Voice of Asia News

قابض بھارتی فوج کے مظالم سے کشمیر کی تحریک آزادی میں نئی جان . تجزیہ

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)  پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے کشمیر پر پاکستان کی پالیسی کو بدلا اور آؤٹ آف باکس حل پیش کیا کہ جس کے تحت کشمیر کے دونوں حصوں کے شہریوں کو میل جول اور تجارت کی آزادی دی جائے اور ایک مرحلہ ایسا آئے کہ لائن آف کنٹرول محض ایک علامتی لکیر یا سافٹ بارڈر میں بدل جائے. اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے کسی نہ کسی طور پر اس پالیسی کو جاری رکھا اور آج تک پاکستان جنرل مشرف کی کشمیر پالیسی پر عمل پیرا ہے مگر مقبوضہ کشمیر والے اسلام آباد کی پالیسی کے پابند نہیں .بھارت کو مشرف پالیسی سے لگا کہ ایک نسل کے لیے ہی سہی کشمیر میں سکون ہو گیا‘لہذا پاکستان کی خاموش مدد کے ذریعے زخموں سے چور کشمیریوں کا اعتماد بحال کرنے کا جو سنہری موقع ملا وہ پھر ضائع کر دیا گیا. اس کا ثبوت10 برس کے وقفے کے بعد2010 میں کشمیر میں ایک بار پھر اچانک پھٹ پڑنے والے جذبات سے ملا. جس پر قابض بھارتی افواج نے ایک بار پھر طاقت کا بھرپور استعمال کیا اور آزادی کی تڑپ دبانے کے لیے مزید 12سو سے زائدکشمیریوں کو قبر میں اتار دیا گیا‘پھر چار برس کا وقفہ آیا مگر اس دوران بھی بھارتی افواج اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں کشمیریوں کی عزتِ نفس روزانہ کچلی جاتی رہی.8 جولائی 2016 کو برہان وانی کی شہادت کے ساتھ ہی کشمیر میں آزادی کی مشعل پانچویں نسل کے ہاتھوں میں آگئی. یہ نسل اپنے پیشرؤوں سے زیادہ پڑھی لکھی، نئی مواصلاتی ٹیکنالوجی کی عادی، سوشل میڈیا کے ہتھیار سے واقف اور پہلے سے زیادہ بے خوف ہے. اس نسل کی لڑکیاں اور ان کی مائیں ہر مرحلے میں نوجوانوں کے شانہ بشانہ ہیں‘عورتوں کے جتنے بڑے بڑے جلوس اب نکلتے ہیں پہلے ان کا تصور بھی نہیں تھا.حریت پسندوں اور بھارتی فوج کے درمیان نوعمر کشمیری جس بے خوفی سے اپنے سینوں کی ڈھال بناتے ہیں پہلے ایسے کہاں تھا ؟ بالاخر کشمیری بچے اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ زندہ رہنے کی ذلت سے موت بہتر ہے. تحریک کچلنے کے لیے پیلٹ گنز کا جس اندھا دھند طریقے سے پچھلے 8برس سے استعمال ہو رہا ہے‘اس کا تازہ ترین ثبوت 20 ماہ کی حبہ جان ہے جسے یہی نہیں معلوم کہ اس کی آنکھیں کیوں ضایع ہو گئیں‘پیلٹ گن میں جو کارتوس استعمال ہوتے ہیں ان سے بیک وقت 6 سو چھرے نکلتے ہیں.بھارت پیلٹ گن کو نان لیتھل ہتھیاروں میں شمار کرتا ہے‘مگر اب تک6 سو سے زائد کشمیری پیلٹ گن کے ذریعے ہلاک کیے جاچکے ہیں6 ہزار سے زائد کے چہرے داغدار ہو چکے ہیں۔گزشتہ برس ہی دنیا کا پہلا پیلٹ وائلنس وکٹم ٹرسٹ وجود میں آیا اوراب تک 1800 کے لگ بھگ کشمیری ٹرسٹ کے ممبر بن چکے ہیں‘ان میں سے بیشتر کی دونوں آنکھیں ضائع ہو چکی ہیں‘یہ غیر متشدد ہتھیار کتنی شدت سے استعمال ہو رہا ہے اس کا انداز بھارت کی نیم فوجی سینٹرل ریزرو فورس کی جانب سے 2016 میں ایک عدالت میں جمع کرائے گئے بیان سے ہو سکتا ہے جس میں اعتراف کیا گیا کہ صرف 32دن میں 13 لاکھ چھرے استعمال کیے گئے مگر معاملہ پیلٹ گن سے بھی قابو میں نہیں آرہا.اسی لیے اب فوج مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلا رہی ہے . بھارتی میڈیا کے ذریعے باور کرایا جا رہا ہے کہ یہ کشمیری نہیں بلکہ سرحد پار سے بھیجے گئے دہشت گرد ہیں جو پیسے دے کر مظاہرے کرا رہے ہیں اور عام کشمیریوں کو اکسا رہے ہیں. اگر یہ بات سچ ہے تو کشمیر کو چھوڑ کے کسی بھی بھارتی ریاست میں ہزار نہیں صرف ایک خاندان سامنے لے آئیں جو پیسے لے کر اپنے اور اپنے بچوں کے چہرے چھروں سے چھدوانے پر آمادہ ہو.صورتحال یہ ہے مقبوضہ کشمیر تاحال نہ صرف قابض بھارتی فوجوں کی بربریت کی تصویر بنا نظر آرہا ہے بلکہ بھارتی ریاستی مشینری کے ہاتھوں قتل و غارت، انسانی حقوق کی پامالی اور ظلم و ستم کے نت نئے طریقوں کی ایجاد نے 1947ء سے عالمی ضمیر کے لئے چیلنج بنے رہنے والے اس مسئلے کی سنگینی کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں اس کا جلد حل کیا جانا دنیا اور خطے کے استحکام کی ناگزیر ضرورت بن چکا ہے.کشمیری عوا کا قصور یہ ہے کہ 1947ء میں برٹش انڈیا کی تقسیم کے ہر پالیسی اصول کے اعتبار سے پاکستان کا حصہ بننے والی ریاست جموں و کشمیر میں نئی دہلی کی طرف سے غیرقانونی طور پر فوجیں اتارے جانے کے جارحانہ قدم کی انہوں نے بھرپور مزاحمت کرکے کشمیر کے ایک حصے کو آزاد کرالیا اور جب سری نگر کی آزادی کا مرحلہ بھی صاف نظر آنے لگا تو بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اپنی فوجوں کو ہتھیار ڈالنے کی خفت سے بچانے کے لئے اقوام متحدہ میں گئے اور وعدہ کیا کہ عالمی ادارے کی نگرانی میں منعقد ہونے والے اس ریفرنڈم کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرلیں گے جس کے ذریعے کشمیری عوام کو اپنے ووٹ کے ذریعے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنا ہے.نئی دہلی بعد میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اپنے وعدوں سے نہ صرف پھر گیا بلکہ مقبوضہ علاقے میں مزید بھاری فوجیں تعینات کرکے کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق مانگنے سے روکنے کے لئے بہیمیت ،درندگی اور ریاستی دہشت گردی کا ہر حربہ آزما رہا ہے. مظلوم مگر پرعزم کشمیریوں کی 5ویں نسل تک پہنچی ہوئی آزادی کے لئے دی گئی قربانیوں کا یہ سلسلہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے.15دسمبر کو ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج کی براہ راست فائرنگ سے ایک درجن سے زیادہ افراد کی شہادت اور سیکڑوں کے زخمی و اپاہج ہوجانے کے بعد 17دسمبر کو یوم سوگ کی ہڑتال کے دوران آرمی ہیڈ کوارٹر پر احتجاجی مارچ میں مزید وحشیانہ فائرنگ ہوئی، میر واعظ عمر فاروق اور یٰسین ملک سمیت حریت فورم اور دیگر تنظیموں کے رہنما گرفتار کرلئے گئے جبکہ وادی کے کئی شہر کرفیو کی زد میں ہیں.اگرچہ پاکستانی حکومت عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرا رہی ہے کہ کئی جنگوں کا سبب بننے والے مسئلہ کشمیر کا حل عالمی امن اور خطے کی ترقی کی ناگزیر ضرورت ہے. مگر ان کوششوں سے اقوام متحدہ‘اوآئی سی وغیرہ سے مذمتی بیانات کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آیا عالمی تنظیمیں خصوصا اقوام متحدہ 70سالوں سے بیانات اور مذمت سے آگے نہیں بڑھ سکی حالانکہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد اس کی ذمہ داری ہے .اگر بھارت وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے پاک بھارت مکالمے کے لئے کی گئی حالیہ پیش کشوں کا مثبت جواب دے تو جنوبی ایشیا کے بٹوارے کا فیصلہ کرنے والی کانگریسی اور مسلم لیگی قیادت کے تصور کے مطابق بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں امریکہ اور کینیڈا جیسا تعاون پیدا ہونے کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں.

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •