Voice of Asia News

پلوامہ کے نوجوان کا جسمانی تشدد،کشمیر کو مفتوحہ آبادی تصور کیا جارہا ہے،یاسین ملک

 
انسانوں کا بے دریغ قتل عام، انسانوں کو قید کرکے جیلوں اور تھانوں میں ڈالنا،انہیں زدوکوب کرنا، انکا ٹارچر کرنا، انہیں تذلیل و تحقیر کا نشانہ بنانا، ان کے مکانات کو بارود اور آگ کی نذر کرنا، ان کے باغات اور فصلوں کو تباہ کرنا عام بات بن چکی ہے اور اب یہی ظلم و جبر جموں کشمیر میں جمہوریت کا امتیازی نشان بھی قرار پاچکا ہے،بیان

سرینگر(وائس آف ایشیا ) لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ بھارت اور اسکی انتظامیہ جموں کشمیر کو اپنی مفتوحہ نوآبادی تصور کرتے ہیں اسی لئے یہاں انسانوں کا بے دریغ قتل عام، انسانوں کو قید کرکے جیلوں اور تھانوں میں ڈالنا،انہیں زدوکوب کرنا، انکا ٹارچر کرنا، انہیں تذلیل و تحقیر کا نشانہ بنانا، ان کے مکانات کو بارود اور آگ کی نذر کرنا، ان کے باغات اور فصلوں کو تباہ کرنا عام بات بن چکی ہے اور اب یہی ظلم و جبر جموں کشمیر میں جمہوریت کا امتیازی نشان بھی قرار پاچکا ہے۔یاسین ملک نے کہا کہ کشمیر خاص طور پر جنوب و شمال اور وسطی کشمیر کے گاؤں میں جاری ظلم و جبر اپنی حدیں پار کرچکا ہے اور ان دیہات کو ایک میدان جنگ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔یاسین ملک نے اٹھورہ پلوامہ میں پیش آئے واقعے کا خلاصہ کرتے ہوئے کہاکہ طارق احمد شیخ ولد غلام محمد شیخ کو اور دسمبر کی درمیانی رات کو فورسز نے گھر کے اندر شدید ٹارچر کا نشانہ بنایا اور اس سے غلط و جعلی بیان ریکارڑ کرنے پر دباؤ ڈالا۔اس کاروائی میں مذکورہ نوجوان شدید زخمی ہوا ہے اور اب اسپتال میں زیر علاج ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ ٹھیک اسی طرح میں بھی فوج نے کھریو پلوامہ میں ایک لکچرر شبیر احمد منگو کو مار مار کر جان بحق کیاتھا جبکہ اسی برس کولگام کی ایک پوری بستی اور گاندربل میں ایک پورے کنبے کو اسی قسم کے تشدد کا نشانہ بناکر قریب المرگ بنادیا گیاتھا۔ یاسین ملک نے کہا کہ بھارتی فوج اور فورسز کا یہ جبر دراصل بھارتی ریاست، حکومت، اسمبلیوں اور پارلیمان کی جانب سے انہیں مواخذے سے استثنا کا شاخسانہ ہے جبکہ حکمرانوں اور انکی انتظامیہ کے احکامات اس جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کرتے رہتے ہیں۔فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ پچھلے کچھ روز سے پولیس نے سیاسی قائدین اور اراکین کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کررکھا ہے جبکہ کئی دوسروں کے گھروں پر شبانہ چھاپے ڈالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کل رات گئے پولیس نے لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین مشتاق اجمل کے گھر پر بھی چھاپہ ڈالا اور انکے اہل خانہ کو ہراساں کیا۔ انہوں نے کہاکہ پولیس لوگوں کے گھروں میں رات کے اوقات میں داخل ہورہی ہے اور قائدین و سیاسی اراکین کے گھر والوں کو تنگ طلب کرنے میں منہمک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے