Voice of Asia News

پاک فوج کا شاندارکارنامہ : پاک افغان طورخم سرحد پرباڑلگا کر ملک کو محفوظ بنا دیا

طورخم بارڈر سے (وائس آف ایشیا) پاک فوج نے طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد پر باڑ لگا کر دہشت گردوں اور منشیات سمگلروں کیآمد ورفت مکمل طور پر ختم کردی ہے۔جبکہ پہلی بار سرحدی نگرانی کے لیے ڈرونز استعمال کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا اغاز طورخم کی بگ بین پوسٹ سے 27 اپریل 2017 کو ہوا، 1403 کلو میٹر سرحد پر بآڑ لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے پہلے مرحلے میں طورخم سرحد پر 539 کلومیٹر علاقے میں باڑ لگا کر اسے محفوظ بنا دیا گیا ہے۔سیکیورٹی حکام نے دفاعی نامہ نگاروں کو دورہ طورخم کے دوران بریفنگ میں بتایا کہ باڑ لگانے کا مقاصد غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرنے کے تمام راستے بند کرنا ہیں دوسرے مرحلے میں 379 کلو میٹر اور تیسر ے مرحلے میں 485 کلو میٹر ایریا پر باڑ لگائی جائے گی اور یہ عمل دو سال میں مکمل کرلیا جائے گا طورخم میں پاک فوج کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ باڑ لگانے کا کام خیبر رائیفلز کی نگرانی میں مکمل کیا جا رہا ہے جس کے 147 جوانوں نے مادر وطن کے دفاع کے لیے قر بانی دی انہوں نے بتایا کہ کے پی میں تمام سات سو موجودہ سرحدی پوسٹوں اور قلعوں کو بھی مضبوط بنایا جارہا ہے تمام پوسٹیں اپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہونگی جبکہ سرحد کی جدید الات سے دن رات نگرانی بھی ہو رہی ہے۔ پہلی بار ڈرونز کو بھی سرحدی نگرانی کے لیے استعمال کیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ طورخم سرحد سے بارہ ہزار لوگ اور ایک ہزار سے زائد ٹرک روز اتے جاتے ہیں۔ایک سوال پر سیکورٹی حکام نے بتایا کہ یکم جنوری دوہزار اٹھارہ سے اب تک 1900 افغانیوں اور 600 پاکستانیوں کو غیر قانونی طور پر سرحد کراس کرنے کی کوشش میں پکڑا گیا اب پاسپورٹ اور ویزہ کے بغیر کسی کو انے جانے کی اجازت نہیں ہے کئی لوگوں نے جعلی دستاویزات سے کراس کرنے کی کوشش کی مگر چیکنگ کرنے پر وہ پکڑے گئے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ افغان سائیڈ سے باڑ لگانے کے عمل۔کو پسند نہیں کیا گیا اس لیے وہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر جب بھی ایسا کرتے ہین تو ہم۔بھرپور جواب دیتے ہین افغان سائیڈ کا تعاون بہت ضروری ہے جو کہ ہمیں نہیں مل رہا اور انہوں نے اپنی طرف چیک پوسٹوں پر مقامی افراد کو بٹھا رکھا ہے ان کی فوج وہاں موجود نہیں ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے