Voice of Asia News

’’عطائی ‘‘بیماریاں بانٹ رہے ہیں:عمران احمد غوری

عطائیت کے لغوی معنی بے اُستاد کے ہیں جس نے کسی علم یا فن کو باقاعدہ حاصل نہ کیا ہو۔اگر ہم’’عطائیت‘‘ کے حوالے سے کسی ڈاکٹر کی بات کریں تو اس کی جملہ خوبیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وقت دستیاب ہے، کم فیس میں علاج معالجہ کر دیتا ہے، وہ کئی پشتوں سے خاندانی معالج ہوتا ہے، خاندانی بیماریوں سے آشنا ہوتا ہے، اس کے ہاتھ میں بھی خصوصی شفا ہے، وہ گھر کی دہلیز پر ہی موجود ہے، وہ کئی ڈاکٹروں کے تجربات رکھتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔پاکستان کے دیہی علاقوں سمیت چھوٹے بڑے شہر عطائی حضرات سے بھرے پڑے ہیں۔آج تک کوئی حکومتی قانون انہیں کام کرنے سے نہیں روک سکا۔یوں عطائیت کی جڑیں ہر سو پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
صحت مند معاشرہ ہی قوموں کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں جہاں ایک طرف صحت عامہ کے شعبہ میں ٹیکنالوجی کی بھرمار ہے وہاں دوسری طرف پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں عطائیت کا ناسور تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں جعل سازوں، نیم حکیموں، ناتجربہ کار سٹاف، جاہل ڈسپنسرز اور فراڈ ڈاکٹروں کی بھرمار ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق صرف لاہور شہر میں چالیس ہزار سے زائد فراڈ ڈاکٹر موجود ہیں جہاں ایک طرف سول سوسائٹی میں ان کے غیر قانونی کام کے اشتہارات کی بھرمار اور کھلے عام وال چاکنگ جیسے عوامل ان کے ناجائز کاروبار کو پروان چڑھا رہے ہیں تو دوسری طرف ان کی روک تھام کیلئے حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے کوئی ٹھوس پالیسی اور واضح قانون بھی موجود نہیں ہے۔اکثر میڈیکل سٹوروں میں کوئی کوالیفائیڈ فارماسسٹ نہیں ہوتا۔نیم حکیم اور ہومیوپیتھ اپنے انداز میں عوام میں بیماری بانٹ رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو میڈیا پر لمبے چوڑے اشتہارات بھی دیتے ہیں جن میں ہیپاٹائیٹس اور شوگرسمیت دنیا بھر کی تمام بیماریوں کے مکمل علاج اور جڑ سے خاتمہ کرنے کے دعویٰ کئے جاتے ہیں۔ عطائیت معاشرے کا ناسور ہے لہٰذا ایک طبقے کی رائے ہے کہ اس سلسلے میں صرف ایک طریق علاج کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے تمام طریق علاج سے عطائیت کا خاتمہ ناگزیر ہے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ تمام طریقہ ہائے علاج کے عطائی معالجین تریاق کے نام پر یہ زہر لوگوں کی رگوں میں گھول رہے ہیں۔
وطن عزیز میں سرکاری طور پر تین طریقہ علاج یعنی طب یونانی ‘ہومیوپیتھک اور ایلوپیتھک منظور شدہ ہیں۔اپنے اپنے طریق علاج کے اندر رہتے ہوئے پریکٹس عطائیت نہیں کہلا سکتی لہٰذا کسی بھی طریق علاج کے ماہرین کی طرف سے دوسرے طریق علاج کو عطائیت قرار دیناقابل مذمت ہے نیز اسے اخلاقی‘قانونی وآئینی طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عطائیت تمام طریقہ ہائے علاج میں موجود ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ پرائیویٹ ہسپتال جو اکثر محکمہ صحت کے افسران ، ڈاکٹرز اور ڈائریکٹرز صاحبان کے ہوتے ہیں ایسی جگہوں پر گنتی کے دو چار کوالیفائڈز معالجین ہوتے ہیں باقی نوے فیصدعطائی ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں بے شمار لوگ عطائیت کو ہی اپنا پیشہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ایک سنگین جرم ہے۔ پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے جب لوگ عطائی ڈاکٹروں، نیم حکیموں کے پاس جاتے ہیں تو مریض ٹھیک ہونے کی بجائے دیگر کئی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اکثر ڈاکٹر حضرات دیہاتوں میں جانا پسند نہیں کرتے اور وہاں دیہی مراکز صحت دوپہر 2 بجے کے بعد بند ہو جاتے ہیں، ایسے میں کسی ایمرجنسی کی صورت میں مریض کہاں جائیں، لہٰذا وہ ان عطائیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ شہری علاقوں کی طرح دیہات میں بھی صحت کی اچھی سہولتیں فراہم کرے اور مستند ڈاکٹر تعینات کرے اور ان کے ڈیوٹی اوقات کو بھی بڑھایا جائے تاکہ ایمرجنسی میں دیہات کے لوگ عطائی ڈاکٹروں کے پاس نہ جا سکیں اور عطائیت کا پیشہ از خود بند ہو جائے۔
پاکستان میں صحت کا بجٹ سب سے کم ہے حکومتیں اس پر نظر ثانی کریں ملک بھر میں لاکھوں عطائی کلینکس،ڈسپنسریاں ،لیبارٹریز،اسپتال،میڑنٹی ہوم ،جعلی ڈاکٹرز چلا رہے ہیں۔ سرکاری اداروں میں گھوسٹ ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں لیتے ہیں جبکہ ان کی جگہ پے غیر تربیت یافتہ عملہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔پاکستان میں انتہائی ناقص خوراک اور پینے کیلئے انتہائی آلودہ پانی ہے جس سے بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں۔چاہے وہ پنجاب ہو ،خیبر پختونخوا،سندھ یا بلوچستان ہو،ان عوامل سے سرطان سمیت خطرناک ترین بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ایک طرف ملک میں امراض روز بروز بڑھ رہے ہیں تو دوسری طرف عطائیت ،دو نمبر اور جعلی ڈاکٹروں نے پنجے گاڑ رکھے ہیں ،پاکستان میں عطائی ڈاکٹرز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ملک بھر میں لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے عطائی ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے قائم کردہ ادارے بھی فعال نہیں ہیں۔ عطائی ڈاکٹرز،جن میں ذہنی و منشیات کے علاج کے مراکز، ڈائیگناسٹک سینٹر ،کاسمیٹکس لیزہے ،ہیئر ٹرانسپلانٹ کلینک، نرسنگ ،میٹر نٹی ہوم ،ڈینٹل کلینک، حکیموں کے مطب، ہومیو پیتھک کلینک ،میڈیکل لیبارٹریز، نجی و سرکاری ہسپتال کیخلاف کو ئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کا بھر پور طریقے سے محاصرہ نہیں کیا گیا اور نہ انہیں قانون کی گرفت میں لایا جاسکا ہے حکومت کی طرف سے قانون کے تحت ہیلتھ کیئر کمیشن کسی بھی کلینک، یا لیبارٹری کو سیل کرنے کے اختیارات سے آزاد ہے ادار ے کو محض جرمانے کرنے کی حد تک محدودکر دیا گیاہے۔ بدقسمتی سے شعبہ صحت اس حوالے سے فعال ہو سکا اور نہ ہی کیا گیا اور نہ ہی عطائیت کے خلا ف کاروائیوں کا دائرہ کار بڑھیا جا سکا۔ جس کی وجہ سے عطائی ڈاکٹر بے لگا م ہو کرپورے ملک میں اپنی گرفت مظبوط کر کے لوگوں کو اپنے جھانسے میں پھنسا کر ان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔قانون کی پاسداری نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت ہر صوبے ہر شہر میں سینکڑوں عطائی ڈاکٹرز موجود ہے جو دن کے اوقات میں مختلف مقامات پر نوکریاں کرتے ہیں جبکہ شام کے اوقات میں بطور ڈاکٹرز اپنے کلینک چلارہے ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد گائنا کالوجسٹ، چائلڈ سپیشلسٹ، ڈینٹل کلینکس ، سکین سپیشلسٹ اور لیبارٹری ٹیکنیشنز کی ہے ان میں زیادہ تر لوگوں نے شہر کے مختلف مقامات پر پارٹ ٹائم ڈسپنسریاں قائم کی ہوئی ہیں جہاں یہ سرعام لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ کب پاکستان کے باسیوں کو مستند معالجین مہیا ہوں گئے، اور کب وطن عزیز کو ’’ عطائی معالجوں’’ سے چھٹکارہ ملے گا۔ عطائی ڈاکٹرز میں سب سے زیادہ تعداد دائیوں کی ہے جو گائنا کالوجسٹ کا روپ دھار کر غریب خواتین کی زندگیوں کیساتھ کھیل رہی ہیں دوسرے نمبر پرشہر میں جعلی ڈینٹل کلینک پر موجود ڈاکٹروں کی ہے اور اسکے بعد جعلی حکیموں کا نمبر آتا ہے جو بانجھ پن کے علاج کا جھانسہ دیکر شہریوں سے ہزاروں روپے بٹورنے میں مصروف ہیں۔
محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن کی پالیسیوں کے باوجود عطائیت کا سیلاب رواں دواں ہے۔ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں میں عطائیت زور و شور سے جاری ہے۔ جرمانے اور کاروائیاں رنگ نہیں لا رہیں بلکہ عطائیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔راقم کے ذاتی مشاہدے کے مطابق میڈیکل سٹوروں پر پریکٹس سمیت عطائیت زورو شور سے جاری ہے ،محکمہ صحت،ہیلتھ کیئر کمیشن کی پالیسیوں اور پابندیوں کے باوجود عطائیت کو نہیں روکا جا رہا ہے۔ کئی حکومتی عہدیداروں نے بھی عطائیت کو سہارا دیا ہوا ہے۔ مریض ان عطائیوں سے علاج کروا کر اپنی زندگیاں تباہ کرنے پر مجبور ہیں۔اگر کوئی عطائی پریکٹس کرتا ہے، عوام نشاندہی کرتے ہیں، اخبارات و جرائد یا پرنٹ میڈیا میں اس کا تذکرہ ہوتا ہے تو چند دنوں کی بندش کے بعد وہ کلینک یا ہسپتال دوبارہ کیوں کھل جاتا ہے؟ کیا قانون انہیں اس کی اجازت دے دیتا ہے؟ یہ عملہ صحت کی کمائی کا مستقل اڈہ تو نہیں ہے۔اس مافیا کے خاتمے کیلئے پائیدار اقدامات کیے جائیں۔
عطائیت ایک معاشرتی ناسور ہے اور اس سے منسلک افراد انسانی جانوں کی موت کے سوداگر ہیں۔ حکومت کو عوام الناس کی صحت کی معیاری سہولتوں او رمریضوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے شبانہ روز سر گرم عمل ہو نا چاہیے۔ اس ضمن میں ڈویڑن اور اضلاع کی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران پوری طاقت کے ساتھ عطائیت کے خلاف جنگ کریں۔ عطائیت کی حوصلہ شکنی کرتے ہو ئے ان کے خلاف سخت قانونی کارووائی عمل میں لائی جا ئے۔ ڈویڑنل انتظامیہ عطائیت کے انسداد کیلئے ٹھو س اقدامات کرتے ہوئے بہترین حکمت عملی وضع کر ے اور عوام کے جان ومال سے کھیلنے والے افراد کے خلاف بلا رورعائت کاروائی عمل میں لائیں۔عطائیت کے مستقل انسداد کیلئے سرویلینس اورویجیلینس جاری رکھیں اور انفورسمنٹ کو مزید بہتر بنائیں۔مسیحائی کے مقدس پیشے میں ایسے ناسوروں کے خلاف کاروائی کے سلسلے میں قانون سازی ہو نی چاہیے۔اور عطائیت کے خلاف قوانین پر مو ثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور تمام کلینکس کے مالکان کو لائسنسنگ کے نیٹ ورک میں بھی لایا جائے تاکہ عوا م کو صحت کی بہترین اور معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ البتہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے لوگ معاشرے کے ناسور ہیں اور وہ کسی رعائت کے مستحق نہیں۔
imran_khan6@hotmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے