Voice of Asia News

’’تیل اور گیس کے حصول کی سرد جنگ‘ ‘ :محمد قیصر چوہان

اگر آج کی عالمی سیاست کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ امر عیاں ہوگا کہ عالمی سیاست لالچ کے گرد کھوم رہی ہے جہاں اقتصادیات اور معاشیات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔دُنیا بھر میں جاری عالمی سیاست تیل اور گیس کے گرد کھوم رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ طاقتور ممالک نے دہشت گردی کے خاتمے کی جو جنگ شروع کر رکھی ہے اس کی آڑ میں وہ کمزور ممالک کے تیل و گیس سمیت دیگر معدنی ذخائر پر قبضہ کر رہے ہیں۔برطانیہ ، چین ، روس اوربھارت سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک کے پاس توانائی کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اسی لئے انہوں نے ستر کی دہائی سے تیل اور گیس کے حصول کی جنگ شروع کر رکھی ہے۔
چین نے سُپرپاور بننے کیلئے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کی جو پلاننگ کی ہے اس میں اکنامک کورئے ڈور کو مرکزی اہمیت حاصل ہے ۔پاک چین اقتصادی راہداری اور گودر پورٹ کی تکمیل کے بعد چین کا اقتصادی اور معاشی ایجنڈا وسطیٰ ایشیائی ممالک اور افغانستان تک پہنچ جائے گا۔امریکا اور چین کے درمیان جاری کشمکش کا محور ومرکز بھی گہرے پانی کی بندرہ گاہ گوادر ہی ہے چونکہ چین اکنامک کورئے ڈور کو پائے تکمیل تک پہنچانے کیلئے تیزی سے کام کر رہا ہے جو امریکا کو سخت نا پسند ہے ،امریکا کے بقول پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل اور گودر پورٹ کے مکمل فنگشنل ہو جانے کے بعد چین کے خطے میں قدم مضبوطی سے جم جائیں گے ۔دوسری طرف چین کیلئے امریکا کی افغانستان میں برسوں سے موجودگی درد سر بنی ہوئی ہے ۔چین یہ سمجھتا ہے کہ عالمی سیاست پر معاشی اور اقتصادی طور پر اہم کردار رکھنے والے وسطیٰ ایشیائی ممالک تک رسائی کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ امریکا ہی ہے جو افغانستان میں کئی برسوں سے موجود ہے۔یہ دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کے حصول اس خطے میں لڑ رہے ہیں ،ماضی میں اس خطے میں روس کا کردار اہم رہا ہے جو گرم پانیوں تک رسائی کیلئے ثور انقلاب پرپا کیا تھا۔لیکن امریکا نے پاکستان کے ذریعے طالبان بنا کرروس کے گرم پانی تک رسائی کا خواب چکنا چور کردیا تھا۔
کیمونسٹ اور سرمایہ درانہ نظام کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے مگر آج کی دوستیاں اور دُشمنیاں صرف اور صرف معاشی اور اقتصادی فوائد کے حصول کیلئے ہیں۔روس بین الاقوامی سیاست میں خود کو زندہ رکھنے کیلئے تیل اور گیس کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے سویت یونین کے خاتمے کے بعد دُنیا بھر میں کمیونسٹ بلاک کو جو تاریخی زوال سے دوچار ہونا پڑا تھا ،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں روس کی شمولیت نے بد دل اور مایوس ہونے والے کمیونسٹوں کو پھر اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔بھارت اپنی اُبھرتی ہوئی معیشت کیلئے ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایران سے تعلقات مزید مضبوط بنا رہا ہے ۔ چونکہ بھارت کو تیل اور گیس کے حصول کیلئے مستقبل میں پیش آنے والے مقابلوں کا شدت سے احساس ہے جس وجہ سے اس نے توانائی کے حصول کیلئے ایران کے علاوہ ترکمانستان ،تاجکستان ،آزر بائیجان ،،میانمار سے اپنے تعلقات میں مزید بہتری لانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔دوسری طر ف تیل اور گیس کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والے دوممالک چین اور روس کے مابین تعلقات کافی حد تک بہتر ہونے سے امریکا کی تیل اور گیس کے حصول کیلئے جاری گریٹ آئل گیم کو شدید دھجکا لگا ہے۔۔امریکا نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ہی تیل اور گیس کے حصول کیلئے منصوبہ سازی کی ،عراق پر امریکی حملے کا بنیادی مقصد بھی تیل پر قبضہ کرنا تھا۔موجودہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا بنیادی مقصد بھی توانائی سمیت د یگر وسائل کے حصول کی جنگ ہے۔جس میں کئی ممالک اپنی برسوں پرانی دُشمنیاں ختم کرکے قربت بڑھائی ہے تو دوسری طرف کئی دہائیوں پرانے حلیف حریف میں بدل گئے ہیں۔عالمی سرد جنگ میں جنوبی ایشیا ،وسطیٰ ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔دُنیا بھر کے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں نت نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔جس سے پوری دُنے میں غیر یقینی کیفیت کا ماحول بنا ہوا ہے،عالمی سطح پر جاری کشمکش جیسے ماحول میں امریکا ،برطانیہ اسرائیل ،بھارت ،چین ،روس سمیت چند دیگر ممالک کمزور ممالک کو ڈرا دھمکا کر اپنے عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں جس میں تیل اور گیس کے حصول کو ہی اولیت حاصل ہے۔وسائل کے حصول کیلئے جاری عالمی کشمکش کبھی بھی مظلوم کا ساتھ دینے یا ظلم کے خاتمے کیلئے نہیں رہی بلکہ دہشت گردی اور ظلم کے خاتمے کی آڑ میں طاقتور ممالک کمزور ممالک کے قدرتی وسائل پر قبضہ کر رہے ہیں۔
اکتوبر انیس سو تہتر کی عرب اسرائیل جنگ کے طفیل دنیا میں پہلی بار تیل بطور ہتھیار جانا گیا اور تیل کی فی بیرل قیمت ساڑھے تین ڈالر سے بڑھ کے بارہ ڈالر تک پہنچ گئی اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی دولت میں راتوں رات تین گنا اضافہ ہو گیا۔ لیکن تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے عرب رکن ممالک مغربی دنیا کی اسرائیل نوازی کے خلاف یہ ہتھیار بس پانچ ماہ تک ہی استعمال کر پائے۔ آج اس بات کو 45 برس ہو چلے۔بھلا ہو تیل کی بندش کا کہ امریکا کو پہلی دفعہ خیال آیا کہ آیندہ کی بلیک میلنگ سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ آڑے وقت کیلئے جتنا محفوظ ذخیرہ ہو سکتا ہے کر لیا جائے۔ چنانچہ انیس سو پچھتر میں امریکا نے تیل کا اسٹرٹیجک ذخیرہ اتنا بڑھا لیا جو امریکا کی تین ماہ کی ضروریات کیلئے کافی تھا۔ اور آج یہ ذخیرہ کئی ماہ کی امریکی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔انیس سو تہتر میں مشرقِ وسطی کے ممالک بالخصوص ایران، عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت نے جب پہلی اور شاید آخری مرتبہ تیل کو ایک مشترکہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تو ذرا دیر کیلئے یوں لگا جیسے ان تمام ممالک کے نوآبادیات گزیدہ تلخ ماضی نے انہیں آئل ڈپلومیسی کی شکل میں مشترکہ پلیٹ فارم دے دیا ہے جس پر کھڑے ہو کر وہ آیندہ بھی فلسطین اسرائیل شاخسانے سمیت علاقائی بحرانوں کے یکطرفہ حل کے یکطرفہ جھکے پلڑے کو متوازن کر پائیں گے۔مگر تیل کا ہتھیار استعمال کرنے کے چند برس میں ایسی کایا کلپ ہوئی کہ یہ ممالک ایک دوسرے سے شدید بدظن ہو گئے یا کر دیے گئے۔ انقلابِ ایران کی مبینہ ایکسپورٹ روکنے کے خوف نے عربی عجمی نفاق پھر سے زندہ کر دیا۔ ایران اور عراق اور عراق کے پیچھے دیگر خلیجی ممالک ایران سے صف آرا ہو گئے۔ پھر عراق اور کویت کی چپقلش شروع ہو گئی۔
اس کے نتیجے میں یہ خطہ عراق ایران جنگ ختم ہونے کے صرف دو برس بعد جنگِ خلیج کی لپیٹ میں آگیا جس کا پورا خرچہ تیل پیدا کرنے والی خلیجی ریاستوں نے اٹھایا اور امریکا کی گرفت علاقے پر اور بڑھ گئی۔ اور اس جنگ کے تیرہ برس بعد ایک اور جنگ میں عراق کی اینٹ سے اینٹ بج گئی اور اس اینٹ بجاؤمہم میں خلیجی ریاستوں نے خوشی خوشی اپنے سابقہ حلیف کے مقابلے میں امریکا کا پہلے سے بڑھ کے ساتھ دیا اور ان دو جنگوں کے ردِ عمل نے القاعدہ کی شکل میں جڑ پکڑنی شروع کی اور پھر اگلے دس برس میں افغانستان سے لیبیا اور نائیجیریا تک دہشت گردی اور اتھل پتھل کا نیا دور شروع ہو گیا۔ جس نے آج نئے انڈے بچے دے دیے ہیں۔انیس سو تہتر چوہتر کے تیل بطور ہتھیار تلخ تجربے کے تدارک کیلئے مغربی کمپنیوں نے دنیا کے دیگر حصوں میں سرمایہ کاری شروع کر دی۔ چنانچہ بحیرہ شمالی، خلیجِ میکسیکو، نائجیریا اور مغربی افریقہ کی سمندری حدود میں تیل کے نئے ذخائر کو ترقی دینے کا کام تیزی سے شروع ہوا۔ ان ذخائر کے مارکیٹ میں آنے کے سبب تیل کی عالمی قیمت کو ایک خاص سطح پر مستحکم رکھنے میں خاصی مدد ملی۔
سوویت یونین جیسی سپرپاور کی کمر توڑنے کے دعویداروں میں اگرچہ جنرل ضیا الحق، حمید گل، جماعتِ اسلامی اور افغان مجاہدین سمیت بہت سے شامل ہیں۔ مگر اصل فاتح شاید کوئی اور ہے۔جب ریگن انتظامیہ نے افغانستان پر سوویت قبضے کے ایک برس بعد سوویت یونین کو ایول ایمپائر یعنی ابلیسی سلطنت کا خطاب دیا تب تک امریکی اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ جوہری ہتھیاروں کے انباروں نے جو توازنِ دہشت قائم کیا ہے اسے توڑنے کیلئے ضروری ہے کہ سوویت یونین کو اقتصادی مار ماری جائے۔ روسی معیشت کا دارو مدار جس زرِ مبادلہ پر تھا اس کا بیشتر حصہ یا تو تیل اور گیس کی یورپ کو فروخت سے اآرہا تھا یا پھر تیسری دنیا کو ہتھیار بیچنے سے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کا نظریہ یہ تھا کہ روس جیسے وسیع و عریض ملک کو نپولین اور ہٹلر کی طرح فوج کشی کر کے شکست نہیں دی جا سکتی۔لیکن اگر ہتھیاروں کی دوڑ کو عروج تک پہنچا دیا جائے تو سوویت یونین کو اس دوڑ میں تھکایا جا سکتا ہے۔ اسے اپنے وسائیل کا بیشتر حصہ خود کو اس دوڑ میں برابر رکھنے کیلئے صرف کرنا ہو گا۔ لہٰذا اندرونی کنزیومر بیس کمزور ہو گا اور اس کے نتیجے میں سوویت سلطنت میں نچلی سطح تک جو بے چینی پھیلے گی وہ رفتہ رفتہ اس دلدل کی شکل اختیار کرتی چلی جائے گی جس میں دھنسنے سے خود کو بچانے کیلئے ماسکو کو مشرقی یورپ کی طفیلی ریاستوں اور غیر روسی وفاقی ریاستوں کا بوجھ اپنے کاندھوں سے ہٹانا پڑ جائے گا۔یوں ابلیسی سلطنت کی ٹوٹ پھوٹ اور سکڑنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ چنانچہ مغربی یورپ بالخصوص جرمنی میں نئی نسل کے پرشنگ میزائیل کی تنصیب کا غوغا شروع ہوا اور خلا میں ہتھیاروں کا ذخیرہ کرنے اور سٹار وار کیلئے نئے پیچیدہ اور مہنگے موت کے کھلونے بنانے اور نیوٹرون بموں کی پیداوار شروع کرنے کا پروپیگنڈہ عروج پر پہنچایا گیا تا کہ روسی ریچھ اس ہانکے سے گھبرا جائے۔ ( آج خلائی ہتھیاروں اور نیوٹران بموں کا افسانہ کسی کو یاد بھی نہیں۔مگر اس کام کو تب تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکتا تھا جب تک توانائی کا ہتھیار بھی بیک وقت استعمال نہ ہو۔ سرد جنگ کے عروج کے باوجود انیس سو پچھتر کے بعد سے مغربی یورپ کے سرمایہ دار ممالک کی توانائی بالخصوص تیل اور گیس کی ضروریات کا پچیس فیصد روسی ذخائر سے پورا ہوتا رہا۔ جب کہ مشرقی یورپ کے سوشلسٹ ممالک کا تو دارو مدار ہی روسی تیل اور گیس پر تھا۔ اور یہی سوویت یونین کیلئے زرِ مبادلہ حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔چنانچہ انیس سو پچاسی میں ریگن اور شاہ فہد کے مابین یہ انڈر اسٹینڈنگ ہوئی کہ اگر سعودی تیل سے عالمی منڈی بھر جائے تو قیمتیں لامحالہ نیچے آئیں گی اور اس کا اثر سوویت یونین پر اس قدر کمر توڑ ہو گا کہ نہ تو وہ ہتھیاروں کی دوڑ جاری رکھنے کے قابل رہے گا اور نہ ہی اسے تیل اور گیس کی فروخت سے اتنا زرِ مبادلہ مل پائے گا کہ وہ اپنے عوام کی بنیادی ضروریات کو تشفی بخش انداز سے پورا کر پائے۔چنانچہ انیس سو چھیاسی کے شروع میں سعودی عرب نے بظاہر عراق ایران جنگ کے سبب تیل کی عالمی رسد میں کمی پورا کرنے کیلئے اپنی پیداوار دو ملین بیرل روزانہ سے بڑھا کر پانچ ملین بیرل کر دی۔ یوں فی بیرل قیمت جو انیس سو اکیاسی میں پینتیس ڈالر کے لگ بھگ تھی۔ انیس سو چھیاسی میں دس ڈالر سے بھی نیچے آگئی۔ اگلے تین برس کی تیل کساد بازاری نے سوویت یونین کا بھٹہ بٹھا دیا۔ اس دوران افغانستان سے سوویت فوجوں کا انخلا ہوا اور دیوارِ برلن ٹوٹ گئی۔
امریکا کا ایک ہدف ایران ہے۔ جسے نہ صرف اپنے جوہری پروگرام کے بھگتان میں مسلسل اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے بلکہ جو تھوڑا بہت تیل وہ فروخت کر سکتا ہے وہ بھی کوڑیوں کے مول آن پہنچا ہے۔امریکااور سعودی عرب، اگر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یا حادثاتی طور پر روس اور ایران کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا رہے ہیں، تو اس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔ تیل کا کار و بار ایک تجارت ہے، جو اب جنگ میں بدل رہی ہے۔ دنیا کے تیل پیدا کرنے والے ملکوں لیبیا، عراق، نائجیریا اور شام میں بدامنی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں کم ہو چکی ہیں۔تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا میں تیل کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے بھی ہوئی ہے اور یہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں سعودی عرب کی حیثیت کیلئے ایک خطرہ بھی ہے اور اس سارے پس منظر میں روس اور ایران خاموش تماشائی نہیں بنے رہیں گے۔روس کی معیشت کا توانائی کے ذرائع، تیل اور گیس پر اس حد تک انحصار ہے کہ اسے ایک نشے سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے۔ اس معاملے میں تیل کی قمیتوں میں کمی، روس کو تکلیف دینے کے مترادف ہے اور ایسا ہی ہے جیسے ایک عادی نشے باز کا نشے کا مواد روک لیا جائے۔ ایسا واضح طور پر عالمی سیاست میں مخصوص مقاصد کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ روس کی معیشت کو کمزور کر کے عالمی میدان میں اس کے اثر و رسوخ کم کیا جا سکے۔
افغانستان میں تیل کے خفیف ذخائر توہیں لیکن اتنے وسیع نہیں جتنے عراق میں ہیں یا اس کے پڑوسی ایران میں ہیں لیکن اس لحاظ سے افغانستان کی جغرفیائی اہمیت ہے کہ یہ تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کے اہم برآمدی راستے پر واقع ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح مشرق وسطی کے تیل کے برآمدی راستے پر مصر کو اہمیت حاصل ہے،دنیا کی بڑی بڑی تیل کمپنیوں کا یہ دیرینہ خواب ہے کہ وسط ایشیا کا تیل اور گیس کم سے کم لاگت اور سرعت کے ساتھ برآمد کی جا سکے اور یہ خواب افغانستان کے راستے پاکستان کی بندر گاہ کے ذریعہ شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے اوراس میں کوئی شک نہیں کہ اسی مقصد کے حصول کیلئے طالبان کو منظر عام پر لایا گیا تھا۔اس زمانے میں وسط ایشیا کے تیل اور گیس کی برآمد کیلئے سینٹ گیس کے نام سے سات کمپنیون پر مشتمل ایک امریکیوں کیلئے تیل کی بہت اہمیت ہے ۔کنسورٹیم قائم کیا گیا تھا جس میں یونو کیل تیل کمپنی کی قیادت میں چھ بڑی تیل کمپنیاں اور ترکمانستان کی حکومت شامل تھی اس کنسورٹیم کا منصوبہ ترکمانستان کے صنعتی شہر دولت آباد سے سات سو نوے میل لمبی گیس کی پائپ لائن بچھانے کا تھا جو افغانستان میں مغربی شہر ہرات اور قندھار سے ہوتی ہوئی پہلے پاکستان میں ملتان تک جاتی اس منصوبے میں پائپ لائن کی ھندوستان میں دہلی تک اور کراچی کی بندر گاہ تک توسیع بھی شامل تھی اس منصوبے پر لاگت کا اندازہ ایک ارب نوے کڑوڑ کا تھا اسی کے ساتھ قزاقستان اور ازبکستان سے تیل کی نکاسی اور ترسیل بھی اس منصوبہ کا حصہ تھا۔امریکہ کے سا بقہ نائب صدر ڈک چینی نے انس سو اٹھاون میں جب وہ ایک بڑی تیل کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو تھے کہا تھا کہ ان کے خیال میں دنیا کا کوئی علاقہ نہیں جو کیسپین کی طرح اچانک فوجی اہمیت کے علاقے کی صورت مین ابھرا ہو لیکن وہاں سے نکلنے والے تیل اور گیس کی کوء قدرو قیمت نہیں، جب تک یہ دولت برآمد نہ ہو سکے واحد راستہ جو سیاسی اور اقتصادی طور پر دستیاب ہے وہ افغانستان ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کیسپین اور وسط ایشیا کے دوسرے ملکوں کے تیل اور گیس کی برآمد کیلئے افغانستان سے بہتر کوئی اور راستہ نہیں ہے۔اگر اس تیل اور گیس کی ترسیل روس یا آذربائجان کے راستے ہوتی ہے تو اس کی بدولت وسط ایشیا پر روس کے سیاسی اور اقتصادی اثر میں اضافہ ہو گا اور ظاہر ہے امریکا اور مغرب کے ممالک یہ نہیں چاہیں گے اور نہ یہ ممالک چاہیں گے کہ یہ تیل ایران کے راستے برآمد کیا جائے۔اس میں اب کوئی شک نہیں کے افغانستان میں طالبان کے قیام میں امریکی تیل کمپنی یونو کیل کی قیادت کا گہرا تعلق تھا۔شروع شروع میں طالبان کو اسلحہ اور مالی اعانت کا سب سے بڑا ذریہ یہی کنسورٹیم ہی تھا اور بلا شبہ اس میں پاکستان کی بھی بھر پور پشت پناہی شامل حال تھی پاکستان کے مشورے پر طالبان کا ایک اعلی وفد دسمبر انیس سو ستانوے میں امریکہ گیا تھا اور ٹیکساس مین یونوکیل کے اعلیٰ عہدیداروں سے اس کی ملاقات ہوئی تھی اس وفد مین طالبان کے امیر خان متقی بھی شامل تھے اور یونو کیل نے اس وفد کی امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کارل انڈرفرتھ سے ملاقات کا اہتمام کیا تھا۔لیکن سن اٹھانوے میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملوں کے بعد افغانستان میں اُسامہ بن لادن کے تربیتی مراکز پر امریکی میزائل حملوں کے بعد امریکی حکومت کے دباؤ کے نتیجے مین یونو کیل کنسورٹیم سے علیحدہ ہو گئے اور بالآخر یہ کسورٹیم بھی ختم ہو گئی۔ اسی زمانے سے امریکہ اور طالبان کے درمیان کے تمام تعلقات اور روابط ٹوٹ گئے۔اس دوران وسط ایشیا کے تیل اور گیس کی بنیاد پر ایک طرف امریکہ اور مغربی ممالک اور دوسری طرف روس اور چین کے درمیان عراقی تیل پلانٹ اقتصادی اور سیاسی اثر اور اجارہ داری کی جنگ جاری ہے ۔
یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ پوری دنیا کی معیشت تیل پر چلتی ہے۔ جب تیل کی قیمتیں گرتے گرتے 26 ڈالر تک آ گئیں تو سعودی عرب نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی عالمی تنظیم OPEC کی سفارشات کے باوجود روزانہ پیدا وار میں کمی سے انکار کر دیا ان کا مؤقف یہ تھا کہ یہ کساد بازاری ہمارے خلاف امریکی سازش ہے اور ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔ مگر اگلے سال یعنی 2015ء میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد شاہ سلمان بادشاہ بنے جس کسے ساتھ ہی ان کے بیٹے محمد بن سلمان جو اس وقت ولی عہد ہیں نے تمام فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ کے صدر بننے کے بعد حالات میں تبدیلی آئی اور امریکہ اور سعودی عرب تاریخ کے اہم موڑ پر ایک دوسرے کے اتنے قریب آ گئے کہ ٹرمپ نے ایران نیو کلیئر ڈیل کو سعودی عرب کے کہنے پر منسوخ کر دیا اور نومبر 2018ء سے ایران پر امریکا کی جانب سے معاشی پابندیاں کا آغاز ہوچکاہے۔ اس طرح سعودی عرب جو کچھ چاہتا تھا وہ اسے مل چکا ہے۔ اس وقت ایران کی پٹرولیم ایکسپورٹ میں واضح کمی آ چکی ہے۔ دوسری طرف لاطینی امریکہ کے اوپیک ممبر وینزویلا میں بحران کی وجہ سے وہاں کی حکومت تیل نکالنے میں دشواریاں محسوس کر رہی ہے۔ وینز ویلا کی یومیہ پیداوار 15 لاکھ بیرل جبکہ ایران کی 10 لاکھ بیرل ہے۔ ان دو ممالک کے آؤٹ ہونے کی وجہ سے تیل کی عالمی پیداوار میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ فورسز کے تحت قیمتیں چڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس صور ت حال میں امریکانے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی 10 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار کو 20 لاکھ بیرل یعنی دو گنا کر دے تا کہ دنیا میں پٹرول کی سپلائی اور قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔ سعودی عرب نے امریکا کو یقین دلایا ہے کہ وہ 2 ملین بیرل یومیہ پٹرول پیدا کر سکتا ہے حالانکہ ماہرین اس پر لچک کا اظہا ر کرتے ہیں کہ سعودی عرب کے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ پروڈکشن کو فوری طور پر دوگنا کر دے۔ لیکن سعودی عرب کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ اب عالمی مارکیٹ میں ایک طرف تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں اور دوسرے اس کی سیل دو گنا ہو گئی ہے گویا سعودی عرب کی پانچوں گھی میں ہیں اس وافر فروخت سے سعودی عرب کی آمدنی دو گنا ہو جائے گی اور شام اور یمن میں ہونے والے جنگی اخراجات اور گزشتہ کساد بازاری سے ہونے والے سارے نقصانات پورے ہو جائیں گے۔
مشرق وسطی کا علاقہ اپنی خاص اسٹریٹیجک پوزیشن اور مالامال قدرتی ذخائر کا حامل ہونے کے باعث ہمیشہ ہی تسلط پسند طاقتوں کی خودغرضی پر مبنی پالیسیوں کا نشانہ اور مختلف سازشوں کے خطرے میں رہا ہے۔ ان سازشوں میں ، نئے مشرق وسطی کا سازشی منصوبہ بھی ہے جس کا محور و مرکز اسرائیل کو سیکورٹی فراہم کرنا اور علاقے میں انرجی کے ذخائر پر تسلط جمانا ہے ۔اس تجزیے کے تناظر میں شام میں امریکہ کے جاری فوجی اقدامات کے سلسلے میں کہنا چاہئے کہ شام میں داعش کی شکست کے باوجود اس ملک کے کچھ حصوں پر امریکاکے قبضے کا خطرہ موجود ہے کیونکہ شام کے تیل اور گیس کے اہم کنوئیں فرات کے مشرق میں ہیں۔امریکا شروع سے ہی شام کے انرجی کے ذخائر پر تسلط حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور اگر ممالک اس کی اس خواہش کو تسلیم نہیں کریں گے تو انہیں نئی جنگوں کے خرچے برداشت کرنا پڑیں گے۔خلیج فارس کے کئی ملکوں کے تعلقات میں بحران بھی کہ جو ٹرمپ کے علاقے کے دورے کے بعد شروع ہوا ہے، قطر کی گیس کے ذخائر پر قبضے کیلئے امریکا اور بعض عرب حکام کی سازشوں کا نتیجہ ہے ۔ ان امور کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ علاقے میں تیل اور گیس کی جنگ کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے۔ حالیہ دنوں میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل نے لبنان کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کیلئے اس کے بحری حدود میں اقدامات تیز کردیے ہیں امریکا صیہونی حکومت کے ساتھ لبنان کے سرحدی اختلافات کے حل کیلئے ثالثی کی کوشش کے بہانے مداخلت کررہا ہے تاکہ لبنان میں اپنے اور اسرائیل کے مذموم مقاصد کے حصول کی زمین ہموار کر سکے۔

لیبیا جس کی یومیہ تیل کی پیداوار ساڑھے آٹھ لاکھ بیرل ہوا کرتی تھی اس وقت وہاں پیداوار صفر ہو چکی ہے کیونکہ سیاسی طور پر لیبیا کو دو حصوں مشرقی لیبیا اور مغربی لیبیا میں تقسیم کرنے کی جو جنگ جاری ہے، اس کی وجہ سے وہاں تیل نکالنے کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں لیبیا کا تنازع بھی شامل ہے۔ 2001ء میں جب امریکا نے عراق پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تو اس پر سب سے زیادہ عوامی احتجاج امریکی شہریوں کی طرف سے کیا گیا تھا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور ریکارڈ کی بات ہے جب ایک ہی دن میں دنیا کے 100 بڑے شہروں میں بیک وقت مظاہرے کیے گئے تھے ان مظاہرین نے جو بینر اٹھا رکھے تھے ان پر لکھا ہوا تھا "No blood for oil” یعنی پٹرول کی خاطر خون مت بہاؤ۔ اس وقت مڈل ایسٹ میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو تنازع خون ریزی کی طرف بڑھ رہا ہے اس کا بنیادی نقطہ یہی ہے کہ یہ پٹرول پر قبضے اور مفادات کی جنگ ہے جس میں امریکہ نے سعودی عرب کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو ڈونالڈ ٹرمپ کے اگلے الیکشن یعنی 2020ء سے پہلے تصادم کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق 2019میں تیل کی اوسط قیمت 66 ڈالر فی بیرل ہو گی۔ اگر مشرق وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تصادم کو نوبت آئی تو پٹرول کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی اس ضمن میں جس طرح شام اور یمن پر کنٹرول حاصل کرنے کے سنہرے خواب جس طرح چکنا چور ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کوسوچنا ہو گا کہ ایران ان دونوں سے زیادہ مشکل ہدف ہے۔ اور اگر ایک دفعہ جنگ شروع ہو گئی تو حالات پر سعودی عرب یا امریکہ کی گرفت نہیں رہے گی۔
صنعت اور معیشت کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جس وقت ہماری دُنیا بائی پول (امریکا اور روس) سے گزر رہی تھی اْس وقت روس صنعتی اور معاشی اعتبار سے دوسری بڑی طاقت تھا، اب بکھرے ہوئے روس کی وسط ایشیائی ریاستوں کا جھکاؤ روس کی بجائے چین کی طرف زیادہ ہے مثلاً اْزبکستان سے نکلنے والی گیس کا چین سب سے بڑا خریدار ہے۔ روس کے پاس بھی گیس ہے اور روس کا معیشت کا دارومدار 80 فیصد سے زائد تیل اور گیس پر ہے بلکہ زیادہ تیل پر ہے جب کہ تیل کی عالمی قیمتیں اب شاید اس دور میں واپس نہ جاسکیں جہاں روس اور سعودیہ جیسے ملک تیل پر مکمل انحصار کرسکیں۔
امریکا کو تیل کی بابت اب کوئی خطرہ نہیں۔ اپنی ضروریات کا پچھتر فیصد وہ خود پیدا کرتا ہے۔ امریکا جلد ہی شالے ٹیکنولوجی کے فضل سے یہ پچیس فیصد بیرونی تیل خریدنے سے بھی بے نیاز ہو جائے گا اور کھل کے دوسروں کے تیل کو عالمی بساط پر حریفوں کو سیدھا کرنے کیلئے استعمال کر پائے گا۔امریکا اس وقت چین سے میچ کھیل رہا ہے اور خلیجی ریاستیں آج بھی امریکن الیون کا حصہ ہیں۔
سابقہ سرد جنگ اسلامی نظریاتی جنگ بمقابلہ اشتراکیت سمجھ میں آتی ہے جس میں سرمایہ دارانہ نظام یا امریکا نظر نہیں آتا لیکن اس نے سرد جنگ کے دور میں اپنے مفادات کیلئے اسلام کو استعمال کیا جبکہ آج پھر ہمیں وہی گروہی اور مذہبی رنگ میں رنگی ہوئی سیاست کو دیکھنے کا موقع مل رہا ہے جس میں روس پھر سے سرگرم کردار ادا کرنے کیلئے پَر تول رہا ہے جبکہ چین دْنیاکو معاشی میدان میں مات دینے کیلئے تیار بیٹھا ہے تو دوسری طرف امریکا کا عالمی اثرورسوخ دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔ یورپ ویسے ہی جمودکا شکار ہے۔امریکا چین سے معاشی طور پرخفا نظر آتا ہے تو دوسری طرف امریکا کو شمالی کوریا کی دھمکیاں اور ٹرمپ کی ایران کو ایٹمی ڈیل ختم کرنے کی دھمکی۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کو اہم کردار ادا کرنے کیلئے تیارکرنا افغان ایشو کو کسی حل کی طرف نہ لے جانا روس کا نئے نئے ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ شام پر بعض اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود ٹرمپ کا حملے کا احمقانہ فیصلہ جب کہ روسی اڈا وہاں پہلے ہی موجود ہے، کیا ایسے میں روس، چین، شمالی کوریا، ایران، افغانستان اور کسی حد تک پاکستان اور بعض اتحادیوں کی مخالفت اور امریکاکا کم ہوتا عالمی اثرورسوخ کہیں دْنیا کو سردجنگ سے نکال کر تیسری عالمی جنگ کی طرف تو نہیں دھکیل رہا؟

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •