Voice of Asia News

،آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں احتساب عدالت کا شہباز شریف کو جیل بھجوانے کا حکم

شہباز شریف سے تفتیش کا عمل جاری ہے، انکے جسمانی ریمانڈ میں 15روز کی توسیع کی جائے
نیب پراسیکیوٹر عدالت سے غلط بیانی کر کے نیب نے ریمانڈ لیا تھا،،
میرے موکل کا 2011 سے 2017 تک کا ریکارڈ ٹیکس ریٹرن میں شامل ہے، وکیل شہباز شر یف
شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر لیگی کارکنوں اور پولیس میں ہاتھا پائی،پولیس کے لاٹھی چارج ، کئی کا رکنو ں کو حرا ست میں لے لیا

لاہور(وائس آف ایشیا) احتساب عدالت نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے مزید جسمانی ریمانڈ سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جیل بھجوانے کے احکامات جاری کردیئے۔واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کے سلسلے میں 5 اکتوبر سے قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کی تحویل میں تھے۔مذکورہ کیس کی 29 نومبر کو ہونے والی گذشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 9 دن کی توسیع کی تھی۔جسمانی ریمانڈ کے خاتمے پر نیب حکام نے شہباز شریف کوگزشتہ روز احتساب عدالت کے نجم الحسن کے روبرو پیش کیا۔سماعت کے دوران نیب لاہور کی جانب سے شہباز شریف کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا شہباز شریف سے تفتیش کا عمل جاری ہے، انکے جسمانی ریمانڈ میں 15روز کی توسیع کی جائے۔ وکیل شہباز شریف نے کہا میرے موکل کا 2011 سے 2017 تک کا ریکارڈ ٹیکس ریٹرن میں شامل ہے، ہر چیز کلیئر ہے، تمام ریکارڈ بھی ٹیکس میں ہے، عدالت سے غلط بیانی کر کے نیب نے ریمانڈ لیا تھا، ٹیکس قوانین میں تحائف کا ذکر کرنا ضروری نہیں تھا، ذاتی 20 کروڑ کی اراضی کی رقم سے تحائف دیئے، تحائف آمدنی سے زائد نہیں ہیں،تاہم نیب پراسیکیوٹر عدالت کو مطمئن نہ کرسکے اور دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت نے شہباز شریف کو جیل بھجوانے کا حکم دے دیا۔ادھرشہباز شریف کی پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر لیگی رہنما مریم اورنگزیب، بلال یاسین اور خواجہ عمران نذیر کے علاوہ کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔احتساب عدالت کے باہر لیگی کارکنوں نے شور شرابہ کیا اور رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔پولیس کے لاٹھی چارج سے مسلم لیگ (ن) کا ایک کارکن زخمی بھی ہوا۔دوسری جانب ہنگامہ آرائی کرنے والے کئی کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے