Voice of Asia News

جی ایس پی پلس سہولت پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے:شوکت علی چوہدری

یکم جنوری 2014ء کو یورپین یونین کے 28 ممالک نے ایک متفقہ فیصلہ کے تحت پاکستان کو 10 سال کے لیے جنرلاہیزڈ سکیم آف پریفرنسز پلس(plus GSP) کا حقدار قرار دیا تھا جس کا مطلب تھا کہ اس دس سالہ عرصہ میں پاکستان کی طرف سے یورپی ممالک کو ایکسپورٹ کی جانے والی 6000 سے زائد اشیاء جن میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات سر فہرست ہیں ڈیوٹی فری ہونگی۔ اور پاکستان کو اپنی ایکسپورٹ میں جو تجارتی مقابلے کا سامنا ہے اس مقابلہ میں پاکستان کو بہت سی آسانیاں پیدا ہو جاہیں گیں۔
پاکستان کو دی جانے والی اس رعایت کے ساتھ پورپین یونین نے یہ شرط بھی عائد کی تھی کہ پاکستان نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے جن 27 کنونشنز کی توثیق کی ہوئی ہے ان میں سے 8 کولیبر سٹینڈرڈز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاے گا۔اور یورپین کمیشن ان کنونشینز پر عمل درآمد کا جاہزہ لے کر ہر دو سال بعد اس بات کا فیصلہ دے گا کہ کیا اس سہولت کو مزید جاری رکھنا ہے یا اس سہولت کو ختم کرنا ہے۔
اس سلسلہ میں پاکستان ورکرز کنفیڈریشن نے ایک جائزہ رپورٹ تیار کی تھی اور کنفیڈریشن کے رہنماء چوہدری محمد یعقوب اور راقم نے اس رپورٹ کو تحریر کیا تھا جس میں پاکستان میں لیبر قوانین پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس بات کا جائز لیاگیا تھا کہ پاکستان میں ILO کے 8 کور کنویشنز پر عمل درآمد کی کیا صورت حال ہے۔ان 8 کور کنونشنز میں ٹریڈ یونین بنانے کا حق۔حق ہڑتال۔سوداکاری کا حق۔حکومتی اعلان کے مطابق کم سے کم تنخواہ کی پوری ادائیگی۔خواتین اور مرد ورکرز کی تنخواہوں کا یکساں ہونا۔لیبر انسپکشن اور محنت کشوں کے صحت و سلامتی کے معاملات کے سوشل سکیورٹی اور بڑھاپے کی پینشن کے اداروں میں ورکرز کی رجسٹریشن کے معاملات شامل ہیں۔ورکرز کنفیڈریشن کی اس جائزہ رپورٹ کی کاپیاں حکومت پاکستان کو بھی دی گیں اور وہ رپورٹ جرمنی اور برسلز میں یورپین یونین اور یورپین کمیشن کے ساتھ بھی زیر بحث آہیں اور یہ رپورٹس یورپین پارلیمینٹ میں بھی پیش کی گیں اور پورپی کمیشن کے اکابرین نے ان ہی رپورٹس کو بنیاد بنا کر حکومت پاکستان کے سامنے بھی پاکستان میں لیبر قوانین پر علم درآمد کی مایوس کن صورت حال پرکئی مرتبہ اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیااور راقم سمیت کنفیڈریشن کے دیگر رہنماوں سے بھی بارہاملاقاتیں کیں، کنفیڈریشن کے مرکزی جنرل سیکریٹری اور ILO کی سٹینڈنگ کمیٹی براے ایشاء پیسافیک کے نمائندے ظہور اعوان اور مجھے دو مرتبہ اس رپورٹ کو پیش کرنے کی غرض سے یورپین کمیشن کی دعوت پر برلن اور برسیلز بھی جانے کا اتفاق ہوا ،اور یہ رپورٹس ظہور اعوان نے یوپین پارلیمنٹ میں بھی پیش کی۔اور ان رپورٹس کے مندرجات پر پورپین کمیشن اور جرمنی کی حکومتوں کے وزرا سے لے کر ان کی وزارت کامرس،وزارت خارجہ اور ممران پارلیمنٹ تک سے تفصیلی بات چیت کا موقع ملتا رہا اور ہم نے اپنی رپورٹس میں اس پہلو کو خاص طور پر مد نظر رکھا تھا کہ پورپین یونین نے پاکستان کو دس سال کے لیے پورپین یونین کے ممالک کو ڑیوٹی فری ایکسپورٹ کی جو سہولت دی ہے وہ سہولت دس سال تک برقرار رہنی چاہیے۔
یورپین کمیشن ہر دو سال بعد یورپین پارلیمنٹ پر پاکستان میں لیبر میعارات پر عمل درآمد کا جاہزہ لے کر مزید دو سال کے لیے پاکستان کو اس سہولت سے فاہدہ اٹھانے کی اجازت دیتا ہے پچھلے 5 سال سے پاکستان کے صبعت کار اس سہولت سے فایدہ اٹھاتے ہوے اربوں ڈالرز کا کاروبار کر رہے ہیں۔یورپین یونین کے پاکستان میں لیبر قوانین اور ILO کے 8 کور کنونشنز پر عمل درآمد کے سلسلہ میں ہمیشہ ہی یہ تحفظات رہے ہیں کہ پاکستان کی حکومت اس سلسلہ میں اپنا مثبت کردار ادا نہی کر رہی۔ہم بھی پاکستان کے چیمبرز آف کامرس اور ایمپلاہرز فیڈریشن آف پاکستان کے رہنماوں کو یورپین یونین کے ان تحفظات سے آگاہ کرتے رہے ہیں کہ یورپین یونین پاکستان میں مزدورں کو ان کی قانونی مراعات نہ دینے سے مطمئن نہیں ہے اور اس حقیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پورپین یونین کو ڈیوٹی فری مال بھجوانے والے تقریبا” تمام اداروں میں یونینز نہی ہیں اور کہیں یونینز ہیں بھی تو پاکٹ یونینز ہیں جن کی افادیت کو یورپین یونین ماننے کو تیار نہیں۔سب سے اہم مسئلہ کارخانوں میں لیبر انسپکشن کا زیر بحث آتا رہا ،اتفاق سے اس سلسلہ میں پاکستان کے چاروں صوبوں کی صورت حال غیر تسلی بخش ہے اورمحلمہ محنت اس شعبہ میں مکمل ناکام نظر آتا ہے۔کسی بھی انڈسٹر یل سٹیٹ میں کوئی لیبر انسپکٹر مالکان کی مرضی کے بغیر انسپکشن نہیں کر سکتا اور نہ ہی محکمہ محنت کے پاس مطلوبہ تعداد میں لیبرانسپکٹرزموجود ہیں کہ وہ اس کام کو سر انجام دے سکیں۔
یہ تمام عوامل یورپین یونین کے سامنے پاکستان کی لیبر معیارات پر عمل درآمد کی صورت کی انتہاء منفی تصویر کشی کرتے ہیں ۔اب اس بات کا خطرہ پاکستان کے سر پر منڈلا رہا ہے کہ اس سال یورپین پارلیمنٹ پاکستان سے یہ سہولت ہی واپس نہ لے لے پنجاب حکومت کی سیکریٹری لیبر و مین پاور نے اپنے بیان میں اس خطرے کی نشاندی بھی کی ہے کہ پاکستان کی GSP پلس سہولت کے سر پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے