Voice of Asia News

پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں فواد چوہدری کی وائس آف ایشیا سے گفتگو

لاہور ( وائس آف ایشیا )پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کی وائس آف ایشیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اب یو اے ای،سعودی عرب اور چائنا سے ہمارے مذاکرات ہوئے ہیں اور ا سکے بعد جو نتیجہ آیا تو پاکستان کو فوری طور پر حل ہونے والے جو مسائل تھے وہ ختم ہو گئے ہیں۔اب ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات کرنے ہیں لیکن اب ہمیں ہر صورت میں آئی ایف ایم کی سپورٹ نہیں چاہئیے۔پہلے تو یہ حالات تھے کہ ہمیں ہر صورت میں آئی ایف کی سپورٹ چاہئیے تھی تاہم اب پاکستان کے حالات بہتر ہیں۔ہم پر تنقید کی گئی کہ آپ فوری طور پر آئی ایم ایف کے پاس کیوں نہیں گئے تو وہ ہم اس لیے نہیں گئے کیونکہ آئی ایم ایف کی ڈالر مہنگا کرنے کی ڈیمانڈ تھی جو کہ ہم پوری نہیں کر سکتے تھے۔جب کہ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ جلدی‘ مشکل یا کسی دبائو میں آکر نہیں کریں گے‘ ہمیں کوئی جلدی یا پریشانی نہیں‘ ہم نے متبادل انتظامات کر لئے ہیں‘ آئی ایم ایف سے معاہدہ ملک کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا‘۔ آئی ایم ایف مذاکرات کے حوالے سے اسد عمر نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال کے تناظر میں ہم نے کہا تھا کہ پہلے ہم دوست ممالک کے پاس جائیں گے۔سعودی عرب سے معاہدہ ہو چکا ہے۔ دیگر دوست ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں۔ معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے کیا اقدامات اٹھانے ہیں اس حوالے سے کوئی دورائے نہیں ہے۔ ملکی معیشت کو 35 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ 19 اربڈالر کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہے۔ 900 ارب روپے خسارے کی وجہ سے ملکی معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ہم قرضہ واپس نہیں کر رہے‘ سود کی ادائیگی مسئلہ ہے۔ ٹیکس نہیں بڑھانا چاہتے۔ اس لئے متبادل اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر فوری معاہدہ نہیں کرناچاہتے۔ پاکستان کے مفادات کو مدنظر رکھ کر ہی معاہدہ کریں گے‘ کوئی جلدی یا پریشانی کی بات نہیں ہے‘ ہم نے متبادل انتظامات کر لئے ہیں۔ جلدی‘مشکل یا دبائو میں آکر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے جس سے پاکستان کی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے