Voice of Asia News

سٹیٹ سبجیکٹ قوانین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے:حریت قائدین

سرینگر( وائس آف ایشیا )حریت قائدین سید علی گیلانی، میرواوظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ کے حوالے سے میڈیا میں آئے حالیہ رپورٹ کے تناظر میں کہا کہ اس طرح کے اقدامات نئی دلی کی ان کاوشوں کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ جموں کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ قوانین کو تبدیل کرکے یہاں کے آبادی کے تناسب کو بگاڑ کر اس ریاست کی متنازعہ ہیت و حیثیت کو مسخ کرنے کے درپے ہے، اپنے ایک بیان میں مشترکہ قیادت نے کہا کہ ڈوول ڈاکٹرائن جو دراصل اسرائیل سے مستعارلیا گیا ہے کا مقصد کشمیریوں کی ذہنی، جسمانی، نفسیاتی اور معاشی غرض زندگی کے ہر شعبے پر ضرب لگا کر ان پر شدید دباؤ ڈالنا ہے تاکہ و تھک ہار کر اپنے جائز جدوجہد سے دستبردار ہوجائیں، لیکن نئی دہلی اس حقیقت سے انکار کرتا نظر آرہا ہے کہ بھارت نواز پارٹیوں اور گروپوں کی شکل میں ان کے چاہے کتنے بھی ایسے حلیف یہاں موجود ہو جو اقتدار کی لالچ میں انکا ساتھ دیتے ہیں، لیکن کشمیر کے عوام ایک دو سال نہیں بلکہ پچھلی تین دہائیوں سے بھارت کے انتہائی ظلم وستم کا نہایت عزم واشتعال کیساتھ مقابلا کر رہے ہیں اور وہ اپنے بنیادی حق سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں ہیں کچھ بھی ہو وہ اپنے اس عزم پر قائم ہیں، حریت قائدین نے کہا کہ یہ علاقائی حلیف جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو بھارت کے اشاروں پر ناچتے ہیں لیکن جب اقتدار سے باہر ہو جاتے ہیں تو بالکل مختلف انتخابی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام سیاسی طور پر بالغ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ نئی دہلی کے ان حربوں کا کیسے مقابلا کیا جاتا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے