Voice of Asia News

منی لانڈرنگ کیس :آصف علی زرداری، فریال تالپور اور دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 10 دسمبر تک کی توسیع

کراچی(وائس آف ایشیا) کراچی کی بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اور نمر مجید سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 10 دسمبر تک کی توسیع کردی ہے. بینکنگ کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی جس میں ملزم انور مجید کے بیٹے، سابق صدر آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک، پی پی پی ایم پی اے کلثوم چانڈیو، رہنما ڈاکٹر راکیش اور صوبائی وزیر ناصر شاہ سمیت دیگر عدالتپہنچے.اس موقع پر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے.عدالت میں ملزمان فریال تالپور، علی مجید، نمر مجید، مصطفی ذوالقرنین و دیگر پیش ہوئے تاہم سابق صدر آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر مقررہ وقت پر عدالتمیں پیش نہیں ہوئے. جیل انتظامیہ کی جانب سے حسین لوائی اور عبدالغنی مجید کو عدالت پہنچایا گیا تھا. آصف علی زرداری کے وکلا کا کہنا تھا کہ سابق صدر راستے میں ہیں اور وہ عدالت آرہے ہیں.وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے عدالت کو تفتیش سے آگاہ کیا گیا. ایف آئی اے کے مطابق کیس میں آصف علی زرداری، فریال تالپوراور دیگر ملزمان ضمانت پر رہا ہیں جبکہ انوار مجید، عبدالغنی مجید، حسین لواہی، طحہ رضا گرفتار ہیں. پیپلز پارٹی کی رہنما اور آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور حاضری لگانے کے بعد واپس روانہ ہوگئیں. بعد ازاں منی لانڈرنگ کیس میں مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دینے سے متعلق معاملے پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مفرور ملزمان کو باقاعدہ اشتہاری قرار دینے کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ ملزمان کے گھروں پر اشتہارات لگادیئے گیے ہیں اور ملزمان کی جائیداد کی معلومات کے لیے متعلقہ کمشنر کو خطوط لکھ دیے گئے ہیں. عدالتنے تفتیشی افسر کو ضابطے کی کارروائی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی اور مفرور ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے. خیال رہے کہ مفرور ملزمان میں نصیر عبداللہ حسین لوتھا، عدنان جاوید اور محمد عمیر سمیت 5 ملزمان شامل ہیں.عدالت نے آصف علی زرداری، فریال تالپور اور نمر مجید سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 10 دسمبر تک کی توسیع کرتے ہوئے منی لانڈرنگ کیس کیسماعت 10 دسمبر تک ملتوی کردی. عدالت کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا کہ بینکنگ کورٹ ٹرائل کورٹہے، انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ کوئی بھی کیس شروع ہو تو وہ ٹرائل کورٹ سے شروع ہو.انہوں نے کہا کہ المیہ یہ کے سپریم کورٹ نے بھی اس کیس سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جی آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے‘ ہر دفعہ ایک نئی تاریخ دے دی جاتی ہے، آج بھی بغیر کیسی کارروائی کے تاریخ دے دی گئی ہے. انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ اس کیس کو دیکھے گی تو جس کا جورڈیکشن ہے اس کا تو کوئی کردار نہیں رہا. بعد ازاں منی لانڈرنگ کیس کے ملزم آصف علی زرداری تاخیر سے بینکنگ کورٹ پہنچے، جہاں جیالوں نے احاطہ عدالت اپنے رہنما کے حق میں نعرے لگائے.آصف علی زرداری بینکنگ کورٹ میں حاضری لگانے کے بعد واپس روانہ ہوگئے.ادھر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پغام میںآصف زارداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے کہا کہ کیا احتساب منتخب سیاستدانوں کا ہی ہونا ہے ؟میرے والد آج بھی عدالت میں پیشی بھگت کر آئے ہیں. انہوں نے کہا کہ میرے والد آج عدالت میں اپنی عبوری ضمانت کیلئے گئے تھے ، کوئی مسئلہ نہیں میرے والد کی زندگی عدالتوں میں گزری ہے،میرے والد تو عدالتوں کا احترام کرتے ہیں.انہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ ہے کہ سابق آمر کہاں ہے،کیوں ابھی تک سابق آمر گالف کورس میں پایا جاتا ہے،کیا احتساب منتخب سیاستدانوں کا ہی ہونا ہے ؟ ادھرمشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سارے بے نامی اکاﺅنٹس کو پیپلزپارٹی سے جوڑنا درست نہیں،بے نامی اکاﺅنٹس جہانگیر ترین کی ایجاد ہیں . مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حکومت کی کوئی کارکردگی اور وژن نہیں ، 2013سے کہا جارہاہے کہ پیپلزپارٹی کی سندھ سے حکومت ختم ہونی والی ہے، حکومت باتیں نہ کرے عملی طور پر کام کرے.انہوں نے کہا کہ سوئس اکاﺅنٹس کے بارے میں پتا نہیں کب سے باتیں ہورہی ہیں،منی لانڈرنگ کے معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے. انہوں نے مزید کہا کہ بے نامی اکاﺅنٹ کو نام جہانگیر ترین نے دیا ہے،خان صاحب اور ان کے حواریوں سے بھی سوال ہونا چاہیے‘وفاق سمجھتا ہے اس طرح سے ہم ڈرا دھمکائیں گے. مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہر قانون میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے،نیب کا قانون کالا قانون ہے کیونکہ اسے آمر نے بنایا تھا.

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے