Voice of Asia News

خبردار ! کوئی خواتین کو ہراساں کرنے کی کوشش نہ کرے

  لاہور(وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)آج کل کے دور میں خواتین کو ہر جگہ جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچتی ہے اور کئی خواتین ڈپریشن کا شکار بھی ہو جاتی ہیں جو ساری زندگی ان کے ساتھ چلتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کئی خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ تاہم اب ایسی خواتین کی مدد کے لیے باقاعدہ طور پر ایک ہیلپ لائن قائم کر دی گئی ہے جس کے تحت خواتین جنسی ہراسانی کے خلاف اپنی شکایات درج کروا سکیں گی۔تفصیلات کے مطابق خواتین انٹرنیٹ کے ذریعے ہراساں کیے جانے کی شکایت 1043 پر درج کرواسکیں گی۔ پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین کے تحت قائم کی جانے والی ہیلپ لائن پر سائبر ہراسمنٹ کی شکایات درج کروائی جا سکتی ہیں۔جس کے بعد خواتین کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ بشمول فیس بُک، ٹویٹر، واٹس ایپ اور انسٹا گرام پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔حقوق خواتین کمیشن کا کہنا ہے کہ خواتین کو بذریعہ ویب سائٹ ہراسانی ، نجی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے اور بذریعہ اکاؤنٹ شناخت کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے فوری کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ خواتین کو سوشل میڈیا سائٹس پر ہراساں کرنے والے کو 5 لاکھ روپے جُرمانہ اور 6 ماہ قید تک کی سزا دی جائے گی۔ واضح رہے کہ صوبہ پنجاب میں یو این ویمن کے اشتراک سے خواتین کے تحفظ کے لیے اس سے پہلے بھی کئی اقدامات کیے جا چُکے ہیں۔قبل ازیں پنجاب سیف سٹی انتظامیہ نے ایسی موبائل ایپ بھی تیار کی تھی جس کے تحت خواتین اپنے ساتھ ہونے والے ناخوشگوار واقعے کو فوری رپورٹ کر سکیں گی۔ اس موبائل ایپ کو استعمال کرنے والی خاتون جیسے ہی وارننگ سگنل پریس کریں گی، فوراً ہی ڈولفن فورس کے قریبی دستے کو واقعہ اور جائے وقوعہ کی اطلاع موصول ہوجائے گی۔ جبکہ ڈولفن فورس کے علاوہ قریبی پولیس اسٹیشن میں بالخصوص اسی کام کے لیے متعین اہلکار اور پولیس رسپانس یونٹ کے اہلکار بھی ان شکایات پر کارروائی کریں گے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے