Voice of Asia News

ہفتہ انسانی حقوق کا تیسرا دن،اشرف صحرائی نظر بند،بلال صدیقی سمیت کئی گرفتار

سرینگر(وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر میں بشری حقوق کا ہفتہ منانے کے اعلان کے بعد مزاحمتی جماعتوں کے لیڈران اور کارکنوں کی گرفتاری کا سلسلہ بھی تیز ہوا ہے جبکہ کئی لیڈروں کو خانہ نظر بندکیا گیا ہے۔ تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی کو بھی خانہ نظر بند کیاگیا ہے جبکہ تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال صدیقی کو گرفتار کرکے سینٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی مزاحمتی لیڈران کے گھروں پر چھاپے ڈالے جا رہے ہیں۔سید علی گیلانی جہاں ایک طویل عرصہ سے خانہ نظر بند ہیں وہیں محمد یاسین ملک کو پولیس نگرانی میں ہی صورہ اسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔ میرواعظ عمر فاروق کو بھی گزشتہ روز اس وقت خانہ نظر بند کیاگیا جب حریت(ع) صدر دفتر راجباغ میں انسانی حقوق کے موضوع پر ایک اجلاس طلب کیا گیاتھا۔ لبریشن فرنٹ(ح) ترجمان نے کہاکہ چیئرمین جاویداحمدمیرکوجمعہ کی شام خانہ بندکردیاگیااورانکی سرگرمیوں پرروک لگادی گئی۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ سوپور سے تعلق رکھنے والے3نوجوانوں پر پی ایس اے عائد کر کے انہیں ہیرانگر جیل منتقل کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اشفاق احمد ملہ ولد منظور احمد ساکن شیخ محلہ سوپور،وقاس احمد ملہ ولد نثار احمد ساکن شیخ محلہ سوپور اور محمد اشرف ڈار ولد غلام محمد ساکن ڈورو سوپور کوہیرا نگر جیل منتقل کیا گیا ہے۔ دریں اثنا مزاحمتی جماعتوں نے پولیس کی اس کاروائی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری امیر حمزہ،تحریک مزاحمت کے ترجمان شبیر احمد زرگر اور لبریشن فرنٹ(ح) ترجمان نے اس کاروائی کو انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوئے فوری طور پر اس سلسلے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔ دریں اثناء لوگوں نے بھارتی مظالم کیخلاف مختلف علاقوں میں احتجاج کیا اور ریلیاں نکالیں ۔اس دوران کئی مقامات پر بھارتی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔وادی میں ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند رہے ۔انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رہی۔اس دوران بھارتی فورسز نے شوپیاں ،پلوامہ ،کولگام ،کپواڑہ،انت ناگ اور سرینگر سمیت مختلف علاقوں میں شبانہ چھاپے مارے اور لوگوں کے گھروں میں گھس کر تلاشیاں لیں ۔اس دوران قابض اہلکاروں خواتین اور بچوں سمیت اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی ۔ادھر حریت کانفرنس (گ) نے انسانی حقوق کے عالمی دن پرانتظامیہ اور پولیس کی جانب سے آزادی پسند قائدین اور کارکنان کو گرفتار کرنے، خانہ نظربند رکھنے اور گھروں پر چھاپے ڈالنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کی آمد سے قبل ہی بھارت نے اپنے مطالم چھپانے کے لیے یہاں کی آزادی پسند قیادت، کارکنان اور عام نوجوانوں کو گرفتار کرکے گھروں اور تھانوں میں نظربند کرنے کا سلسلہ دراز کردیا ہے، تاکہ یہاں کے لوگ بھارت کی زیادتیوں کے خلاف کوئی مزاحمت نہ کرسکیں اور بھارت دنیا کو یہ دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجائے کہ جموں کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے ۔ ایک بیان میں حریت نے کہا ہے کہ بھارت آج کے سائنسی اور ٹیکنالوجی دور میں اپنے مظالم اورزیادتیاں چھپانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ بھارت کا یہ ظلم وجبر پوری دنیا کے سامنے ایکسپوز ہوچکا ہے اور پوری دنیا میں اس حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ بیان کے مطابق حریت چیئرمین سید علی گیلانی گزشتہ 9برسوں سے بدستور اپنے گھر میں قید ہیں، جبکہ پولیس نے محمد اشرف صحرائی،میرواعظ محمد عمر فاروق، محمدیاسین ملک، بلال صدیقی اور نور محمد کلوال سمیت درجنوں قائدین اور کارکنان کو گرفتار کرکے تھانوں اور گھروں میں نظربند کردیا ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں قائدین اور کارکنان کو گرفتار کرنے کے لیے گھروں پر چھاپے ڈالے جارہے ہیں۔ادھر گریز میں ایک نوجوان کی گمشدگی کے خلاف داور گریز میں ہڑتال کی ۔اس موقعہ پر دوکانیں اورسکول بند رہے۔احتجاجی مردوزن نے مین بازار میں جمع ہوکر ٹریفک کی نقل و حرکت مسدود کی۔احتجاجی مظاہرین گمشدہ نوجوان کی بازیابی کا مطالبہ کررہے تھے۔ محکمہ پنچایت راج میں بحیثیت ولیج لیول ورکر تعینات27 سالہ فیروز احمد لون ولد عبدالرحیم ساکن اچھورہ گریز 14 نومبر گھر سے کسی کام کے سلسلے میں نکلا تھا اور تب سے لیکر اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے ۔مذکورہ نوجوان کے لواحقین کے مطابق موصوف کو ہر ممکنہ جگہ تلاش کیا گیا لیکن کہیں بھی کوئی سراغ نہیں ملا۔مذکورہ نوجوان کے لواحقین نے اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن گریز میں گمشدگی کی رپورٹ درج کی ہے۔مظاہرین نے فیروز احمد کی سلامتی کے بارے میں تشویش اور خدشات ظاہر کرتے ہوئے اس کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پولیس نے فیروز احمد لون کی تصویر جاری کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ نوجوان کو تلاش کرنے میں پولیس کی مدد کی جائے۔ادھر گمشدہ نوجوان کے رشتہ داروں نے پریس کالونی سرینگر میں بھی احتجاج کیا ۔احتجاج مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نوجوان کی بازیابی کے حق میں نعرے درج تھے ۔ احتجاج مظاہرین نے بتایا کہ پولیس نے اس سلسلے میں 6مشتبہ لوگوں کی گرفتاری عمل میں لائی ہے جن میں سے تین بانڈی پورہ اور تین گریز پولیس تھانے میں بند ہیں جہاں ان کی پوچھ تاچھ جاری ہے ۔مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوجوان کوبازیاب کرنے کیلئے اپنی کوششیں تیز کریں کیونکہ اس میں کئی طرح کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں ۔انہوں نے ڈی سی بانڈی پورہ اور ایس ایس پی بانڈی پورہ سے مطالبہ کیا کہ نوجوان کو بازیاب کر کے لواحقین کے حوالے کیا جائے ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے