Voice of Asia News

ادویات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوگا

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) پاکستان ان ملکوں میں سے ایک ہے جہاں آبادی کی اکثریت خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور ضروریات زندگی کی قیمتیں اس کی قوت خرید سے باہر ہیں. اس کا سب سے زیادہ اثر علاج معالجہ پر پڑا ہے‘ زندگی بچانے والی بہت سی دوائیں جو پاکستان میں نہیں بنتیں یا اگر کچھ یہاں تیار ہوتی ہیں تو ان کا خام مالدرآمد کرنا پڑتا ہے ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بعد ادویہ ساز کمپنیوں نے ان دواﺅں کی قیمتوں میں اضافے کے لئے سفارشات تیار کر رکھی ہیں.بلاشبہ اس کے اثرات غریب عوام برداشت نہیں کر سکیں گے اس بات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سی ای او کی تقرری تک دواﺅں کی قیمتوں میں اضافہ منجمد کرنے کا بروقت فیصلہ کیا ہے. چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک کیس کی سماعت کے موقع پر دوا ساز کمپنیوں کے وکیل نے عدالتکو بتایا کہ حکومت اور دوا ساز کمپنیوں میں قیمتوں پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، ڈریپ آئندہ ہفتے اپنی سفارشات کابینہ کو بھجوائے گی اور پھرکابینہ کے فیصلے کے بعد دواﺅں کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ہوگا.فاضل عدالت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا مستقل سی ای او تعینات نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دو دن میں اس کی تقرری کی سمری تیار کرنے کا حکم دیا ہے. ان تمام مستحسن اقدامات کے باوجود ڈالر کی تلوار مقامی مارکیٹ پر لٹکی رہے گی ہمیں اس صورت حال سے نکلنا ہوگا‘وطن عزیز میں فارمیسی کاشعبہ پھل پھول رہا ہے اور ملک کی سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہر سال ہزاروں گریجویٹ، ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز تیار کرر ہی ہیں.ہمارے بہت سے فارماسسٹوں سے دوسرے ممالک فائدہ اٹھا رہے ہیں، ملک میں سستی ادویات تیار کرنے کے لئے بہترین انفرا اسٹرکچر موجود ہے، برآمدی صنعتوں کا فروغ موجودہ حکومتی ترجیحات کا حصہ ہے ادویات اورانسانی زندگی کا آپس میں گہرا تعلق ہے اب مزید وقت ضائع کئے بغیر مقامی فارما انڈسٹری کو فروغ دیا جائے.

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے