بڑھتی ہوئی آلودگی نے منچھر جھیل کوتباہی کے دھانے پر : محمد قیصر چوہان

پانی اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔پانی کے بغیر انسانی زندگی کیا کسی بھی حیوانی حیات کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ پانی ہماری زندگی کیلئے سب سے اہم اور ناگزیر ضرورت ہے۔پانی انسانی زندگی کا نہایت اہم غذائی جزو ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ پانی ہی زندگی ہے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ اب تک دریافت شدہ کروڑوں سیاروں اور ستاروں میں سے ہماری زمین ہی وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی پوری آب تاب کے ساتھ رواں دواں ہے اور اس کی واحد وجہ یہاں پر پانی کا ہونا ہے۔ہماری زمین کا 72 فیصد حصہ پانی اور صرف 28 فیصد خشکی پر مشتمل ہے تقریباً یہی حال ہمارے جسم کا بھی ہے ہمارا دو تہائی جسم پانی ہی پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھی پانی کی نعمت سے نوازا ہے مگر ہم لوگ اتنے نا شکرے ہیں کہ خدا کی طرف سے اس نعمت کا خیال نہیں رکھتے۔ پاک سر زمین پرسمندر ، دریا، نہریں اور کئی جھیلیں ہیں جن سے صدیوں سے یہاں کے بسنے والے لوگ فائدہ اٹھاتے آئے ہیں ۔ ایشیاء میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل پاکستان کے صوبے سندھ میں واقع ہے جس کو منچھر جھیل کہتے ہیں ۔اس جھیل کو زہریلے پانی نے تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے اور حکمران خاموش تماشائی کی طرح اس کی بربادی دیکھ رہے ہیں۔ اس کی تباہی میں سب سے بڑا ہاتھ ان کارخانے داروں کا ہے جو کارخانوں سے نکلنے والے زہر کو نہروں میں بہا دیتے ہیں اور یہ زہر چلتے چلتے اس جھیل تک پہنچ جاتا ہے اور اس میں رہنے والی آبی مخلوق موت کا شکار ہو جاتی ہے۔
منچھر جھیل کو ترقی دے کر پرکشش تفریحی مقام کی حیثیت دینے اور اس سے زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کرنے کے انتظامات کرنے کے بجائے گزشتہ چند عشروں میں اسے تباہ و برباد کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں ماہی گیر خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور اردگرد کے علاقوں کی ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی ناقابل کاشت ہو گئی اور لوگوں کو مختلف نوعیت کی بیماریاں لاحق ہونے لگیں اور تباہی کا دائرہ پھیلتا چلا گیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ازخود نوٹس لے کر جھیل کی بحالی اور علاقے میں پینے کے میٹھے پانی کی فراہمی کے لیے واپڈا اور حکومت سندھ کو احکامات صادر کئے جنہیں اب بھی مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور جھیل کی مستقل بحالی کے کلیدی منصوبے آر بی او ڈی کی تعمیر پر بھی کئی سال سے کام بند ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت نے کرپشن سے شدید آلودہ اس منصوبے کو دفن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوا تو تحصیل سیہون ہی نہیں حیدرآباد اور کراچی تک کروڑوں کی آبادی پر بھی اس کے شدید مضر اثرات مرتب ہوں گے جن کا انحصار دریائے سندھ کے پانی پر ہے۔
منچھر جھیل پاکستان میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ یہ دریائے سندھ کے مغرب میں واقع ضلع دادو، سندھ میں بہتی ہے۔دُ نیا کی سب سے قدیم منچھر جھیل کراچی سے قریباً 280 کلومیٹرکے فاصلے پر ضلع دادو کے تعلقہ جوھی کھیرتھر پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ یہ جھیل کب وجود میں آئی، اس کے متعلق حتمی طور پر کوئی کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ جھیل موہن جودڑو اور ہڑپہ کی تہذیبوں سے بھی قدیم ہے، یعنی یہ قدیم ترین پتھر کے دور سے اسی جگہ پر موجود ہے۔ منچھر جھیل دریائے سندھ سے قدرے بلندی پر واقع ہے۔ اس لیے جب دریا میں سیلابی کیفیت ہوتی ہے تو دریا کا زائد پانی حفاظتی پشتے توڑ کر پورے علاقے میں پھیل جاتا ہے ،مگر جب دریا کی سیلابی کیفیت ختم ہو جاتی ہے تو جھیل کا زائد پانی دریائے سندھ میں واپس ہو جاتا ہے اور منچھر جھیل اپنی اصل حالت میں واپس آجاتی ہے۔ اس جھیل کا رقبہ مختلف موسموں میں 350 مربع کلومیٹر سے 520 مربع کلومیٹر تک ہوتا ہے۔ کیر تھر سے بہ کر آنے والے مختلف ندی نالے اس جھیل کے بننے کا سبب بنتے ہیں۔ منچھرجھیل بے شمار پرندوں کا مسکن ہے اور سردیوں میں یہاں سائیبریا سے بھی مہاجر پرندے سردیاں گزارنے آتے ہیں۔ یہاں میٹھے پانی کی مچھلی بھی کافی تعداد میں پائی جاتی ہے۔ تاہم سیم نالے کا کھارا پانی جھیل میں ڈالنے کی وجہ سے یہ آلودگی کا شکار ہے اور یہاں کی جنگلی اور آبی حیات شدید متاثر ہے۔یہ ایک تفریحی مقام بھی ہے اور تعطیلات کے دنوں میں کافی لوگ تفریح کے لیے یہاں آتے ہیں۔موسم سرما میں منچھر جھیل میں پانی کی سطح کافی کم رہتی ہے اور دور دور تک خشک سالی ہوتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میر بحروں کے یہ خاندان مختلف غذائی اجناس کی کاشت کرتے ہیں۔ یہاں غذائی اجناس میں گندم، جوار، جو، سرسوں،کپاس اور چاول وغیرہ شامل ہیں میر بحر حضرات انہیں نہ صرف اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ قریبی منڈیوں میں فروخت کرکے اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں۔
آبی آلودگی کی ایک بین الاقوامی مسئلے کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال سے دنیا میں سالانہ 15 لاکھ سے زائد بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں پاکستان میں بچوں کی 60فیصد اموات آلودہ پانی کے سبب ہوتی ہیں اور پورا سال ہسپتالوں میں جو مریض آتے ہیں ہیں ان میں 20 سے 40 فیصد آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ وزارت ماحولیات کے مطابق اس طرح آلودہ پانی سے لاحق بیماریوں کے علاج سے پاکستانی شہری سالانہ 112 ارب روپے کا مالی بوجھ برداشت کرتے ہیں۔چند برس قبل پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ایک اجلاس میں سیکریٹری ماحولیات نے بتایا تھا کہ پاکستان میں آبی آلودگی کے باعث آبی حیات کی زندگی کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 86 ہزار مقامات پر دریاؤں میں کیمیائی فضلہ شامل ہو رہا ہے۔ اس سے فصلوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے اور خوراک کی اجناس کے ذریعے انسانوں پر بھی اس کے مہلک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے تما دریاؤں اور نہروں میں مختلف کارخانوں اور فیکٹریوں کا زہریلے مادوں سے آلودہ پانی ڈالا جاتا ہے۔ شہروں قصبات میں سیوریج سسٹم کا بھی یہی حال ہے۔ اگر ہم سندھ کی بات کریں توسندھ بھر میں گندہ آلودہ پانی ہی نہروں میں ڈالا جاتا ہے۔ حیدر آباد کی تینوں نہروں میں روزانہ ہزاروں من گندگی ڈالی جاتی ہے اس کا تصور ہی بڑا ہولناک ہے کہ زیریں علاقوں کے لاکھوں شہری اس پانی کو کیونکہ پینے کھانے میں استعمال کرتے ہوں گے۔ کوٹری میں صنعتی علاقوں کا تمام مہلک اور آلودہ پانی برسوں سے کے بی فیڈر میں ڈالا جا رہا ہے جو کہ کینجھرجھیل کے ذ ریعے کراچی کو بھی پانی فراہم کرتی ہے۔
منچھر جھیل کو مختلف ذرائع سے پانی ملتا ہے۔ نیءں گاج سمیت بلوچستان سے آنے والے پہاڑی ندی، نالوں، دریائے سندھ کے بہاؤ اور ایم این وی ڈرین ہے۔ منچھر جھیل کی تباہی کی داستان 1972 میں اس وقت شروع ہوئی جب ایم این وی ڈرین کو گندے اور زہریلے پانی کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا اور بتدریج اس تباہ کن عمل میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس سے منچھر جھیل کی تباہی کا دائرہ بھی بڑھتا چلا گیا۔ دریائے سندھ کے ذریعے منچھر جھیل کو سالانہ ایک لاکھ 40 ہزار کیوسک کے قریب پانی ملتا تھا لیکن اب منچھر جھیل کو صرف 8 ہزار کیوسک تک پانی ملتا ہے۔ اڑل واہ، منچھر جھیل کو سیہون شہر کے ساتھ شمال سے گزرتا ہوا دریائے سندھ سے ملاتا ہے جہاں کا ہیڈ ریگولیٹر ہے اس میں بہاؤ کی گنجائش 4370 کیوسک ہے۔ اس کے ذریعے منچھر کو پانی ملتا ہے لیکن جب دریا میں سطح آب کم ہو تو یہ سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ دریا سے پانی پمپنگ اسٹیشن کے ذریعے لفٹ کرنے کا نظام دیکھ بھال نہ ہونے اور کرپشن کے باعث تباہ ہو گیا۔ اس طرح دریا سے جھیل تک اڑل لکی کینال ہے جس کی گنجائش 7935کیوسک ہے اس کا بنیادی مقصد جھیل سے اضافی پانی دریا میں لانا ہے لیکن مون سون میں اس کے ذریعے جھیل کو پانی فراہم کرنے کا بھی کام لیا جاتا ہے۔ اس کے ہیڈ ریگولیٹر پر 20 فٹ چوڑائی کے 3 حصوں میں لگے ہوئے گیٹ پانی کے دو طرفہ بہاؤ کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس طرح سیلابی نہر دانستر واہ کو بھی 1972 میں بحال کیا گیا تھا جس میں 500 کیوسک پانی کے بہاؤ کی گنجائش ہے۔ اس کی سطح منچھر جھیل کی سب سے نچلی سطح کے برابر ہے اور اس کا ریگولیٹر بھی جھیل میں واقع ہے۔ اس لیے دریائے سندھ سے یہ آسانی سے پانی جھیل تک لا سکتا ہے اور دریا میں پانی کم بھی ہو تو بھی آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرتا ہے۔ اڑل وال کی طرح اس پر بھی جھوٹے پمپنگ اسٹیشن قائم ہیں جو دریا کے کم بہاؤ سے پانی نصف کرنے میں معاونت کرتے ہیں لیکن یہ سسٹم عملاً قابل بھروسہ نہیں۔مین ناراویلی ڈرین شمال میں واقع حمل جھیل سے جنوب کی طرف 111 کلو میٹر کے فاصلے پر منچھر جھیل سے ملتی ہے یہ کبھی دھان کی کاشت کے علاقوں کا سیم کا پانی بارشوں اور اطراف کے میدانی علاقوں کے فاضل پانی کی نکاسی کے بھی کام آتی تھی مگر اب یہ حمل جھیل سے زہر لاتی ہے۔شدید آلودہ جنوبی پنجاب، بلوچستان کا پانی تو ایم این وی ڈرین سے آتا ہی ہے لیکن نارتھ دادو پروجیکٹ کے ضلع دادو کے وگن، خیر پورناتھن شاہ، میہڑ اور گھاڑ کی نالے بھی سیوریج اور ڈرینج کا پانی ڈرین تک لاتے ہیں اور جو بعد میں بوبک سے اوپر منچھر تک پہنچتا ہے۔منچھر جھیل نے اپنا زہر دور دور تک پھیلایا لیکن جہاں واپڈا سندھ حکومت دیگر سرکاری ادارے اس زہر پھیلانے کے ذمہ دار ہیں وہیں خود ماہی گیروں، مچھلی کے ٹھیکیداروں اور اس سے مالی مفادات حاصل کرنے والے علاقے کے بااثر افراد نے بھی اپنے آپ اور علاقے کے لوگوں سے دشمنی کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ زیادہ سے زیادہ مچھلی پکڑنے کے لیے مخصوص کیمیکل کا استعمال بڑھایا جاتا رہا۔ اس سے بھی زہریلے مادوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ باریک جال سے چھوٹی مچھلیاں بھی پکڑی جانے لگیں جو فارمی مرغی کا فیڈ تیار کرنے والے کارخانوں کو فروخت کی جاتی ہیں۔ ان تمام مجرمانہ سرگرمیوں سے پورے علاقے کی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں ماہی گیر روزگار سے محروم ہو کر دربدر ہو گئے جبکہ علاقے میں ہزاروں ایکڑز زمینیں بھی سیم تھور اور زہر کا شکار ہو گئیں۔ آلودہ پانی سے پیٹ، آنتوں، جلد اور آنکھوں کی بیماریاں بڑھنا شروع ہو گئیں اور میٹھا پانی حاصل کرنا مشکل ہو گیا۔
ایک وقت تھا کہ منچھر جھیل میں سو سے زائد ا قسام کی مچھلیاں رہتی تھیں زہریلے پانی کی وجہ سے اب تین درجن اقسام تک رہ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ باہر سے آنے والے پرندوں نے بھی یہاں آنا کم کر دیا ہے کیونکہ ان کو ملنے والی خوراک مچھلی اور دوسرے آبی گھاس پھوس بھی ختم ہو گئے ہیں۔ اس سے وہاں پر رہنے والے مچھیروں کی مالی حالت اس حد تک گر چکی ہے کہ وہ فاقے کاٹ رہے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس جھیل کے چاروں طرف 2 لاکھ سے زیادہ لوگ رہتے تھے جس میں سے 80 فیصد یہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں اور انہوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دوسرے علاقوں میں ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ کیونکہ ان مچھیروں کا زیادہ تر کمانے کا ذریعہ مچھلیاں تھیں اور اس کے علاوہ یہ لوگ کھیتی باڑی بھی کرتے تھے مگر اس آلودہ پانی کی وجہ سے ان کی زمینیں بھی بنجر ہو گئی ہیں اب تقریباً 30 ہزار کے لگ بھگ لوگ رہتے ہوں گے جن کی حالت بڑی خستہ ہے کیونکہ وہ مچھلی پکڑتے ہیں انہیں ایجنٹ کم قیمت میں خریدتا ہے اور خود بازار میں چار گنا زیادہ ریٹ پر بیچتا ہے۔ ان مچھیروں کے پاس ایک تو کوئی سوراری نہیں ہے کہ وہ اپنی مچھلیاں خود جا کر مارکیٹ میں دے آئیں، دوسرا یہ کہ منچھر سے دادو اور سیہون جانے والا راستہ کافی لمبا ہو جاتا ہے اور ڈیزل کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ پہلے سائبیریا سے جو پرندے آتے تھے انہیں بیچ کر بھی کچھ گزارہ ہو جاتا تھا مگر اب تو وہ بھی کم آتے ہیں اور اس کے علاوہ آس پاس کے زمینداروں نے سردی کے موسم میں پرندوں کی وجہ سے مچھلیوں کے شکار پر بھی پابندی لگا دی ہے اور ان کے لوگ ہتھیار لے کر پہرہ دیتے ہیں اور اگر مچھیروں میں سے کوئی غلطی سے کچھ کر بیٹھے تو اسے کڑی سزا ملتی ہے۔ اس لیے اب اس موسم میں وہ بھوکے مرتے ہیں۔مچھیرے جن کے مستقل گھر ان کی کشتیاں ہوتی ہیں اور وہ وہاں پر ہی کھانا پکاتے ہیں، کپڑے دھوتے ہیں، سوتے ہیں اور مچھلی کا شکار کرتے ہیں ان میں سے بہت ساروں نے جھیل کے کنارے پر اپنے گھر جھونپڑیوں کی طرح بنائے ہیں۔ مگر ان کی زندگی میں میٹھے پانی کا ہونا ایک بڑا خواب ہے حالانکہ سپریم کورٹ کے حکم پر 10 فلٹر پلانٹ لگا کر دیے گئے تھے اور وہ بھی اب خراب حالت میں پڑے ہیں۔ جھیل کا زہریلا پانی پینے سے مچھیرے اور ان کے بچے پیٹ کی بیماریوں سے جکڑے ہوئے ہیں۔ ایک تو ان کے پاس پیسہ نہیں ہے اور دوسرا ڈاکٹر دور ہیں اور دوائیاں خریدنا ان کے لیے بہت دشوار ہے۔ اس لیے وہ ٹھیکیداروں سے ادھار لیتے ہیں جو پورا سال اس قرض کو ادا کرنے میں گزر جاتا ہے۔
منچھر جھیل کو سیاحت کا مرکز بنا یا جاسکتا ہے۔منچھر جھیل میں مختلف ڈیزائنوں کی کشتیاں دیکھنے کو ملتی ہیں، ان میں کچھ تو صرف رہائش کی غرض سے بنائی جاتی ہیں،جن میں سوائے فرنیچر کے گھر کا پورا سامان موجود ہوتا ہے۔ اسے تین اطراف سے کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے، جب کہ ایک سائیڈ ہمیشہ کھلی رہتی ہے۔یہ مکان نما کشتی لکڑی کے تختوں اور چٹائیوں سے بنائی جاتی ہیں، ایسی کشتیوں کو ’’ڈونڈھی‘‘ کہتے ہیں۔ زیادہ بڑی کشتی کو ’’لانگ بیڑی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کشتیاں عام طورپر 30سے 60فیٹ چوڑی ہوتی ہیں۔ڈونڈھی کے ہر حصے کا الگ نام ہوتا ہے۔ اس کے آگے والا حصہ ،جوکہ پچھلے حصے کی نسبت زیادہ ابھرا ہوا ہوتا اور اندر سے خالی ہوتا ہے اس کو ’’آگل‘‘ کہتے ہیں،یہ حصہ اسٹور کے طورپر استعمال ہوتا ہے۔ بوقت ضرورت یہاں پر مچھلیاں بھی رکھی جاتی ہیں، پچھلے حصے کو ’’پاچھل‘‘ کہتے ہیں، یہ بھی اندر سے خالی ہوتا ہے، جہاں پر لکڑی ، ٹن کے ڈبے اور بستر وغیرہ رکھے جاتے ہیں۔اس حصے میں برتن وغیرہ بھی رکھے جاتے ہیں ،جس سے گھر والوں کی معاشی حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔کشتی کے بیچ میں کیبن ہوتا ہے اور اس کی چھت پر جلانے کی لکڑیاں ااور دوسرا سامان رکھا جاتا ہے۔ کشتی کا پچھلا حصہ پانی کی سطح سے کچھ اوپر ہوتا ہے ،تاکہ لہروں سے بچا جاسکے ،جو تیز ہوا ؤں سے پیدا ہوتی ہیں۔چھوٹی کشتیاں مچھلیاں شکار کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، وہ کھلی ہوئی ہوتی ہیں، ان کو ’’بتیلو، ہوڑو، گالیو اور کاتر‘‘ کہا جاتا ہے۔ منچھرجھیل میں چلنے والی تمام کشتیاں نیچے سے سیدھی ہوتی ہیں سوائے کاتر کے، جو دوسری کشتیوں کے مقابلے میں تیز چلتی ہے۔ ان کشتیوں میں زیادہ سے زیادہ چار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ ان کا اگلا یا پچھلا حصہ تھوڑا بہت خالی ہوتا ہے، جہاں شکار کی ہوئی مچھلیاں اور جال وغیرہ رکھے جاتے ہیں۔چھوٹی کشتی ایک ٹن وزن برداشت کرنے کی سکت رکھتی ہے،جب کہ بڑی کشتی زیادہ سے زیادہ ڈھائی ٹن وزن اٹھاسکتی ہے۔ ان کشتیوں کے علاوہ بڑے سائز کی مسافر بردار کشتیاں بھی ہوتی ہیں ، جو مسافروں کے ساتھ مال مویشی بھی لانے لے جانے کے کام آتی ہیں۔ ایسی کشتیاں بوبک اور شاہ حسن کے درمیان چلتی ہیں۔ شاہ حسن گاؤں منچھر جھیل کے بالکل اوپر ہے اور تعلقہ سیوہن گاؤں بوبک سے 10سے 12میل کے فاصلے پر ہے۔ایک عام ڈونڈھی سے جھیل کو پار کرنے میں تقریباً 4گھنٹے لگتے ہیں۔تبیلو ، گوڑو، گالیو، کاتریا چھوٹی ڈونڈھی سو روپے فی دن کرایہ پر شکار کے لیے لی جاسکتی ہے۔ کرایہ کی کشتی کے ساتھ دو مہانے بھی ہوتے ہیں۔رہنے اور شکار کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں کے علاوہ کچھ ایسی کشتیاں بھی ہوتی ہیں ،جوبہ طور دْکانیں کام آتی ہیں، یہ پانی میں تیرتی رہتی ہیں ہیں ،جن میں روز مرہ استعمال کی اشیا جیسے کپڑے، غسل خانے کا سامان، بچوں کے کھلونے، ٹافیاں، چاکلیٹ بسکٹ اور تاش وغیرہ فروخت کے لیے رکھے جاتے ہیں۔مقامی مہانے بہت اچھی کشتیاں بناتے ہیں، یہ لوگ دانستر کینال کے کنارے پر رہتے ہیں۔ تقریباً ہر کشتی پر اندر اور باہر ڈیزائن بنے ہوتے ہیں ،جن میں پھول، پودے، پرندے اور مچھلیوں کی تصویریں ہوتی ہیں۔ پھول ، پودوں کے ڈیزائن عام ہیں ،جب کہ مچھلی اور مور کے ڈیزائن مشکل ہونے کی وجہ سے کم دیکھنے میں آتے ہیں۔
منچھر جھیل کی خوبصورتی کی وجہ سے کئی ملکی اور غیر ملکی سیاح یہاں پر گھومنے آتے تھے اور فریش واٹر کی مچھلی کھا کر، کشتیوں میں سیر کر کے اور مچھیروں کی زندگی کا ڈھنگ دیکھ کر خوش ہوتے تھے جس سے وہاں پر مچھیروں کو بھی کچھ آمدنی ہوتی تھی جو اب بند ہو چکی ہے۔ ایک تو امن و امان کا مسئلہ اور دوسرا جھیل کی زندگی میں تباہی کا منظر نظر آنے لگا ہے۔ اس جھیل سے پاکستان کی معیشت بھی جڑی ہوئی ہے کیونکہ یہ پاکستان کا حصہ ہے جس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ایشیا کی سب سے بڑی فریش واٹر جھیل ہے۔ یہاں پر تو بااثر لوگ صرف اپنے مزے کیلئے پرندوں کا شکار کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس عمل کے ساتھ وہ کئی غریب فیملیز کی معیشت کا بھی شکار کرتے ہیں جس سے بڑے، بوڑھے اور عورتیں غربت کا شکار ہوتے ہیں جبکہ ہماری قدرت کی طرف سے دی گئی نعمت منچھر کے شکل میں تباہ ہو رہی ہے وہاں پر پلنے والے آبی مخلوق جس میں مچھلی، پرندے اور ان کی خوراک بھی ختم ہو رہی ہے جو ہمارا قومی نقصان ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں پر رہنے والے انسانوں کے لیے نہ تو کوئی صحیح تعلیم، صحت، راستوں اور پینے کے پانی کی سہولت ہے جو 21 ویں صدی کا المیہ ہے۔ یہ لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ منچھر جھیل جیسی نعمت ان کے پاس ہے جو اب آہستہ آہستہ خاتمے کی طرف جا رہی ہے۔
لوگ اب بھی کنویں کا آلودہ پانی پی رہے ہیں، سیاح روٹھ گئے ہیں، مچھلیاں، پرندے اور دوسرے آبی مخلوق آہستہ آہستہ خدا حافظ کہہ رہی ہیں۔ ادارے جھیل کی تباہی کی ذمے داری ایک دوسرے پر اچھال رہے ہیں، سیاستدان خاموش اور بے خبر ہیں صرف ووٹ لینے کے وقت پر بڑے وعدے اور دعوے کرتے ہیں اور پھر یہ سب کچھ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ اس بے حسی اور نااہلی کی وجہ سے ہزاروں خاندان بھوک، بیماری اور افلاس کا شکار ہو رہے ہیں۔ حکومتیں صرف اپنے اقتدار کو بچانے میں لگی رہتی ہیں، کارخانے دار اپنی مستی میں گم ہیں انہیں انسانوں اور انسانیت سے کیا لینا دینا۔
1932 میں جب انجینئرنگ کا عظیم شاہکار سکھر بیراج تعمیر کیا گیا تو دریا کا تازہ پانی شہباز قلندر کے شہرسیہون کے مغرب میں واقع منچھر جھیل میں لانے کے لیے مین نارا ویلی ڈرین کھو دی گئی تھی۔ ایشیاء کے میٹھے پانی کی اس سب سے بڑی جھیل کے مشرق میں دریائے سندھ بہتا ہے۔ مغرب میں کیرتھر اور جنوب میں لکی پہاڑ واقع ہیں جب بھی سیلابوں اور زیادہ بارشوں سے جھیل میں زیادہ پانی بھرتا ہے تو دو طرف پہاڑوں کی وجہ سے پانی کا بہاؤ مغرب سے شمال کی طرف زیادہ ہوتا ہے جس کو روکنے کے لیے منچھر کنٹیننگ (ایم سی) بند باندھا گیا ہے جو مشرقی سمت زیرو پوائنٹ پر شمال مشرق میں اڑل واہ اور منچھر کے کناروں تک ہے جبکہ شمال مغرب کی طرف ایم این وی ڈرین ہے جس کے آخری پل کے پاس ایف پی بند ملتا ہے۔ ایم سی بند کوئی 20 میل ہے اور یہ محفوظ طورپر 116آر ایل تک پانی کے ذخیرے کو ممکن بنانا ہے۔ اس طرح منچھر جھیل ایک قدرتی ڈیم بھی ہے جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
منچھر جھیل کی بحالی کے لیے یہ اشد ضروری ہے کہ آر بی او ڈی اور دیگر ذرائع سے اس میں آنے والے آلودہ اور زہریلے پانی کو روکا جائے ۔آر بی او ڈی کے منصوبے کی خامیاں اپنی جگہ مگر ماہرین بھی سمجھتے ہیں کہ اس کی تکمیل کے بغیر جھیل بھی بحال نہیں ہو سکتی اور انسانی جانوں، آبی حیات اور ماحولیات کے خطرات بھی بڑھتے چلے جائیں گے۔ مجموعی طور پر اس کے زہریلے پانی کے استعمال سے اب تک سینکڑوں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔آر بی او ڈی اور ایل بی او منصوبوں میں کرپشن کے بارے میں فوج، واپڈا کے ماہرین کی رپورٹ بھی ریکارڈ پر ہے مگر یہ ایک موضوع ہے اگر منصوبے پر دوبارہ کام شروع ہوتا ہے تو کسی مرحلے پر یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ دگنی رقوم خرچ ہونے کے باوجود منصوبہ کیوں مکمل نہیں ہو سکا اور بد عنوانی کی تحقیقات بھی شروع ہو سکتی ہے اس لیے کرپشن میں ملوث با اثر وڈیروں اور افسران نے سیلاب سے آر بی او ڈی نہر کی تباہی پر اطمینان کا سانس لیا تھا جس طرح سیلاب کے وقت کسی ایک مقام پر دریا میں کروڑوں کا پتھر ڈالے جانے اور اس کے بہہ جانے کا دعویٰ کر کے جعلی بل وصول کر لیے جاتے ہیں اسی طرح آر بی او ڈی نہر کا سیلابی ریلوں میں بہہ جانا بھی کرپشن کو چھپانے کا سبب بنا۔اگر یہ منصوبہ مکمل نہ ہوا تو دریا ئے سندھ کے دائیں کنارے کے اضلاع میں خصوصاً تباہی کا دائرہ بھی وسیع ہوتا جائے گا۔ منچھر جھیل اور کینھجر جھیل کا ٹھٹھہ بھی مزید زہر سے بھر جائیں گی اور حیدرآباد سے کراچی تک کئی اضلاع کی کروڑوں کی آبادی، لاکھوں مویشی، آبی حیات، چرند پرند فصلیں سب کے لیے خطرہ بڑھتا چلا جائے گا اور مجموعی طور پر ماحولیات پر نہایت مہلک مضر اثرات مرتب ہوں گے جس سے صوبے کی اور قومی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو گی۔ اس لیے وفاقی حکومت، سندھ حکومت، وزارت پانی و بجلی، محکمہ آبپاشی سب کو سنجیدگی سے اس منصوبے کی بحالی اور تکمیل کیلئے نہ صرف اقدامات اٹھانے چاہئیں بلکہ کرپشن کی غیر جانبدارانہ شفاف تحقیقات کرا کے ملوث افراد کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ہمیں جو بیش بہاخزانے عطا فرمائے ہیں ہم نہ صرف انہیں ضائع کر رہے ہیں بلکہ ان کو تباہ کر کے اپنے اور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے بربادی کا سامان کر رہے ہیں۔

qaiserchohan81@gmail.com