Voice of Asia News

پاکستان میں خواتین کا معاشی استحصال:: محمد قیصر چوہان

جب خالق کائنات نے حضرت آدم کو جنت ارضی پر اپنا نائب بنا کر بھیجا تو دُنیا کی رونق میں کچھ کمی سی تھی۔ ہر منظر کچھ پھیکا پھیکا سا تھا، سنسان جزیروں اور ویران جنگلوں میں بہار پیدا کرنے کیلئے وجودِ زن کی ضرورت محسوس کی گئی اور پھر وجودِ زن کو کائنات کا حسن بنا کر اِس کے ذرّے ذرّے کو رشک فردوس بنا دیا۔ عورت اپنے ہر روپ میں کائنات کا حسن ہے۔ ایک پیکر وفا اور کائنات کی لطیف ترین ہستی ہے۔ حجاب آلود تبسم،پُر خلوص، ہمدرد اور غمگسار ساتھی ہے۔ عورت کے ہاتھوں میں اُمید ہوتی ہے۔ ایک بیل ہے جو خشک درخت سے لپٹ کر اسے تازگی اور زیست بخشتی ہے۔عورت ہی وہ گل ہے جس سے زندگی صد رشک گلستان ہے۔ وہ پاکیزہ ہستی ہے جو اپنی ذات، اپنی بے لوث حقیقی لگن اور سچی محبت سے گھر کو بہشت بناتی ہے۔ عورت کی تعریف صرف انہی الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عورت تو وہ پاکیزہ ہستی ہے جو ہر رشتے کو مکمل اور خوبصورت بنا دیتی ہے۔ لیکن کیا عورت کی کہانی اس تمام تعریف کے بعد ختم ہوجاتی ہے ؟نہیں! بلکہ عورت جیسی معتبر ذات تو ہمارے معاشرے کیلئے معمہ بن گئی ہے۔ کہیں پہ عورت مظلومیت کی تصویر بنی ہوئی ہے تو کہیں ستم و زیادتی میں ظالم کا کردار نبھاتی ہے۔ کہیں پہ عورت سلیقہ شعار اور وفا کا پیکر ہے تو کہیں پہ بے وفائی کی مثال بنی ہوئی ہے۔ کہیں پہ عورت محبت اور ہمدردی کے جذبات کا مجسمہ بنی ہے تو کہیں حسد،نفرت وغصّے کی آگ میں جھلس رہی ہے۔ کہیں عورت ذات رشتوں کی پاسداری اور نباہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتی تو کہیں پہ یہی عورت بسے بسائے گھروں اور رشتوں میں دراڑ ڈالتی ہے۔ کہیں پہ عورت کا سراپا نزول رحمت کا موجب ہے تو کہیں پہ یہی وجودِ زن زحمت ہے۔ عورت کی ذات کے یہی دو مختلف پہلو نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اگرعورت کی تصویر میں مظلومیت کا رْخ دیکھا جائے تو خواتین کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک میں مرد و عورت دونوں کا ہاتھ ہے۔ اگرعورت ایک ماں ہے تواس کی کمزوری (اُولاد)کا ناجائز فائدہ اٹھا کر معاشرہ اس کے ساتھ ایسا جاہلانہ رویہ اپناتا ہے جیسے زمانہ عرب میں ظہور اسلام سے پہلے عورتوں کے ساتھ برتاؤکیا جاتا تھا۔ اگر عورت بیوی ہے تو شوہر اس پر دھونس جماکر ہر جائز و نا جائز مطالبہ منواتا ہے جیسے وہ اسکی وراثتی ملکیت ہو۔ اگر بیٹی ہے تو جائیدادو برادری کے مسائل اور انا کی خاطر بیٹیوں کی قربانی کا رواج قائم ہو چکا ہے۔ بعض قبائلی اور دیہاتی علاقوں میں مردوں کے کردہ گناہوں کی سزا گھر کی عورتوں کو ونی ہونے کی صورت میں بھگتنی پڑتی ہے جس میں عمر کی کوئی قید نہیں۔ اگر عورت بہن ہے تو بھائی کی غیرت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ الغرض ہر حال میں عورت کو ہی قربانی کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔
اگر معاشرے میں عورت کی اور بھی بھیانک تصویر دیکھی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اگر مرد عورت پر اپنے ظلم و ستم کی انتہا کرتا ہے تو دوسری طرف عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ جس کی عام مثالیں ہمارے معاشرے میں ملتی ہیں۔ کسی لڑکی کا رشتہ دیکھنے کی بات ہو تو لڑکی کے نین نقش، شکل و صورت،رنگت،قد و جسامت،حسن و آ رائش، لباس اور بول چال سے لے کراس کی تعلیم و تربیت اور نوکری کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے اور انہی چند لمحات میں لڑکی کے کردار اور اس کے پورے خاندان کے بارے میں بغیر کچھ جانے مستقل رائے قائم کرلی جاتی ہے گویا رشتہ نہیں فرشتہ دیکھنے آئے ہوں۔ لڑکی میں تمام تر خوبیاں ہونے کے باوجود اس میں عیب نکالنا اور بار بار ماڈل پیس کے طور پر پیش کرنا ایسی روایت بن چکا ہے کہ جیسے اس لڑکی کے سینے میں دل نام کی کوئی شے ہی نہ ہو۔لڑکی کارشتہ ابھی تک کیوں نہیں ہوا؟ اتنی عمر ہوگئی ہے۔ داماد کی آمدن بہت کم ہے۔ دلہن کی عمر دولہے سے زیادہ لگتی ہے۔ ارے ! بیوی تو اس کے آگے امّاں لگتی ہے۔ جہیزمیں کیالائی؟ کچھ خاص شکل و صورت نہیں ہے لڑکی کی۔ شادی میں کھانا عمدہ نہیں تھا۔ ارے ! لڑکی والوں نے تو لڑکی کے سسرال کا بھی لحاظ نہیں کیا اور مینو میں ڈشز اتنی کم رکھی ہیں۔ دلہن کی بہنوں کے چال چلن ٹھیک معلوم نہیں ہوتے یعنی اچھے کردار کی نہیں لگتیں یہ ایسی ہیں تو دلہن کیسی ہوگی۔ لڑکی کی نوکری سرکاری ہے یا پرائیویٹ؟ کتنی تنخواہ لیتی ہے؟ یہاں شادی کو ایک سال مکمل ہوتا ہے کہ بہو کو طعنے دیے جانے لگتے ہیں۔ ارے ! کہیں بانجھ تو نہیں۔ اتنا عرصہ ہوگیا شادی کو ابھی تک اولاد کی خوشخبری نہیں ملی۔ بیٹی پیدا ہوجائے تو بہو سے ناراضگی، سخت رویہ اور اگر بیٹیاں ہی ہوں تو ماں کو ہی منحوس کہا جاتا ہے۔ گویا بیٹیاں رحمت نہیں زحمت ہیں اور بیچاری لڑکی ساری زندگی سسرال شوہر اور دنیا والوں سے بیٹیاں جننے کے طعنے سنتی ہے۔ اس قسم کے جملے اورچبھتے الفاظ ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں۔ ہر فرد کی زبان سے یہ کلمات ایسے نکلتے ہیں جیسے یہ کوئی مذہبی فریضہ ہو اور اس میں ثواب کمانے میں سب پیش پیش رہتے ہیں۔ عورت کا ذرا سا بناؤ سنگھار اور خود مختار ہونا فوراً اسے معاشرے کی نظر میں مشکوک کردار ثابت کر دیتا ہے۔
عورت کی ذات کا دوسرا پہلو اس کے بالکل بر عکس ہے۔ جس میں عورت بچپن سے لے کر جوانی تک شرم و حیا کا پیکر بنی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کیلئے جیتی ہے۔ گھر کی زینت اور رونق کا سر و سامان اسی کے دم سے ہوتا ہے لیکن اپنے والدین ہی کی خاطر اپنے پیار ے بچپن کے ساتھی، گھر،اپنے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی محبت سے دور اپنا ایک الگ گھر بسا لیتی ہے۔ جہاں اسے ساری زندگی بسر کرنا ہوتی ہے۔ وہ اپنے شوہر سے آخری سانس تک محبت اور وفا نبھاتی ہے۔ سسرال کی خدمت کرتی ہے رشتوں کی بقا ء کیلئے ہر طرح کی قربانی دیتی ہے، اولاد کے سکھ کیلئے ہر طرح کی تکلیف سہتی ہے۔ جوانی سے بڑ ھاپے تک اپنے شوہر اور اولاد کے لیے جینے والی اگر یہ عورت اپنے آپ پر ایک نظر دوڑائے تو اسے معلوم ہو کہ اس کا وجود اس کائنات کیلئے کس قدر اہم اور ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہر رشتہ ادھورا اور بے معنی ہے۔
بے علمی، خوف، مصلحت، منافقت، مفادات، خوشامد انسانی غلامی کی زنجیر کی مضبوط کڑیاں ہیں جس میں انسان بری طرح جکڑا ہوا ہے ۔جدید دور کا انسان پستی اور تباہی کی اس انتہا کو پہنچ چکا ہے کہ سچ سننے کا حوصلہ بھی کھو چکا ہے بلکہ اس کی بلاوجہ مخالفت کو فرض عین سمجھ بیٹھا ہے۔ کڑوے سچ کی جگہ میٹھا جھوٹ اس کی مرغوب غذا بن چکی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر سماج میں جہاں خاندانی نظام، سماجی اقدار، رسم و روایات، مذہب کی غلط تشریح و ترویج، بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی، پولیس، تھانے اور نظام انصاف، سب مل کر دباؤکی شدت کو بڑھا دیتے ہیں۔ عورتوں کے پاس متبادل راستے نہیں۔ پاکستان میں عورتوں کے خودکشی کے رجحانات میں تیزی آرہی ہے جس کے اہم اسباب میں نفسیاتی، جنسی و جسمانی تشدد، غربت، تحقیر و تذلیل، عصمت دری کے ہونے یا اس کا خوف سرفہرست ہیں۔اسی طرح معاشی اور اقتصادی استحصال بھی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ملنا، اپنی کمائی یا آمدنی پر اپنا اختیار نہ ہونا، زمین و جائیداد سے محرومی، معاشی و اقتصادی استحصال کہلاتا ہے۔ طبقاتی نظام زندگی نے یوں تو انسانی آبادی کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا مگر عورتوں کی زبوں حالی زیادہ ہے۔ کم و بیش ہر اس طبقے میں عورت کا معاشی استحصال ہوتا ہے جہاں عورتیں مکمل طور پر مردوں پر انحصار کرتی ہیں۔پاکستان میں خواتین کو کاروکاری ،سورایا ونی ،سام، قرآن سے شادی ،پیر کی اُونٹنی سمیت دیگر فضول رسومات کے نام پر زلیل ورسوا کیا جاتا ہے۔
کاروکاری
کاروکاری سندھی زبان میں کالے اور کالی کو کہتے ہیں، یعنی سیاہ کار۔ یہ غیرت اور عزت کے نام پر قتل ہوتا ہے۔ کاروکاری پاکستان اور خاص کر سندھ میں عورتوں کے قتل کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس کی وجہ سے ہر سال عورتوں کے قتل میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عورتوں کا اغواء، ان پر مجرمانہ حملے اور اجتماعی زیادتی کے واقعات بھی بڑھتے جارہے ہیں۔کاروکاری کی رسم ہزاروں سال پْرانی ہے۔ اس میں عزت کے نام پر اپنی ماں، بیٹی، بیوی اور بہن کو قتل کرنا اعزاز اور قابل فخر سمجھا جاتا ہے۔ قبائلی اور جاگیردارانہ معاشرت میں عورت کی حیثیت بھیڑ، بکری، گائے اور بھینس سے زیادہ نہیں ہوتی اور عورتوں کو مال و اسباب ہی سمجھا جاتا ہے، آپ کہیں گے کہ دنیا نے ترقی کرلی ہے، اب تو عقل و شعور کی دولت سے انسان مالا مال ہے تو یہ آپ کی خوش فہمی ہے، حالات اب بھی نہیں بدلے اور خاص طور پر پاک سرزمین پر۔ کاروکاری کے نام پر ذاتی دشمنی اور انتقام کیلئے قتل عام سی بات ہے۔مرد دشمن کو سزا دینے کیلئے اپنی ماں، بیٹی، بیوی، بھابھی، بھتیجی، بھانجی اور بہن کو کاری یعنی سیاہ کار کہتے ہوئے قتل کرکے پھر اپنے دشمن کو اس سے منسوب کرتے ہوئے اسے سیاہ کار قرار دیتے ہوئے قتل کیا جاتا ہے۔ کاروکاری کے نام پر قتل قابل فخر سمجھا جاتا ہے۔ ایسے قبیح جرم کے مرتکب افراد سزا سے بھی بچ جاتے ہیں۔ سندھ کے مختلف گاؤں کے مضافات میں ایسے قبرستان موجود ہیں، جہاں کاری قرار دی جانے والے عورتوں کو کفن اور نمازِ جنازہ پڑھائے بغیر خاموشی سے دفن کردیا جاتا ہے۔ کاروکاری کے تنازعات قبائلی جرگوں میں طے کیے جاتے ہیں۔یہ جرگے صرف بااثر مردوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان میں کوئی خاتون شریک نہیں ہوسکتی۔ اس طرح وہ اپنی صفائی پیش کرنے سے محروم رہتی اور پنچایت کے مرد ارکان کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ ان جرگوں کی ضرورت بھی اس وقت ہوتی ہے جب دو مخالف قبیلے کے لوگ اس کا شکار ہوں بہ صورت دیگر قبیلے کے سردار ہی فیصلہ کرتے ہیں جو دونوں فریقوں سے رقم لینے کے بعد جرگہ منعقد کرتے تھے۔عورتوں کو ان جرگوں کی کارروائی دیکھنے کی بھی ممانعت ہوتی ہے، یوں ہمیشہ مردوں کی بالادستی قائم رہتی تھی۔ زمانہ قدیم کے معاشروں میں تو یہ غیرقانونی معاملات چلتے تھے تاہم جدید معاشروں میں جہاں تحریری آئین موجود ہو، قانون کے ذریعے عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہوں، وہاں عزت کے نام پر قتل سماج کی ساخت و حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ چند سال قبل جب بلوچستان کے علاقے نصیر آباد کے ایک گاؤں سے تین لڑکیوں کے قتل اور انھیں زندہ دفن کرنے کے واقعات ذرایع ابلاغ پر بحث کا موضوع بنے تو وزیراعلٰی بلوچستان ثناء اللہ زہری نے کاروکاری کی رسم کو درست قرار دیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کاروکاری کا زہر سماج میں کتنا گہرا اتر چکا ہے ۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت نے ستی کی رسم پر پابندی لگادی تھی۔ ممتاز ہندو راہ نما راجہ رام موہن رائے نے ہندوؤں میں ستی کی رسم کے خلاف مہم چلائی تھی۔ پھر سندھ کے انگریز کمشنرچارلس نیپیئر نے کاروکاری کی رسم کو غیرقانونی اور غیرانسانی قرار دیا تھا۔ انہوں نے اپنے حکم نامے میں لکھا تھا کہ سندھ میں عورتوں کو جس بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے اس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔ چارلس نیپیئر کا کہنا تھا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھیڑ بکریوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انگریز حکمران کے اس فیصلے کے بعد انڈین پینل کوڈ میں عزت کے نام پر قتل کو سزا کا مستحق قرار دیا کیا گیا تھا۔
ونی یاسوارا
پاکستان کے دیہی علاقوں میں اکثر ونی اور سوارا جیسے لفظ سننے کو ملتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ونی اور پختون قبائل میں سوارا کے نام پر جاری یہ قدیم اور افسوس ناک رسم ہے جس میں کسی جرم یا گناہ حتیٰ کہ الزام کی صورت میں جان بخشی کے لیے عورتیں نکاح میں دے دینا ونی یا سوارا کہلاتا ہے۔ خون بہا کے طور پر سرحد میں عورت دینا سوارا اور جنوبی پنجاب میں قتل معاف کرانے کی صورت میں عورت دینا ونی کہلاتا ہے۔ قبیلوں میں رواج رہا ہے کہ قبائلی جھگڑے چکانے کیلئے یا اتحاد قائم کیلئے مویشی، زمین اور عورت استعمال کی جاتی ہے۔ ’’ونی‘‘ کا فیصلہ جس میں کسی تنازعے کے تصفیے میں آدھی یا مطلوبہ زمین یا کھیت یا پھر برادری کی کوئی لڑکی دے دی جاتی ہے۔سخت ترین قوانین جو صرف قانون کی کتب کی زینت ہیں کے باوجود پاکستان میں کئی فرسودہ رسومات آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی وجہ سے لاتعداد خاندان متاثر ہوتے اور ان گنت معصوم انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان رسومات میں ایک رسم ’’سوارا‘‘ہے۔ یہ رسم صوبہ خیبر پختون خوا، جنوبی پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں رائج ہے۔ اس کے تحت کسی تصادم یا خاندانی تنازع کو ختم کرنے کیلئے لڑکیوں یا خواتین کو مخالفین کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اسے ’’ونی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے جب کسی کو خون بہا دینا ہو، کسی کو بدکاری یا بدفعلی کے الزام سے رہائی دلانی ہو یا کسی اور جرم سے فرار اختیار کرنا ہو، تبھی سوارا کی رسم منعقد کی جاتی ہے۔ ہر سال ایسے سیکڑوں واقعات ہوتے ہیں۔قوانین کے ہوتے ہوئے بھی اس رسم کو اب بھی جڑ سے نہیں اکھاڑا جاسکا۔ آج بھی متعدد خواتین یا لڑکیوں کو ’’سوارا‘‘ کے تحت مخالفین کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ذرایع ابلاغ میں اکا دکا واقعات شایع ہوتے رہتے ہیں لیکن اس طرح کے بیش تر واقعات منظر عام پر نہیں آتے۔ یہ واقعات خفیہ طور پر ہوتے ہیں جس سے برادری والے اچھی طرح سے واقف ہوتے ہیں کہ کون سی لڑکی یا خاتون کو سوارا یا ونی کے طور پر جبراً شادی کے پردے میں دشمنوں کے حوالے کیا گیا ہے۔ لیکن وہ اسے منظرعام پر نہیں لاتے، اس طرح یہ عام لوگوں اور قانون کی نگاہوں سے اوجھل ہی رہتے ہیں۔’’سوارا‘‘ کے روپ میں دی جانے والی دلہنوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہ اکثر و بیشتر ایسے مردوں کے حوالے کی جاتی ہیں جو دلہن کے مقابلے میں بہت بڑی عمر کے ہوتے ہیں۔ بسا اوقات تو دلہن کی عمر حوالے کیے جانے والے شخص کی بیٹی کی عمر سے بھی کہیں کم ہوتی ہے۔ سوارا یا ونی کے طور پر آنے والی خواتین، لڑکیوں یا دلہنوں سے ان کے سسرال والے غلاموں جیسا سلوک روا رکھتے ہیں۔یہ لفظ زندگی بھر کی گالی بن جاتا ہے اور ان خواتین کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اس قبیح رسم کی بھینٹ چڑھائی جاتی ہیں۔ سوارا ونی کی گئی خواتین کے کوئی حقوق نہیں ہوتے اس طرح کی رسومات کی شکار خواتین کبھی بھی اپنے والدین اور رشتے داروں سے نہیں مل سکتیں، اس طرح وہ اپنی برادری اور رشتے داروں سے محروم ہوجاتی ہیں۔ اس جرم کو جرم نہیں خاندانی رسم اور اپنا حق سمجھتے ہوئے منعقد کیا جاتا ہے۔ونی اور سوارا کی گئی لڑکیاں اپنی مشکلات، ان کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک سے دل برداشتہ ہوکر اکثرخودکشی کرلیتی ہیں۔ دوسری جانب غیرت کے نام پر ایسی خواتین کو خود ان کے گھر والے جان سے مار دیتے ہیں جو کسی طرح بھی ان کے خاندان کے لیے بدنامی کا باعث بنیں۔ اگر کسی خاتون پر بدکاری کا شبہہ ہو تو تحقیق کیے بغیر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ یہی نہیں بل کہ اگر خواتین پسند کی شادی کرلیں تب بھی انہیں غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔ بیشتر پسند کی شادیوں کا انجام غیرت کے نام پر قتل کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔خیبر پختون خوا کے ضلع کوہستان میں چار خواتین کوایک جرگے کی جانب سے محض اس لیے موت کی سزا سنادی گئی کہ وہ دو مردوں کو شادی کے موقع پر رقص کرتا ہوا دیکھ کر تالیاں بجا رہی تھیں۔ کسی نے اس موقع پر ان کی ویڈیو بنالی اور جب یہ ویڈیو منظرعام پر آئی تو جرگے نے انہیں سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ رسم و رواج بہت سے دوسرے طریقوں سے بھی خواتین کے استیصال کا باعث ہیں۔2004ء میں ونی یا سوارا کے خلاف پارلیمنٹ نے باقاعدہ قانون سازی کی اور تعزیرات پاکستان کے قوانین میں ترامیم کی گئیں، جن کے تحت اسے قابل سزا جرم قرار دیتے ہوئے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 310اے کا اضافہ کیا گیا۔ اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ خواتین کو’’بدل صلح‘‘ کی شکل میں پیش کرنا قانوناً جرم ہے۔ اس کی سزا کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ 10سال ہوگی۔ 2004ء میں ان جرائم کے خلاف بننے والے قوانین کو دسمبر 2011ء میں مزید سخت کیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ نے قانون پاس کیا جس کی رو سے خواتین کی جبری شادی کرانے کے جرم کو ناقابل ضمانت قرار دیا گیا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ خواتین کی حالت بہتر بنائی جائے اور کوئی اس جرم کے بارے میں سوچے بھی نہیں یا کم از کم ایسا کرتے ہوئے اسے قانون کا خوف ضرور ہو۔ عام مشاہدہ ہے کہ سوارا کی رسومات کو نہ ماننے والوں کو اکثر اپنی زندگی سے ہاتھ بھی دھونا پڑتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ ان رسومات کے خلاف اپنا رویہ بدلنے پر آمادہ نہیں۔ معاشرے میں تبدیلی لانے کیلئے لوگوں میں اب بھی بڑے پیمانے پر آگاہی اور خواتین کو مزید خودمختار بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبے میں اب بھی لوگوں کی اکثریت ان قوانین سے ناآشنا ہے۔ پاکستان میں بچوں کی شادیوں کی شرح تیس فی صد سالانہ ہے۔ قانوناً شادی کے لیے لڑکی کی عمر 16سال جب کہ لڑکے کی عمر 18سال ہونی ضروری ہے، لیکن بیشتر اوقات اسے نظر انداز کردیا جاتا ہے۔
قرآن سے شادی
سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں ایک رسم کسی لڑکی کی ’’ قرآن سے شادی‘‘ ہے۔ اس کی بھینٹ ایسی لڑکیاں چڑھتی ہیں جو بااثر خاندان کی اور صاحب جائیداد ہوتی ہیں۔ انہیں جائیداد سے محروم رکھنے یا اس پر قبضہ کرنے کیلئے انہیں قرآن سے بیاہ دیا جاتا ہے۔ اس میں لڑکی کی رضامندی کبھی ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ سندھ میں تو خاص طور پر ایسی رسمیں منعقد ہوتی ہیں۔ یہ رسم باقاعدہ ایک شادی جیسی ہوتی ہے، لیکن اس میں کسی مرد کے بہ جائے قرآن حکیم کو دولہا بنایا جاتا ہے۔ اس رسم کی علماء کرام نے شدید مذمت کی ہے اور اسے سراسر اسلام کے منافی قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود یہ رسم جاری ہے۔ عورت کی قرآن سے شادی پر 3 سے 7 سال تک قید اور 5 لاکھ تک جرمانہ کی سزا مقرر ہے لیکن اس کے باوجود اس رسم کا قلع قمع نہیں کیا جاسکا۔
پیر کی اونٹنی
اسلام کی روشن تعلیمات کے باوجود پیر کی اونٹنی جیسی رسم ہمارے سماج پر کلنک کا ٹیکا ہے۔ نام نہاد پیر و مشائخ کسی بھی خوب صورت لڑکی کو منتخب کرلیتے ہیں۔ جب کوئی نام نہاد پیر کسی لڑکی کو پسند کرلے تو وہ لڑکی شادی نہیں کرسکتی، نام نہاد پیر بھی اس سے شادی نہیں کرتا بل کہ اسے ساری زندگی پیر صاحب کی خدمت کے لیے وقف ہونا پڑتا ہے۔ ایسی لڑکیاں قابل احترام سمجھی جاتی ہیں اور پیر کی خدمت کیلئے وقف ہوتی ہیں۔ پیر کی اوٹنی بننے والی اکثر لڑکیوں کو بھی اس لیے ایسا بننے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ ان کے حصے کی جائیداد پر خاندان والے قابض رہ سکیں۔ ایسی لڑکیوں کے جذبات کچل کر انہیں نام نہاد تقدیس کی سولی پر چڑھادیا جاتا ہے اور اس میں بھی ان کی مرضی شامل نہیں ہوتی اور وہ اکثر جبر کا شکار ہوتی ہیں۔ ایسی لڑکیوں پر اکثر ہیسٹریا کے دورے پڑتے ہیں جنہیں لوگ حاضری سے تعبیر کرتے ہیں۔
سام
یہ ایک انتہائی قبیح رسم ہے۔ پناہ میں رکھے جانے والے مرد، عورت یا مویشی ’’سام‘‘ کہلاتے ہیں۔ پناہ میں یا امانت کے طور پر کسی کے پاس رکھوانا ایک رسم ہے جس میں کوئی بھی شخص اپنے مال مویشی گائے، بیل، گھوڑا، گدھا، بکریاں بھیڑیں کسی کے پاس رکھوا دیتا ہے۔ اسی طرح کوئی مرد یا عورت بھی تنازعے کے حل یا انتقام کے طور پر رکھی یا رکھوائی جاتی ہے۔ جو شخص اس مال مویشی یا مرد عورت کو سام رکھتا ہے وہ اس کے کھانے پینے رہنے سہنے اور اس کے تحفظ کا ذمے دار بن جاتا ہے۔ عام طور پر امراء و زمین دار ’’سام‘‘ رکھتے ہیں۔ان کے سماجی رتبے اور اثر و رسوخ کی بناء پر سام محفوظ ہوتے ہیں۔ یہ رسم نواب شاہ اور سندھ کے دوسرے اضلاع میں عام ہے۔ اسی طرح سندھ میں عورتیں پناہ کے لیے سرداروں اور وڈیروں کے پاس چلی جاتی ہیں۔ اس طرح سام پوری طرح سے سردار کے تسلط میں ا?جاتی ہیں۔ جرگے کے کہنے پر بھی سام رکھا جاسکتا ہے یا عورت پناہ طلب کرلیتی ہے۔ وہ حلف اٹھاتی ہے کہ تمام عمر خدمت گزاری کرے گی۔ ’’سام‘‘ کا مطلب ہے تاحیات خدمت بہ حیثیت غلام یا باندی۔ سارے اختیارات سردار کو حاصل ہوجاتے ہیں۔ وہ سام کو جنسی تسکین کے لیے استعمال کرسکتا ہے، اس کی بولی لگا کر فروخت بھی کر سکتا ہے۔ قیمت بھی بہت ملتی ہے خصوصاً اگر وہ خوب صورت اور جوان ہو۔
پسند کی شادی کا انجام موت
پاکستان میں پسند کی شادی کا انجام اکثر موت ہے۔ اس کیلئے بھی جواز دیا جاتا ہے کہ عورت اپنی پسند سے شادی کی مجاز نہیں ہے، لیکن اگر اس کی دلیل طلب کی جائے تو زبان گنگ ہوجاتی اور اتنا کہا جاتا ہے کہ یہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ سچ صرف یہ ہے کہ عورت کے استیصال کا ذمے دار مردوں کا سماج ہے۔ عورت کو جو حقوق اللہ اور رسول ؐنے دیے تھے ان سے بھی مردوں نے انہیں محروم کردیا ہے۔
دین اسلام فطرت انسانی کا مظہر ہے ، جس کی تعلیمات کے مظابق بنیادی حقوق کے لحاظ سے تمام انسان برابر ہیں۔ہر بچہ فطرت اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے سب انسان اُولاد آدمؑ ہیں۔اس لحاظ سے اسلام میں جنس کی بنیاد پر عورت اور مرد میں کوئی تفریق نہیں۔اللہ کے نزدیک دونوں ہی اس کی مخلوق ہیں،اسلام میں عمل اور اجر میں مرد و عورت مساوی ہیں چنانچہ قرآن پاک میں واضح کر دیا گیا ’’ مردوں کو اپنی کمائی کا حصہ اور عورتوں کو اپنی کمائی کا حصہ اور (دونوں ) اللہ سے اس کا فضل مانگو ‘‘قر آن و حدیث میں کثیر تعداد میں ایسے احکام و فرامین موجود ہیں جنسے اسلام میں عورت کے مقام ،مرتبہ ،اہمیت اور اس کے حقوق کا تعین ہوتا ہے یہ واحدمذہب ہے جس نے عورت کو زلت و پستی سے نکال کر شرف انسانیت بخشا جبکہ دیگر مذاہب میں عورت کو زلت ،رسوائی وتحقیر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔اہل ہنود میں تو خاوند کی موت کے ساتھ عورت کو بھی ستی کردیا جاتا تھایعنی اسے بھی زندہ جلا دیا جاتا تھا۔جبکہ دور جاہلیت میں لڑکی پیدا ہونے پر اسے زندہ در گو ر کر دیا جاتا تھا۔اسلام نے اس زلت و رسوائی سے عورت کو نجات دلائی اور اسے زندہ رہنے کا حق دیا۔اسلام نے معاشرے میں عورت کے حقوق ،فرائض ودیگر مسائل کیلئے قرآن پاک کی سورۃ النسا میں تفصیلی احکام دئیے ہیں جس میں نکاح ،طلاق ،خلع،وراثت ودیگر صنفی مسائل میں رہنمائی کی گئی ہے۔عورت کی عزت وعصمت کی حفاظت کیلئے حجاب (پردہ) کا حکم دیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں پاکیزگی و اخلاقی اقدار بر قرار رہیں۔مغربی معاشرے میں آزادی نسواں و مساوات مردوزن کے نعرے کے تحت عورتوں کا استحصال جاری ہے جبکہ دین اسلام نے عورت کو ماں ،بہن ، بیٹی ،بیوی اور بہو کے انتہائی قابل عزت واحترام درجے اور بلند مقام ومرتبہ عطاء کیا ہے۔ کیا دنیا میں کوئی ملک ایسا ہے جہاں مسلم معاشرہ خواتین کو برابر کے حقوق دیتا ہے؟ عام طور پر مسلم لڑکیوں کو لڑکوں سے کم تر سمجھا جاتا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت لڑکوں سے کم تر درجے پر کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے یہ اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی نہیں ہوسکتی مگر والدین اس کی رسمی اجازت صرف نکاح کے وقت لینا کافی سمجھتے ہیں۔ آج بھی اس کا کمانا اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ پردے کے نام پر جس طرح اس پر جبر کیا جارہا ہے وہ اس پردے سے بالکل مختلف ہے جو عہد نبویؐمیں رائج تھا۔ پاکستان میں تو یہ حال ہے کہ اگر کوئی جبری زیادتی کرتا ہے تو پنچایت کے فیصلے سے اس کی بہن کو فریق ثانی کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ہر جگہ مردوں کا ہی اقتدار نظر آتا ہے۔
عہد نبویؐ کا معاشرہ تو آج کا مسلم سماج سے بالکل مختلف منظر پیش کرتا ہے۔ تاریخ و سیرت کی کتابیں گواہ ہیں کہ رسول اکرمؐ ؐکی زوجہ محترمہ خدیجہ مکہ کی ایک تجارت پیشہ خاتون تھیں اور زمانہ جاہلیت میں بھی ان کے کام کاج کرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ رسول اکرم ؐنے ان کیلئے کام کیا۔ حضرت خدیجہ? کے عالم اسلام پر احسانات ہیں کہ انھوں نے اپنی دولت کو اسلام اور پیغمبر اسلام کی خدمت پر نچھاور کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے اسلام کا پیغام قبول کیا اور پیغمبر آخر الزماں ؐپر ایمان لائیں۔ ان کے انتقال کے بعد رسول ؐنے جو شادیاں کیں ان میں ایک حضرت زینب بنت جحش بھی تھیں جو چمڑے کے کاروبار سے وابستہ تھیں اور اپنی کمائی سے جو کچھ حاصل کرتیں اس کا بیشتر حصہ خیرات کردیا کرتی تھیں۔اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں لیکن ان دو واقعات ہی سے پتا چلتا ہے کہ عہد رسالتؐ میں خواتین کے کام کاج کرنے اور پیسے کمانے پر کوئی پابندی نہیں تھی بل کہ خود رسول اکرمؐکے گھر کی خواتین کماتی تھیں۔ اسی طرح سیاسی اور سماجی مسائل پر بھی خواتین کی رائے اہمیت کی حامل ہوتی تھی اور ان کے مشوروں کا خود اللہ کے رسول ؐ پاس رکھتے تھے۔آپؐ اپنے گھر کی عورتوں سے مشورے کیا کرتے تھے۔ خواتین جنگوں میں بھی شامل ہوتی تھیں۔ حالانکہ اسلام نے خواتین پر جہاد فرض نہیں کیا ہے۔ رسول اکرمؐکے پردہ فرمانے کے بعد تو حضرت عائشہ نے سرگرمی کے ساتھ زندگی کے مختلف امور میں حصہ لیا تھا۔ اسلام نے کما کر گھر چلانے او ر بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ذمے داری بھی مردوں پر ڈالی ہے لیکن خواتین اگر کمانا چاہیں اور آگے بڑھنا چاہیں تو اسلام نے اس سے انہیں روکا بھی نہیں ہے۔ کام کاج اور سماجی سرگرمیوں میں عورت کو حصہ لینے سے روک دینے کا مطلب آدھے مسلم سماج کو ناکارہ بنا دینا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی انتہائی سطح کو چھو رہی ہے۔ عورتوں کا بدترین استحصال جاری ہے۔ اسے جبری شادی کرنے پر مجبور اور اپنی جائیداد سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ مردوں کے اس سماج میں عورت کی تذلیل اسے بازاروں میں برہنہ گھما کر کی جاتی ہے۔ وہ تیزاب گردی کا شکار ہے۔ انہیں جبری زیادتی کے بعد بازاروں میں بے لباس گھما کر بھنگڑے ڈالنا غیرت بن گیا ہے۔ عورتوں کو ان کی مرضی کے خلاف وٹہ سٹہ یعنی ادلے بدلے کی شادی کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ معاشی حالات کی ابتری کی وجہ سے وہ امیر بوڑھوں کے شادی کرنے پر جبرا مجبور کیا جاتی ہے۔ بچپن کی شادیاں بھی اس کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ہیں۔ دوسری جانب ہمارے ہاں نفسیاتی تشدد کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو دینا چاہیے۔ ذہنی یا نفسیاتی تشدد میں کئی چیزیں شامل ہیں۔ ہر وہ عمل جس سے ذہنی اذیت، کوفت، خوف یا انتشار پیدا ہو، عورتوں سے بدکلامی، انھیں بے عزت کرنا، دھتکارنا، بیٹے اور بیٹیوں میں امتیاز جس سے لڑکیوں کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہو، گالم گلوچ، قریبی رشتوں کی طرف سے جسمانی، جنسی تشدد یا اس کا خوف، کام کی جگہوں پر ہراساں کرنا، شادی شدہ عورتوں کو جائیداد کے حقوق اور ملکیت سے محروم کرنا، دھمکانا، شوہر کی طرف سے گھر سے نکال دیے جانے، طلاق دینے، بچے چھین لینے کی دھمکی یا خوف، مسلسل ذہنی اذیت دینا، سماجی تعلقات منقطع کرنا یا عورتوں کو گھروں میں مقید کرنا یا عام میل جول پر پابندی، نفسیاتی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔مذکورہ بالا صورتوں کا سامنا خواتین کو کسی نہ کسی صورت رہتا ہے، البتہ قبائلی معاشروں یا مذہبی طبقات میں یہ انتہائی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ ذہنی تشدد جسم پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عورتوں پر نفسیاتی تشدد پورے گھر خاص کر پیدا ہونے والے بچے یا پہلے سے موجود بچوں پر پڑتا ہے۔ لڑکے اس ماحول میں یہی متشدد رویہ سیکھتے اور اپناتے ہیں۔ ان کا رویہ بہنوں اور دوسری عورتوں کے ساتھ ویسا ہی ہوجاتا ہے جیسا کہ گھر کے دوسرے مردوں کا ہو۔اس طرح کے ماحول میں رہنے اور پلنے والی بچیاں اور عورتیں دہرے تہرے مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔ وہ گھر کی محدود دنیا میں قید رہتی اور باہر کی دنیا سے تعلق قائم نہیں کرپاتیں۔ یہ نفسیاتی دباوؤانہیں بیماریوں میں مبتلا کردیتا ہے۔ ہسٹیریا ایسی ہی ایک بیماری ہے جو مسلسل ذہنی دباؤکے نتیجے میں سامنے آتی ہے جس میں مردوں کی نسبت عورتوں کی کہیں زیادہ تعداد مبتلا ہے۔ یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ جادو، آسیب یا جن بھوت کے اثرات کا حوالہ دے کر تشدد کی ایک نئی شکل سامنے آجاتی ہے۔ وہ عورتیں جو اس دباؤسے باہر نکلنے کی کوشش کریں انھیں پاگل قرار دینا عام سی بات ہے۔ عورتوں کو منحوس قرار دے کر سماجی میل جول اور تعلقات سے الگ تھلگ کردیا جاتا ہے اور یہ صورت حال بعض پڑھے لکھے گھرانوں میں بھی موجود ہے۔
اسلام نے عورت کو مردوں کے مساوی حقوق دیے ہیں۔ عورت
کسی معاملے میں مردوں سے کم تر نہیں ہے۔ اسلام نے خواتین کو مردوں کا دست نگر نہیں بنایا۔ ایسا نہیں ہے کہ مرد ہی کو پیسے کمانے اور سماج میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی اجازت ہے اور خواتین کو دوسرے درجے کی مخلوق بن کر رہنا چاہیے۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ صرف بچے پیدا کرنے انہیں پالنے، کھانا پکانے اور برتن مانجھنے اور شوہر کی خدمت کیلئے ہی پیدا کی گئی ہے۔ عورت کو بھی اپنی زندگی جینے کا پورا اختیار دیا گیا ہے۔عورت کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار کبھی بھی مردوں کو نہیں دیا گیا ہے۔ اسلام نے مرد و عورت کو برابر کے حقوق دیے ہیں۔ آج مسلم سماج میں عورتوں کی جو حالت ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور مردوں نے انہیں جس درجے پر رکھا ہے، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر علماء اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ خواتین کو اسلام نے مردوں کے مساوی حقوق دیے ہیں اور انہیں کسی بھی پہلو سے کم تر نہیں بنایا ہے تو انھیں خود بھی اس کا عملی ثبوت دینا چاہیے اور عام مسلمان کو اس کی ترغیب دینی چاہیے۔ مسلم دنیا میں ہر جگہ خواتین کی حالت یکساں نظر آتی ہے۔ ہم دعویٰ تو کرتے ہیں کہ اسلام نے مرد و عورت کو یکساں حقوق دیے ہیں مگر مسلم سماج کا منظر نامہ ہمارے دعوے پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی آج کی عورت کو وہ با عزت مقام حاصل ہے جو ظہور اسلام کے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے احکامات و آیات میں مقرر کیا تھا؟ کیا آج کی عورت کو وہ تمام حقوق باآسانی حاصل ہیں جو ہمارے دین میں ایک ماں ،بیٹی، بہن اور بیوی کو حاصل ہیں؟ افسوس آج کی عورت کا مقام، عزت اور حقوق کہیں مٹی میں دفن ہوگئے ہیں کیوں کہ اس نے نہ صرف اپنی شناخت اور حقیقی پہچان کھوئی ہے بلکہ ان تمام تعلیمات سے بھی دوری اختیار کرلی ہے جس کا حکم میرے اللہ اور نبیؐنے دیاہے۔ جس میں ہر عورت کے لیے تحفظ اور عزت کا مقام ہے لیکن آج کی عورت نے اپنی زندگی کے کٹھن سفر کو مزید تکلیف دہ بنا لیا ہے جو کہ پہلے سے ہی رشتوں کی وفا میں جکڑی ,قربانیوں، محبتوں اور سمجھوتوں سے لبریز ہے لیکن اسے مزید تکلیف دہ بنانے میں بھی عورت کا ہی ہاتھ ہے۔ کسی عورت پر مرد کا بہتان لگانا، اس کی حق تلفی کرنا اور پھر دوسری تیسری شادی رچا لینا۔ اس میں بھی عورت کا ہی ہاتھ ہے جو اسے اپنی محبت کے جال میں پھانس کر پہلی بیوی کا بسا بسایا گھر اْجاڑ دیتی ہے۔ بیٹے کا ماں کو اپنی بیوی کی وجہ سے دھتکارنا اور اسے اولڈ ہاؤس بھیجنے میں بھی اس کی بیوی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ بیٹی کو اس کے حق سے محروم رکھنا اور اپنی انا کی بھینٹ چڑھانے میں بھی ماؤں کا بنیادی کردار ہوتا ہے جو اپنے بیٹوں کو تو سولی چڑھتا دیکھ نہیں سکتیں لیکن بیٹیوں کو ہمہ وقت ایسی قربانیوں کے لیے تیار رکھا جاتا ہے۔ عورت کا عورت پہ یہ ظلم ناقابل یقین ہے لیکن اس کی تلافی اسی صورت میں ممکن ہے جب ایک عورت دوسری کا درد سمجھنے کے قابل ہو سکے اگر عورت حق تلفی کرنا چھوڑ دے تو مرد بھی عورت کے ساتھ زیادتی کرنا چھوڑ دے گا۔
آج کی عورت اگر بے باک ، آزاد ،خود مختار ہے تو تب بھی عزت و احترام کے اس مر تبے سے محروم ہے جو اسلام نے اسے دیا اور اگر آج کی عورت با حیا، با پردہ ہے تو تب بھی اس کی عزت کو معاشرے میں اچھالا جاتا ہے یعنی عورت کی خوشحالی اور بربادی کا انحصار اس کی ذات کے ان دو پہلووں میں چھپا ہے چاہے تو محبت وآشتی، ایثارو قربانی، شرم و حیا کی رْت اپنا لے جو عورت کی ذات کو مضبوطی، حقیقی پہچان ،عزت و احترام اور تحفظ دے ورنہ چاہے تو حیا کی حدوں سے پار، بے باک، آزاد، ہر رشتے کی اہمیت سے نا آشنا خود غرض پہلو اپنا لے جو اس کی کمزور ذات کو مزید کھوکھلا، وجود کو منتشر اور عزت کے تحفظ سے عاری کر دیتا ہے۔ یہ تو عورت کے عورت پہ ستم اور نا انصافیاں ہیں لیکن مرد کی عورت کے ساتھ ہر طرح کی جسمانی،ِ ذہنی اور جذباتی زیادتی نہ صرف معاشرے میں بڑھتی جا رہی ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی آدھی نسل کو ایسا ذہنی مفلوج کردیا ہے جس کے اثرات شاید نسلوں تک ختم نہ ہوں جو نہ صرف آنے والی نسل کیلئے تباہی کا سامان ہے بلکہ ہمارے مذہبی،اخلاقی،معاشرتی معاشی زوال کا بھی موجب ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے