Voice of Asia News

ایشیا پیسفک اکنامک کارپوریشن کے رہنما امریکہ چین لفظی جنگ ختم کرانے میں ناکام

نیو گنی ( وائس آف ایشیا )ایشیا پیسیفک اکنامک کارپوریشن کے رہنما بھی سربراہی اجلاس کے دوران امریکا اور چین کے درمیان جاری لفظی جنگ ختم کروانے میں ناکام رہے، جہاں امریکا نے چین کے منصوبے اور بیجنگ نے واشنگٹن کی پالیسی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ عالمی تجارت پر حکمرانی کرنے کے لیے دنیا کی 2 سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اے پیک کے رہنما باقائدہ تحریری اعلامیہ جاری کرنے پر رضامند نہ ہوسکے۔اجلاس کے میزبان اور پپوا نیوگنی کے وزیرِ اعظم پیٹر او نیل نے شکست خوردہ جزبات میں کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ اس کمرے میں 2 بڑے بیٹھے ہیں، اب میں کیا کہوں؟کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی اجلاس کی ناکامی کا اظہار کیا جو تجارت سے متعلق مخصوص عناصر پر مختلف نقطہ نظر کی وجہ سے ہوئی جس نے مکمل اتفاق رائے کو بھی روک دیا۔پیٹر او نیل نے اشارہ دیا کہ ڈبلیو ٹی او مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کے لیے ایک نقطہ نظر پر ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اے پیک کو ڈبلیو ٹی او سے متعلق کوئی چارٹر نہیں ملا اور یہی حقیقت ہے، ان معاملات کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں اٹھایا جاسکتا ہے۔مذکورہ جھگڑے نے رواں ماہ کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ارجنٹائن میں جی 20 اجلاس کے دوران شیڈول ملاقات بھی دا پر لگ گئی ہے۔پیٹر او نیل نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اجلاس کے دوران حتمی نتائج نہ نکلنا 21 ممالک کی میزبانی کرنے والے اس غربت کے شکار ملک کی بے عزتی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق معاملات اس وقت مزید خراب ہوگئے جب چینی حکام پی این جی کے وزارتِ خارجہ کے دفتر میں داخل ہوئے اور وہاں اجلاس کے اعلامیے کے مسودہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔چینی وزارتِ خارجہ کے حکام نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ بالکل غلط اور سراسر جھوٹا الزام ہے۔چین اور امریکا کے درمیان سربراہی اجلاس سے قبل ہی اہم پالیسی خطاب پر چینی صدر شی جن پنگ اور امریکا کے نائب صدر مائیک پینس آمنے سامنے آئے تھے۔مائیک پینس نے چینی منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ (بی آر آئی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے ملک چین کے اس منصوبے کے بہکاوے میں نہ آئیں کیونکہ یہ بیلٹ سے سکیٹرنے والا ون وے روڈ ہے۔مذکورہ تقریر سے قبل چینی وزیرِاعظم شی جن پنگ نے کاروباری حضرات سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ منصوبہ کسی کے لیے جال نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی ایجنڈا چھپا ہوا ہے۔شی جن پنگ نے پہلے امریکا کی پالیسی کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ قلیل مدتی سوچ ہے جس کا اختتام صرف ناکامی پر ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے