Voice of Asia News

امریکہ افغان مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کی مدد چاہتا ہے۔وزیراعظم

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا) وزیراعظم عمران خان کا کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ زلمے خلیل زاد کو امریکی صدر ٹرمپ نے افغان مفاہمتی عمل کے لیے بھیجا تھا مجھے خوشی ہوئی کہ زلمے خیلی داد سے ملاقات ہوئی۔میں 15 سال سے کہہ رہا تھا کہ افغان مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے۔ہم افغانستان میں مفاہمتی عمل کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔شکر ہے کہ آج ہمارا اصل کردار سامنے آ رہا ہے۔اب دنیا اور امریکہ بھی تحریک انصاف کے موقف کی تائید کر رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا امریکہ افغان مسئلے کے حل کے لےپاکستان کی مدد چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان میں امن کے لیے پہلے بھی کوشش کرنی چاہئیے تھی۔پاکستان افغانستان میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔انسانی ہمدردی کے تحت کرتاپور بارڈر کھولنے کا فیصلہ کیا۔سکھ کمیونٹی کے رد عمل پر خوشی ہوئی۔امید ہے کہ بھارت بھی اچھا رسپانس دے گا۔خوشی ہے کہ امریکہ بھی پاکستان کے موقف کی تائید کررہا ہے اور خوشی ہے کہ امریکہ سے مثبت بات چیت ہو رہی ہے۔ یمن میں قیام امن کے لیے سعودی عرب اور ایران سے بات کی۔واضح رہے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عملسفیر زلمے خلیل زاد نے دسمبر ۴ سے ۶ تک اسلام آباد کا دورہ کیا۔ان کے دورہ کا مقصد اکتوبر میں ہونے والے باہمی مذاکرات کہ بعد ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لینا تھا۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور اسلام آباد میں متعین دیگر سفارتکاروں سے ملاقاتیں کیں۔ اپنی ملاقاتوں کے دوران سفیر خلیل زاد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ،افغان حکومت اورطالبان کے مابین سیاسی تصفیہ کے حل کا خواہاں ہے جس سے اس با ت کو یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان کی زمین آئندہ کبھی بین الاقوامی دہشتگردی کے لیئے استعمال نہیں ہوگی اور جس سے افغانستان میں چالیس سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔انہوں نے اس بات کو بھی اُجاگر کیا کہ افغانستان میں قیام امن خطہ کے تمام ممالک کو فائدہ پہنچائے گا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے