Voice of Asia News

صحرائی حسن کا شاہکارچولستان،حکومت کی خصوصی توجہ کا منتظر : محمد قیصر چوہان

چولستان لفظ مقامی روایات کے مطابق دراصل لفظ ’’چولی‘‘سے نکلا ہے۔ چولستانی خواتین گھاگھرے پر کَسی ہوئی مختصر چولی پہنتی ہیں جس کی شباہت ٹیلوں سے ملتی ہے۔ ’’جغرافیہ سندھ‘‘ میں ’’وچولو‘‘ (درمیانی) کو چولستان کا ماخذ بیان کیا جاتا ہے۔ چولستانی بزرگوں کے مطابق کہ اس صحرا میں زور دار آندھیاں چلتی ہیں جس کی وجہ سے ریت کے ٹیلے حرکت میں رہتے ہیں۔ ان صحرائی ہواؤں کی وجہ سے وہ ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ 1945ء کی سلوی کلچر کانفرنس میں لیفٹیننٹ کرنل ویسٹ لینڈ نے سال 1870تا 1935ء کے درمیان ہونے والے ایک سروے پر مشتمل نقشہ پیش کیا گیا تھا۔ جس میں دکھایا گیا تھا کہ ریت کے ٹیلوں نے شمال مشرقی رْخ پر 65سال میں آدھ میل سفر کیا تھا۔لفظ ’’چولن‘‘ٹیلوں کی اسی حرکت کی کیفیت کی غمازی کرتا ہے۔ لہٰذا خیال کیا جاتا ہے کہ چولستان کا لفظ ’’چولن‘‘ سے مشتق ہے۔ایک خیال یہ بھی پیش کیا جاتاہے کہ لفظ’’ چھول‘‘سرائیکی میں لہر کے معنوں میں آتا ہے۔ صحرا کا منظر اس کی منظر کشی کرتا نظر آتا ہے۔ اس لیے ’’چھول‘‘سے ’’چھولیاں‘‘ کا لفظ صوتی یکسانی کی وجہ سے چولستان کے قریب ہے۔ لہٰذااس کا ماخذ یہ بھی ہوسکتاہے۔ تاریخ کی کتب میں چولستان کی مختلف وجوہاتِ تسمیہ بیان ہوئی ہیں جن کے مطابق لفظ ’’چولستان‘‘ترکی لفظ’’چول‘‘سے مشتق ہے جس کامطلب ہے صحرا۔جبکہ کچھ مؤرخ یقین رکھتے ہیں۔ چولستان عراقی (کرد)لفظ’’چیلستان‘‘سے بگڑ کر بناہے جس کامعنی ہے بے آب و گیاہ علاقہ ہے۔ ’’روہی‘‘کے نام سے معروف چولستان کو ’’روہی‘‘ اسی تلفظ میں ادا کیا جاتا ہے جو اب بھی تبت کے کچھ علاقوں میں مروج ہے۔ یعنی ’’روہ‘‘ جس کا مطلب ہے’ ’پہاڑی‘‘ اور جس سے ’’روہیلا‘‘ کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ اسی طرح سرائیکی میں، جو چولستان کے باشندوں کی ماں بولی ہے، ’’روہ‘‘ پہاڑ کو کہتے ہیں۔چونکہ چولستان پہاڑ نماٹیلوں سے بھرا پڑا ہے اس لیے اسے روہی کانام دیا گیا ہے۔
روہی کے نام سے مشہور چولستان کا صحرا 16000مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ جو ایک جانب سندھ میں تھر سے جا ملتا ہے۔ جنوبی پنجاب کا یہ سب سے بڑا صحرا پنجاب کے تین اضلاع بہاولنگر‘ بہاولپور اور رحیم یار خان تک پھیلا ہوا ہے جبکہ اس کا زیادہ حصہ بہاولپور ضلع میں واقع ہے۔ اس کی لمبائی 480 کلومیٹر اور چوڑائی 32سے 192کلومیٹر ہے۔ صحرا میں بسنے والی مقامی آبادی لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ مویشیوں کی تعداد 13لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ جن میں زیادہ تر اونٹ اور بھیڑ بکریاں کثرت سے ہیں۔ زیر زمین پانی بہت کم پایا جاتاہے۔ پانی اور جانوروں کیلئے چارے کی تلاش میں ایک مقام سے دوسرے مقام پر گھومتے رہتے ہیں۔ چولستان کا موسم بہت شدید ہے۔ بہت کم بارشوں کی وجہ سے زیادہ تر رقبہ غیر آباد اور بنجر ہے۔ چولستانیوں کی مادری زبان سرائیکی اور اہم پیشہ مویشی پالنا ہے۔ چولستانیوں کی اہم سواری اونٹ ہے جو ریتلے علاقوں اور خشک جھاڑیوں میں بخوبی چل سکتا ہے۔ اگرچہ چولستان کے باسی صدیوں سے زندگی کی بنیادی ضروریات کو ترس رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی ثقافتی زندگی رنگوں سے بھرپور ہے۔اگرچہ چولستان کے باسی صدیوں سے زندگی کی بنیادی ضروریات کو ترس رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی ثقافتی زندگی رنگوں سے بھرپور ہے۔چولستانی مرد و عورت نہ صرف تقریبات بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی شوخ اور گہرے رنگ پہنتے ہیں۔ ان کے رواج اور روایات نہ صرف منفرد ہیں بلکہ بیرونی افراد کیلئے کشش کا باعث بھی ہیں۔چولستان باسیوں کی زندگی میں چنن پیر کا میلہ، اونٹ کی سواری، اونٹوں کا ناچ، اونٹوں کا دنگل، بیل دوڑ، جیپ ریلی اور ثقافتی رات رنگ بھرتے ہیں۔چولستان میں بولے جانا والا مارواڑی لہجہ ہے اپنے اندر بہت سے تاریخی وجغرافیائی عوامل کو ظاہر کرتا ہے۔ چولستانی معیشت کا انحصار زیادہ تر گائے249 بکریوں249 بھیڑوں پر کیا جاتا ہے مگر موسم سرما میں یہاں مختلف قسم کی دستکاری اور مٹی کے برتن بھی بنائے جاتے ہیں۔اس ضمن میں احمد پور شرقیہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ جہاں کے مٹی کے برتن پنجاب سمیت پورے ملک میں اپنی کھپت رکھتے ہیں۔چولستانی خواتین بھی اپنی فطرت کے مطابق زیورات سے خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔ان کے زیورات میں نتھ249 کٹ مالا249 کنگن اور پازیب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ جبکہ دیگر صحرائی علاقوں کی مانند ادھر بھی خواتین کی کلائیاں چوڑیوں سے بھری رہتی ہیں۔ چولستان میں بارشوں سے اگنے والا ایک جنگل بھی موجود ہے۔چولستان میں موجود ڈیر اور مسجد کم وبیش سو برس قبل تعمیر کی گئی۔ اس کی تعمیرمیں سفید ماربل استعمال ہوا۔ اس کا طرز تعمیر دہلی کے لال قلعہ اور کسی قدر بابری مسجد سے مشابہت رکھتا ہے۔
چولستان ایک وسیع وعریض صحرا ہے جس کی سرحدیں بھارتی صحرائی صوبے راجستھان سے پاکستانی صوبے سندھ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ سندھ میں اسے’’ تھر‘‘ اور پنجاب کے ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے ڈویژنوں میں’’ تھل‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ بہاولپور ڈویژن میںیہ ’’چولستان‘‘ اور ’’رَوہی‘‘ کہلاتا ہے۔ چولستان شمال کی طرف سے زیریں خطے سے گھرا ہواہے، جہاں200فٹ تک بلند ٹیلوں کی ایک قطار چلی آتی ہے۔ ان ٹیلوں میں اْگنے والے خاص طرز کی سَر، سروٹ، تیلے، سرکانے، ملھے اور ایسی ہی جھاڑیاں ملتی ہیں۔ ٹیلوں کے بننے اورمٹنے میں ہوا اَور آندھیوں کاخاصاعمل دخل ہے۔اس علاقے میں طرح طرح کے ٹیلے بنتے رہتے ہیں، لیکن سب سے اہم ٹیلے وہ ہیں جنہیں ’’برخان‘‘کہتے ہیں۔ برخان ایک ایساتنہا ٹیلہ ہوتاہے جس کے خدوخال تقریباً پہلی تاریخوں کے چاند جیسے ہوتے ہیں۔ چوڑے سے گول کنارے نیچے کی سمت جاتے ہیں۔ ٹیلے کی سمت کا نشان چلتی ہوا اَور تیز آندھی کی رو سے ملتا ہے اور سست روی اْس کی خاص نشانی ہے۔ چوٹی کا تاریک رْخ انتہائی خوبصورت اور ہموارہوتا ہے۔ جہاں ریت کے ذرے اْوپر چڑھتے رہتے ہیں۔ ٹیلے کی ہلالی سمت کی جانب گہری بل کھاتی ٹِیلی سی ہوتی ہے جسے ’’تلکن مکھڑا‘‘کہتے ہیں۔ جو تقریباً 35 ڈگری اْفقی زاویہ رکھتی ہے۔ چوٹی سے ریت کے ذرے ہوا سے اْڑ اْڑ کر زیریں حصّے کی جانب پھسل پھسل آتے ہیں اور ڈھلوان کی طرف اکٹھے ہوتے ہیں۔ جب تیز ہوا چل رہی ہو تو ریت کے ذروں کا ایک بادل چوٹی پر بنتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ ہلالی ٹیلے عام طور پر ایک ہموار سطح پر ہوتے اور اسے گھیرتے نظرآتے ہیں۔ ریت اس وقت بھی اکٹھا ہونا شروع ہو جاتی ہے جب اس کے رستے میں کوئی چھوٹا سا پہاڑی پتھر یا کسی جھاڑی کی جڑ یا شاخ آجائے۔ ایک مرتبہ جب خاصی ریت جْڑجائے تویہ نیچے کی جانب سرکنا شروع ہو جاتی ہے۔ عام طورپریہ ٹیلے ایک ایسی قطار یا زنجیر بناتے جاتے ہیں جو چلتی ہوا کی ڈھلوان کی طرف ہوتی ہے۔ زیر زمین 80فٹ کی گہرائی میں کڑوا پانی ملتا ہے۔ چار ہزار سال قبل مسیح قرب وجوار میں چولستان کی وہ تہذیب جڑیں پکڑ رہی تھی جسے عام طور پر دریائے ہاکڑہ کی نسبت سے تہذیب وادی ہاکڑہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔بارہ سو سال قبل مسیح تک دریا رواں رہا۔ پھرچھے سو سال قبل مسیح کے قریب اس کی روانی بے قاعدہ ہوئی اور اس کا وجود کرہ ارض سے مٹ گیا۔ یہاں پھلنے پھولنے والی ہاکڑہ تہذیب انسانی تاریخ میں ایک طویل باب رکھنے والی تہذیب ہے۔ثقافتی ترقی کے حوالے سے اس تہذیب کا موازنہ میسو پوٹیمیائی، مصری اور بابلونی تہذیبوں سے کیا جا سکتا ہے۔ متنوع سیاسی و جغرافیائی عوامل اس عظیم تہذیب کے خاتمے کا باعث بنے۔ حقیقتاً یہی دراوڑی آبادی ہے جو ہاکڑہ تہذیب کے آثار میں اب تک باقی بچی ہوئی ہے۔ اسے وقتاً فوقتاً دلاور، ڈیرہ جٹ، ڈیرہ راول جیسے مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے۔لیکن اس کا اصل دراوڑی نام ’’دراوڑ‘‘ معدوم زمانوں سے زندہ چلا آرہا ہے۔ خشک ہو جانے والے دریائے ہاکڑہ کی گزرگاہ کے قریب عین چولستان کے وسط میں قلعہ دراوڑکے کھنڈرات ابھی تک موجود ہیں۔ دریائے ہاکڑہ یاگھگھرکے مٹ جانے کاعمل قبل ازتاریخ کے زمانوں میں وقوع پذیر ہوا۔ اس لیے پسِ پردہ جغرافیائی تبدیلیوں کوجاننے کے لیے شاید ہی کوئی نشانی بچا ہو۔ اس کے نتیجے میں بہاولپورریجن کادوتہائی حصہ بے آب وگیاہ ہوگیا۔ اپنے گم شدہ ماضی کی وجہ سے اس عظیم دریاکوآج بھی جغرافیہ دان ’’گم شدہ دریا‘‘کے نام سے یادرکھے ہوئے ہیں۔ رِگ وید کی حمدوں میں اسے ’’مقدس سرسوتی‘‘کے نام سے شناخت کیاگیاہے جو پہاڑوں سے سمندرتک جانے والا سب سے پوتر دریا ہے۔ مہا بھارت میں اسے ’’دو اَوتار دریاؤں میں سے ایک‘‘ قرار دیا گیا ہے جو دھرماکھیسڑا (مقدس زمین)کی جنوبی سرحدتشکیل دیتا تھا۔پہلی آریائی آبادی اسی دریاکے کنارے آباد ہوئی تھی۔ چولستانی لوگوں کو مقامی طورپر روہیلے کہا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ مستقل طو رپر آریاؤں، جٹوں، بلوچیوں اور ایرانیوں کے حملوں کی زد میں رہے تھے لیکن سماجی ڈھانچہ اب تک تبدیل نہیں ہوا ہے۔ دریائے ہاکڑہ کا صحرا میں بدل جانا بھی ایک ممکنہ وجہ ہے جس نے اس جگہ کوناقابل رہائش بنایا۔
چولستان کو قلعوں کی سر زمین بھی کہتے ہیں کیونکہ دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ قلعے چولستان میں ہیں۔ ویسے تو پاکستان میں سینکڑوں قلعے ہیں لیکن چولستان میں قلعوں کی تعداد 29 ہے۔اس کے علاوہ محلوں اور پرانی عمارتوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ مساجد، خانقاہیں اور مزارات بھی ہیں۔ صحرائے چولستان کے راستوں کی مجموعی لمبائی ایک ہزار ایک سو ننانوے میل بنتی ہے۔لوگ تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے راستے صحرائی قلعوں تک جاتے ہیں۔ چولستان میں واقع قلعوں کے نام قلعہ پھلڑ فورٹ عباس، قلعہ مروٹ، قلعہ جام گڑھ مروٹ، قلعہ موج گڑھ مروٹ، قلعہ مبارک پور چشتیاں، قلعہ فتح گڑھ امروکہ بہاولنگر، قلعہ میر گڑھ مروٹ، قلعہ خیر گڑھ، قلعہ بہاول گڑھ، قلعہ سردار گڑھ ولہر، قلعہ مچھلی، قلعہ قائم پور، قلعہ مرید والا، قلعہ دراوڑ، قلعہ چانڈہ کھانڈہ، قلعہ خانگڑھ، قلعہ رکن پور، قلعہ لیارا صادق آباد، قلعہ کنڈیرا صادق آباد، قلعہ سیوراہی صادق آباد، قلعہ صاحب گڑھ رحیم یار خان، قلعہ ونجھروٹ، قلعہ دھویں، قلعہ دین گڑھ، قلعہ اوچ، قلعہ تاج گڑھ رحیم یار خان، قلعہ اسلام گڑھ رحیم یار خان، قلعہ مؤمبارک رحیم یار خان اور قلعہ ٹبہ جیجل حاصل ساڑھو بہاولنگر میں ہیں۔اس کے علاوہ بہت سی تاریخی عمارتیں، محلات اور مقامات بھی ہیں جبکہ بہت سوں کا وجود ہی ختم ہو گیا ہے۔
چولستان میں بارش بہت ہی کم ہوتی ہے۔ یہاں انسانوں، یہاں تک کہ تمام تر جانوروں کی زندگی پانی اور سبزے کے گرد ہی گھومتی ہے، جو کہ اَس صحرا میں بارش کے بعد میسّر آتی ہے۔ چولستان میں رہنے والے اللہ کے آسرے ہی جیتے ہیں۔ کیونکہ وہ خدا سے ہر وقت یہی دعا اور اِلتجاء کرتے ہیں کہ اْن کا رب کب اْن پر رحمت کی بارش برسائے گا؟ چولستان میں بارش اگر ہو جائے تو صحرا نِکھرا نِکھرا نظر آتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ہو۔ ساون کے مہینے کے بعد چولستان ایک خوبصورت بہار اپنے منظر میں دِکھاتا ہے۔ چولستان کے رہائشی وہاں کے موسم کے ساتھ بہت حد تک منسلک نظر آتے ہیں۔ وہ ہر موسم کی تیاری کر کے بیٹھے ہوتے ہیں۔ بارش ہونے سے پہلے ہی وہ ایک بہت بڑا گھڑا کھود کر اْس کے لئے مختلف راستے بناتے ہیں تاکہ جب بارش ہو تو بارش کا سارا پانی اِن راستوں کے ذریعے اْس گھڑی میں جمع ہو جائے۔ کیونکہ یہی وقت اْن کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا ہوتا ہے۔گرمیوں میں اکثر یہاں کا درجہ حرارت پچاس سنٹی گریڈ سے بھی اوپر چلا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے گھڑوں میں جمع پانی گرمی کی شدّت سے بخارات بن کر اْڑنا شروع کر دیتا ہے۔ پانی کا بخارات بن کر اْڑنا چولستان کے لوگوں کیلئے ایک سنگین مسئلہ بنا دیتا ہے۔ اِس کی کمی کے ساتھ ساتھ چولستان کے رہائشیوں کی پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ چولستان میں ہر قبیلے کا الگ الگ گھڑا ہوتا ہے۔ ہر قبیلے کے کا ایک سربراہ ہوتا ہے۔ پانی کا یہ گھڑا اْس کی ملکیت میں آتا ہے مطلب کہ یہ اْس کے نام الاٹ ہوتا ہے۔ کچھ ایسی جگہ بھی موجود ہیں اِس صحرا میں جہاں پر جانور اور انسان دونوں ایک ہی گھڑے سے پانی پیتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسی جگہ بھی بنائی گئی ہیں کہ جس میں انسانوں کے لئے الگ اور جانوروں کے لئے الگ پانی کا بندوبست کیا گیا ہو۔ چولستان کے بارے میں میں نے اکثر سنا ہے کہ دنیا اِدھر کی اْدھر ہو جائے گی لیکن یہاں کے لوگوں کی سوچ اور ثقافت شاید کبھی نہ بدلے گی۔ یہاں لوگ اب بھی ہزاروں سال پہلے والی دنیا میں رہتے ہیں۔چولستان کے باسیوں کی تہذیب و تمدن اور رسموں رواج اب بھی ہزاروں سال گزرنے کے باوجود بھی تبدیل نہیں ہوسکی۔ پوری دنیا یہ جشن منانے میں مصروف ہے کہ وہ اِکیسویں صدی کے 18 سال گزار چکی ہے لیکن چولستان کے باسی اب بھی سینکڑوں سال پرانے دور میں ہی جی رہے ہیں۔ پاکستان میں اب ایسے گھروں کی تعمیرات شروع کی گئی ہے جسے دیکھ کر عقل دھنگ رہ جاتی ہے اور اگر چولستان میں لوگوں کی رہائش پر غور کیا جائے تو وہ پختہ کوٹھوں کی جگہ گھاس پھونس کی جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ چولستان کے باسیوں سے اگر پوچھا جائے کہ آپ کے رہن سہن میں کتنا آرام ہے تو وہ اِس سوال کا جواب دینے سے بے بس نظر آتے ہیں۔ کیونکہ جواب ہمیں خود نظر آ رہا ہوتا ہے کہ یہ جھونپڑیاں اپنے مکینوں کو نہ بارش جیسے موسم میں آندھی سے بچا سکتی ہے اور نہ ہی دوپ کی تپش سے۔
بہاولپور جنوبی پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جس کی اپنی ایک شاندار تاریخ اور ماضی ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے اسے ایک ریاست کا درجہ حاصل تھاجس کے حکمران عباسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔یہ خاندان سندھ سے بہاولپور منتقل ہوا اور دْرانی سلطنت کے زوال کے بعد خودمختار ریاست کا اعلان کر دیا۔ بہاولپور کی ریاست چند ریاستوں میں ایک ہے جو شمال میں دریائے ستلج اور مشرق میں کوہ ہمالیہ کے درمیان واقع ہے۔ اس کے جنوب میں دریائے جمنا اور دہلی جبکہ مغرب میں سرسہ کا پرگنہ واقع ہے۔یہ ریاستیں مرہٹہ سلطنت کے زیر اثر تھیں جو سندھیا دورِ حکمرانی کے زیر اثر رہیں۔ تاوقت کہ سن 1803سے 1805کے دوران انگریز وں سے محاذ آرائی کے نتیجے میں مرہٹہ دورِ حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور یہ تمام علاقہ انگریزوں کے زیر انتظام چلا گیا۔ 1809میں معاہدہ لاہور کے تحت مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکمرانی دریائے ستلج کے دائیں جانب تک تسلیم کر لی گئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بہاولپور ریاست کا قیام سن 1802میں نواب محمد بہاول خان عباسی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ ان کے بعد نواب محمد بہاول خان عباسی سوئم نے 22فروری 1833ء کو انگریز حکمرانوں کے ساتھ ایک اتحاد قائم کیا جس میں انگریزوں نے ریاست بہاولپور کے اندر داخلی طور پر ان کی حکمرانی کو تسلیم کر لیا۔ جبکہ ریاست کے بیرونی معاملات میں یہ اختیار انگریزوں کو حاصل ہوگیا لیکن اس ریاست پر کبھی انگریزوں کی حکمرانی قائم نہیں ہوئی تاوقتیکہ 7اکتوبر 1947کو یہ ریاست پاکستان میں شامل ہو گئی اور 14اکتوبر 1955کو مغربی پاکستان کا حصہ بن گئی۔
سابق ریاست بہاول پور کے بہت سے علاقوں میں سینکڑوں بزرگان دین نے اشاعت اسلام اور تبلیغ کی۔ جس کی بدولت یہاں کے ماحول میں دین سے جذباتی وابستگی زیادہ دیکھی جا سکتی ہے۔ بزرگان دین کی محنتوں کے نتیجہ میں آج بھی بہاول پور کے علاقے دین کا گہوارہ سمجھے جاتے ہیں۔ بہاول پور سے تقریباً 60میل دور صحرائے چولستان میں قلعہ دراوڑ اور دین گڑھ کے درمیان پنجاب کی رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی تحصیل یزمان سے ذرا آگے چنن پیر کا مزار ہے۔ تقریباً 600سال قدیم اس مزار پر ہندو اور مسلمان آتے ہیں۔ حضرت عماد الدین المعروف چنن پیر کا عرس پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد عرس ہے جو مسلسل سات ہفتے یعنی فروری کی آخری جمعرات بمطابق ہندی مہینے چیت سے شروع ہو کر اپریل کی اوائل جمعرات تک جاری رہتا ہے ۔سات ہفتوں پرمحیط اس طویل اور تاریخی میلہ میں چولستان میں بسنے والے ’’روہیلے‘‘ اپنے فطری مزاج کے تحت پیروں، فقیروں اور بزرگان دین سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس تاریخی میلہ چنن پیر میں روہیلوں اور عقیدت مندوں کی عقیدت کا اظہار بخوبی دیکھا جا سکتا ہے کہ میلوں لمبے اور چوڑے ریتلے میدانوں میں ہجوم انسانی جنگل میں منگل کا سامان پیش کرتا ہے۔ شتربانوں کے قافلے اپنی منزلوں سے چلتے ہیں اور رات کے ملگجے اندھیروں یا صبح کی خاکستری روشنیوں میں ہوا میں ڈاچیوں کی گھنٹیاں عقیدت مندوں کی آمد کا اعلان کرتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ روہی میں ہر طرف بہار ہی بہار ہے۔بغیر سبزے کی اس بہار میں ، موسم بہار کے خو ش ر نگ پھولوں کی طرح رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس دیہاتی عورتیں اور مرد جگہ جگہ پڑاؤ ڈالے نظر آتے ہیں اور سیلانیوں کی بعض ٹولیاں باقاعدہ ڈھول تاشے کی تھاپ پر ناچتی گاتی چنن پیر کے مزار تک آ پہنچتی ہیں۔مسلسل سات جمعرات تک جاری رہنے والا یہ میلہ پانچویں جمعرات کو اپنے عروج پر پہنچتا ہے،اس دن ضلع بہاول پور میں بھی عام تعطیل ہوتی ہے۔
یوں تو چنن پیر سے کئی روایات ، قصے کہانیاں منسوب ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ جب معروف صوفی بزرگ حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری کا اس علاقے سے گزر ہوا تو یہاں ایک بے اولاد بادشاہ سادھارن کی حکومت تھی۔ سادھارن کوآپ کی کرامات کا علم ہوا تو آپ سے اولاد کیلئے دعا کی درخواست کی۔ درویش نے دعا مانگی تو بادشاہ کے ہاں شہزادہ پیدا ہوا جو اتنا خوبصورت تھا کہ لوگوں نے اس کو چاند سے تشبیہ دی اور چنن پکارنے لگے۔ ایک اور مستند روایت کے مطابق حضرت چنن پیرجیسلمیر کے ہندو راجا کی اولاد ہیں جن کے بارے میں سلسلہ بخاریہ کے عظیم روحانی بزرگ مخدوم حضرت جہانیاں جہانگشت نے پیش گوئی کی تھی کہ نومولود بہت بڑا مبلغ اسلام بنے گا جس کی تصدیق اس وقت کے ہندو نجومیوں نے بھی کی تھی۔چنن جب بولنے کی عمر کو آیا تو کلمہ پڑھنا شروع کیا ور رعایا میں مشہور ہوا کہ بادشاہ کا بیٹا غیر مذہب کا نام لیوا ہے تو سادھارن نے اپنے بیٹے کے قتل کا حکم دے دیا ادھر ملکہ نے اپنے بیٹے کی جان بخشی کی درخواست کی جو اس شرط پر قبول کی گئی کہ اب چنن محل کی بجائے صحرا میں رہے گا اور روتی بلکتی ملکہ نے چنن کو صحرا میں ایک ٹیلے پر چھوڑ دیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک ہرنی چنن کو دودھ پلا رہی ہے۔ یہ خبر ملکہ تک پہنچی تو وہ محل چھوڑ کر صحرا میں آگئی۔بادشاہ نے ایک مرتبہ پھر چنن کے قتل کا حکم صادر کردیا لیکن روایت کے مطابق جب شاہی محافظ ٹیلے پر پہنچے تو چنن غائب ہو چکے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ چنن پیر کا مزار ریت کے ایک بہت بڑے ٹیلے پر واقع ہے اور جب بھی اس پر عمارت قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ مزار کے احاطے میں ایک درخت ہے ۔ زائرین حاجت بیان کرنے کے بعد اس درخت سے کپڑے کی کتر باندھ کر چلے جاتے ہیں۔ اگر مناجات پوری ہوجائیں تو کتر کھل جاتی ہے اور پھر زائرین عرس پر نیاز چڑھانے آتے ہیں۔ روہی والوں کے نزدیک چنن پیر کی حیثیت خوشی کے دیوتا کی سی ہے وہ روحانیت کے اس مرکز کو مسرت و شادمانی کا سرچشمہ سمجھتے ہیں، یہاں ان کی ہر منت پوری ہوتی ہے۔ غموں کا مداوا اور خوشیوں کا سامان فراہم ہوتا ہے۔ بے اولادوں کو اولاد ، بن بیاہوں کو دلہنیں نصیب ہوتی ہیں۔ حضرت چنن پیر کے ہندو اور مسلمان یکساں معتقد ہیں۔ ہندو مجاور مزارکے ہاتھ سے تبرکات لیتے ہوئے کوئی پرہیز نہیں کرتے۔ مڑیچہ ہندو یہاں زیادہ تعداد میں حاضری دیتے ہیں اور دیگر غیر مسلم اقوام بھی حاضری دیتے ہیں۔ حضرت چنن پیر چولستان روہی کے اس علاقہ کی شناخت ہیں۔
حضرت عماد الدین المعروف چنن پیر کی درگاہ پر ابتدا میں لوگ پیدل، اونٹوں، بیل ریڑھوں، سائیکلوں اور گھوڑوں پر سوار ہوکر حاضری دینے آیاکرتے تھے لیکن اب ان کی جگہ موٹرگاڑیوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں وغیرہ نے حاصل کر لی ہے۔ اب بھی کئی عقیدت مند اپنی منتیں اتارنے کیلئے ڈھول کی تھاپ پر جھومر ڈالتے ہوئے جوق درجوق کئی کئی میل پیدل سفر کرکے پہنچتے ہیں۔ چولستان کے اس عظیم الشان تاریخی میلے میں ثقافتی اور مذہبی رنگ شامل ہوتے ہیں اور بہار کے شروع میں چولستان میں ایک معروف پودے ا کترن کی خوشبو ہر طرف پھیلتی ہے ۔ تو چولستان میں موجود چرند پرند اور علاقہ مکینوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ مسلمان اور ہندو لوک فنکار بھی اس میلہ میں اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ عرس کے آغاز کے بعد ہندوستان کی ریاستیں جیسلمیر کے علاوہ تھر، تھل اور چولستان کے روہیلے ہزاروں کی تعداد میں ان کے مزار پر حاضری دینے اور منتیں مانگنے کے لیے آنے لگے۔ اب بھی روہیلے اونٹوں کو سر سے پاؤں تک مکمل زیورات سے آراستہ کرکے قافلوں کی صورت آتے ہیں۔ اونٹوں پر بیٹھی خواتین ثقافتی لباس اور روہی کے زیورات سے مزین ہوتی ہیں۔ وہ سہرے اور گیت گاتی آتی ہیں۔ آگے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے نوجوان ہوتے ہیں۔ یہ قافلے رات کو الاؤ جلاتے ہیں، جانور ذبح کرتے ہیں، کیمپ فائر کی طرح رات گزارتے ہیں اور پھر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوجاتے ہیں۔ یہاں ہر جمعرات کو عرس کے دوران راتوں رات ایک شہر آباد ہوجاتا ہے چنن پیر کے اس تاریخی میلے میں اونٹوں کارقص، اونٹوں کی دوڑ، اونٹوں کی لڑائیاں، اونٹوں کے زیورات کی نمائش و خریداری، بیل گاڑی دوڑیں، کشتیاں، کلائی پکڑنا، تیتر بٹیرکی لڑائی، چولستانی رقص وجھومر، چولستانی لباس، زیورات کے علاوہ چولستانیوں کی زندگی سے وابستہ ہر سامان کی خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ یہاں پر عقیدت مند اپنی منتوں اور مرادوں کی تکمیل کیلئے حاضری دیتے ہیں۔ میلے کا ایک اہم عنصر گھوڑوں کی دوڑیں اور اونٹ کا ڈانس ہے۔ درگاہ سے متصل ایک مسجد بھی ہے تو دوسری طرف ایک اور مزار ہے جو بی بی پردہ پوش کے نام سے موسوم ہے۔
چنن پیر کا میلہ چولستانیوں کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ چنن پیر کا مزار اسی نام سے موسوم ایک چھوٹے سے گاؤں چنن پیر میں ہے۔چنن پیر کے اس تاریخی میلے میں اونٹوں کی لڑائی، دوڑ، رقص، بیلوں کی دوڑ، کشتیاں، چولستانی رقص و جھومر، تیتروں کی لڑائی، کلائی پکڑنا کے علاوہ چولستانی زندگی سے وابستہ سازو سامان کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔اس کے علاوہ مرد و خواتین اپنی منتوں کو پورا کرنے کیلئے چنن پیر کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔اونٹ رقص چولستانیوں کی تفریح کا اہم جزو ہے۔ اس کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔ اسے کبھی بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ یہ زیادہ تر قلعہ ڈیراور کی تقریبات اور میلوں ٹھیلوں کا اہم جزو ہے۔ اونٹ رقص کی طرح اونٹوں کا دنگل بھی چولستانیوں کی تفریح کا باعث ہے۔ اونٹ دنگل کے مقابلوں کی انعامی رقم مقرر کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دنگل میں شرطیں بھی لگائی جاتی ہیں۔اونٹوں کا دنگل زیادہ تر چنن پیر میلہ، قلعہ ڈیراور، فتو والی (سمہ سٹہ)، فیروزہ (رحیم یار خان) اور لیاقت پور میں ہوتا ہے۔ بیل گاڑی دوڑ عموماََ دو پہیوں والی گاڑی میں بیل جوت کر کی جاتی ہے۔ بیل گاڑی دوڑ چولستان کے علاوہ پنجاب کی ثقافت کا بھی اہم جز ہے اور جیتنے والے بیل کے مالک کو ایک بڑی انعامی رقم دی جاتی ہے۔موجودہ دور میں چولستان جیپ ریلی بھی چولستان کی ثقافت میں اہم رنگ بھر رہی ہے۔ محکمہ سیاحت نے 2005 میں اس کا آغاز کیا تھا۔اس ریلی میں سو سے زائد ملکی اور غیر ملکی ڈرائیور حضرات اور ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ یہ جنوبی پنجاب کی ایک بڑی ثقافتی اور سیاحتی تقریب بن چکی ہے۔ اس کا اختتام قلعہ ڈیراور پر ہوتا ہے۔ اس کا انعقاد عموماََ فروری کے مہینہ میں کیا جاتا ہے۔جیپ ریلی کے اختتام پر رنگا رنگ ثقافتی رات منائی جاتی ہے جس میں چولستانی فنکار اور موسیقار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس دوران قلعہ ڈیراور پر آتش بازی کے زریعے فضا میں رنگ بکھیر کر بے رنگ صحرا کو رنگین کیا جاتا ہے۔
چولستان ہماری ثقافتی اور تہذیبی روایات کا عکاس ہونے کی بدولت نا صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی کشش کا باعث ہے۔ یہاں کی روایتی زندگی کا اپنا حسن ہے جس کا تذکرہ یہاں کی لوک کہانیوں میں پایا جاتا ہے۔ صحرا کا حدود اربعہ اور رہن سہن حالات اور وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہا ہے۔ کبھی یہاں پر پانی اور خوبصورتی بھی نظر آتی تھی۔ لیکن اب ہر طرف ریت کے ذرے بکھرے نظر آتے ہیں۔ چار ہزار سال قبل یہاں کبھی دریائے ہاکڑہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا گزرتا تھا۔ ریت اور صحرائی ماحول میں یہ دریا کبھی صحرا کی شان دکھائی دیتا تھا لیکن اس کا خشک ہو جانا صدیوں پرانی بات بن کر رہ گئی۔ اور یہ سندھ اور ہند کے درمیان حد فاضل کا کام دیا کرتی تھیں یہ دریا جیسلمیر اور بیکانیر کی ریاستوں کو بھی جدا کرتا تھا اگرچہ اس دریا کا رخ تبدیل ہو گیا لیکن گم گشتہ تاریخ کے نشانات اب بھی موجود ہیں۔ چولستان کے صحرا نے ہر چیز کو ویرانی میں تبدیل کر دیا ہے یہاں کے لوگ ان تبدیلیوں سے کبھی بھی متاثر نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے اپنے طرز زندگی کو تبدیل کیا بلکہ جدوجہد کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ چولستان کو تھل، روہی اور چولستان کہا جاتا ہے۔چولستان کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مختلف روائتیں ملتی ہیں کیونکہ یہ خطہ زمین مغرب میں تھر اور جنوب مشرق راجپوتانے کے وسیع صحرا کے درمیان واقع ہے۔ کسی زمانے میں اسے چولن بھی کہا جاتا تھا۔ تندو تیز آندھیاں ریت کے متحرک ٹیلوں کو ایک جگہ سے اڑ ا کر دوسری جگہ لے جاتی تھیں۔ اکھاڑ پچھاڑ کے اس عمل کو چولن کہا جاتا ہے اور پھر یہ نام چولن سے چولستان بن گیا۔فروری اور جولائی کے درمیان لوگ پانی کی تلاش کیلئے ٹوبوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں سے قیمتی اشیاء، زیور اور منکے بھی دریافت ہوئے ہیں جنہیں دھاگے میں پروکر یہ لوگ اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں یہ زیور اور منکے چولستانی لوگوں کو بہت بھاتے ہیں۔ جو بیضوی اور تکونی شکل کے ہوتے ہیں۔ چولستانیوں کی زندگی بظاہر تھکا دینے والی ہے مگر وہ اس زندگی سے بیزار نہیں بلکہ اسے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ بادلوں کی آمد کو اچھا شکون مانتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ہوا ان بادلوں کو اڑا کر نہ لے جائیں۔ آندھی اور ہوا سے قافلے راستہ بھٹک جاتے ہیں۔ صحرائی بگولے بڑے خوف ناک ہوتے ہیں۔ قافلے والے ان پھیلے ہوئے خوفناک بگولوں کے قریب بھی نہیں جاتے۔ صحرائی آندھی کا منظر بڑا خوفناک ہوتا ہے یہ بگولے سرخی مائل اور بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ چولستان کی ایک اپنی ہی نرالی اور اچھوتی دنیا ہے۔ ایسی دنیا جو دل کی اجڑی ہوئی بستی کو آباد کر دیتی ہے اور روح کے سوتے ہوئے تاروں کو چھیڑ دیتی ہے۔ چولستان میں چاندنی راتوں کے نظارے بہت دیدنی ہوتے ہیں یوں لگتا ہے جیسے انسان کے چاروں طرف نور کا ایک جہان بکھرا ہو۔ غروب آفتاب کا منظر ایسے لگتا ہے جیسے صحرا آنکھیں بند کر رہا ہے۔
چولستان اپنے دامن میں بہت سی نایاب و کم یاب جنگلی و صحرائی حیات لئے ہوئے ہے مگر کالا ہرن ایک ایسا جانور ہے جس کی نسل تھل سے مکمل طور پر ناپید ہو چکی ہے جبکہ صحرائے چولستان روہی کے قدیم باسی روہیلے بھی کئی عشروں سے اسے دیکھنے کو ترستے ہیں۔ روہی میں کالا ہرن اب صرف لال سوہانرا نیشنل پارک تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔کالا ہرن زیادہ تر ہندوستان میں پایا جاتا ہے۔پوری دنیا بھر میں کالا ہرن کی افزائش کے اب تک صرف 13سنٹر بنائے گئے ہیں جن میں سے 2 سنٹر پاکستان میں ہیں۔ کیرتر نیشنل پارک سندھ میں جب کہ لال سوہانرا نیشنل پارک پنجاب میں ہے۔تاریخ کے مطابق سابق ریاست بہاول پور کے آخری حاکم نواب صادق محمد خان عباسی پنجم نے لال سوہانرا کے مقام پر 1927ء میں 17769ایکڑ پر مشتمل ریاست کا سرکاری جنگل لگوایا جسے فاریسٹ سب ڈویڑن کی حیثیت دی گئی۔ بعد ازاں 1966ء میں صدر مملکت ایوب خان کی دعوت پر بین الاقوامی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کے عہدیدار پاکستان آئے تو انہوں نے پاکستان میں جنگلی حیات کی مسلسل گھٹتی ہوئی تعداد کی وجوہات کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کے علاقے بہاول پور میں ایسی آب وہوا موجود ہے جو کالے ہرن کی افزائش کے لئے موثر ہے۔ سو اس غرض سے صدر ایوب کے دور حکومت میں لال سوہانرا کے مقام پر جنگلات کے لئے مزید کئی ہزار ایکڑ مختص کئے گئے جب کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 26 اکتوبر1972ء کو سابق ریاست بہاولپور کے اس سرکاری جنگل کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ ایک لاکھ 60 ہزار5 سو 68 ایکڑ پر اراضی پر پھیلا ہوا لال سوہانرا اپنے اندر کئی جہان لئے ہوئے ہے مگر اس پارک کا خوبصورت ترین اور دلکش حصہ جسے ’’ہرن محل‘‘ کا نام دیا جا سکتا ہے، میں صرف چولستان سے مخصوص ہرن’’کالا بک‘‘ موجود ہے۔سرائیکی زبان میں ’’بک‘‘ ہرن کے بچے کو کہتے ہیں۔ اپنے محصوص رنگ اور شکل و صورت کی بنا پر ہرن کی یہ قسم سرائیکی میں ’’کالا بک‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ ’’کالابک‘‘ سے ہی انگریزی میں اس کا نام "Black Buck” وجود میں آیا۔صحرائے چولستان کو اگر دو حصوں میں تقسیم کریں تو ایک حصہ گریٹر جبکہ دوسرا Lesser کے طور پر واضح صورت میں موجود ہے۔ چولستان جسے سیمی ڈیزرٹ بھی کہا جا تاہے، کے علاقے میں ہی لال سوہانرا نیشنل پارک واقع ہے۔ یہی نیم صحرائی علاقہ کالے ہرن کا آبائی وطن ہے۔ یہ ہرن گریٹر چولستان میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ روایت ہے کہ جنگ عظیم دوم کے بعد امریکی ایئر فورس کے ایک اعلیٰ افسر نے نواب صادق محمد خان عباسی پنجم سے کالے ہرن کا ایک جوڑا تحفتاً لیا جسے امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے جنگل میں افزائش کیلئے رکھا گیا۔ 2005ء میں سامنے آنے والی ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ کے مطابق امریکامیں کالے ہرن دو ہزار سے زائد کی تعداد میں موجود ہیں۔ 1972 میں جب لال سوہانرا جنگل کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تو چولستان میں حد سے زیادہ شکار ہونے کی وجہ سے کالا بک قریباً معدوم ہو چکا تھا، اس لئے حکومت پاکستان نے ٹیکساس ہی سے کالے ہرن کے دس جوڑے منگوائے جنہیں یہاں افزائش سنٹر میں رکھا گیا۔لال سوہانرا نیشنل پارک کے Black Buck Breeding Centre میں اس وقت کم و بیش 582 ہرن موجود ہیں جن میں 223 کے قریب نر جب کہ 189 مادہ اور دیگر بچے ہیں۔ کالے ہرن کے کئی جوڑے فروخت بھی کئے جا چکے ہیں۔ لال سوہانرا نیشنل پارک کی انتظامیہ کے مطابق ایک جوڑا 60 سے 70 ہزار روپے تک فروخت ہوتا ہے۔ لال سوہانرا نیشنل پارک کے اس سنٹر سے دس جوڑے رحیم یارخاں کے علاقہ ٹوبہ ٹوکن والا پر بھی شفٹ کئے گئے جہاں ان کی افزائش جاری ہے۔ لال سوہانرا نیشنل پارک کا بلیک بک بریڈنگ سنٹر ایشیا بھر میں واحد سنٹر ہے جہاں کالا ہرن اتنی زیادہ تعداد میں موجود ہے۔
کالے ہرن کی خوراک میں درختوں کے پتے، سبز چارہ خاص طور پر برسیم، کیکر اور جنڈ کی پھلیاں اور چنے شامل ہیں۔ ایک جوڑے کے رہنے کیلئے تین سے چار کنال ایریا درکار ہوتا ہے۔ مادہ چھ ماہ بعد ایک بچہ جنم دیتی ہے جو تین دن ماں کا دودھ پی کر چوکڑیاں بھرنے لگتا ہے۔ چھ ماہ کے اندر اگر بچے کے سینگ نکلنا شروع ہو جائیں تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ وہ نر ہے۔ جو دو اڑھائی سال کی عمر کا کالا ہرن افزائش کے قابل ہو جاتا ہے۔ سینگ کے علاوہ نر اور مادہ کی پہچان یہ ہے کہ نرکے جسم کے اوپر والے حصے کا رنگ دو سال میں ہی کالا یا گہرا بھورا ہونا شروع ہو جاتا ہے لیکن نچلا حصہ سفید رہتا ہے جب کہ مادہ کا پورا جسم عمر بھر سفید اور ہلکا بھورا (لائٹ براؤن) ہی رہتا ہے۔ نر ہرن کے سینگ کم و بیش 28انچ لمبے ہوتے ہیں جن میں کم از کم 3 سے چار کنڈل بنے ہوتے ہیں۔ جوان نر ہرن کا قد قریباً32 انچ جبکہ وزن 25 سے45 کلو گرام تک ہوتا ہے۔ کالے ہرن کی عمر دس سے بارہ سال ہے جبکہ بعض صحت مند ہرن 18 سال تک کی عمر بھی پاتے ہیں۔ ’’کالا بک‘‘ ہرن کی ایسی قسم ہے جو دیگر کے مقابلے میں کم ایکٹو شمار ہوتی ہے۔ تاہم نر اور مادہ میں سے نر نسبتاً زیادہ ایکٹو اور جھگڑالو سمجھا جاتا ہے۔ نر ہرن کم و بیش 16 سے18 مادہ کو اپنے گھیرے میں لے کر ایک فرضی حصار بنا لیتا ہے جس میں دوسرے نر کو آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ چیت (فروری ، مارچ) اور ساون (جولائی، اگست) اس کی افزائش کا موسم ہوتا ہے۔ کالا ہرن انسان سے مانوس نہیں ہوتا بلکہ خوف کھاتا ہے۔ نر کالا ہرن افزائش نسل کی رت میں انسان کو قریب تک نہیں پھٹکنے دیتا بلکہ اگر کوئی قریب جانے کی کوشش کرے تو یہ حملہ بھی کر سکتا ہے۔ سرائیکی لوک ادب میں کالا ہرن سے متعلق کئی لوک کہانیاں اور ٹپے موجود ہیں۔ ہندی اساطیر کے مطابق کالا ہرن (جسے کرشنا جنکا بھی کہا جاتا ہے) چند رما (چانددیوتا) کی سواری اور خوش حالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح ہندی اساطیر میں جہاں اسے کرشن مہاراج کا محبوب جانور تصور کیا جاتا ہے وہیں بدھ مت سے متعلق جاتکا کہانیوں میں اسے مہا تما بدھ کا 70 واں جنم بتایا گیا ہے۔ تھل اور روہی کے مقامی باشندے اسے بزرگ جانور سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر چولستانی لوگ اسے ’’روہی دا فقیر‘‘ کہتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا یقین ہے کہ کالا ہرن ایسا بزرگ جانور ہے جو چولستان ایسے وسیع و بسیط صحرا میں بھولے بھٹکے مسافروں کو انسانی آبادی کا راستہ دکھاتا اور ٹوبوں (پانی کے قدرتی تالاب) تک ان کی راہنمائی کرتا ہے۔ لیکن کئی عشروں سے چولستان میں دفاعی اہمیت کے پیش نظر کئے جانے والے اقدامات و متعدد دیگر معروضی وجوہات کے باعث نہ صرف یہاں کے مقامی پکھی واس قبائل اپنے فطری نقل و حرکت کی آزادی کے حق سے محروم ہو چکے ہیں بلکہ بے تحاشہ غیر قانونی شکار ہونے کے سبب ’’روہی دا فقیر‘‘ کالا ہرن بھی اپنے قدرتی ماحول میں قریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔
چولستان کئی مرتبہ خشک سالی کا شکار ہوا ۔چولستان آج کل پھر خشک سالی کا شکار ہے جس سے دو لاکھ سے زائد انسانی آبادی اور 20 لاکھ لائیو سٹاک کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔ چولستان کے مکینوں نے نقل مکانی بھی شروع کر دی۔بارش نہ ہونے کے باعث 1200 سے زائد ٹوبہ جات خشک ہونے شروع ہو گئے جن میں گوپالی، کوٹانہ، قصائی والا، چاچڑاں، قیمہ، چشمہ بھاڈاں، کے علاوہ دیگر ریگستانی علاقے شامل ہیں۔ریگستان کیلئے اربوں روپے کے فنڈز دئیے جانے کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے۔ سابقہ حکومت کا 2 ارب 37 کروڑ سے زائد کا ترقیاتی فنڈ بھی مکینوں تک نہ پہنچ سکا۔ فنڈز کی بندربانٹ نے مکینوں کی زندگی سے ہی کھلواڑ کر دیا۔ریگستان کی خشک سالی اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر غریب مکین حکومت پنجاب کی نظر کرم کے منتظر ہیں۔اگر چولستان میں موجود عمارتوں، قدرتی ماحول و کلچر، تاریخی قلعوں اور پرانی عمارتوں کو تھوڑی سی توجہ مل جائے تو دنیا کے سیاحوں کا رخ پاکستان کی طرف ہو سکتا ہے جس سے پسماندگی، بے روزگاری کا خاتمہ اور زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے