Voice of Asia News

ہم شہداء کے مقدس خون کا سودا نہیں کریں گے اور نہ بھارتی جبر کے سامنے سرنڈر۔سید علی گیلانی

سری نگر(وائس آف ایشیا) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ ہم شہداء کے مقدس خون کا سودا نہیں کریں گے اور نا ہی ہم بھارت کے ظلم، جبر، بربریت اور سفاکیت کے آگے سرینڈر کریں گے۔ انہوں نے لوگوں کو نام نہاد پنچائتی انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل دہراتے ہوئے کہا کہ جس قوم نے اتنی عظیم قربانیاں پیش کی ہیں وہ کسی بھی صورت میں ان لوگوں کو ووٹ نہیں دیں گے جو بھارتی جبری قبضے کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی قوم سے غداری کرکے ہماری غلامی کی رات کو مزید طویل بنانے میں بھارت کے معاون اور مددگار بنتے ہیں۔ ہمیں بھارت کی جانب سے منعقد کرائے جانے والے تمام انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے، کیونکہ کسی بھی ہندواز افراد کو ووٹ دینا شہداء کے مقدس خون کے ساتھ غداری ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے اہتمام سے حیدرپورہ میں پُروقار سیرتی محفل سید علی گیلانی کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں محمد اشرف صحرائی، محمد یٰسین ملک، غلام نبی سمجھی، ایڈوکیٹ زاہد علی، مولاناالطاف حسین ندوی، مولوی بشیر عرفانی اور سید شمس الرحمان نے سیرت سرور عالمﷺ پر تفصیل سے روشنی ڈالی، جبکہ نظامت کے فرائض محمد رفیق اویسی نے انجام دئے۔ اپنے خطابِ خاص میں سید علی گیلانی نے سیرت پاک پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کسی خاص قوم، قبیلے، نسل یا عقیدے کے پیروکاروں ہی کے لیے نہیں، بلکہ تمام انسانیت اور تمام عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور ان کا پیغام امن، سلامتی، عدل اور انصاف پر مبنی ہے۔ موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں بھارت کے ظلم، جبر، بربریت اور سفاکیت کی حکومت چل رہی ہے جس کے تحت یہاں کی انسانی آبادی کے جملہ حقوق کو فوجی طاقت کی بنیاد پر سلب کردیا گیا ہے۔ انہوں نے ریاست اور بیرون ریاست جموں کشمیر کے مظلوم قیدیوں کی حالت زار پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر فرضی الزامات کے تحت قید کرلیا گیا ہے اور ان کی نظربندیوں کو انتقام گیرانہ پالیسی کے تحت طول دیا جارہا ہے۔ حریت چیرمین نے کالے قانون پی ایس اے کے تحت آزادی پسند راہنماؤں کو بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کرنے پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے حکمران کشمیریوں کے مطالبۂ آزادی کی بنیاد پر ان کو انتقام کا نشانہ بناکر جان بوجھ کر ہزاروں میل دور جیلوں میں منتقل کرکے ان کی تئیں نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا عمر قید کی سزا پانے والے ڈاکٹر محمد قاسم، ڈاکٹر شفیع شریعتی جیسے درجنوں نوجوان نہ جانے کب اپنی سزا مکمل کرچکے ہیں، لیکن متعصب اور قابض حکمران انہیں رہا نہیں کررہے ہیں۔ اسی طرح مسرت عالم بٹ کو 2010 ؁ء سے مسلسل گرفتار رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان پر ہر چھ ماہ کے بعد ایک عدد پی ایس اے کا پروانہ تھما کر اُن کی اسیری کو طول دیاجارہا ہے۔ حریت راہنما نے کہا کہ ایک سال قبل بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) کے ایماء پر فرضی اور بے بنیاد کیسوں میں ملوث کئے گئے محبوسین شبیر احمد شاہ،پیر سیف اللہ،الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر ،راجہ معراج ا لد ین کلوال، شاہد الا سلام ،شاہد یوسف، نعیم احمد خان ،فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی ،محمد اسلم وانی، سید شکیل احمد کے علاوہ سیدہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی ، ناہیدہ نسرین کی اسیری کو بھی عدالتی انتقام کے ذریعے طول دیا جارہا ہے، جبکہ پچھلے 8سال سے تہاڑ جیل میں محبوس ڈاکٹر غلام محمد بٹ کے کیس میں 240فرضی گواہ رکھے گئے ہیں اور آج 8سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک صرف 33گواہوں کو ہی عدالت میں پیش کیا جاچُکا ہے، اگر گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کی یہی رفتار رہی تو اس کو مکمل کرنے میں 50سال لگ جائیں گے۔ انہوں نے حریت راہنما غلام محمد خان سوپوری کو ہریانہ کی جیل منتقل کرنے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے بزدل حکمران بزرگ قیدیوں کو بھی اپنی نفرت کا نشانہ بناتا ہے، جبکہ سپریم کورٹ کی رولنگ ہے کہ قیدیوں کو گھروں کے نزدیک ترین جیلوں میں رکھا جائے، لیکن قابض انتظامیہ اپنے ہی عدالتوں کے وضع کردہ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرکے اپنی عدلیہ پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ حریت چیرمین نے کہا کہ ہم نے بھارت کے جبری فوجی قبضہ سے آزادی حاصل کرنے کے لیے بے شمار قربانیاں پیش کی ہیں، مگر بھارت اپنے نشۂ قوت میں مغرور ہوکر ہماری قربانیوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی آزادی حاصل کرنے کے ساتھ ہی مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیا اور 1947 ؁ء میں جموں میں ایک ساتھ 5لاکھ مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک ہمارے چھ لاکھ سے زائد انسانوں کو بڑی بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ قتل کردیا گیا۔ گیلانی نے کہا کہ ہم شہداء کے مقدس خون کا سودا نہیں کریں گے اور نا ہی ہم بھارت کے ظلم، جبر، بربریت اور سفاکیت کے آگے سرینڈر کریں گے۔ انہوں نے لوگوں کو نام نہاد پنچائتی انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل دہراتے ہوئے کہا کہ جس قوم نے اتنی عظیم قربانیاں پیش کی ہیں وہ کسی بھی صورت میں ان لوگوں کو ووٹ نہیں دیں گے جو بھارتی جبری قبضے کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی قوم سے غداری کرکے ہماری غلامی کی رات کو مزید طویل بنانے میں بھارت کے معاون اور مددگار بنتے ہیں۔ ہمیں بھارت کی جانب سے منعقد کرائے جانے والے تمام انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے، کیونکہ کسی بھی ہندواز افراد کو ووٹ دینا شہداء کے مقدس خون کے ساتھ غداری ہے۔تحریک حریت چیرمین جناب محمد اشرف صحرائی محفل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسول رحمتﷺ کو دینِ حق کے ساتھ معبوث کیا ہے تاکہ اس کو دنیا کے تمام ادیان پر غالب کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں کی حکومتیں ہیں، وہاں اسلامی نظام قائم نہیں ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم اسلام کو بحیثیت نظام تسلیم کرکے اس کو قائم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو پیغمبر اسلامﷺ کے اس مقدس دین کو خدا کی زمین پر غالب کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، کیونکہ رسول رحمتﷺ قائد انسانیت تھے اور ہمیں اپنے اس عظیم قائد کے دین یعنیٰ طریقۂ زندگی کو خود بھی اختیار کرنا چاہیے اور دوسروں کو اس طریقہ کو اپنانے کی ترغیب دینی چاہیے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے