Voice of Asia News

روپے کی قدر میں کمی معیشت پر انتہائی خوفناک نتائج مرتب ہونگے

 لاہور(وائس آف ایشیا) آل پاکستان انجمن تاجران نے روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود میں 1.5فیصد اضافے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کے ملکی معیشت پر انتہائی خوفناک اثرات مرتب ہونگے ، ملک میں پہلے ہی ہیجان کی کیفیت اور مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے جس سے ہر طبقہ شدید پریشان ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی صدر اشرف بھٹی نے اپنے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تاجروں کی جانب سے روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود کو 8.50سے بڑھا کر 10فیصد کرنے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے ملک پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھے گا ، سرمایہ کاری نہ ہونے سے شرح نمو میں کمی اور بیروزگاری بڑھے گی ۔ اشرف بھٹی نے کہا کہ موجودہ حکومت سولو فلائٹ کرنے کی بجائے مشاورت کا عمل شروع کرے اور ہر شعبے کی تجاویز کو سنا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت یہ دعوے کر رہی ہے کہ کڑی شرائط کی وجہ سے آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیا گیا لیکن حکومت کے حالیہ اقدامات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت قرض کے حصول کیلئے آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔روپے کی قدر میں اس قدر کمی نہیں کی جانی چاہیے تھی اس سے مہنگائی کا طوفان سونامی میں تبدیل ہو جائے گا اور پاکستان پر قرضوں کابوجھ مزید بڑھے گا جس کے ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ بیرون ممالک سے منگوائے جانے والے خام مال کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں مقابلہ نہیں کر سکیں گی جس سے ہماری ایکسپورٹ مزید کم ہو جائیں گی ۔ا نہوں نے کہاکہ شرح سود میں 1.5فیصد اضافے سے سرمایہ کاری متاثر ہو گی جس سے شرح نمو رک جائے گی اور بیروزگاری بڑھے گی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر سیاسی جماعتوں ،ماہرین معیشت ، چیمبرز ،تاجر تنظیموں اور ایسوسی ایشنز کی گول میز کانفرنس طلب کر کے ان سے تجاویز طلب کرکے آئندہ کے اقدامات کا اعلان کرے ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے