Voice of Asia News

محبت رسولؐ ہی تکمیل ایمان کی شرط ہے:عمران احمد غوری

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رسولِ اکرم ؐسے سچی قلبی محبت جزوِایمان ہے اور وہ بندہ ایمان سے تہی دامن ہے جس کا دل رسولِ اکرم ؐکی محبت سے خالی ہے۔ جیسا کہ جناب ابوہریرہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ؐنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص بھی اس وقت تک ایماندار نہیں ہوگا جب تک کہ میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں۔ (بخاری: کتاب الایمان: باب حب رسول من الایمان؛۴۱) صحیح بخاری ہی کی دوسری حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایماندار کہلانے کا مستحق نہیں جب تک کہ اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر اس کے دل میں میری محبت نہ پیدا ہوجائے۔ (ایضاً ؛۵۱) لیکن اس محبت کا معیار اور تقاضا کیا ہے؟ کیا محض زبان سے محبت کا دعویٰ کردینا ہی کافی ہے یا اس کے لئے کوئی عملی ثبوت بھی مہیا کرنا ہوگا؟ صاف ظاہر ہے کہ محض زبانی دعویٰ کوئی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ اس کے ساتھ عملی ثبوت بھی ضروری ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ ایسے شخص کے جسم و جان پر اللہ کے رسول ؐکے ارشادات و فرمودات کی حاکمیت ہو، اس کا ہر کام شریعت نبویؐ کے مطابق ہو، اس کا ہر قول حدیثِ نبوؐ ی کی روشنی میں صادر ہوتا ہو۔ اس کی ساری زندگی اللہ کے رسولؐ کے اْسوۂ حسنہ کے مطابق مرتب ہو۔ اللہ کے رسولؐ کی اطاعت و فرمانبرداری ہی کو وہ معیارِ نجات سمجھتا ہو اور آپؐ کی نافرمانی کو موجبِ عذاب خیال کرتا ہو۔ لیکن اگر اس کے برعکس کوئی شخص ہر آن اللہ کے رسولؐ کی حکم عدولی کرتا ہو اور آپ ؐکی سنت و ہدایت کے مقابلہ میں بدعات و رسومات کو ترجیح دیتا ہو تو ایسا شخص ‘عشق رسول ؐاور حْبِّ رسولؐ کا لاکھ دعویٰ کرے یہ کبھی اپنے دعویٰ میں سچا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ اپنے تئیں سچا سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے مگر اللہ کے رسولؐ ایسے نافرمان اور سنت کے تارک سے بری ہیں کیونکہ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے: ترجمہ
(بخاری؛۳۶۰۵) جس نے میری سنت سے روگردانی کی، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
اللہ تعالی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ مومن کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت تمام اقسام محبت سے زیادہ ہونی چاہیے اور محبت کے تمام مراتب سے اعلی وارفع ہونی چاہیے ، اور اس کے معلوم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انسان اپنی تمام محبوبات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں غور و فکر کرے اورسوچے تو یقیناًاس کی عقل یہ فیصلہ کرے گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ،انانیت کی سرشت پر غالب ہے ، اور اس انانیت کا نام و نشان ختم کردیتی ہے ، اے مسلمان عقلمند! آپ کیلئے سیدنا عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کی سیر ت میں بہترین نمونہ ہے۔
محبت فرض :یہ وہ محبت ہے جو نفس کو فرائض کے بجالانے اور گناہوں سے بچنے پر آمادہ کرے ، اور اللہ نے جو کچھ اس کیلئے مقدّر کیا ہے، یہ محبت اس پرراضی ہونے پر آمادہ کرے۔ پس جو شخص کسی معصیت میں مبتلا ہے یااس نے کسی فرض کو چھوڑ دیا یاکسی حرام فعل کا ارتکاب کیا تو اس کا سبب اس محبت میں کوتاہی ہوتا ہے کہ اس نے اس محبت پر نفس کی خواہشات کو مقدم کیا ، اور یہ العیاذ باللہ غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے۔
محبت سنت :وہ یہ ہے کہ انسان نفلی عبادات کی پابندی کرے اور مشتبہ امور سے بچتا رہے۔اس بحث کاخلاصہ یہ ہے کہ وہ مومن جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اس کے پاس شریعت کے جو بھی اوامر اور منہیات پہنچے ہیں وہ مشکاۃِ نبوت سے ہی پہنچے ہیں اور وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتا ہے ، آپ کی شریعت سے راضی اور انتہائی خوش ہوتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اپناتا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلے فرمائے ہیں ان سے اپنے نفس میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتا ، جس شخص نے ان امور پر اپنے نفس سے جہاد کیا ،اس نے ایمان کی حلاوت حاصل کرلی ۔
دین، ایمان، عبادت و ریاضت اور مقامات و درجات میں محبت ہی کو فوق حاصل ہے۔ بعض اوقات تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا محبت عبادت پر بھی سبقت لے جاتی ہے۔نبی اکرم کی زیربحث حدیث اس محبت کی فوقیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے بارگاہِ رسالت مآب میں عرض کی کہ یارسول اللہ آپ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میری جان کے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی سچا مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ میں اْسے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے پھر عرض کی کہ اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ پر قرآن کریم نازل کیا آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر آنحضور ؐنے فرمایا کہ عمر اب تمہارا ایمان مکمل ہو گیا ہے۔اندازہ کیجئے نبی اکرم نے ایمان کی تکمیل کو بھی اپنی محبت کے ساتھ مشروط قرار دیا ہے۔ یہاں بھی تکمیل ایمان کا باعث فرض و نفل عبادت کو نہیں ٹھہرایا۔اب تک ہم نے جان لیا کہ دل میں موجزن نبی اکرم کی محبت و مودت آپ کی اتباع پر منتج ہوتی ہے اور اتباع ایک طرح کا عمل ہے جو جسمانی حرکات و سکنات یعنی افعال پر مشتمل ہے۔ دوسری طرف محبت ہی مقام مومن تک رسائی کا زینہ قرار پاتی ہے اور محبت رسول ہی تکمیل ایمان کی شرط قرار پاتی ہے۔
مؤمن کے دل کیلئے ایک عمدہ اور باسعادت زندگی کا حصول اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی محبت وہ قیمتی جوہر ہے جو دل میں ایک عظیم نور سے چمکتا ہے ، اور اس کیلئے ضروری ہے کہ اس سے ایسی نورانی شعائیں نکلیں جو اس محبت کو بتائیں اور جیسے یہ شعائیں اس کے آثارمیں سے ہیں، اسی طرح اپنے اندر تاثیر بھی رکھتی ہیں جس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے، یہاں تک کہ محبت کرنے والا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں محبوبیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔ معاملہ صرف یہی نہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کریں بلکہ اصل معاملہ نجاح و فلا ح اور عظیم کامیابی کا یہ ہے کہ آ پ سے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم محبت کریں ۔کسی بھی انسان کے پاس پیمائشِ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ترازو نہیں ہے اور پھر یہ سمجھ لینا بھی ناانصافی ہے کہ محبت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پرکسی مخصوص شخص یا گروہ کا حق ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ وہ شخص مسلمان ہی نہیں۔ جس کے دل میں شمعِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضوفشانیاں چکا چوند نہیں مچا دیتیں۔
محمدؐ کی محبت دین حق کی شرطِ اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو ایماں نامکمل ہے

imran_khan6@hotmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے