Voice of Asia News

سپین میں اقتصادی بحالی کے باوجود باروزگار افراد کی 13.1 فیصد تعداد غربت کا شکار

میڈرڈ ( وائس آف ایشیا) سپین کی اقتصادی بحالی کے باوجود روزگار کے حامل افراد کی 13.1 فیصد تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور ہر چھٹا شخص اس مسئلے کا شکار ہے۔وزارت محنت کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں اقتصادی بحالی کے باوجود ملازمین کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے زندگی گزار رہی ہے، کم آمدنی کے حامل اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر کام کرنے والے ملازمین کو روز مرہ زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔روزگار کے حامل افراد میں سے ہرچھ میں ایک شخص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔سپین یورپی خطے میں یونان اور رومانیہ کے بعد تیسرا بڑا ملک ہے جہاں کام کرنے والوں کی بڑی تعداد غربت کے مسائل کا شکار ہے، 2016 ء کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق سپین میں غربت کے شکار ورکرز کی تعداد کل ملازمین کے 13.1 فیصد کے برابر ہے۔ملک میں بیروزگاری کی شرح 2013ء میں کام کے قابل افراد کے 27 فیصد کے برابر تھی جو رواں سال ستمبر میں کم ہوکر 14.5 فیصد پر آگئی ہے۔ملک میں ملازمین کی 26.9 فیصد تعداد عارضی کنٹریکٹس کی حامل ہے ، عارضی روزگار کی یہ شرح یورپ بھر میں سب سے زیادہ ہے۔بینک آف سپین کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں پارٹ ٹائم کام کرنے والے افراد کی تعداد کام کے قابل کل افراد کے 8 فیصد کے برابر ہے جو کہ یورپ کی اس حوالے سے مجموعی شرح 6 فیصد سے زیادہ ہے۔یاد رہے کہ سپین کی معیشت 2009 ء سے 2013 ء کے عرصے میں آنے والے مالی بحران سے متاثر ہوئی تاہم 2014 ء میں یہ بحال ہونا شروع ہوگئی۔اس کی اقتصادی شرح نمو 3 فیصد سے زیادہ ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے