Voice of Asia News

برطرف جج نے سرکاری سہولیات واپس کرتے ہوئے سرکاری رہائشگاہ خالی کردی

اسلام آباد( وائس آف ایشیا)برطرف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تمام سرکاری سہولیات واپس کرتے ہوئے سرکاری رہائشگاہ خالی کردی۔تفصیلات کے مطابق جسٹس شوکت صدیقی نے جولائی کے آخری ہفتے میں راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ اور اداروں پر الزامات عائد کیے تھے۔جس پرجسٹس شوکت صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں میں انکوائری کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔جسٹس شوکت نے اپنی متنازعہ تقریر میں اداروں پرججوں پر من مانے فیصلوں کے لیے دباؤ ڈالنے اورمن پسند ججز کی مختلف کیسز میں نامزدگی کے لیے بھی دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ مختلف کیسز میں من پسند ججز کی تقرری کے لیے چیف جسٹس پر بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس بیان کو اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے مسترد کر دیا تھا۔جس کے بعد انکو انکے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔اس حوالے سے تازہ ترین خبر کے مطابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے زیر استعمال تمام سرکاری سہولیات واپس کر دی ہیں۔سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سرکاری رہائشگاہ خالی کر دی۔واضح رہے کہ انہوں نے اپنی بحالی کے پیٹیشن بھی دائر کر رکھی تھی۔انہوں نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ چئیرمین سپریم جوڈیشل کونسل میرے خلاف تعصب کا اظہار کر چکے ہیں۔عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے بغیر جج مس کنڈکٹ کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔جج کے مس کنڈکٹ کے مرتکب ہونے کی تعریف آئین سے متصادم ہے۔فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ اسی نوعیت کی آبزرویشن دے چکی ہے۔ تمام کارروائی قانون اور عدالتی فیصلوں کے منافی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کو الزامات کی تحقیقات کرنی چاہیے تھی، کارروائی کا مقصد مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے سے روکنا تھا۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ غیرطریقے سے برطرفی پلان کا حصہ تھی، سپریم جوڈیشل کونسل کی برطرفی کی سفارش میں بدنیتی شامل تھی، درخواست گزار کو اس کے آئینی حق سے محروم رکھا گیا اور آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کے تحت قانونی اور مساوی حق نہیں ملا۔ درخواست میں وفاق اور سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے