Voice of Asia News

فورسز کی اضافی کمپنیوں کی تعیناتی،لوک سبھا انتخابات کی تکمیل تک برقرار رہنے کا امکان

سری نگر(وائس آف ایشیا ) جموں وکشمیر میں گورنر انتظامیہ بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کے پرامن انعقاد کے لئے تعینات کی گئی مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی 330 اضافی کمپنیوں کو آئندہ سال اپریل یا مئی میں ہونے والے عام انتخابات کی تکمیل تک یہیں تعینات رکھنے پر غور کررہی ہے۔سیکورٹی لحاظ سے حساس مانی جانے والی ریاست جموں وکشمیر میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات بیک وقت کرانے کا قوی امکان ہے۔ سیکورٹی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر لوک سبھا انتخابات مقررہ وقت اور شیڈول کے مطابق منعقد ہوئے تو مرکزی مسلح پولیس فورس کی 330 اضافی کمپنیوں کو واپس بھیجنا اور پھر جلدی انہیں واپس بلانا نہ صرف ایک مدقوق مشق ہوگی بلکہ یہ بے تحاشا خرچے کا بھی باعث بن جائے گا۔ جموں وکشمیر کے چیف سکریٹری بی وی آر سبھرامنیم نے 25 ستمبر کو سری نگر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے پرامن اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز کی 400 اضافی کمپنیاں تعینات کی جائیں گی۔ ان کا تب کہنا تھا ‘ان انتخابات کے لئے سیکورٹی فورسز کی 400 کمپنیاں تعینات کی جائیں گی۔ یہ یہاں پہلے سے موجود ریاستی پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اضافی ہے۔ یہ تعداد انتخابات کرانے کے لئے کافی ہے۔ ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں۔ وہاں بھی سیکورٹی فورسز کی ضرورت ہے۔ ہمیں تصور نہیں تھا کہ ہمیں 400 کمپنیاں فراہم کی جائیں گی’۔ تاہم ذرائع کے مطابق ریاست کو بعدازاں 400 نہیں بلکہ 330 اضافی کمپنیاں فراہم کی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ ریاست میں اکتوبر کے مہینے میں بلدیاتی انتخابات چار مرحلوں میں منعقد ہوئے۔ اگرچہ وادی میں ان انتخابات میں بہت کم لوگوں نے حصہ لیا، تاہم یہ انتخابات پرامن طور پر اختتام پزیر ہوئے۔ ریاست میں نو مرحلوں پر محیط پنچایتی انتخابات کے سات مرحلے بھی پرامن طور پر اختتام پزیر ہوچکے ہیں۔ دریں اثنا روزنامہ ‘دی ٹریبون’ نے ریاستی پولیس سربراہ دلباغ سنگھ کے حوالے سے کہا ہے ‘فورسز کی اضافی کمپنیوں کو لوک سبھا انتخابات تک یہیں تعینات رکھنے کے سلسلے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے لیکن اگر لوک سبھا انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہوئے تومرکزی مسلح پولیس فورس کی ان 330 کمپنیوں کو یہیں روکا جاسکتا ہے کیونکہ ان کمپنیوں کو واپس بھیجنے اور پھر واپس بلانے میں کافی وقت صرف ہوگا’۔ ریاستی انتظامیہ کولوک سبھا اور اسمبلی انتخابات منعقد کرنے کے لئے مرکزی مسلح پولیس فورس کی ان 330 کمپنیوں کے علاوہ مزید فورسز کی ضرورت پڑنے کے احتمال کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فورسز کی مزید ضرورت پڑنے کے بارے میں ابھی کوئی سوچ وچار نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاستی انتظامیہ نے بلدیاتی وپنچایتی انتخابات کو منعقد کرانے کے لئے سالانہ امرناتھ یاترا کے لئے تعینات کی گئی مرکزی مسلح پولیس فورس کی 203 کمپنیوں کو واپس نہ بھیجنے کے علاوہ مزید 127 کمپنیوں کو منگوایا تھا۔ سی آر پی ایف ، بی ایس ایف، ایس ایس بی اور آئی آر بی پی پر مشتمل ان 330 کمپنیوں کوضلعی سپرنٹنڈنٹ ا?ف پولیس کی سربراہی میں مختلف ضلعوں میں تعینات کیا گیا۔ ہر کمپنی 75 سے90 اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ امن وقانون اور سیکورٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کے دوران فورسز کی تعیناتی اور امیدواروں کے تحفظ اور دیگر معاملات کا جائزہ کار تھے۔ قابل ذکر ہے کہ اگلے 6 مہینوں میں ریاست میں عام انتخابات منعقد ہوں گے کیونکہ مئی 2019 میں سولہویں لوک سبھا کی میعاد ختم ہورہی ہے۔ نیز ریاست میں اسمبلی تحلیل ہونے کی وجہ سے اسی وقت میں اسمبلی انتخابات کا منعقد ہونابھی ممکن ہے۔ ریاست میں ان انتخابات کے پر امن انعقاد کے لئے مزید فرسز کی ضرورت پڑنا بعید از امکان نہیں ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اس سے خزانہ عامرہ پر بھاری بھرکم بوجھ پڑے گا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے