Voice of Asia News

دنیا بھر کی خوبصورت و تاریخی مساجد:رپورٹ : محمد قیصر چوہان

مسجد، اللہ تعالی کی عبادت کیلئے خاص جگہ ہے۔لفظ مسجدکے معنی سجدہ یا عبادت کی جگہ کے ہیں۔ اس جگہ کو مسجد یعنی سجدہ کی جگہ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ مسلمان، نماز میں سجدہ کرتے ہیں اور سجدہ عبادت میں خضوع کی انتہا ہے۔اسلامی شریعت میں، مسجد کے خاص احکام ہیں، مسجد سے عموماً اجتماعی عبادت اور گروپ کی صورت میں دینی سرگرمیوں کیلئے استفادہ کیا جاتا ہے اور اہم ترین عبادت جو وہاں پر بجالائی جاتی ہے، نماز جماعت ہے۔ اس کے علاوہ مساجد، معاشرتی، سیاسی، تعلیماتی اور عدالتی لحاظ سے بھی مسلمانوں کیلئے مفید ثابت ہوتی رہی ہیں ۔پیغمبر اکرم ؐ کی تعلیمات کے مطابق، اللہ تعالی کی عبادت اور نماز کا کسی خاص جگہ سے تعلق نہیں ہے، اسی لیے زمین کی کسی جگہ پر بھی اللہ تعالی کی عبادت کی جاسکتی ہے اور نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ ہجرت سے پہلے نماز پڑھنے کیلئے مسلمانوں کی کوئی خاص جگہ نہیں تھی اور جہاں بھی ممکن ہوتا، نماز پڑھ لیتے تھے۔ مسجد قبا پہلی مسجد تھی جو اسلام میں بنائی گئی۔ جب اللہ کے آخری رسول ؐ مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے ایک ہفتہ قبا میں رہے اور اس عرصہ میں لوگوں کی پیشکش سے آنحضرتؐ اس علاقہ میں ایک مسجد بنائی۔
مساجد اللہ تعالی کے ہاں محبوب ترین جگہیں ہیں اور ان میں سے مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد اقصی اور مسجد قباء کو خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ مسجدوں کی تعمیر انبیائے کرام اور ان کے متبعین کا شیوہ ہے جس پر جنت میں گھر کا وعدہِ الہی بھی ہے۔ مسجد آتے جاتے ہر قدم پر اجر و ثواب ملتا ہے۔ مسجدوں کے آباد کار مؤمن ہوتے ہیں اور وہ دنیاوی فتنوں سے محفوظ رہتے ہیں،مسجدیں اتفاق و اتحاد کی علامت ہوتی ہیں ۔مسجد یں اللہ کے گھرہیں،اس لئے مسجد کی تعمیر بہت بڑا ثواب ہے۔ حدیث میں ہے کہ جواللہ کیلئے مسجد بناتا ہے اللہ اس کیلئے جنت میں گھر بناتا ہے اور مساجد کی تعمیر مسلمان کے ایمان کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ترجمعہ ،مسجدوں کو تو وہی لوگ تعمیر کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور آخرت کے دن پر۔ بحر حال مسجدوں کی تعمیر اسلا م میں محمود چیز ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ مسلمان اور مسجد کا گہرا تعلق ہے۔ دُنیا بھر میں خوبصورت اور وسیع مساجد میں سے لاتعداد ایسی ہیں جو دیکھنے والوں کو نہ صرف روحانی بلکہ حسن سے بھرپور نظارہ بھی فراہم کرتی ہیں۔
مسجد الحرام۔ مکہ مکرمہ
مکہ مکرمہ میں واقع مسجد الحرام دنیا کی سب سے بڑی اور خوبصورت مسجد ہے جہاں دنیا بھر سے مسلمان عبادت کے لیے آتے ہیں۔ مسجد الحرام کے لغوی معنی ہیں حرمت والی مسجد۔ مسجد حرام کی تعمیر حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعٰیل نے شروع کی۔ مسجد حرام کے درمیان میں بیت اللہ واقع ہے جس کی طرف رخ کر کے دنیا بھر کے مسلمان دن میں 5 مرتبہ نماز ادا کرتے ہیں۔خانہ کعبہ کے گرد تعمیر مسجد الحرام 4 ملین افراد کو اپنے دامن میں جگہ دینے کی استطاعت رکھتی ہے اور یہ مسلمانوں کا مقدس ترین مقام ہے۔ اس کا کل رقبہ 4 لاکھ 8 سو اسکوائر فٹ (99 ایکڑ) ہے۔
مسجد نبوی۔ مدینہ منورہ
کعبہ شریف کے بعد مسجد نبوی مسلمانوں کیلئے دنیا کا اہم ترین مقدس مقام ہے۔ مسجد الحرام کے بعد دنیا کی سب سے اہم مسجد مسجد نبوی کی تعمیر کا آغاز 18 ربیع الاول سنہ 1 ہجری کو ہوا۔ حضور اکرم نے مدینے ہجرت کے فوراً بعد اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا اور خود بھی اس کی تعمیر میں بھر پور شرکت کی تھی۔ مسجد کی دیواریں پتھر اور اینٹوں سے جبکہ چھت درخت کی لکڑیوں سے بنائی گئی تھی۔ اس مسجد کی بنیاد پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی علیہ واللہ لہ وسلم نے اہنے ہاتھوں سے رکھی تھی اور اب اسی مسجد میں سبز گنبد کے نیچے ان کی قبرِ مبارک بھی موجود ہے۔ مسجد نبوی کے 10 بڑے مینار ہیں اور اس میں 6 لاکھ نمازیوں کی گنجائش ہے جن کی تعداد حج کے مہینے میں بڑھ کر 10 لاکھ ہوجاتی ہے۔
مسجد اقصیٰ۔ یروشلم
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ مسجد اقصیٰ کو عالمِ اسلام میں غیرمعمولی مذہبی اور تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مسجد یروشلم کے قدیم حصے میں آباد ہے۔ مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔
مسجد قبلتین۔ مدینہ منورہ
مدینہ منورہ کے محلہ بنو سلمہ میں واقع ایک مسجد جہاں 2 ہجری میں نماز کے دوران تحویل قبلہ کا حکم آیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام نے نماز کے دوران اپنا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی جانب پھیرا۔ کیونکہ ایک نماز دو مختلف قبلوں کی جانب رخ کر کے پڑھی گئی اس لیے اس مسجد کو مسجد قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد کہا جاتا ہے۔
مسجد امیہ، شام
جامع مسجد امیہ کی تعمیر 715ء میں اموی خلیفہ ولید اول کے دور میں مکمل ہوئی تھی، روایت کے مطابق پیغمر یحییٰ علیہ السلام کا سرِ مبارک اسی مسجد میں دفن ہے۔ شام میں حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان جاری خانی جنگی مکے سبب اس قدیم اور عظیم مسجد کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی مسجد کے ایک مینار پر آسمان سے اتریں گے۔
اورتاکوئے مسجد ، استنبول
ترکی کے شہر استنبول میں خوبصورت اور تاریخی مساجد موجود ہیں جو اس شہر کی وجہ شہرت بھی ہیں۔ ان میں سے ایک اورتاکوئے مسجد ہے جسے ترک ماہرِ تعمیرات نگوگوس بے لان نے 1853 میں تعمیر کیا تھا۔
ترکی کی نیلی مسجد
ترکی کے شہر استنبول کو خوبصورت مساجد کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ استنبول کی یہ عظیم الشان مسجد 16 ویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ کے عظیم سلطان احمد اول نے تعمیرکروائی تھی۔ اس کے 6 نوکیلے مینار اور اسکا نیلا رنگ اسے ایک جاودانی منظر عطا کرتا ہے۔ یہاں نیلی مسجد واقع ہے۔ مسجد میں جا بجا نیلی ٹائلیں لگی ہیں اور اسی بنا پر اس کا نام نیلی مسجد رکھا گیا ہے۔
مسجدِ قرطبہ، اسپین
قرطبہ کی جامعہ مسجد بھی تاریخی لحاظ سے غیرمعمولی شہرت رکھتی ہے۔ اسے دسویں صدی عیسوی میں شاہ عبدالرحمان سوئم کے عہد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ علامہ اقبال نے بھی قرطبہ مسجد پر ایک نظم کہی ہے۔
حسن دوم مسجد، کیسا بلانکا، مراکش
جامعہ مسجد حسن دوم دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس کے خاص مینار کی بلندی 210 میٹر ہے۔ سمندر کے کنارے واقع یہ عالیشان مسجد اپنے حسن سے ہر ایک کو متاثر کرتی ہے اور یہاں سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔
جامع مسجد ہرات، افغانستان
لاجوردی پتھروں سے مزین ہرات کی اس حسین جامع مسجد کا سنگِ بنیاد 1200ء میں سلطان غیاث الدین غوری نے رکھا تھا جس کے بعد مختلف ادوار میں اس کی تعمیرو توسیع ہوتی رہی اور 1500ء میں مسجد اپنی موجودہ حالت میں آئی تھی۔ مسجدِ ہرات کو 19 ویں صدی میں ہونے والی اینگلو افغان جنگ میں کافی نقصان پہنچا تھا۔مسجد مسلمانوں کیلئے ایک مقدس مقام ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تمام مسلمان اکھٹے ہو کر عبادت کرتے ہیں۔ دنیا بھر کی مساجد اسلامی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ہم یہاں دنیا کی چند خوبصورت اور تاریخی مساجد کا ذکر کریں گے جو دنیا کے مختلف ممالک میں تعمیر کی گئی ہیں۔
مسجد جہاں نما۔ بھارت
مسجد جہاں نما جو جامع مسجد دہلی کے نام سے مشہور ہے، بھارت کے دارالحکومت دہلی کی اہم ترین مسجد ہے۔ اسے مغل شہنشاہ شاہجہاں نے تعمیر کیا جو 1656 میں مکمل ہوئی۔ یہ بھارت کی بڑی اور معروف ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ یہ پرانی دلی کے مصروف اور معروف ترین مرکز چاندنی چوک کے آغاز پر واقع ہے۔ مسجد کے صحن میں 25 ہزار سے زائد نمازی عبادت کرسکتے ہیں۔
جامع مسجد دہلی
دہلی کے بیچوں بیچ واقع مغل دور کی تعمیراتی عظمت کی نشاندہی کرتی یہ مسجد لاہور کی بادشاہی مسجد کا عکس ہے اس کی بیرونی تعمیر سرخ اینٹوں سے کی گئی ہے جبکہ اندرونی جانب سنگِ مرمر نصب کئے گئے ہیں۔
سلطان عمر علی سیف الدین مسجد۔ برونائی دارالسلام
سلطان عمر علی سیف الدین مسجد سلطنت برونائی کے دارالحکومت بندری سری بیگوان میں واقع شاہی مسجد ہے۔ یہ ایشیا کی خوبصورت ترین مساجد اور ملک کے معروف سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ مسجد برونائی کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر 1958 میں مکمل ہوئی اور یہ جدید اسلامی طرز تعمیر کا شاندار نمونہ سمجھی جاتی ہے جس پر اسلامی اور اطالوی طرز تعمیر کی گہری چھاپ ہے۔
محمد علی مسجد۔ مصر
محمد علی مسجد مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع ہے۔ یہ قاہرہ کی ایک نمایاں مسجد ہے اور اس شہر میں آنے والے سیاح سب سے پہلے اسی مسجد کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ اس مسجد کی تعمیر 1830 سے لے کر 1848 کے درمیان کی گئی۔
ملکہ آبنائے مسجد۔ ملائیشیا
ملائی زبان میں ’ملکہ ستریس‘ کہلائی جانے والی یہ مسجد ملائیشیا کے ایک مصنوعی جزیرے ملاکا پر تعمیر کی گئی ہے۔ اس مسجد کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پانی کی سطح بلند ہوتے ہی یہ مسجد لہروں پر بہنا شروع ہوجائے گی۔ اس مسجد کا افتتاح 2006 میں کیا گیا۔
قل شریف مسجد۔ روس
قل شریف مسجد روس کے شہر قازان میں واقع ہے۔ اپنی تعمیر کے وقت یہ روس کی سب سے بڑی مسجد تھی۔ اس مسجد کی تعمیر سولہویں صدی میں کی گئی۔ اس مسجد کی تعمیر کے لیے متعدد ممالک نے فنڈ فراہم کیے جن میں قابل ذکر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔
مسجدناصرالملک، شیراز ایران
ایران کے ادبی اور سیاحتی شہر شیراز میں واقع انتہائی حسین اور دلفریب مسجد ناصر الملک کے بارے میں باہر کی دنیا کے بہت کم لوگ ا?گاہ ہیں۔ اس میں رنگین شیشوں کا انتہائی خوبصورت کام کیا گیا ہے جس کی مثال اسلامی فنِ تعمیر میں انتہائی کم ملتی ہے۔ جب سورج کی روشنی صبح سویرے اور شام ڈھلے مسجد کے شیشوں سے چھلک کر اندر آتی ہے تو انتہائی حسین اور دلفریب منظر پیش کرتی ہے۔
مسجد ڈجنگریبر،مالے
مغربی افریقی ملک مالے میں دنیا کی سب سے بڑی مٹی سے بنی مسجد واقع ہے۔ ڈجنگریبر مسجد منفرد طرز تعمیر کی وجہ سے ٹمبکٹو کی شان بڑھا رہی ہے۔ اس شاہکار مسجد کی دیواریں کچی اینٹوں کی ہیں جن پرگارے کا لیپ کیا گیا ہے۔یوں تو ہرمسجد اللہ پاک کی کبریائی، اس کے جاہ جلا ل اور تقدس کی علامت ہے تاہم دنیا کی کچھ مساجد اپنے طرز تعمیر کے سبب منفردمقام رکھتی ہیں۔ مالے کے شہر ٹمبکٹو میں دنیا کی سب سے بڑی مٹی اور گارے سے بنی مسجد ڈجنگریبر میں واقع ہے، 1240ء کے فن تعمیر کی اس شاہکار مسجد کی دیواریں کچی اینٹوں کی ہیں جن پرگارے کا لیپ کیا گیا ہے، مسجد کی دیواروں پرجا بجا لکڑی کے بلاکس نصب ہیں مٹی سے بنے مینار اور محراب مسجد کی شان ہیں۔مسجد ڈجنگریبر کا ڈیزائن پرانی طرز کا ہے، مسجد کی تعمیر میں استعمال کی گئی کچی اینٹیں گرمی کی حدت کو روکتی اور ماحول کو ٹھنڈا رکھتی ہیں۔ ہر سال جب بارشیں ہوتی ہیں تو یہاں کے مکین مسجد کی دوبارہ لپائی کرتے ہیں جس میں بچے بڑے سب ہی بھرپور انداز میں حصہ لیتے ہیں، مٹی سے بنی دنیا کی اس نابغہ روزگار مسجد میں 2000 نمازیوں کی گنجائش ہے۔
بادشاہی مسجد۔ لاہور
لاہور کی مشہور بادشاہی مسجد سترہویں صدی میں مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے تعمیر کروائی تھی ۔اس کا کل رقبہ 279 ہزار اسکوائر فٹ ہے۔ یہ مسجد اپنے سرخ پتھر کے بیرونی اور سنگ مرمر کے اندرونی انداز تعمیر کے سبب مشہور ہے۔اس کا صحن بہت وسیع ہے جسے سرخ اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ مسجد لاہور کی تعمیرات میں غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔
مسجد وزیرخان۔لاہور
مسجد وزیر خان مغلیہ طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے جس کا آغاز 1634 سے 1635 کے درمیان ہوا تھا۔ اس کی تعمیر میں 7 برس سے زائد کا عرصہ لگا تھا اور آج بھی یہ اپنی خوبصورت ٹائلز اور نقش نگاری کیلئے دنیا بھر میں غیرمعمولی شہرت رکھتی ہے۔س کا صحن بہت وسیع ہے جسے سرخ اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ مسجد لاہور کی تعمیرات میں غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔یہ مسجد 1993 سے یونیسکو کے عالمی ورثے کے عارضی فہرست میں شامل ہے۔ اس مسجد میں تعمیر کا زیادہ تر کام چونے کے پتھر سے انجام دیا گیا ہے جبکہ اس کا بیرونی دروازہ سرخ مٹی کے پھتروں سے بنا ہوا ہے۔ وزیر خان مسجد اپنے نقش و نگار اور اس میں رنگوں کے حسین امتزاج کے سبب عالمی شہرت کی حامل ہے۔
شاہ فیصل مسجد اسلام آباد
اسلام آباد میں مارگلہ کے دامن میں دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فیصل مسجد واقع ہے اور اس کے فن تعمیر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اعرابی خیمے اور چوکور خانہ کعبہ کا شاندار امتزاج ہے۔ شاہ فیصل مسجد کو ایک خیمے کی شکل میں تعمیر کیا ہے۔ اس کا ڈیزائن ترک آرکیٹیکٹ نے تیار کیا اور یہ خطیر رقم سے 1986 میں مکمل ہوئی۔ شاہ فیصل مسجد کیلئے سعودی عرب نے سب سے بڑا عطیہ فراہم کیا تھا۔
سلطان قابوس مسجد، مسقط، اومان
سلطان قابوس مسجد کو دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اس خوبصورت اور پرشکوہ مسجد کا افتتاح سال 2001 میں کیا گیا تھا۔ یہ اومان کے دارالحکومت مسقط میں تعمیر کی گئی ہے۔
میزون مسجد، اومان
یہ مسجد بھی اومان میں تعمیر کی گئی ہے۔ اسے الموالی، اومان میں سال 2006 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ مسجد کا نام سلطان قابوس کی والدہ سیدہ میزون بنت احمد کے نام سے معنون ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اس مسجد کو دیکھنے آتے ہیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے