Voice of Asia News

بھارت نے نہتے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے، اشرف صحرائی

سرینگر( وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریتجموں کشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ وادی میں جاری مظالم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں افسوس ظاہر کیاکہ وارہ پاؤ آلسٹینگ میں بھارتی فورسز نے کشمیری عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔جوانوں اور بزرگوں کو کیمپوں اور انٹروگیشن سینٹروں میں بلاکر ذہنی اور جسمانی تشددکا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ انہوں نے بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف عوامی احتجاج کو برحق قراردیتے ہوئے کہاکہ ستم ظریقی یہ ہے کہ کشمیری قوم کو اپنی مظلومیت پر آہ وفغاں کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے، بلکہ عوامی احتجاج کو دبا نے کیلئے کشمیریوں کے دلوں میں خوف ودہشت کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب ظلم وجبر حد سے بڑھ جاتا ہے تو ظالم اور ظلم کا زوال شروع ہوتا ہے اور ظلم کی مدّت ختم ہوکر مظلوم کو انصاف ملتا ہے۔اشرف صحرائی نے کہا کہ جموں کشمیر کی سرزمین اس وقت ظلم وجبر کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے اور ہر سو مظالم کا دور دورہ ہے۔انہوںنے کہاکہ شہداء کے ہزاروں مزاروں کی موجودگی ، زخمی، اربوں روپے مالیت کی املاک کی تباہی ، ہزاروں جوانوں، بزرگوں اور بیماروں کو جیلوں میںنظر بند کرنے، ظلم و تشدد کا نشانہ بنانا اس بات کے گواہ ہیں کہ جموں وکشمیر کے عوام کن کن مصائب سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا گو کہ پورے مقبوضہ علاقے میں قابض بھارتی فورسز نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہیں لیکن پلوامہ، شوپیان، کولگام، اسلام آباد، ترال، بڈگام، چاڈورہ اور حاجن میں جبر و استبداد کی انتہا کر دی گئی ہے۔ محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ بھارت کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ بے انتہا چیرہ دستیوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبا سکے گا لہذا اسے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنازع کشمیر کے حل کیلئے منصفانہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔محمداشرف صحرائی نے طلباء کو ہراساں کرنے اور بے بنیاد مقدمات میں پھنسانے کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کے مستقبل کو جان بوجھ کر تاریک بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کے دو طلباء کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی پر زور دیا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے