانستان سے سوویت افواج کی واپسی کے بعد امن قائم نہیں ہو سکا جن لڑاکا گروپوں نے سوویت یونین کے خلاف گوریلا جنگ کی، وہ آپس میں برسر پیکار ہو گئے، اس کے نتیجے میں وہاں طالبان کی حکومت قائم ہوئی، نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکہ اور اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کر کے وہاں طالبان حکومت ختم کر ی، یوں افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ نیٹو افواج مشتبہ طالبان کے تعاقب میں کئی بار پاکستان کے اندر کارروائی کرنے کیلئے داخل ہو چکی ہیں، امریکہ نے افغان نیشنل آرمی کو بھی تربیت دے کر تیار کر دیا ہے۔ یوں اب افغانستان میں نیٹو افواج بھی ہیں اور افغان فوج بھی موجود ہے۔ افغان فوج کی ذہنی تربیت بھی پاکستان مخالفت پر کی گئی ہے۔ یوں یہ بھی پاکستان کے لئے مسلسل درد سر ہے۔ امریکہ اور نیٹو افواج جدید ترین اسلحے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ ادھر انڈیا بھی اپنی فوج کو انتہائی جدید بنا رہا ہے۔ پاکستان کے انتہائی شمال میں عوامی جمہوریہ چین کی فوج بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ جس جغرافیائی محل وقوع کا تقاضا ہے کہ پاک فوج کو بھی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا۔ آج کے دور میں وائرلیس، کمپیوٹر اور دیگر ایجادات نے جنگ کی شدت اور رفتار میں اضافہ کر دیا ہے۔ کمانڈ اور کنٹرول کی وہ لچک جو پرانی جنگوں میں نظر نہیں آتی تھی نئی ٹیکنالوجی نے اسے لازم بنا دیا ہے۔ وہ انٹیلی جنس معلومات جو ہیڈ کوارٹرز تک ہی محدود رہتی تھیں اب کمپیوٹر، ریڈار اور وائرلیس سسٹم کی مدد سے عام فوجی تک بآسانی فراہم کی جا سکتی ہیں۔ یوں آج اور مستقبل کی جنگوں کا نقشہ بالکل مختلف ہو گیا ہے۔
ادھر پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ ایک جانب پاکستان کی بین الاقوامی سرحدوں پر خطرات بڑھ رہے ہیں تو دوسری جانب اندرونی دشمن ملک کو اندر سے ضربیں لگا رہا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند اور دہشت گرد امن و امان کا مسئلہ پیدا کئے ہوئے ہیں تو پاک فوج کے خلاف کارروائی کر کے صوبے کی سلامتی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاک فوج ملک کی یکجہتی، اتحاد، سلامتی، خود مختاری اور دفاع کی علامت ہے۔ آج جب ٹیکنالوجی کا دور ہے اور روز نئی سے نئی ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ سامنے آرہا ہے، ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ پاک افواج کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید دفاعی ٹیکنالوجی سے لیس کرے۔ فوجی کامیابی کا دارومدار مکمل تیاری ، دیگر اداروں کی مدد اور عوامی حمایت پر ہوتا ہے۔ عوامی حمایت کے بغیر دنیا کی کوئی بھی فوج کسی بھی محاذ پر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پاکستانی قوم نے ہر مشکل مرحلے میں پاک افواج کی حمایت کی ہے۔ آج پوری قوم کو اپنی فوج پر فخر ہے جو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اپنے فرائض با احسن سر انجام دے رہی ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت مسلح افواج کے تمام تر ضروریات پوری کرے، کیونکہ پاک فوج پاکستان کی سرحدوں کی محافظ ہے اگر یہ کمزور ہو گی تو ملک کمزور ہو گا۔ لہٰذا پاک فوج کو وہ تمام وسائل فراہم کئے جانے چاہئیں جو اس کی ضرورت ہے اور اس مقصد کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے