Voice of Asia News

کھیلوں کی دنیا میں شتر مرغ دوڑ کی منفرد پہچان،جاوید اقبال ہاشمی

دنیا میں موجود پرندو میں شتر مرغ سب سے قدآور پرندہ ہے۔ عام طور پر شتر مرغ کا قد چھ تا آٹھ فیٹ ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی میں نمایاں حصہ اس کی گردن اور ٹانگوں کا ہوتا ہے۔ عام طور پر اس کا وزن دو سو سے تین سو پونڈ یا ایک سو یا ایک سو پچاس کلو گرام ہوتا ہے۔ اس کے بازو یا پنکھ کمزور ہوتے ہیں۔ وزنی جسم ہونے کی وجہ سے یہ پرندہ ہونے کے باوجود اڑ نہیں سکتا۔ قدرت نے اس کمزوری کے بدلے میں اس کو بہت مضبوط ٹانگیں عطا کی ہیں، جن سے یہ بے حد تیز دوڑ سکتا ہے۔ عام طور پر اس کی رفتار تیس سے پینتیس میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔شتر مرغ کی مادہ ایک وقت میں دس سے بارہ انڈے دیتی ہے۔ ایک انڈے کا وزن تقریبا تین پونڈ یعنی ڈیڑھ کلو گرام ہوتا ہے۔ دنیا میں موجود تمام پرندوں میں شتر مرغ کا انڈا سب سے بڑا اور وزنی ہوتا ہے۔شترمرغ آرام کرتے وقت شترمرغ اپنی گردن جھکا لیتا ہے۔ بڑی آنکھیں، چھوٹا سر، لمبی گردن اور ٹانگوں والا یہ پرندہ دیکھنے میں بہت معصوم لگتا ہے، لیکن اس کی دو انگلیوں پر لمبے اور تیز ناخن کسی بھی قسم کے خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔فارسی زبان میں شتر کے معنی اونٹ اور مرغ کے معنی پرندے کے ہیں، کیونکہ قدوقامت اور چال ڈھال میں یہ اونٹ کی طرح ہی دکھائی دیتا ہے۔ پرندہ ہونے کے باوجود اپنے بھاری بھرکم وجود کے باعث یہ اڑ نہیں سکتا، لیکن اس کے بدلے قدرت نے اسے بہت مضبوط ٹانگیں عطا کی ہیں، جن کے ذریعے یہ تیزی سے دوڑ سکتا ہے، عام طور پر اس کی رفتار 35 سے 40 میل (تقریباً 65 کلومیٹر) فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اس کا اصل وطن تو افریقہ اور عرب کے ریگستان ہیں، لیکن اب یہ آسٹریلیا، جنوبی امریکا، نیوزی لینڈ اور ایشیاء کے بعض حصوں میں بھی پایا جاتا ہے۔
قدرت نیشتر مرغ کو بہت مضبوط ٹانگیں عطا کی ہیں جن سے وہ بے حد تیز دوڑ سکتا ہے۔ عام طور پر اس کی رفتار تیس سے پیتیس میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ شتر مرغ کی مادہ ایک وقت میں سے بے بارہ انڈے دیتی ہے۔ ایک انڈے کا وزن تقریباً تین پونڈ یعنی دیڑھ کیلو گرام ہوتا ہے۔ دنیا میں موجود تمام پرندوں میں شترمرغ کا انڈا سب سے بڑا اور وزنی ہوتا ہے۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے اپنے وزن کی مناسبت سے یہ تقریباً سو واں حصہ ہوتا ہے جو اس لحاظ سے تمام پرندوں میں سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔ مادہ شتر مرغ انڈے دیتی ہے اور ان کو سینے کا کام نر شترمرغ انجام دیتا ہے۔ انڈے دینے کے بعد مادہ شترمرغ ان انڈوں کے تین حصے کرتی ہے۔ ایک حصہ زمین میں دفن کرتی ہے۔ دوسرا حصہ دھوپ میں رکھتی ہے اور تیسرے حصے کو نر شتر مرغ کے سینے کیلئے چھوڑ دیتی ہے۔ جب بچے نکل آتے ہیں تو نر شتر مرغ دھوپ والے انڈوں کو توڑ کر بچوں کو پلاتا ہے۔ جب وہ ختم ہوجاتے ہیں تو ریت میں دفن کئے ہوئے انڈوں کو نکال کر ان میں سوراخ کردیتا ہے۔ اس میں سے نکلنے والے مواد کو کھانے کیلئے چیونٹیاں اور دوسرے کیڑے مکوڑے جمع ہوجاتے ہیں۔ شتر مرغ انہیں پکڑ پکڑ کر اپنے بچوں کے آگے ڈالتا ہے جسے وہ شوق سے کھاجاتے ہیں۔ شترمرغ انسان کو اپنی پشت پر بٹھاکر بڑی تیزی سے دوڑ سکتا ہے لیکن ایسی صورت میں وہ آدھے گھنٹے بعد تھک جاتا ہے اور اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ شتر مرغ سیدھا بھاگنے کے بجائے لہرا کر دوڑتا ہے۔ ہر لمحہ دائیں بائیں مڑتا ہے لہذا اس پر سوار کو بہت چوکس اور ہوشیار ہوکر بیٹھنا پڑتا ہے۔ ورنہ کسی بھی لمحے گرنے کا خطرہ رہتا ہے۔
شتر مرغ ایک حلال پرندہ ہے، جس کا گوشت نہایت لذیذ اور مقوی ہوتا ہے جبکہ اس کی جلد چمڑے کی مصنوعات بنانے کے کام آتی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انسان کیلئے شترمرغ کی اہمیت صرف خوراک کے حصول یا تجارتی سرگرمیوں کے لئے ہی نہیں رہی بلکہ آج یہ اْس (انسان) کے کھیل کے شوق کی تسکین میں بھی معاون ہے۔شتر مرغ دوڑ تیزی سے مقبول ہوتا وہ کھیل ہے، جس کی باقاعدہ شروعات قدیم مصر سے ہوئی۔ اس کھیل کی قدامت کے حوالے سے اس مجسمے کی دلیل پیش کی جاتی ہے، جس میں ایک مصری ملکہ شترمرغ پر سوار ہوتی ہے، تاہم آج افریقہ اور امریکا (خصوصاً ایری زونا اور فلوریڈا) میں تو یہ کھیل عام ہوتا جا رہا ہے۔یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شترمرغ دوڑ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ 1892ء میں پہلی بار امریکی ریاست فلوریڈا (جیکس ویل) میں شترمرغ فارم بنایا گیا، جس کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس فارم ہاؤس میں ہونے والے شترمرغ دوڑ کے مقابلے سیاحوں کی تفریح کا بہترین ذریعہ اور فلوریڈا کی تاریخ کا دل کش حصہ تصور کئے جاتے ہیں۔ امریکی ریاست ایری زونا میں 1988ء سے آج تک ہر سال باقاعدگی سے شتر مرغ کی سواری کے مقابلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں شترمرغ پر سواری کرنے کے شوقین زوروشور سے حصہ لیتے ہیں۔ یہ مقابلے دو روز تک جاری رہتے ہیں۔
31 واں سالانہ شترمرغ فیسٹیول مارچ 2019 میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتراک سے منعقدہو گا،شترمرغ ریس کے مقابلے کینٹربری، ٹیکساس، ورجینیا سٹی، کینٹکی، لوویزیانا ،فلوریڈامیں بھی باقاعدگی سے منعقد کروائے جاتے ہیں، جنہیں دیکھنے کیلئے نہ صرف شائقین کی کثیر تعداد مقررہ مقام پر پہنچتی ہے بلکہ یہ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں اس کھیل کے حوالے سے خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا جاتا، خبروں کی زینت بنتے ہیں۔ایک مقررہ فاصلے اور دائرے کے اندر شترمرغ کی ریس اگرچہ کسی حد تک دیگر کھیل جیسے گھوڑ دوڑ، اونٹ دوڑ کی طرح دکھائی دیتی ہے، لیکن شتر مرغ ریس گھوڑ دوڑ سے کہیں مشکل کام ہے، کیوں کہ ان میں بڑا فرق تو پرندے اور جانور کی جسمانی ساخت کا ہے، شترمرغ کی دوٹانگیں ہوتی ہیں اور وہ بھی نہایت پتلی جبکہ گھوڑے کی چار ٹانگیں اور موٹی گردن ہوتی ہے، لمبی پشت کے باعث گھوڑے پر بیٹھنا شترمرغ سے کہیں آسان ہے۔
گھوڑ دوڑ یا اونٹ دوڑ میں یہ دونوں جاندار ایک سیدھ میں بھاگتے ہیں، لیکن شترمرغ بھاگتے ہوئے دائیں بائیں لہراتا ہے۔ اگرچہ گھوڑے کی طرح شترمرغ کی سواری کے لئے بھی لگام ہوتی ہے، لیکن اسے کنٹرول کرنا گھوڑے کی نسبت تھوڑا مشکل امر ہے۔ ریس کے دوران شترمرغ کا سوار جسے جوکی کہا جاتا ہے، نے ہیلمٹ پہنا ہوتا ہے۔ ریس کے دوران یہ نہایت ضروری ہے کہ شترمرغ اپنے سوار سے مطمئن ہوں یعنی وہ اس کی پشت پر ایسے بیٹھے جس سے اسے بھاگنے میں زیادہ دقت نہ ہو، بصورت دیگر وہ دوران سفر ہی جوکی کو زمین پر پٹخ سکتا ہے۔سواری کے وقت جوکی کو شترمرغ کی لگام نہایت مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوتی ہے، کیونکہ دوران ریس شترمرغ کے ایک سے دوسرے قدم کا فاصلہ 16 فٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ دوڑ کے دوران شترمرغ کو تیز دوڑانے کیلئے جوکی اس کے پروں کو چھیڑتا ہے یا سامنے کی طرف ٹھوکر مارتا ہے، یہاں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ شترمرغ کو ہمیشہ آگے کی طرف ٹھوکر مارنی چاہیے، پیچھے کی طرف ٹھوکر مارنے سے اس میں اشتعال پیدا ہوتا ہے اور نتیجتاً وہ اپنے سوار کو نیچے گرا دیتا ہے۔ شتر مرغ دوڑ کے ڈسٹن مورلے اور جیسی سیسن جیسے کھلاڑیوں نے اس کھیل کو دلچسپ بناتے ہوئے شائقین کی طرف سے بھرپور پذیرائی حاصل کی۔
صدیوں سے جنوبی افریقہ ،جنوبی امریکا ،نیوزی لینڈ آسٹریلیاکے جنگلوں میں رہنے والے دنیا کے سب سے بڑے پرندے شتر مرغ کی فارمنگ لائیو اسٹاک انڈسٹری کے میدان میں سب سے زیادہ آمدنی والی فارمنگ ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے پرندے کے گوشت کی قیمت 4 ڈالر فی کلو ہے، جو شوگر اور دل کے مریضوں کیلئے مفید گوشت ہے۔ عالمی منڈی میں اس کے چمڑے، گوشت، پروں، تیل، چوزوں اور انڈوں کی ضرورت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ یہ پرندہ گرم علاقوں کا رہنے والا ہے۔ اس کی اوسط عمر ساٹھ سے ستّر سال تک ہے اور شتر مرغ کی مادہ 42 سال تک انڈے دیتی ہے۔ ایک سال میں زیادہ سے زیادہ انڈے 120 دیتی ہے جس میں ستّراسّی انڈے چوزے کیلئے کارآمد ہوتے ہیں۔ ایک انڈا ڈیڑھ کلو وزن کا ہوتا ہے۔ ایک انڈے کی قیمت 3000 روپے سے زیادہ ہوتی ہے۔ ناکارہ انڈے بھی ڈیکوریشن پیس کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کی کھال دنیا بھر میں عمدہ ترین چمڑا تیار کرتی ہے جس کا آج کل ریٹ 20 ڈالر فی مربع فٹ سے زیادہ ہے۔ ایک جوان شتر مرغ سے اوسطاً چودہ مربع فٹ کھال حاصل ہوتی ہے۔ گوشت سرخ رنگ کا لذیذ اور انتہائی مفید مانا گیا ہے۔ عام گوشت کے مقابلے میں کولیسٹرول نہ ہونے کے برابر ہے۔ دل اور شوگر کے مریضوں کے لیے اس کا گوشت فائدہ مند ہے۔ شتر مرغ اٹھارہ ماہ میں جوان ہوتا ہے۔ انڈے سے چوزے نکلنے کا وقفہ بیالیس دن کا ہے۔ ایک جوان شتر مرغ سے دو کلو پَر سالانہ اتارے جاتے ہیں۔ پَر انتہائی خوبصورت ہوتے ہیں جو کہ فیشن میں استعمال ہوتے ہیں۔ پروں کی قیمت تقریباً پندرہ سو روپے کلو ہے۔ شتر مرغ کی کھال سے قیمتی پرس، جوتے، جیکٹس اور بیلٹس تیار کیے جاتے ہیں۔ شتر مرغ کی چربی سے نکالا گیا تیل قیمتی کاسمیٹکس کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے فضلہ سے ناکارہ زمین بھی زرخیز ہوجاتی ہے۔
پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں شترمرغ ریس کا رجحان تو ابھی پیدا نہیں ہوا، لیکن شترمرغ کی فارمنگ ضرور ہو رہی ہے۔ سرکاری سطح پر شترمرغ کے فارم ہاؤسز بنائے گئے ہیں، جن کیلئے ہر سال بجٹ میں رقم بھی مختص کی جاتی ہے، ان فارم ہاوسز کا مقصد صرف گوشت کا حصول اور کاروباری سرگرمیاں ہیں، لیکن یہ دنیا چوں کہ گلوبل ویلیج کا روپ دھار چکی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ برسوں میں پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہونے لگے گا، جہاں شترمرغ دوڑ ہوتی ہے، کیونکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دیگر دوڑوں کی طرح شترمرغ کی دوڑ بھی تفریح کا بہترین ذریعہ ہے۔
javidjinnah@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے