Voice of Asia News

پاکستان کے صحراتحریر : محمد قیصر چوہان

پاک سر زمین ہر قسم کی دولت اور خوبصورتی سے مالامال ہے ،خالق کائنات نے سر زمین پاکستان کو بہترین آب و ہوا، خوبصورت جنگلی حیات، نایاب درخت، خوبصورت علاقے، پودے، پہاڑ، اور چھوٹے چھوٹے دریا، غاریں، جھیلیں، زبردست میدان اور حیرت انگیز صحرا وں سے نوازا ہے۔ خوبصورتی منظر یا چہرے میں نہیں دیکھنے والی آنکھ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔کسی کو گورا رنگ بھاتا ہے تو کسی کو کالا۔ کسی کے دل میں نخلستان کی جگہ ہوتی ہے تو کسی کے قلب و روح پر ریگستان چھا جاتا ہے۔ ہرے بھرے شمالی علاقہ جات کی طرح قدرت نے صحرا کو بھی ایک منفرد خوبصورتی سے نوازا ہے جو اپنے چاہنے والوں کے دلوں کواتناہی کیف و سرور عطا کرتی ہے جو سرسبز وادیاں اپنے عشاق پر نچھاور کرتی ہیں۔پاکستان کے دامن میں جہاں کشمیر249 گلگت بلتستان وشمالی علاقہ جات کی سرسبز وادیاں ہیں وہیں اس کا دامن دلوں کو مسخر کرنے والے صحراؤں سے بھی بھرا ہوا ہے۔جن میں صحرائے چولستان ،تھر ،تھل اور خاران جیسے خوبصورت خطے اپنی پہچان آپ ہیں۔ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کیلئے پاکستان میں موجود صحراؤں کی بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔
صحرائے تھر
صوبہ سندھ کا صحرائی ضلع تھرپارکر 22 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے جس کی آبادی اس وقت 15لاکھ سے زائد ہے۔ جس کا صدر مقام مٹھی ہے۔ پہلے مٹھی، ننگر پارکر،چھاچھرو، ڈویپلو چار تحصیلیں تھیں۔ اب اسلام کوٹ اور ڈھالی کو بھی تحصیل کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ تھر میں ہر طرف ریت کے چھوٹے بڑے ٹیلے دیکھے جا سکتے ہیں ننگر پارکر کے کچھ علاقے پہاڑی بھی ہیں میدانی علاقہ بہت کم ہے۔ اس کے ساتھ بھارت کا علاقہ راجستھان ہے جس کے شہر جیسلمیر اور باڑ میر سرحد کے ساتھ لگتے ہیں۔ تھر کو دُنیا کا تیسرا بڑا صحرا بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ پانی کی کمی کے حوالے سے مشہور تھرپارکر کبھی سمندر کا حصہ تھا مگر صدیوں پہلے سمندر اس سے روٹھ کر دور ہوتا گیا اور یہ علاقہ سوکھتا چلا گیا مٹھی اور قرب و جوار کے علاوہ دیگر علاقوں کا زیادہ انحصار اب بھی زیر زمین کنوؤں اور بارش کے پانی پر ہے۔ مٹھی، ڈیپلو، اسلام کوٹ اور ننگر پارکر سمیت اس کی نمایاں تحصیلوں میں جہاں ترقی دیکھی جا سکتی ہے سہولیات کی فراہمی زندگی کو جدید خطوط پر ڈھال رہی ہے لیکن دور دراز کے علاقے اب بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم نظر آتے ہیں جن میں چھاچھرو اور ڈاہلی نمایاں ہیں۔ تھر صرف صحرا ہی نہیں اس کی زمین زرخیز بھی ہے اور قدرتی خزانوں سے مالامال بھی۔ تھر کول کے سبب یہاں بین الاقوامی معیار کی سینکڑوں میل لمبی دور رویہ مین شاہراہ تعمیر کی گئی ہے یہاں گرینائٹ کا خزانہ بھی ہے اور تاریخی آثار بھی ہیں جو سیاحت کے فروغ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
تھر کی غالب اکثریت دیہی علاقوں میں مخصوص قسم کے جھونپڑے بنا کر رہتی ہے۔ ان جھونپڑوں کو ’’چونرا‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہندوستان سے ملحق ہونے کے سبب اس ضلع میں کثرت سے ہندو آباد ہیں جبکہ مسلمان اقلیت میں ہیں۔ ہندو مسلم دونوں طبقات کے چونرے بظاہر تو ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں لیکن قومیت کے تفریق کیلئے چونروں کی چھتیں ذرا مختلف بنائی جاتی ہیں۔ ہندو اپنے چونرے کی چھت کو نوکیلا بناتے ہیں۔ جبکہ مسلمان گھروں کے چونروں کی چھت بیغوی یا گنبد نما ہوتی ہے ان چونروں کی دیواریں گندم کے بھوسے کو مٹی میں گوندھ کر بنائی جاتی ہیں گنبد نما چھتیں ایک مخصوص جھاڑی کو سکھا کر تیار کی جاتی ہیں، جسے لکڑی کے فریم پر منڈھ کر آہنی تاروں یا رسیوں کی مدد سے باندھ دیا جاتا ہے۔ تھر باسیوں کے بنائیے ہوئے ان چونروں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ گرم موسم میں ٹھنڈے اور سرد موسم میں گرم رہتے ہیں۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق تھر میں شرح خواندگی 39 فیصد ہے جبکہ غیر سرکاری اعدادو شمار سے 18 سے 20 فیصد بتاتے ہیں۔ یہاں کی آبادی کی گزر بسر گھریلو صنعت، کشیدہ کاری اور مال مویشیوں پر منحصر ہے۔ تھر کے باسی مرد و عورت نہایت جفاکش ہیں۔ہزاروں برس قبل تھر کا علاقہ سمندر کا حصہ تھا249 موسمی تبدیلیوں کے باعث سمندر پیچھے ہٹتا گیا اور بارش کی کمی اور دیگر اسباب نے مل کر اسے ایک بے آب وگیاہ صحرا میں بدل دیا جو اب اپنی تشنگی میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ اس صحرا میں تاریخی مساجد249 مندر249 گرینائٹ کے پہاڑ249 نمک کی جھیلیں اور زیر زمین کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ نباتات اور حیوانات سے مزین یہ خطہ اپنی خوبصورتی میں منفرد ہے۔
کالے سونے (کوئلے) کی بڑی مقدار میں دیافت کے بعد تھر کی قدر و قیمت میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ یہاں کے رہائشیوں کی بھی کایا پلٹ ہونے کا سامان ہو رہا ہے۔ تھرکول پروجیکٹ کے ضمن میں یہاں کے لوگوں کیلئے تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار کے بہترین ذرائع ہی سامنے نہیں آرہے بلکہ مستقبل قریب میں پاکستان سے بجلی کے بحران کا خاتمہ بھی نظر آرہا ہے۔ تھر کا کوئلہ ’’لیگانائیٹ‘‘کہلاتاہے یہ کوئلے کی نسبتاً ہلکی فارم ہے اس کا ہیٹنگ پوائنٹ بھی کم ہے اسی لیے اسے بجلی بنانے کیلئے آئیڈیل کوئلہ کہا جارہا ہے۔ تھر کے کوئلے کی ہیٹنگ ویلیو تین ہزار کول کلو گرام ہے اس میں نمی کا تناسب 50فیصد ہے پوائنٹ 8فیصد سلفر ہے اس لیے یہ کوئلہ بجلی بنانے کیلئے بہترین تصور کیا جا رہا ہے۔تھر میں کوئلے کے ذخائر 1991 میں دریافت ہوئے یہ ذخائر 175 بلین ٹن ہیں جن کا شمار دنیا میں کوئلے کے بڑے ذخائر میں ہوتا ہے اس کا رقبہ تھر میں 900 کلو میٹر تک وسیع ہے جو تسلسل سے ایک ساتھ ہی کسی کیک کی صورت دفن ہے جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں مدفون کوئلہ مختلف جگہوں پر یایا گیا ہے پاکستان پر یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے اس کالے سونے کے خزانے کو ایک ہی جگہ جمع کردیا ہے تھر کول کے ذخائر کو 13 مختلف بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے جو تین فیز پر مشتمل ہیں۔ بلاک 2 جس میں اینگرو کمپنی کام کر رہی ہے اس میں کل ذخیرے کا ایک فیصد کوئلہ دفن ہے جس کیلئے کھدائی کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے۔ پورے تھر سے اگر کوئلے نکلے جو 900 کلو میٹر کے رقبے پر محیط ہے تو یہ ایک صدی سے زائد برقی توانائی کا مسئلہ نہ صرف پاکستان میں حل کر سکتا ہے۔ بلکہ پاکستان اپنی ضرورت سے زائد بجلی دوسرے کئی ممالک کو فروخت کر کے اچھا زر مبادلہ بھی کما سکتا ہے۔
صحرائے چولستان
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ریاست بہاولپور میں موجود صحرائے چولستان کو مقامی آبادی ’’روہی ‘‘ کے نام سے بھی پکارتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس خطے کی آواز خواجہ غلام فرید کی شاعری میں بھی اسے روہی کے نام سے پکارا گیا ہے۔ جس قدر’’روہی ‘‘میں ریت موجود ہے اسی تناسب سے منظرکشی خواجہ غلام فرید کی شاعری میں بھی موجود ہے۔ آپ لفظوں سے ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ سننے اور پڑھنے والوں پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو’’روہی ‘‘میں محسوس کرتے ہیں۔
لفظ ’’چولستان‘‘ ترکی لفظ ’’چول‘‘ سے لیا گیا ہے جس کے معنی ’’صحرا‘‘ کے ہیں۔ تاریخی ضلع بہاولنگر معدوم سے معلوم تک میں اس لفظ کی کئی توجیہات پیش کی گئی ہے۔ 1945 میں منعقد ہونے والی سلوی کلچر کانفرنس میں لیفٹننٹ کرنل ویسٹ لینڈ نے 1870 سے 1935 کے درمیان چولستان کے سروے پر مشتمل ایک منفرد نقشہ پیش کیاتھا۔ جس میں ریت کے ٹیلوں کی جگہ بدلنے کی واردات دکھائی گئی تھی۔ اس نقشہ کے مطابق ریت کے ٹیلوں نے ان 65 برسوں میں آدھ میل سفر طے کیا تھا۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ لفظ ’’چولن ‘‘اسی حرکت کی غمازی کرتا ہے۔ یہ قیاس بھی کیا جاتا ہے کہ لفظ چولستان ایک عراقی لفظ ’’چیلستان‘‘ کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کے معنی ہیں ’’بے آب وگیاہ وادی‘‘۔ مقامی زبان سرائیکی میں ’’چھول‘‘ لہر کے معنوں میں لیا جاتا ہے ‘اسی انداز سے اگر لفظ ’’چھولیاں‘‘ ادا کیا جائے تو وہ اپنے آہنگ کی بنیاد پر لفظ ’’چولستان‘‘ کے قریب تر ہے۔ مقامی روایات کے مطابق لفظ چولستان کا ماخذ ’’چولی‘‘ ہے اس کی وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ چولستان کی عورتیں چونکہ گھاگھرے پر کسی ہوئی چولی پہنتی جو کہ شکل وشبہات میں اس خطہ کے ٹیلوں سے ملتی جلتی ہے۔ خطہ کی مقامی بولی میں ’’روہ‘‘ پہاڑ کو کہتے ہیں۔ چونکہ چولستان میں جدھر بھی نظردوڑائی جائے تو ریت کے ٹیلے پہاڑوں کا سا منظر پیش کرتے ہیں اس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ اسے اسی حوالے سے ’’روہی ‘‘کا نام دیا گیا ہو۔
چولستان کا رقبہ ایک ہزار‘ دو سو مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ صحرائے تھر سے جا ملتا ہے جوکہ بھارت اور سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ جنوب مشرق میں بھارتی ریاست راجھستان سے جا ملتا ہے جسے تھر کہتے ہیں۔ مورخین کے مطابق چولستان کے صحرا میں کسی زمانے میں 400 قلعے موجود تھے۔ یہ قلعہ تین قطاروں میں تھے۔ پہلی قطار پھولرا سے شروع ہوکر لیرا تک249 دوسری رکن پور سے اسلام گڑھ جبکہ تیسری بیلکنار سے کپوتک تھی۔ ان کی دیواریں جپسم اور گارے سے تعمیر کی گئی تھیں۔ کچھ کا وجود تو ایک ہزار قبل مسیح کا پتہ دیتا تھا۔ اس کا مشہور و معروف مقام قلعہ ڈیراول ہے جسے قلعہ ڈیر اور سنگھ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قلعہ بہاول پور کی تحصیل احمد پور شرقیہ سے 49 کلومیٹر کی مسافت پر صحرا کے وسط میں موجود ہے۔ 220 میٹر کے اس چوکور قلعہ میں 40 برج ہیں۔ اس قلعہ میں سے ایک سرنگ موجود ہے جو اپنے عروج کے زمانہ میں براستہ جیسلمیر249 دہلی تک جاتی تھی۔ قلعہ کی دیوار کے ساتھ ساتھ ایک نالہ موجود ہے۔ مورخین کے مطابق یہاں سے ایک دریا گزرتا تھا جو کہ دریائے ستلج کی ایک شاخ تھی۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ یہ قلعہ ریاست جیسلمیر کے راجہ کی ملکیت تھا‘ اسے اس کے بھانجے نے تعمیر کروایا۔ اس قلعہ کی دوبارہ تعمیر نواب محمد بہاول خان اول نے 1733 میں کروائی۔ جبکہ ریاست بہاول پور کی الگ عملداری کا آغاز 1690 میں ہوا اور مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا 1719 تا 1748 کے دور میں باقی صوبے داروں کی طرح یہ ریاست بھی خودمختار ہوگئی جبکہ 22 فروری 1833 کو انگریزوں اور بہاولپور ریاست کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کی روسے یہ ریاست بڑٹش سٹیٹس آف انڈیا کے ماتحت آگئی جو کہ ڈائریکٹ برطانوی عمل داری کا حصہ نہیں تھی۔
چولستان کے زیریں علاقہ کو ’’ہاکڑہ ‘‘کہا جاتا ہے۔ جہاں خود رو جھاڑیاں اور پودے مثلا سر249 تیلے249سرکانے249 سروٹ اور ملھے جیسے نباتات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اس علاقہ کے ٹیلوں کی بلندی دو سو فٹ تک ہوتی ہے۔ آندھیوں اور طوفانوں سے چولستان میں جہاں ٹیلے ایک جگہ سے دوسری جگہ سرکتے ہیں وہیں یہ مختلف شکلیں بھی اختیار کر لیتے ہیں ‘جن میں ایک ’’برخان‘‘ کہلاتی ہے۔ ’’برخان‘‘ شکل وشبہات میں پہلی تاریخوں کے چاند سے مماثلت رکھتے ہیں۔چولستان میں پانی کی قلت رہتی ہے۔ لوگ ٹوبھوں سے پانی پیتے ہیں۔ جو کسی گہرے علاقے میں بارش کے آنے سے جمع ہوجاتا ہے۔ زیرِ زمین پانی 80 فٹ نیچے موجود ہے مگر وہ کڑوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قبل از مسیح چولستان ایک سرسبز و شاداب علاقہ تھا۔4000 قبل مسیح دریائے ہاکڑہ کے کنارے اس کی عظیم تہذیب ہاکڑہ نے سانسیں لینا شروع کیں‘جو کہ 1200 قبل مسیح تک پوری آب وتاب کے ساتھ موجود رہی کیونکہ دریا اپنے عروج پر تھا۔600 ق م میں دریا کے پانی میں کمی ہونا شروع ہوئی اور بالاآخر ایک عظیم تہذیب اپنے انجام کو پہنچی۔ اس کا مقام مصری249 بابلی اور میسوپوٹیمائی تہذیبیں کے قریب تھا۔
چولستان میں بولے جانا والا مارواڑی لہجہ ہے اپنے اندر بہت سے تاریخی وجغرافیائی عوامل کو ظاہر کرتا ہے جبکہ ریاست میں موجود ڈائیلیکٹ کو ریاستی بھی کہا جاتا ہے۔ چولستانی معیشت کا انحصار زیادہ تر گائے249 بکریوں249 بھیڑوں پر کیا جاتا ہے مگر موسم سرما میں یہاں مختلف قسم کی دستکاری اور مٹی کے برتن بھی بنائے جاتے ہیں۔اس ضمن میں احمد پور شرقیہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ جہاں کے مٹی کے برتن پنجاب سمیت پورے ملک میں اپنی کھپت رکھتے ہیں۔چولستانی خواتین بھی اپنی فطرت کے مطابق زیورات سے خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔ان کے زیورات میں نتھ249 کٹ مالا249 کنگن اور پازیب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ جبکہ دیگر صحرائی علاقوں کی مانند ادھر بھی خواتین کی کلائیاں چوڑیوں سے بھری رہتی ہیں۔ چولستان میں بارشوں سے اگنے والا ایک جنگل بھی موجود ہے۔چولستان میں موجود ڈیر اور مسجد کم وبیش سو برس قبل تعمیر کی گئی۔ اس کی تعمیرمیں سفید ماربل استعمال ہوا۔ اس کا طرز تعمیر دہلی کے لال قلعہ اور کسی قدر بابری مسجد سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ چولستان میں موجود چنٹر پیر کا مزار پوری ریاست میں ایک روحانی مقام کا درجہ رکھتا ہے جبکہ روہی میں ہونے والی جیپ ریلی پاکستان سمیت دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔خشک سالی نے چولستان کی زراعت اور جانوروں پر تباہ کن اثرات مرتب کئے ہیں۔
صحرائے تھل
ضلع میا نوالی سے لے کر مظفرگڑھ، جھنگ ، بھکر اور لیہ کے متصلہ علا قے میں نظر آنے والے ٹیلو ں کا تسلسل ’’تھل ‘‘ کہلا تا ہے۔ تھل کے مغرب میں دریا ئے سندھ اور مشرق میں جہلم ، چناب اور راوی ایک دوسرے سے مرحلہ وار بغل گیر ہو کر بہتے ہیں پھر بھی تھل پیا سا ہے۔بہا ول پور میں اسی سلسلے کو چولستا ن کہتے ہیں جس میں کبھی دریائے ہا کڑہ ( گگھر )بہتا تھا۔ مگراب وہا ں صرف ریت کے لا متنا ہی ٹیلو ں کا سلسلہ ہے۔تھل کی لمبائی 190میل اور چوڑائی 70میل ہے چوڑائی کہیں 24میل بھی ہے گو یا چوڑائی گھٹتی بڑھتی چلی گئی ہے۔سرائیکی وسیب اور وادیءِ سندھ کی تہذیب کے با رے میں خصوصاً تھل کی تاریخ کے بارے میں بہت کم معلو ما ت حا صل ہو ئی ہیں۔ا س سلسلے میں سفر نا مو ں، مذہبی کتا بو ں اور سکو ں سے زیا دہ تر اندازے لگا ئے گئے ہیں۔ گریٹر تھل کے با رے میں اہم حو الہ چندر گپت مو ریہ کا ہے۔ اس کے علا وہ چانکیہ مہا راج کا ارتھ شا ستر اور جین مت کی کتب ہما ری رہنما ئی کر تی ہیں۔ تہذیب و ثقافت تھل کی ا قتصادیا ت کے تین بنیا دی عنا صر ہیں ۔
الف۔ زراعت۔ب۔ غلہ با نی۔ج۔اونٹ پا لنا تھل کے لو گو ں کی زراعت کا دارومدار با رانی فصلو ں پر ہے جن میں چنے ، با جرہ اور گو ارا سر فہرست ہیں۔ تھل میں ’’جا ل ‘‘نا می درخت بہت مشہور ہے جس پر ’’پیلو ں ‘‘ پھل کی طرح لگتی ہیں اور بہت لذیز ہو تی ہیں۔اس درخت کی لکڑی کو دیمک نہیں لگتی۔ اس کے’’مسواک ‘‘ حکمت کی رو سے فائدہ مند ہو تے ہیں۔عقیدے میں تصوف کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ لو گ عموماً پیر پرست ہیں۔ تھل کی شاعری میں درد و سوز ہے اور محرومیوں کی ترجما ن ہے۔طرز رہا ئش نہا یت سادہ ہے۔ مٹی کے گھر وندے اور گھا س پھونس کی چھت مقبول ہے لیکن چار دیواری کا رواج نہیں۔ شادی بیا ہ کی رسوما ت وادی ءِ سندھ کی تہذیب سے ملتی جلتی ہیں ،تھل کے لو گ غضب کے کھو جی ہو تے ہیں۔ میلوں ٹھیلوں اور عرسوں میں شرکت کو ضر وری سمجھا جا تا ہے۔ خو شی کے مو قع پر موسیقی کا بند وبست ضر وری خیال کیا جا تا ہے۔جسے ’’چوکی بھرنا ‘‘ کہتے ہیں۔ تھل میں چاند اور تا روں کی بہت زیا دہ اہمیت ہے۔ رات کو اونٹ پر سفر کرنا انھیں پسند ہے۔ مقبو ل صنف شاعری ’’ دوہڑے‘‘ ہے۔ ہیررانجھا ، سسی پنو ں اور سوہنی ماہیوال کے قصے شوق سے سنے جا تے ہیں۔ عموماً ایک قصہ گو ہا رمونیم کی لے پر گا کر سنا تا ہے۔ تھل میں دن گرم اور رات ٹھنڈی ہو تی ہے۔ لو گو ں کی عمر اوسطاً میدانی علاقے سے زیا دہ ہو تی ہے۔ تھل کے لو گ پیدل سفر کرنے کو پسند کرتے ہیں اس لئے زیا دہ صحت مند بھی ہو تے ہیں۔ تیزرفتا ر سواری ’’ بیکا نیر کے ما رہے ‘‘ ہیں جو تیز دوڑتے ہیں اور قیمتی ہو تے ہیں۔ عام طور پر جتنے میلے بھی لگتے ہیں ان میں اونٹوں کی خر ید و فروخت کی منڈی ضر ور لگتی ہے۔ تھل کا اہم درخت ’’ ٹولھا ‘‘ ہے جسے کھگل(اْردو زبان میں فراش کہتے ہیں) بھی کہتے ہیں اس کے پتلے پتے نو کیلے ہو تے ہیں اور جب ہوا چلتی ہے تو ایک سحر انگیز آواز پیدا ہو تی ہے۔اسے تھل کی فطری مو سیقی کہا جا سکتا ہے۔ تھل میں ایک جڑی بو ٹی پیدا ہو تی ہے جو دور دور تک خو شبو بکھیرتی ہے۔تھل میں مشروم قدرتی طور پر پیدا ہو تی ہے اگر اس کی پیداوار پر تو جہ دی جا ئے تو پو ری دنیا کو تھل ’’ مشروم ‘‘ فراہم کر سکتا ہے۔ مشہور عوامی کھیل دودا ،کبڈی ہے۔ اس کھیل کے بڑے بڑے کھلا ڑی تھل سے تعلق رکھتے ہیں۔ تھل کے لو گ وسعتِ صحرا کی طرح فراخ دل اور چاند تا روں کی طرح ٹھنڈے دل و دما غ کے ما لک ہو تے ہیں اس روما ن پر ور قدرتی فضا کی تہذیب بھی روما ن پر ور ہے مگر زندگی کٹھن ہے۔ تھل سانپوں کا گھر ہے۔ یہا ں کے لو گو ں اور سانپوں میں آنکھ مچولی ہو تی رہتی ہے۔ جنگلی جا نوروں میں خرگوش ، گیدڑ اورلو مڑ بہت تعداد میں پا ئے جا تے ہیں اور اس کے علا وہ کا لے اور گو رے تیتر بھی فراوانی سے ملتے ہیں۔ چولستان میں ہرن بھی کثرت سے پا ئے جا تے ہیں۔ صحراؤں کی جنگلی حیات جنگلو ں کی جنگلی حیا ت سے کم خوبصورت نہیں۔ تھل کی تہذیب و ثقافت فطری حسن کا اعلیٰ نمو نہ ہے اور اپنی الگ شنا خت رکھتی ہے۔ایک تھلو چی کو دور سے پہچانا جاسکتا ہے۔ تیکھے نقوش ، چھر یرا بدن اور لمبا قد ، سر پر پگڑی ان کی پہچان کیلئے کافی ہے۔
صحرائے سرفرنگا شگر
گلگت بلتستان، پاکستان کے شمال میں خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں ایڈونچر سے بھرپور سیاحت، قددرتی حسن اور خوبصورتی سے مزین مقامات کے علاوہ تاریخی مقامات بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔سکردو سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پرشگر کے علاقے میں دنیا کابلند ترین سرد صحرا ہے جسے کولڈ ڈیزرٹ اورسرفرنگا صحرا شگرا بھی کہا جاتا ہے۔اس سردصحرا کی سطحِ سمندر سے بلندی ساڑھے سات ہزار فٹ کے قریب ہے۔ سرفرنگا صحرا عام صحراؤں کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے ایک طرف دریائے سندھ بہتا ہے تو ساتھ ہی اس کی ریت پر چاروں طرف برف سے ڈھکی چوٹیوں کا سایہ پڑتا رہتا ہے۔
صحرائے خاران
یہ صحرائے صوبہ بلوچستان کے جنوب مغرب میں واقعہ ہے، اس صحرا کو عام طور پر ’’مٹی کا صحرا‘‘ کہا جاتا ہے۔ پاکستان نے 30 مئی 1998 کو اپنے دوسرا جوہری تجربہ ’’ چاغی‘‘ کا تجربہ بھی اسی صحرا میں کیا تھا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دلکش صحراؤں میں آباد لوگوں کے روایتی کلچرکوفروغ دینے کیلئے عملی اقدامات بھی کیے جائیں۔ صحراؤں کے ثقافتی ورثے کا تحفظ کرنے کیلئے ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ سیاحت کیلئے آنے والے لوگوں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔پاکستانی حکومت اگر ذرا سی توجہ دے تو ان خوبصورت صحراؤں کو ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے ڈالر کمانے کا ذریعہ بناسکتی ہے۔ جس سے جہاں ان علاقے کے مکینوں کی زندگی میں انقلاب آئے گا وہیں ملکی خزانہ میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے