Voice of Asia News

قصور وار کون۔۔۔۔۔۔۔۔؟محمد قیصر چوہان

زن، زر، زمین کے علاوہ اقتدار و اختیار بھی اتنا بڑا فتنہ ہے کہ ایک بار کوئی اس کے جال میں پھنس جائے تو اس سے نکلنا تقریباً ناممکن ہے۔ دولت اور شہرت کے حصول کیلئے جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا ہمارے سیاستدانوں کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ اس کی خاطر وہ اقتدار میں آنے کی کوشش کرتے ہیں یا کسی طرح اقتدار میں موجود ہوں تو عوام اور قومی خزانہ لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔اسلام کے نام پر بنائے جانے والے ملک پاکستان میں ستر برسوں سے بالعموم اسی قماش کے لوگ عوام پر مسلط چلے آرہے ہیں، وہ اپنے ذاتی، خاندانی اور گروہی مفادات کے لیے تو مفاہمت پر ہمیشہ آمادہ رہتے ہیں، لیکن ملک اور قوم کے وسیع تر مفادات کے لیے انہیں ضروری قانون سازی کا خیال آتا ہے نہ کوئی جرات مندانہ قدم اٹھانے کا۔ ذرا اندازہ کیجئے کہ گزشتہ دنوں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے مل کر شراب پر مکمل پابندی کا بل مسترد کر دیا۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی نے تشدد اور انتہا پسندی کے انسداد پر قومی مرکز کے قیام اور معذور افراد کے حق میں بھی پیش کئے جانے والے بل مسترد کر دیئے۔ شراب پر بل کو مسترد کئے جانے کا نہایت شرمناک پہلو یہ ہے کہ اسے اقلیتی رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے پیش کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ہندو مذہب سمیت تمام مذاہب اور قوموں میں شراب سے نفرت اور اس پر پابندی برقرار ہے۔ اسلام نے تو شراب کو ام الخبائث یعنی اکثر خباثتوں کی ماں قرار دیا ہے، جس سے بہت سی برائیاں جنم لے کر معاشروں کو تباہ و برباد کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ ڈاکٹر رمیش کمار کے اس بل کی مخالفت کرنے والوں میں پیپلزپارٹی، شریف برادران کی مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے ارکان شامل تھے۔ متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے بل کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی جانب سے پہلے بھی یہ بل قومی اسمبلی میں لایا گیا تھا۔ پارلیمانی سیکریٹری ملیکہ بخاری نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے یہ منطق پیش کی کہ پہلے اس بل کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، لہٰذا اب بھی اسے مسترد کر دیا جانا چاہئے۔شراب پر پابندی کے بل سے دو روز قبل بچوں کی سگریٹ نوشی پر پابندی کا بل منظور کیا جاچکا ہے اور اس سے پہلے حکومتی ارکان نے شراب اور تمباکو نوشی کو گناہ قرار دے کر قانونی پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ یہ تمام باتیں عوام سے فریب کے مترادف ہیں، کیونکہ اسمبلیوں اور حکومتی ایوانوں میں آج بھی ایک قابل ذکر تعداد مختلف قسم کا نشہ کرنے والوں کی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما کوکین اور حشیش جیسے تباہ کن نشوں کے خلاف کوئی بیان کیوں نہیں دیتے؟ کیا وہ اس معاملے میں اپنے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان سے ڈرتے ہیں؟ مقتدر و متمول طبقات کی نظروں سے دیکھا جائے تو دولت اور اقتدار کے سرچشموں پر بیٹھے ہوئے تمام لوگ مسلم لیگی رہنماؤں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حسن و حسین، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، ان کے بھائی سلمان رفیق، پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، انور مجید، حسین لوائی اور ظفر ٹپی جیسے تمام لوگ معصوم، بے گناہ اور پاک و صاف ہیں۔ اصل قصوروار ملک کے بائیس کروڑ عوام ہیں جنہیں کراچی سے تھر اور پشاور تک غربت و افلاس، بے روزگاری اور تعلیم و صحت سے محرومی کا سامنا ہے۔ تجاوزات کے خاتمے کی مہم چلائی جائے تو ان ہی کے مکانات اور دکانیں زد میں آتی ہیں اور بھرپور تباہی کے بعد خبریں آتی ہیں کہ انہیں متبادل جگہ کہاں اور کیسے فراہم کی جائے اور کیوں نہ مالی نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے کوئی کمیٹی قائم کر دی جائے۔ وفاقی شرعی عدالت سودی نظام کے خاتمے سے متعلق ستر برسوں کے بعد بھی اب تک کیس کی سماعت کررہی ہے، جبکہ شریعت نے سود کو اللہ اور اس کے رسولؐسے جنگ اور اپنی حقیقی ماں کے ساتھ بدکاری سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ وطن عزیز میں شریعت کے نفاذ کی کسی کو فکر ہے نہ قومی زبان اردو کو سرکاری طور پر رائج کرنے کی پروا۔ بااختیار لوگوں کی توجہ کام کے بجائے نام اور بیانات پر مبذول ہو تو ملک میں کوئی بہتر تبدیلی کیونکر آسکتی ہے؟

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •