Voice of Asia News

دفاعی نمائش آئیڈیاز2018کاکا میاب انعقاد:محمد قیصر چوہان

دفاعی نمائش آئیڈیاز2018کاکا میاب انعقاد:محمد قیصر چوہان
21 ویں صدی کو ٹیکنالوجی کی صدی بھی کہا جاتا ہے اور روز نت نئی ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ سامنے آرہا ہے،دُنیا بھر کے ممالک بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی دفاعی صلاحیت میں جدت لا رہے ہیں تو ایسے میں پاکستان بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔نوے کے دہائی میں امریکا کی پاکستان سے ناراضگی اتنی ہی عروج پر تھی جتنی آج کل ہے۔ نوے کے دہائی میں امریکا اور بھارت کے درمیان سیاسی اور سفارتی قربت میں اضافہ ہوا تو بھارت نواز امریکی سینیٹر پریسلر نے ایک ترمیم کے ذریعے پاکستان کو جاری فوجی معاونت بند کردی اور پاکستان کو فروخت کیے گئے ایف 16 لڑاکا طیاروں کو جو ڈیلیوری کیلئے تیار تھے، اچانک روک لیا گیا۔ ان طیاروں کی قیمت پاکستان نے ادا کربھی کردی تھی اور ان طیاروں کے بجائے امریکا نے اپنی ناقص گندم پاکستان کو ارسال کردی۔ سرحد کی دوسری طرف بھارت تیزی سے اپنی دفاعی صلاحیت کو بڑھا رہا تھا اور بھارت نے روایتی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ میزائیل ٹیکنالوجی کو فروغ دینا شروع کردیا تھا جس سے پاکستان کو دفاع کے لحاظ سے تشویش لاحق ہوگئی تھی۔جس کے بعد پاکستان کی دفاعی مصنوعات کے تحقیقی ادارےGIDS کی جدید دفاعی ایجادات نے دفاعی ماہرین کوحیرت میں مبتلا کردیا۔ یہ ادارہ پاکستان کے دفاع اور سرحدوں کی نگرانی کے نظام سی فورکابھی خالق ہے۔ اسی ادارے نے ڈرون ٹیکنالوجی کو جنگی مقاصد کے استعمال کے قابل بنایا ہے۔
پاکستان میں غیر مستحکم سیاسی حکومتوں نے اپنی ملکی دفاعی ضروریات پوری کرنے کیلئے مقامی صنعتوں کو فروغ دینا شروع کیا اس کی بنیاد ’’ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا‘‘ کو مضبوط تر بنانے سے ڈالی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان نے دفاعی شعبے میں متعدد اہم منصوبوں پر کام شروع کردیا، چند ہی سال میں پاکستان نے مقامی ذرائع سے مین بیٹل ٹینک الخالد، لائٹ بیٹل ٹینک الضرار، بکتر بند گاڑیاں تیار کرلیں۔ایسے میں دوست ملکوں کے تعاون سے پاکستان نے میزائل ٹیکنالوجی پر بھی توجہ دی اور چند ہی سال میں بہتر میزائل متعارف کرائے جن سے بھارت کی خطے میں عسکری برتری تقریباً مساوی ہوگئی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دفاعی تربیت، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل وار فیئر، سمیولیٹرز کے ساتھ ساتھ فضائی جنگ کے آلات کی تیار میں نمایاں اہداف حاصل کیے ہیں۔امریکا کا خیال تھا کہ پاکستان کو پابندیوں میں جکڑ کر اور بھارت کو کھلی چھوٹ دے کر وہ خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے سیاسی اور سفارتی اہداف کے حصول میں کامیابی سے استعمال کرلے گا۔ مگر پاکستانی قوم کی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نے امریکا کے اس خواب کو چکناچور کردیا۔
پاکستان نے نوے کی دہائی میں حاصل کرنے والی دفاعی صلاحیت کو دنیا پر اجاگر کرنے کیلئے ’’ڈیپو‘‘ (DEPO) ’’ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن‘‘ قائم کی۔ جس نے نہ صرف بیرون ملک ’’میڈ ان پاکستان‘‘ دفاعی مصنوعات کو متعارف کرایا بلکہ پاکستان میں تیار ہونے والے اسلحے کی نمائش ’’آئیڈیاز‘‘ بھی منعقد کرنا شروع کی۔ اس نمائش کا مقصد دفاعی شعبے میں پاکستان کی پیداواری صلاحیت سے دنیا کو روشناس کرانا تھا اور اسلحے کی عالمی تجارت میں پاکستان کو ایک مقام دلانا تھا۔ سال 2000 سے شروع ہونے والی ’’عالمی دفاعی نمائش و سیمینار‘‘ (آئیڈیاز) کا سفر اب تک جاری ہے اور اس سال آئیڈیاز 2018 منعقد کی گئی جو اپنے سلسلے کی دسویں نمائش تھی ۔ چار روزہ نمائش میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، اور ملک کی سیاسی قیادت‘ وزراء بھی شریک ہوئے۔آئیڈیاز 2018 پر نظر ڈالی جائے تو گزشتہ دو دہائیوں میں اس نمائش کا دائرہ کار بڑھاہے اور عالمی دفاعی نمائشوں میں اس نے اپنی ایک جگہ بنالی ہے۔ 2000 میں یہ نمائش ایکسپو سینٹر کے چار ہالز میں منعقد ہوئی تھی جس میں مندوبین کی تعداد ایک سو بھی کم تھی۔ مگر کراچی میں پاکستان کی دسویں دفاعی نمائش آئیڈیاز2018 میں اس مرتبہ نمائش ایکسپو سینٹر کے چھ ہالز کے علاوہ تین عارضی ہالز تک پھیل چکی ہے ۔دفائی نمائش میں امریکا، روس، برطانیہ اور چین سمیت 52 ممالک کے 260 سے زائد اعلی سطحی مندوبین نے شرکت کی۔جن میں مختلف ملکوں کے وزرائے دفاع، وزرائے دفاعی پیداوار، سیکریٹری دفاع، جوائنٹ چیفس اور آرمی، نیوی اور ایئرفورس کے سربراہاں شامل ہیں۔
دفاعی نمائش آئیڈیاز2018میں پاکستان کی جانب سے اپنے روایتی ہتھیار بشمول میزائیل، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، اینٹی مائننگ آلات، میزائل بوٹس اور سب سے بڑھ کر جے ایف 17 تھنڈر کو نمائش میں پیش کیا گیا۔کچھ فوجی ساز و سامان جو آئیڈیاز 2000 میں رکھا گیا تھاان میں بہت سی تبدیلیاں کردی گئی ہیں۔ جنگی آلات کے ڈیزائین ہر سال کی گاڑی کی طرح تبدیل تو نہیں کیے جاسکتے ہی۔ مگر ان کی فتار، صلاحیت، گن کی رینج، استعمال ہونے والے بارود کی صلاحیت، اور متعدد شعبوں میں تحقیق کے ساتھ ساتھ تبدیلی کی جاتی رہی ہے۔ پرانا اور نیا ٹینک بظاہر ایک جیسا لگے گا مگر ان دونوں کی کارکردگی میں بہت فرق ہوگا۔ پاکستان میں بننے والی دفاعی مصنوعات پر مسلسل تحقیق اور انہیں خوب تر بنانے (ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ) کا عمل جاری ہے۔ امریکا نے بھی ایف 16 طیارہ ستر کی دہائی میں بنایا تھا جسے بتدریج اپ گریڈ کیا گیا ہے۔مگر ایسا نہیں کہ پاکستان نے کوئی دفاعی ٹیکنالوجی اس عرصے میں تیار ہی نہیں کی۔ پاکستان نے نگرانی کے بغیر پائلٹ کے طیاروں پر تحقیق کرکے اچھے یو اے ویز تیار کر لیے ہیں۔ اس مرتبہ نمائش میں بغر پائلٹ کے نگرانی کا طیارہ (جسے فوجی زبان میں یو اے وی اور عام فہم طور پر ڈرون کہتے ہیں) نمائش میں پیش کیا گیا۔ جی آئی ڈی ایس کا تیار کردہ براق اور عقاب پیش کئے گئے۔ ان کے علاوہ نگرانی، تربیت اور ڈیجیٹل وارفیئر کے متعدد نئے آلات بھی نمائش میں رکھے گے تھے۔
مقامی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے بے مثال دفاعی قوت کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے باوجود پاکستان ایک پرامن ایٹمی طاقت اور اسلامی دنیا کا نہائت اہم ملک ہے‘ دنیا میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کی فوج نے اقوام متحدہ کے دستوں میں شامل ہوکر بے مثال کردار ادا کیا ہے جنوب ایشیاء میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کی کوششیں اور حکمت عملی اقوام عالم سے چھپی ہوئی نہیں ہیں پاکستان اس خطہ کا واحد ملک ہے جو اس خطے میں امن کے قیام کیلئے غیر معمولی قربانی دے رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اس خطہ میں اور دنیا میں امن قائم رہے قیام پاکستان کے وقت ہمارے حصے میں بہت کم صنعتیںآئی تھیں‘ وسائل بھی محدود تھے‘ اس کے مقابلے میں مسائل بے شمار‘ لیکن پاکستانی قوم نے بے مثال ایثار اورقربانی دے کر صرف اور صرف اپنے دفاع کیلئے اس ملک کو دنیا کی ساتویں بڑی ایٹمی طاقت بنایا‘ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے ہیں لیکن اپنے وطن کے چپہ چپہ کی حفاظت کرتے ہوئے وطن پر جان بھی قربان کرنا جانتے ہیں ہمارے اداروں نے دفاعی قوت کے اہداف حاصل کرنے کیلئے اپنے اعصاب مضبوط رکھے اور دنیا میں آج ہم ایک طاقت کے طور تسلیم کیے جاتے ہیں کہ ہمارے بغیر ہمیں نظر انداز کرکے اس خطہ میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ایشیاء دُنیا کا یک بڑا خطہ ہے اور یہ دفاعی مصنوعات اور پیداوار کی ایک بڑی مارکیٹ بھی ہے اس نمائنش میں شریک ہونے والے تجارتی وفود اس موقع سیضرور بہترین استفادہ کریں گے اس خطہ میں دنیا میں پاکستان کی حیثیت بہت ہی اہمیت کی حامل ہے ہمارے ایک جانب بھارت ہے‘ جس نے ہمیں آج تک دل سے قبول نہیں کیا‘ دوسری جانب افغانستان ہے جہاں کا امن خود پاکستان کے امن کے لیے بہت لازمی ہے‘ ایک جانب ایران ہے‘ اور چین کے علاوہ روس بھی اس خطہ کا بڑا ملک ہے‘ پاکستان کے سرحدوں سے تھوڑا دور ہوجائیں تو مشرق وسطی کے ممالک ہیں‘ خلیج کی ریاستیں ہیں اپنی اس جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے پاکستان بہت ہی اہم ملک ہے اور ہم دنیا میں ہونے والے واقعات سے کبھی براہ راست اور کبھی بلواسطہ متاثر ہوتے ہیں لہٰذاپاکستان کو اپنی دفاعی پوزیشن اور اندرونی سلامتی کیلئے ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے اور ہماری مسلح افواج ہر قسم کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں ہم اپنی فضاؤں‘ اپنی ارض پاک‘ اور اپنے سمندر حدود کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اتحاد‘ تنظیم اور یقین محکم جیسے سنہری اصول ہمیں بانئی پاکستان محمد علی جناح نے سکھائے ہیں جس طرح پاکستان نے وقت کے ساتھ دیگر صنعتوں میں ترقی کی اسی طرح دفاعی مصنوعات میں بھی بہت ترقی ہوئی‘ الخالد ٹینک‘ ضرار ٹینک‘ غوری مزائل‘ شاہین مزائل‘ عنزہ مزائل‘ سعد‘ رائفلز‘ گولیاں اور دیگر بے شمار دفاعی سازو سامان پاکستان نے ان تھک محنت اور مقامی وسائل کی مدد سے تیار کیا‘ ہماری اسلحہ ساز فیکٹری ‘ پاکستان آرڈینیس فیکٹری واہ کینٹ میں دنیا کا بہترین اسلحہ تیار ہوتا ہے اور یہ اسلحہ اس خطہ میں امن کے قیام میں مددگار ہے ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ہم امن چاہتے ہیں اور یہ پاکستان کی طے شدہ اور سوچی سمجھی قومی پالیسی ہے پاکستان کسی کے خلاف بھی جارحیت کا سوچ بھی نہیں سکتا اور نہ جارحانہ عزائم رکھتا ہے لیکن اپنے دفاع سے بھی غافل نہیں ہے ہمارے پاس دیگر مزائلوں کے علاوہ شاہین سوم پاکستان کا جدید ترین درمیانی حدِ ضرب والا بیلسٹک میزائل (ایم آر بی ایم) ہے جس کی رینج 2750 کلومیٹر/ 1700 میل ہے اور یہ اپنے ہدف کو 22,226 کلومیٹر فی گھنٹہ (آواز سے 18 گنا زیادہ تیز رفتاری) سے تباہ کرسکتا ہے۔اس رینج اور رفتار کا مطلب یہ ہے کہ بھارت سے جنگ کی صورت میں شاہین تھری بیلسٹک میزائل دہلی کو صرف تین منٹ میں نشانہ بناسکے گا اور بھارتی فوج کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں ہوگا اگر دشمن نے بری نظر سے ارض وطن کی جانب دیکھا تو پوری قوم متحد ہوکر سینہ سپر بن جائے گی اور جذبہ شہادت لے کر اٹھے گی اور پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑے گی اور دشمن کے لیے تو ہماراشاہین تھری ہی کافی ہے اس میزائل سے بھارت کے ان سب سے دور دراز فوجی اڈوں کو بھی صرف 15 منٹ میں تباہ کیا جاسکے گا جو جزائر نکوبار و انڈمان میں واقع ہیں۔یہ شاہین بیلسٹک میزائل سلسلے کا تیسرا میزائل ہے جس کی خاص بات اس میں ٹھوس ایندھن کا استعمال ہے اسے بیک وقت کئی وارہیڈز سے لیس کیا جاسکتا ہے جو روایتی بھی ہوسکتی ہیں اور غیر روایتی(نیوکلیائی)بھی؛ جب کہ ان کا مجموعی وزن 1000 کلوگرام تک ہوسکتا ہیکراچی میں ہونے والی دفاعی اسلحہ کی نمائش میں بھی پاکستان کے تیار کردہ دفاعی سازو سامان رکھا گیا ہے جس میں پاک فوج‘ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے استعمال میں آنے والی دفاعی اشیاء موجود ہیں لیکن ہماری قومی پالیسی یہ ہے کہ ہم بطور پر امن ملک خطے میں اسلحے کی دوڑ کے خلاف ہے اور پاکستان اس کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ہمارے دفاعی آلات صرف امن کے فروغ کیلئے ہیں،ہماری دفاعی مصنوعات سٹیٹ آف دی آرٹ ہیں،پاکستان دفاعی پیداوار میں تیزی سے اْبھرتا ہواملک ہے،جس کا واضح ثبوت عالمی سطح پرآئیڈیازکا نمایاں مقام حاصل کرناہے۔پاکستانی ہتھیاروں نے عالمی منڈیوں میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے جس کا سہرا مسلح افواج کی قربانیوں اور فوج کے عزم کو جاتا ہے۔
پاکستان کے دفاعی مصنوعات کے تحقیقی ادارے GIDSنے بیک وقت چارگولے داغنے والی ملٹی بیرل بکتر شکن توپ تیار کی ہے اس توپ کو ایک بریف کیس جتنے جدید فائرنگ سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے۔جس میں توپ پر لگے ہوئے طاقتور کیمرے کے ذریعے اندھیرے میں بھی دشمن کی بکتر بند گاڑیوں کونشانہ بنایاجا سکتاہے 90میٹرکے فاصلے سے کنٹرول پینل کے ذریعے ایک کے بعد ایک4 گولے داغے جاسکتے ہیں جس سے دشمن کی متعدد بکتر بندگاڑیوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔ عام توپ کے برعکس اس توپ کو چلانے والے (فائرر) دشمن کے جوابی وار سے محفوظ رہتے ہیں۔ دوسری اہم پیش رفت اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل ویپن سسٹم ہے جس کے ذریعے 3000میٹر تک کے فاصلے پر دشمن کے ٹینکوں کو نیست و نابود کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ تحقیقی ادارے GIDSکے ماہرین نے اس 40کلو گرام وزنی میزائل سسٹم کا وزن 20کلو گرام تک کم کردیا ہے۔ ٹینکوں کی جنگ میں میزائل داغنے کے بعد ٹینکوں کے جوابی فائرکے خطرے کی وجہ سے اپنی پوزیشن تیزی سے تبدیل کرنا ہوتی ہے اور زیادہ وزنی ویپن سسٹم کو تیزی سے حرکت دینے میں دشواری دفاعی صلاحیت کے آڑے آتی ہے اس لیے ادارے کے ماہرین نے اس سسٹم کو کارگر بنانے کے ساتھ اس حد تک ہلکا کردیا ہے کہ اب اس سسٹم کو 2افراد تیزی کے ساتھ ایک سے دوسری جگہ منتقل کرسکتے ہیں۔ تحقیقی ادارے GIDSکی ایک اور اہم پیش رفت رینج ایکسٹینشن کٹ ہے جس کے ذریعے جہازوں سے داغے جانے والے بموں کی رینج میں100 کلو میٹر تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔یہ ٹیکنالوجی عام بموں کوبھی میزائل کی مانند ہدف پر جھپٹنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے جس سے دشمن کی فائرنگ رینج میں آئے بغیر ہدف کو نشانہ بنانا ممکن ہوگا۔ یہ کٹ 250کلو گرام سے 500کلو گرام تک وزن کے بموں پر نصب کی جاسکتی ہے جسے 36ہزار فٹ بلندی سے گرائے جانے والے بم پر نصب کیا جاسکتا ہے۔ جہاز سے بم گرائے جانے کے بعد بم کے اوپر 2 پر(ونگ) نمودار ہوتے ہیں جوبم کو100کلو میٹر تک اضافی فاصلہ طے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مددسے پاک فضائیہ دشمن کی فائرنگ رینج میں آئے بغیرہی اپنے ہدف کونشانہ بناسکتی ہے جس سے پاک فضائیہ کے نقصان کا امکان کم سے کم ہوگا۔
اس ادارے کا تیار کردہ ایک اہم ترین ہتھیار ’گن شاٹ ڈی ٹیکشن سسٹم‘ہے جو جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے دشمن کی جانب سے فائر کی جانے والی گولی کی آواز، ہوا میں پیدا ہونے والی مخصوص سنسناہٹ اور مقناطیسی لہروں کے ذریعے حملہ آور کی درست پوزیشن اور سمت کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ اس نظام میں سائلنسر لگے ہتھیاروں سے کی جانے والی فائرنگ کی سمت کا تعین کرنے کی بھی صلاحیت موجود ہے۔یہ نظام 150 میٹر کے دائرے میں کسی بھی سمت سے فائرنگ کی صورت میں سیکنڈوں کے اندر نہ صرف فائر کرنے والے کی لوکیشن کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس نظام سے منسلک کیمروں کا رخ بھی فوری طور پر حملہ آور کی جانب موڑ کر اسے واضح کیا جاسکتا ہے۔ اس نظام کے ساتھ کسی بھی قسم کے ہتھیار بھی منسلک کیے جاسکتے ہیں جو فائرنگ کرنے والے کو فی الفور نشانہ بناسکتے ہیں اس سسٹم سے منسلک سینسرز 300میٹر تک کے دائرے میں فائرنگ کی آوازکوبھی ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دفاعی نمائش آئیڈیاز2018گزشتہ 18برسوں میں یہ دسویں نمائش ہے ۔ پاکستان نے اولین نمائش کے موقع پر جو نعرہ دیا تھا آج تک اس پر قائم کہ ’’ہتھیار برائے امن‘‘۔ کہنے کو تو ہتھیاروں کی نمائش ہے لیکن اب دنیا یہ بات جان گئی ہے اور ہر وہ طاقت جس کے پاس بے تحاشہ طاقت ہے وہ بھی مان گئی ہے کہ ہتھیار اگر سامنے والے کے پاس بھی ہو تو امن سے ہی رہنا چاہیے۔ سامنے والے کو نہتا کر کے اس پر ظلم کرنا، اس کے گھروں سے نکال دینا، سیکڑوں میل کے علاقوں کا محاصرہ کرنا یہ طاقت ور لوگوں کا کام ہے جب جب انہیں جواب ملتا ہے وہ یہ پیغام سمجھ جاتے ہیں کہ یک طرفہ طاقت سے امن قائم نہیں ہوتا تب وہ پندرہ بیس برس افغانستان میں جھک مارنے کے بعد مذاکرات کو مسائل کا حل سمجھنے لگتے ہیں۔ بات گھوم کر وہیں آتی ہے کہ ہتھیار برائے امن۔ چنانچہ جب افغانوں نے ہتھیار اٹھائے تو مذاکرات کی بات ہوئی۔ جب کشمیریوں نے ہتھیار اٹھائے تو مذاکرات کا جال بچھایا گیا۔ اسی طرح فلسطینیوں نے جب ہتھیار اٹھا لیے تو ان سے بھی مذاکرات کیے گئے۔ لیکن چونکہ یہاں معاملہ مسلمانوں کا ہے اس لیے ان تمام ممالک میں دھوکے دیے گئے۔ اسی قسم کے معاملات سری لنکا اور آئر لینڈ وغیرہ میں ہوئے تو سنجیدگی سے مذاکرات ہوئے اور امن قائم ہوگیا۔ اب پھر ہتھیار برائے امن آئیڈیاز کے موقع پر کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کی کوشش کی گئی یہ کوشش محض ایک دہشت گردی نہیں تھی بلکہ یہ آئیڈیاز کے خلاف سازش تھی۔ آئیڈیاز میں محض پاکستانی دفاعی صنعت اور ہتھیاروں کی نمائش نہیں ہوتی۔ ایک طرف دنیا بھر میں پاکستانی ہتھیاروں کی تشہیر ہوتی ہے تو دوسری طرف بھارت جیسے دشمن پر دھاک بھی بیٹھتی ہے کہ پاکستان کے بارے میں زبانی جنگ تو کر لیں لیکن کسی قسم کی مہم جوئی کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیا جائے۔ سیکڑوں آنکھوں نے دفا عی نمائش کا ہر پہلو سے جائزہ لیا۔بہرحال تمام تمام تر رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجوددفاعی نمائش آئیڈیاز2018 کی کامبابی پر نمائش کے منتظمین مبارک باد کے مستحق ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے