Voice of Asia News

بھارت کرتار پورکی طرح مٹھا باجی تریڈا شریف کی زیارت کا راستہ کھولا جائے

سرینگر(وائس آف ایشیا ) آزاد کشمیر کی لیپا وادی میں قائم روحانی بزرگ سائیں مٹھا باجی تریڈا شریف کا سالانہ عرس اب بھی آر پار ایک ساتھ منایا جاتا ہے۔اس دن لاوڈ اسپیکروں کا استعمال کر کے آر پار کی تقریبات سے ایک دوسرے کو شامل کیا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے زائرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس زیارت شریف کو بھی کرتار پور کی طرز پر لوگوں کیلئے کھلا چھوڑ دیا جائے۔ ٹریڈہ شریف کونامعلوم وجوہات کی بنا پر 1983میں آر پار لوگوں کیلئے بند کر دیا گیا تھا۔ معلوم رہے کہ 1947میں جب ریاست کی تقسیم ہوئی تو اس وقت نہ صرف ہزاروں خاندان آر پار بچھڑ گئے بلکہ سعدپورہ کرناہ کے اس پار پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں قائم روحانی بزرگ مٹھا باجی کی زیارت ٹریڈا شریف پر بھی لوگوں کے آنے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ لوگوں کے مطالبہ پر دونوں اطراف کی حکومتوں نے 1981میں اس مزار پر لوگوں کو جانے کی اجازت دے دی جس سے آر پار بچھڑے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی ۔ہزاروں کی تعداد میں وادی خاص کر کپوارہ کرناہ اور کیرن سے لوگ اس پار گئے اور وہاں زیارت پر حاضری دی۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب ٹریڈا شریف کو کھلا چھوڑا گیاتب نہ کوئی ویزا اور نہ ہی کسی روٹ پرمنٹ کی ضرورت تھی، لوگوں کو کرناہ سے اس پار صرف شناختی کارڈ پر جانے کی اجازت دی جاتی تھی۔1983تک نہ صرف لوگوں نے زیارت پر حاضری دی بلکہ عرس شریف کی تقریبات میں بھی لوگ حصہ لیتے رہے۔کرناہ کے شبیر احمد نامی ایک شہری کا کہنا ہے 1947میں جب تقسیم ہوئی تو اس کی دوماسیاں اور ایک مامو ں سرحد پار رہ گئے جبکہ ان کی والدہ ،جو اب اس دنیا میں نہیں ہے، یہاں مقبوضہ کشمیر میں رہ گئی ۔شبیر کے مطابق ان کی والدہ کی بڑی خواہش تھی کہ وہ ایک بار اپنے کنبے کو ملے کیونکہ 1947کی تقسیم کے بعد میری والدہ ہر روز انکے دیدارکیلئے آنسو بہاتی تھی ۔شبیر کے مطابق اسکی والدہ اور پورے گھر والوں کی خوشی کا ٹھکانہ اس وقت نہ رہا جب دونوں اطراف کی حکومتوں نے ا علان کیا کہ ٹریڈا شریف کو لوگوں کے آنے جانے کیلئے کھولا جا رہا ہے ۔ 1981میں جب ٹریڈاشریف کو کھول دیا گیا تو اس وقت گھر کے سب افراد والدہ کے ساتھ زیارت پر پہنچے جہاں میری ماں نے اپنی بہنوں اور بھائی سے بھی ملاقات کی۔سعد پورہ کے سابق سرپنچ محمد یاسین کہتے ہیں کہ جب ٹریڈا شریف زیارت پر جانے کی اجازت 1981میں ملی تو اس وقت سعدپورہ اور دھنی میں میلا لگا رہتا تھا اور قطاروں میں لوگ پیدل اس پار انتظامیہ اور فوج کی نگرانی میں جاکر زیارت پر حاضری دیتے تھے۔ 2برسوں تک یہاں سے جانے والے کسی بھی فرد کو آستان کے حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی، تاہم سرحد پار لوگ اپنے اپنے رشتہ داروں کیلئے کھانا اور رہنے کا بندوبست کرتے تھے ۔ فاروق احمد نامی ایک شہری کہتے ہیں کہ 1983میں اس زیارت شریف پر جانے کی پابندی عائد کی گئی۔اس کے بعد لائن آف کنٹرول کے آر پار مقیم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ نومبر کے مہینے میں عرس کوالگ الگ منائیں گے۔پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی زیارت انتظامیہ کمیٹی اور ہندستانی زیر انتظام کشمیر کے سعدپورہ گاؤں کی انتظامیہ کمیٹی نے لاوڈ سپیکر کا استعمال کر کے دن مقرر کیا اورسالانہ عرس منایا ۔یہ سلسلہ اگرچہ 90میں نامساعد حالات کی وجہ سے بند ہو گیا تاہم امن قائم ہونے کے بعد پھر ایسی تقریب منائی جاتی رہیں ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے