واجپائی اور مودی کی سیاسی اپروچ میں زمین آسمان کا فرق ہے ، میرواعظ

مسئلہ کشمیر سیاسی اور داعش یا القاعدہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ، انٹرویو

سرینگر(وائس آف ایشیا) کل جماعتی حریت کانفرنس’’ع‘‘ گروپ کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے بی جے پی کی موجودہ قیادت کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے طریقہ کار سے مکمل طور پر انحراف کیا ۔ واجپائی مسئلہ کشمیر کو ایک مسئلہ تصور کرتے تھے اور انہوں نے متعدد بار اس کو انسانیت کے دائرے میں حل کرنے کی پیش کش کی تھی ۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افہام و تفہیم اور بات چیت کے عمل کا زمین پرکہیں بھی نام و نشان نہیں ہے البتہ کشمیر کو آئے روز تلاشیوں ، محاصروں اور ظلم وجبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بارہا اس بات کو سامنے لایا کہ اگر ہندوستان ایک قدم آگے بڑھائے تو پاکستان دو قدم آگے بڑھانے کے لئے تیار ہے لیکن برف پگھلنے تب تک کوئی امکان نہیں ہوتا جب تک دونوں فریقین بات چیت کے لئے رضامند نہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت میں نئی دہلی موجودہ صورت حال میں نہ تو پاکستان اور نہ ہی کشمیریوں سے بات چیت کے لئے تیار ہے انہوں نے کہا کہ اندر کمزوری پائی جاتی ہے تو اس کو دور کرنے کیلئے وہ کشمیر اور پاکستان کا کارڈ استعمال کر سکتی ہے ۔ پاکستان ، دہشتگردی اور کشمیر ایسے معاملات ہیں جنہیں بی جے پی قومی سطح پر اچھال کر بڑے پیمانے پر ووٹ بنک بنا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کی طرف سے پاکستان پر بار بار دہشتگردی اور تشدد کا الزام عائد کرنا بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ کشمیر میں جاری تحریک کشمیریوں کی اپنی شروع کی ہوئی ہیجس میں کشمیر کی اپنی نئی نسل قربان ہو رہی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے بتایا کہ آپ بھلا اس صورت میں کیا کر سکتے ہیں جب دوسرا فریق مسئلہ کو متنازعہ ماننے کو تیار ہی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت صرف فوجی طاقت کا سہارا لے رہا ہے اور ایسی صورت حال میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جا سکتا کہ اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹے رہیں ۔ کشمیر میں داعش یا القاعدہ کی موجودگی کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کو داعش یا القاعدہ سے نہیں جوڑ سکتے اور کشمیر میں داعش یا القاعدہ کا کوئی وجود نہیں ۔