Voice of Asia News

دنیا بھر میں روازنہ اوسطاً 137 خواتین کے قتل کا انکشاف

نیویارک(وائس آف ایشیا  )اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیاتاور جرائم (یو این او ڈی سی) کی جانب سے جاری کردہ نئے اعدادوشمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر دنیا بھر میں اوسطاً 137 خواتین کو ان کے شوہر یا اہلخانہ قتل کر دیتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہاگیاکہ 2017 میں قتلکی گئی 87 ہزار سے زائد خواتین میں سے 50 فیصد سے زائد اپنے قریبی افراد کے ہاتھوں قتلہوئیں اور اکثر کو ان کے گھر میں ہی گھناؤنے جرم کا نشانہ بنایا گیا۔اعدادوشمار میں دعویٰ کیا گیا کہ تقریباً 30 ہزار خواتین کو ان کے شریک حیات جبکہ 20 ہزار اپنے عزیز و اقارب اور رشتے داروں کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم نے واضح کیا کہ اس کے باوجود مردوں کے قتل کی شرح خواتین سے 4 گنا زیادہ ہے اور دنیا بھر میں قتل ہونے والے ہر 10 افراد میں سے 8 مرد ہوتے ہیں، البتہ اپنے شریک حیات کے ہاتھوں قتل ہونے والے 10 افراد میں سے 8 خواتین ہوتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ شریک حیات یا پارٹنر کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں خواتین کے قتل کی شرح غیر متناسب حد تک کہیں زیادہ ہے۔اس سلسلے میںافریقہ کو سب سے خطرناک براعظم قرار دیا گیا جہاں خواتین کو اپنے شریک حیات یا اہلخانہ سے سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے اور ایک لاکھ میں سے 3.1 اموات اسی وجہ سے ہوتی ہیں۔البتہ 2017 میں ایشیا میں خواتین انتہائی عدم تحفظ کا شکار رہیں اور مجموعی طور پر 20 ہزار خواتین کو ان کے پارٹنر یا اہلخانہ نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔اس سلسلے میں انکشاف کیا گیا کہ عموماً مردوں کا اپنے شریک حیات کے ہاتھوں قتل کم ہوتا ہے لیکن جن خواتین نے اپنے شریک حیات کو قتل کیا، ان میں سے اکثر کافی عرصے سے ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار تھیں۔دوسری جانب مردوں کی جانب سے اپنی شریک حیات کے قتل کی وجوہات حسد، غیرت کے نام پر قتل، عورت پر حق جتانا اور ان کی جانب سے چھوڑ دینے کے خدشے کو بتایا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں جہاں ایک طرف خواتین کے قتل کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے وہیں دوسری جانب اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر خواتین کے قتل کے جرائم منظر عام پر نہیں آتے یا رپورٹ نہیں ہوتے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •