Voice of Asia News

مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ سیاسی ہے ، میرواعظ کی وائس آف ایشیا سے گفتگو

سرینگر (وائس آف ایشیا) جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کے حل کی راہ میں حکومت ہندوستان کے غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کہاکہ اگر حکومت ہندوستان یہ سمجھتی ہے کہ اس مسئلہ کو طاقت سے ، تشدد سے ، فوجی قوت یا مار دھاڑ سے حل کیا جا سکتا ہے تو یہ شدید غلط فہمی کی شکار ہے ۔ ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہاکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ جموں و کشمیر میں ظلم و جبر ، مارڈھار اور قتل و غارت کی انتہا ہو گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پلوامہ کے حالیہ دلخراش اور خونین واقعہ میں پوری قوم کو غمزدہ اور افسردہ کردیا اور کس طرح سے نہتے شہریوں اور نوجوانوں کا قتل کیا جا رہا ہے دنیا کی کسی دوسری برسرجدوجہد قوم پر اتنا ظلم و جبر نہیں ڈھایا گیا جتنا کشمیری عوام پر روا رکھا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ارباب سیاست کی یہ سوچ کہ مسئلہ کشمیر کو طاقت اور فوجی قوت سے حل کیا جا سکتا ہے غلط فہمی کے سوا کچوھ نہیں کیونکہ اب تو بھارت اور پاکستان کے سیاستدان ، دانشور اور دونوں ممالک کے سابقہ فوجی جنرل بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اس مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے بلکہ اس مسئلہ کو صرف سیاسی طور پر ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس اور تحریک نواز قیادت اول روز سے یہ کہہ رہی ہے کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے جس کو کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں ہتھیار بند فوجی تعینات کرنے سے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس طرح کے طرز عمل سے یہاں بھارت کے خلاف عوامی غم و غصے میں اضافہ ہو گا اور حالات اسی طرف اشارہ کر رہے ہین انہوں نے کہا کہ 1947 ء کشمیر کی یہ تیسری نسل ہے جو سڑکوں پر آ کر اپنے جائز حق خودارادیت کے حصول کے لئے اپنی جانیں قربان کر رہی ہے جموں و کشمیر میں ہوئے حالیہ بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے میرواعظ نے کہاکہ بھارت کے کچھ اداروں نے بھارتی حکومت کو یہ رپورٹ دی ہے کہ ان بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات میں جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔اس کے مطابق صرف پانچ فیصد لوگوں نے ان میں شرکت کی اور اکثر جگہین تو ایسی تھیں جہاں کوئی امیدوار میسر نہیں تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک لاحاصل مشق کے سوا کچھ نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت اس طرح کے انتخابات کا ڈھونگ رچا کر یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ یہاں کے عوام بجلی ، سڑکوں ، ٹھیکوں وغیرہ کے لئے پریشان ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے یہاں کے عوام اپنے پیدائشی حق حق خودارادتیت کے حصول کے لئے برسر جدوجہد ہے اور جب تک بھارتی اس بات کا اعتراف نہیں کرتی ور پاکستانی حکومت اور کشمیری عوام کو اعتماد میں لے کر اس مسئلہ کے حل کے لئے سودمند کوششیں نہیں کرتی تب تک اس طرحکا عمل ایک لاحاصل کوشش کے سوا کچھ نہیں ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •