Voice of Asia News

سپریم کورٹ ،ْذلفی بخاری دہری شہریت کیس میں وزیراعظم کو بھی نوٹس جاری

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) سپریم کورٹ نے ذلفی بخاری کی دٴْہری شہریت کے کیس میں وزیراعظم عمران خان کو بھی نوٹس جاری کردیا۔ پیر کو سپریم کورٹمیں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں وزیراعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانی ذلفی بخاری کی دہری شہریت پر نااہلی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔سماعت کے آغاز میں وکیل درخواست گزار ظفر اقبال نے مؤقف اپنایا کہ خصوصی معاون کا کوئی عہدہ ہی نہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خصوصی معاون کا عہدہ کیسے وفاقی وزیر یا وزیرمملکت کے زمرے میں آتا ہی آپ کہتے ہیں کہ ذلفی بخاری دہری شہریت رکھتا ہے، دہری شہریت والا رکن پارلیمنٹ نہیں بن سکتا اس لیے وزیر بھی نہیں بن سکتا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ مشیروں کے عہدے اس لیے بنائے گئے کہ جو لوگ رکن پارلیمنٹرین نہیں بن سکتے وہ مشیر لگ سکیں، آئین کے مطابق دہری شہریت والا وزیر نہیں لگ سکتا، سوال یہ ہے کہ کیا معاون خصوصی بھی نہیں لگ سکتا ۔سماعت کے دور ان چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم نے زلفی بخاری کو معاون خصوصی مقرر کیا میرے خیال سے آپ آرٹیکل 62 ون سی کے تحت درخواست لے کر آئے ہیں جس پر وکیل نے کہا کہ جو کام بالواسطہ نہیں ہوسکتا وہ بلاواسطہ بھی نہیں ہوسکتا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا مشیر کا عہدہ صرف اس لیے ہے کہ جو منتخب ہونے کے اہل نہیں انہیں یہ عہدہ دے دیا جائے، جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس طرح تو جہانگیر ترین کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ زلفی بخاری کے خلاف کوئی عدالتی فیصلہ موجود نہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مشیر کیلئے آئین میں کوئی اہلیت نہیں دی گئی۔چیف جسٹس پاکستان نے ذلفی بخاری کے وکیل سے کہا کہ آپ پہلے ہائی کورٹ جاسکتے ہیں۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے جس میں وزیراعظم عمران خان ذلفی بخاری اور وفاق شامل ہیں، وزیراعظم کو تقرری کی مجاز اتھارٹی کے طور پر نوٹس جاری کیا گیا۔عدالت نے کیس کی مزیدسماعت جمعہ تک ملتوی کردی جو لاہور رجسٹری میں ہوگی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے